بیٹی بیزار معاشرہ
انسانی حقوق اور صنفی مساوات کے حوالے سے ہمارا ریکارڈ بالکل بھی قابل رشک نہیں۔ اکثر ایسے واقعات منظر عام پر آتے رہتے ہیں کہ یہ معاشرہ تعفن زدہ اور گلا سٹرا لگنے لگتا ہے۔ صدیوں پرانی مقامی رسومات اور سماجی رویوں کی بدولت ہم آج بھی اپنی بیٹیوں کو مساوی حقوق اور جائز مقام دینے سے گریزاں ہیں۔ ہم اس قدر ذہنی زوال کا شکار ہوچکے ہیں کہ کبھی کبھی خوف محسوس ہوتا ہے کہ کہیں ہم بھی ماضی کے بعض عرب قبائل کی طرح انھیں زندہ دفن کرنا شروع نہ کر دیں۔
کچھ عرصہ پہلے زینب کیس نے ہر صاحب دل اور صاحب اولاد کے رونگٹے کھڑے کر دیے تھے۔ پتھر دل بھی اس افسوسناک واقعہ سے متاثر ہونے بغیر نہ رہ سکے تھے۔ اس واقعہ نے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہماری چھوٹی چھوٹی معصوم بیٹیاں بھی محفوظ نہیں۔ اور یہ حقیقت بلکہ تلخ حقیقت ہے کہ ہماری بیٹیاں واقعی اس معاشرے میں محفوظ نہیں رہیں۔ تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم عورتوں کے معاملے میں ذہنی طور پر بہت پست ہوچکے ہیں۔ کہیں واقعات منظر عام پر آ جاتے ہیں اور کہیں دب جاتے ہیں۔
ہماری بیٹیوں کا تعلیمی اداروں تک پہنچنا ایک جہاد سے کم نہیں۔ بہت سارے والدین اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوانے کے حق میں ہی نہیں ہوتے۔ کچھ اپنی بیٹیوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اکثر گھروں میں، خاندانوں میں آج بھی بچیوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنا معیوب گردانا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ احسان کیا جاتا ہے کہ انھیں گھر رہ کر پرائیویٹ طور پر میٹرک یا ایف اے کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ان حالات میں جو بیٹیاں تعلیمی اداروں میں پہنچ جاتی ہیں، وہ بلاشبہ آگ کا دریا پارکر کے آتی ہیں۔ اب اگر ان کو تعلیمی اداروں میں تحفظ نہیں ملتا تو لامحالہ ان والدین کے موقف کو تقویت پہنچتی ہے جو بچیوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے کو معیوب سمجھتے ہیں۔ منفی واقعات ان والدین کی بھی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جو اپنی بچیوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ بہت ساری بچیوں کے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے امکانات مسدود ہو جاتے ہیں۔
یہ مضمون کسی مخصوص نظریے کو پروان چڑھانے یا مرد کو ظالم مخلوق ثابت کرنے کے لیے ہرگز نہیں لکھا جا رہا ۔ یہ معاشرے میں تیزی سے پھیلتی ہوئی حیوانیت پر احتجاج کے طور پر لکھا جا رہا ہے۔ اس حیوانیت کی وجہ ہماری وہ روایت ہیں جس میں بیٹے کی پیدائش پر ڈھول بجائے جاتے ہیں اور بیٹی کی پیدائش پر سوگ کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہزاروں سال پرانی روایات ہیں جن میں بیٹی کو اپنے بھائیوں کے حق میں جائیداد کے حق سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ شوہر کے مرنے پر ستی ہونا تو بہت زیادہ پرانی بات نہیں۔ ہم انہی روایات کے امین ہیں اور انہیں ہی سینہ بہ سینہ منتقل کرتے ہیں۔ ہم دن رات مذہبی ہونے کا سوانگ رچاتے ہیں لیکن جس مذہب کے ہم جانثار ہونے کے دعویدار ہیں اس مذہب میں تو بیٹی کو رحمت اور بیٹیوں کی احسن طریقے سے پرورش کو نجات کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ اس مذہب میں تو عورت تاجر بھی بن سکتی تھی، بوقت ضرورت جنگ میں تلوار لے کر میدان میں بھی آ سکتی تھی، زخمیوں کا علاج بھی کر سکتی تھی۔ پڑھ لکھ بھی سکتی تھی۔ احادیث بھی روایت کر سکتی تھیں۔ جس شوہر سے اس کا ذہنی میلان نہ ہوتا، اس سے خلع بھی لے سکتی تھی۔ بیوہ یا مطلقہ ہونے کی صورت میں پوری آزادی کے ساتھ دوسرا نکاح بھی کر سکتی تھی۔ کیا آج ہم اپنی بیٹیوں کو یہ حقوق دے سکتے ہیں؟ اس کا جواب بہت واضح ہے۔ ہم اپنی خود ساختہ مشرقی روایات کے اسیر ہیں۔ ہم انہی کو ترجیح دیتے ہیں چاہے وہ ہمارے مذہب سے متصادم ہی کیوں نہ ہوں۔
پس ثابت ہوا کہ ہماری بیٹیوں کو اپنی حفاظت خود ہی کرنی ہوگی۔ ہوس ناک نظروں سے انھیں خود ہی بچنا ہو گا۔ یہ معاشرہ ان کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ آئے روز کوئی نہ کوئی افسوس ناک واقعہ منظر عام پر آتا ہے۔ چند دن میڈیا، سوشل میڈیا پر شور مچتا ہے۔ عوامی دباؤ پر حکومتی سطح پر کوئی کمیٹی یا کمیشن بنتا ہے اور پھر وہ سب کچھ لوگوں کی یادداشت سے محو ہوجاتا ہے۔ ہم بہت جلد بھول جانے والی قوم ہیں۔

