فرینکسٹین، تخلیق کا المیہ
فرینکسٹین میری شیلی کا اکلوتا مگر شہرہ آفاق ناول ہے۔ یہ انگریزی ادب میں اپنی نوعیت کا پہلا سائنس فکشن بھی کہا جا سکتا ہے۔ میری شیلی مشہور برطانوی شاعر پی بی شیلی کی بیوی تھیں۔ ان کے والد ولیم گوڈون بھی ممتاز مفکر اور کالم نگار تھے۔ ان کی والدہ میری والسٹن کرافٹ ایک باغیانہ اور انقلابی سوچ کی حامل فیمینسٹ رائیٹر تھیں۔ میری شیلی پر اپنی والدہ کی قد آور شخصیت اور انقلابی فکر کا رنگ بھی نمایاں ہے۔
میری شیلی محض اٹھارہ سال کی تھیں جب سنہ 1818 میں انہوں نے یہ حیرت انگیز ناول تحریر کیا تھا۔ اس کہانی کے واقعات یورپ کی کئی حصوں میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ کہانی کا آغاز ایسے ہوتا ہے کہ کیپٹن والٹن نامی ایک شخص قطب شمالی میں ایک مہم پر موجود ہوتا ہے۔ وہاں اس کی ملاقات ایک بیمار اور بدحال شخص سے ہوتی ہے جو اپنا نام وکٹر فرینکسٹین بتاتا ہے اور اپنی کہانی کیپٹن والٹن کو سناتا ہے۔ یہی بدقسمت شخص ہماری کہانی کا مرکزی کردار بھی ہے۔
وکٹر فرینکسٹین کبھی ایک پرعزم نوجوان سائنسدان ہوتا ہے۔ وہ مردہ اجسام سے زندگی پیدا کرنے کی جستجو میں ہوتا ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف تجربات کر رہا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ مختلف لوگوں کے مردہ اجسام اکٹھے کرتا رہتا ہے۔ ایک دن وہ ان مردہ اجسام سے ایک انسان نما جاندار تخلیق کر لیتا ہے. لیکن اس تجربے کے نتیجے میں جو مخلوق پیدا ہوتی ہے وہ خلاف توقع ایک انتہائی بدصورت عفریت ہوتی ہے۔ اس عفریت کو ناول میں "مونسٹر” کا نام دیا گیا ہے۔ فرینکسٹین یہ مونسٹر دیکھ کر گھبرا جاتا ہے اور اسے وہیں چھوڑ کر فورا فرار ہو جاتا ہے۔
اس ہولناک تجربے کے بعد وکٹر فرینکسٹین خوف سے بیمار پڑ جاتا ہے، اس کا ایک دوست ہنری کلیرول اس کی تیمارداری کرتا ہے اور اس کی کوششوں سے بالآخر وکٹر دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے۔
ایک دن وہ عفریت یعنی مونسٹر وکٹر فرینکسٹین کے اچانک سامنے آجاتا ہے۔ وہ تب تک بولنا سیکھ چکا ہوتا ہے اور وکٹر سے اسے پیدا کر کے چھوڑنے پر ناراضگی کا اظہار کرتا ہے۔ اور اپنا کرب تنہائی اور لوگوں کی خود سے نفرت بیان کرتا ہے۔ وہ وکٹر سے مطالبہ کرتا ہے کہ میں چونکہ بہت اکیلا ہوں لہذا تم میرے لیے میرے جیسی ایک ساتھی تخلیق کرو۔
وکٹر جو پہلے ہی خوفزدہ ہے اور اپنی تخلیق پر پچھتاوے کا شکار ہے وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اگر اس کی ساتھی مونسٹر بنا دی تو ان کی نسل چل پڑے گی جو بنی نوع انسان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ قس کشکمش میں وکٹر فرینکسٹین مونسٹر کو انکار کر دیتا ہے۔ یہ انکار سن کر مونسٹر وکٹر کو بھیانک نتائج کی دھمکیاں دیتا ہوا رخصت ہو جاتا ہے۔
جوش انتقام میں مونسٹر وکٹر فرینکسٹین کے دوست ہنری کو قتل کر دیتا ہے۔ اس کے چھوٹے بھائی ولیم کو بھی مار دیتا ہے اور وکٹر کی شادی کی رات اس کی بچپن کی دوست اور منگیتر ایلزبتھ کو بھی ابدی نیند سلا دیتا پے۔
وکٹر فرینکسٹین یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ سارا کیا دھرا مونسٹر کا ہے۔ یہ سب حادثات وکٹر کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ وہ مونسٹر سے انتقام لینے کی قسم کھاتا ہوا مونسٹر کا پیچھا کرتے ہوئے قطب شمالی میں پہنچا ہے۔ جہاں مفلوک الحالی میں اس کی ملاقات کیپٹن والٹن سے ہوتی ہے۔ کیپٹن وکٹر کی بہت دیکھ بھال کرتا ہے لیکن وکٹر جانبر نہیں ہو پاتا اور جلد ہی وفات پا جاتا ہے۔
مونسٹر یہ جان کر اپنے خالق وکٹر کی موت پر آتا ہے وہ اس کے ہنستے بستے گھر کو اجاڑنے پر بہت آہ و بکا کرتا ہے اور خود کو بھی وہیں پر ختم کر لیتا ہے۔
اس ناول کے مرکزی موضوعات سائنس اور ٹیکنالوجی کا نتائج سے بے پروا استعمال، بقا اور فنا کی جنگ، محبت اور انتقام کی کشمکش، تخلیق اور تخریب اور شناخت اور پچھتاوے کے ہیں۔
بہت سے ناقدین اس بات پر متفق ہیں کہ وکٹر فرینکسٹین کا ایک جرم مونسٹر کی تخلیق ہے جبکہ دوسرا بڑا جرم اسے چھوڑ کر بھاگ جانا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وکٹر فرینکسٹین نے اپنی تخلیق کو کوئی نام نہیں دیا وہ مونسٹر بھی اپنے خالق کے نام فرینکسٹین سے جانا جاتا ہے۔
اس ناول کو اگر ہم اپنے موجودہ حالات سے جوڑیں تو وکٹر نے تو ایک مونسٹر پیدا کیا تھا جبکہ ہم ستر سال سے آئے روز نئے نئے مونسٹرز پیدا کر رہے ہیں جب وہ مونسٹرز ہمیں نوچنا شروع کر دیتے ہیں تو انہیں چھوڑ کر ہم نئے مونسٹرز پیدا کر لیتے ہیں۔ اسی طرح فرینکسٹین کی طرح مونسٹر بنانے اور چھوڑ دینے کا ہمارا سفر جاری و ساری ہے۔
Facebook Comments HS


