سفرِ امریکہ

” مجروح سلطان پوری کا ایک مصرعہ ہے۔ اڑتا ہی پھروں ان ہواؤں میں کہیں۔ میں ہواؤں میں کئی گھنٹے اڑنے کے بعد ایک ایسے شہر میں ہوں کہ جہاں لوگ عمر کے کسی بھی حصے میں جینے کے لیے درد نہیں سنبھالتے پھرتے“
10 جون 2024 کو نیو یارک میں 19 سال بعد آمد کے بعد اگلی صبح جب میں 5 th ایونیو پہ واقع برائنٹ پارک کی خاموش مگر زندگی اور زندہ دلی سے لدی لہکتی فضا میں پہنچا تو ایک چھوٹی سی وڈیو کلپ بنا کر فیس بک پہ لگائی اور ساتھ اوپر لکھے گئے الفاظ تحریر کیے۔
نیویارک اپنی گونا گوں دلچسپیوں کے ساتھ ساتھ پارکوں اور لائبریریوں کا شہر ہے۔ برائنٹ پارک اس کے سترہ سو پارکوں میں ایک ہے۔ شہر کے اسی حصے یعنی مین ہیٹن میں 845 ایکڑ پرواقع پارک بھی موجود ہے جو سنٹرل پارک کہلاتا ہے۔ یاد رہے مین ہیٹن میں جائیداد کی قیمتیں دنیا میں سب سے زیادہ ہیں لہذا اس پارک کی زمین کی قیمت کا اندازہ لگا لیں۔
برائنٹ پارک سے ملحقہ شہر کی سب سے بڑی لائبریری نیو یارک لائبریری واقع ہے۔ یہ شہر کی چار ریسرچ لائبریریوں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ یہاں 217 لائبریریاں ہیں جہاں دنیا کی ہر بڑی زبان کی کتابیں ملتی ہیں جن میں اردو بھی شامل ہے۔ یہاں گوروں کے بعد سب سے زیادہ چینی مطالعہ کرتے ملتے ہیں۔
ڈاکٹر سیموئل جانسن نے جو بات لندن کے بارے میں کہی تھی، نیو یارک کا معاملہ بھی ویسا ہی ہے۔ ”اگر آپ لندن سے بیزار ہیں تو آپ زندگی سے بیزار ہیں“
میرے موجودہ دورے کا پہلا پڑاؤ ہر سمے مچلتا شہر نیو یارک ہی تھا۔ برائنٹ پارک کے ہمسائے میں ہ مقامِ موج مستی ٹائمز سکوائر واقع ہے جس کی ساری رونق خانہِ غالب کی طرح ہنگامے پہ مو قوف ہے اور اس کی زیارت کو دل بیتاب تھا۔
اگلے دو ہفتوں کے دوران نیو یارک کے مختلف مشہور مقامات دیکھنے کے بعد تقریباً روزانہ کچھ دیر برائنٹ پارک میں بیٹھتا اور اس کے بعد تقریباً گھنٹہ بھر ٹائمز سکوائر میں بھانت بھانت کے آوارگان میں شامل ہو جاتا۔ او پھر۔ کبھی اس سے بات کرنا، کبھی اس سے بات کرنا۔ اور کبھی کافی کا کپ تھامے اس کے کسی حصہ میں پڑی سرخ کرسیوں میں ایک پر سستانے بیٹھ جانا۔ اس دوران جب بھی کبھی کسی سردار جوڑے یا گروپ پہ نظر پڑتی تو قریب جاکے ست سری اکال کہتے ہوئے انہیں بتاتا۔ میں آپ کے لیے سپیشل بندہ ہوں کیونکہ میں پنجہ صاحب حسن ابدال کے قریب رہتا ہوں۔ وہ ہاتھ جوڑ کے پرنام کرتے اور دھنے واد کہتے۔ کچھ سے مزید گپ شپ بھی ہو جاتی۔ بعد میں میں سوچتا کہ وہ مقام جو میرے لیے بہت سی جگہوں کی طرح بس ایک جگہ ہے ان سرداروں کے دل کے کس قدر قریب ہے۔ مجھے میر یاد آ جاتے کہ جنہوں نے عقیدے کے باب میں ایسی بات کہی کہ بس اخیر کر دی۔
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا۔
ٹائمز سکوائر کی اپنی دنیا ہے جہاں رنگ برنگے لوگ دن ہو یا رات لور لور پھرتے ملتے ہیں۔ ان میں خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور ان میں بھی ایک بڑی تعداد ان خواتین کی ہوتی ہے جنہوں نے مر مر سے تراشے ہو ہئے شفاف بدنوں کو ٹیٹووں سے کالک زدہ کر رکھا ہوتا ہے۔ کھیل تماشے بھی باقاعدگی سے ہو رہے ہوتے ہیں جن کے نوجوان کائے فنکاروں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان کے جسموں میں بجلی بھری ہے۔ یہیں نظارہ بسوں کی رونگی کی جگہیں بھی ہیں جن کے لیے ٹکٹ فروخت کرنے والے بھی زیادہ تر کالے ہی ہوتے ہیں۔
میں 19 سال بعد امریکہ آیا تھا اور 22 سال بعد کوسوو جانا تھا۔
امریکہ کے پہلے دورے کے دوران زیادہ تر ہمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نظام اور کام سے آگاہی ملی۔ ان اداروں میں پولیس، شیرف، عدالتیں، جیل، بارڈر کنٹرول وغیرہ شامل تھے۔ ساتھ ساتھ ہر شہر کے قرب و جوار میں واقع اہم مقامات کی بھی سیر کرائی گئی۔ ان میں اورلینڈو میں واقع ڈزنی لینڈ، ڈیٹرائٹ میں واقع فورڈ میوزیم اور نیو یارک کا مجسمہِ آزادی نمایاں تھے۔
ڈزنی لینڈ ایک بے مثل شخص کے نام اور کام کو خراجِ تحسین پیش کرتی ایک ایسی دنیا ہے جس کا ہر حصہ اپنی ندرت رکھتا ہے۔ والٹ ڈزنی بلاشبہ ایک بے نظیر تخلیق کار تھے۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اج تک وہ اور ان کی تخلیقات جتنی مرتبہ آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئیں، ویسا فخر کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔ اسی طرح ان کا یہ بھی اکلوتا اعزاز ہے کہ پہلی اور آخری مرتبہ کسی کا ایک کردار آسکر کا حقدار بنا۔ یعنی ان کا تخلیق کردہ کارٹون مکی ماؤس۔
فورڈ میوزیم ڈیٹرائٹ میں اس بس کا نظارہ بھلا لگا جس میں بیٹھی روزا پارک سے ایک گورے کو جگہ دینے کے لیے سیٹ خالی کرائی گئی تھی۔ یہ یکم دسمبر 1955 کا ذکر ہے کہ ابھی کالوں کو پبلک ٹرانسپورٹ میں سیٹ پر بیٹھنے کا حق برابری کی سطح پر حاصل نہیں تھا۔ اس واقعے کے نتیجے میں کالوں نے شہری حقوق کے حصول کی تحریک کا آغاز کیا جو اگلے کئی برس جاری رہی۔ اس کا ایک سنگِ میل مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی کیپیٹل ہل پہ 1967 میں کی گئی وہ مشہور تقریر تھی جس میں i have a dream کے فقرے سے آغاز کرتے ہوئے ایسی ہزاروں خواہشوں کی نشاندہی کی گئی تھی جو ابھی تک افریقی امریکیوں کے بس ارمان تھے۔
پھر فلکِ پیر نے وہ منظر بھی دیکھا کہ وہ کالے جو امریکہ میں ذلتوں کے مارے لوگ تھے روزا پارک کے واقعے کے 54 سال بعد ان میں سے ایک امریکہ کا صدر بنا، بارک اوباما۔
اس دوران 1990 میں صدر بل کلنٹن نے روزا پارک کو صدارت تمغہ دے کر ا۔ پنی قومی کوتاہیوں کا کفارہ ادا کیا۔ یہ بڑے لوگوں کے عمل کی مثال ہے۔ بونے کیا کرتے ہیں یہ جاننے کے لئے اس سال چودہ اگست کو دیے گئے اعزازات کی فہرست ملاحظہ کر لیں۔ پاکستان کا دوسرا بڑا سول اعزاز ہلاِ لِ امتیاز ایک ایسے شخص کو دیا گیا جو دو یورپی ممالک کا مفرور ملزم ہے لیکن چونکہ موجودہ راجکماروں کے بڑے سیاسی مخالف ( ویسے ان کے کارہائے نمایاں بھی خوب ہیں ) کے خلاف شاہی تحفے کے بیوپار کا گواہ بننے کی خدمت سرانجام دی لہذا اس صلے کا حقدار ٹھہرا۔
ہماری ایک برگزیدہ ہستی کا قول ہے کہ ظلم پر قائم معاشرہ مٹ جایا کرتا ہے۔ ہم ہیں کہ ایسے بے شمار کرتوتوں کے باوجود بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ 27 رمضان کو وجود میں آنے والے اس ملک کا ستارہ جلد یا بدیر ضرور چمکے گا۔
۔ جاری ہے۔



بہت عمدہ جناب وحید خان صاحب. سفر تو بہت سے لوگ کرتے ہیں اور اس سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور طے شدہ استفادہ بھی کرتے ہیں مگر سفر کے ہمہ جہتی پہلووں کو محسوس کرنا اور انہیں دوسروں تک پہنچا احساس لوگوں یا ادیبوں اور دانشوروں کا ہی کام ہے. یوں محسوس ہو رہا ہے کہ آپ نے اپنے سفر امریکہ میں ہمیں بھی ساتھ رکھا ہے اور اس سے ہم لطف اندوز ہو رہے ہیں. سلامتی ہو آپ پر.