فیض صاحب کی سحر کا طلوع


پشتون تحفظ مومنٹ (پی ٹی ایم) پشتون قوم پرستی کے نام سے ایک تحریک جو ریاستی سرپرستی میں پشتونوں کے ماورائے عدالتی قتلوں اور جبری گمشدگیوں کے الزامات کے پس منظر میں 2018 میں تشکیل پائی تھی۔ تحریک میں نوجوانوں کی جانب سے لگنے والے مقبول نعروں پہ یقیناً اعتراض ہو سکتا ہے لیکن تحریک نے خان عبد الغفار خان کا عدم تشدد کا علم بلند کر کے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر جو اصولی موقف اپنایا ہے وہ قابل تحسین ہے اور یقیناً اس میں ہی اس کی مقبولیت کا راز بھی ہے۔

جنگیں جو عام سویلینز کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہیں وہ سب سے مشکل لڑی جانے والی ”سول وار“ ہوتی ہیں۔ جس میں ملک کا ایک گروہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا کر اس کی رٹ کو چیلنج کرتا ہے۔ اس میں ریاست کے لیے عام سویلین اور شرپسند عناصر میں پہچان کرنا خاص مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ شرپسندوں کا تعلق اس علاقے، رنگ و نسل سے ہوتا ہے۔ شرپسند بھی اپنے ٹھکانے عام طور پہ سویلین آبادیوں میں اس سوچ کے ساتھ بناتے ہیں کہ وہاں وہ باآسانی اپنی شناخت چھپانے میں کامیاب ہوں گے اور ریاست کو انہیں تلاش کرنا اور ٹارگٹ کرنا خاصہ مشکل ہو گا۔

تو پھر جو علاقے شرپسندوں کے گڑھ بن جاتے ہیں تو سارا علاقہ سرخ نشان کی لکیر میں آ جاتا ہے اور ریاست طاقت کے استعمال میں نہ تو پھر احتیاط برتتی ہے اور نہ کسی کا لحاظ پھر جو بھی سامنے ہوتا ہے ٹارگٹ بن جاتا ہے۔ اس لحاظ سے شرپسندوں کے ساتھ ساتھ سویلین بھی بندوقوں کی فائر، ٹینک توپوں کی گولہ باریوں، ہوائی جہازوں کے بموں سے ٹارگٹ ہو جاتے ہیں۔ گھروں پہ چھاپوں سے چادر چاردیواری کا تقدس پامال ہو جانا، چیک پوسٹوں پہ سخت سے سخت چیکینگ سے روزمرہ امور میں بدترین خلل کا واقع ہونا اور ہر وقت کے بے یقینی ماحول سے عام سویلینز کی زندگیاں اجیرن بن جاتی ہیں۔

طویل ترین کرفیو، بازاروں کاروباروں کی بندشوں، سکولز و ہسپتالوں سمیت تمام سرکاری اداروں کا غیر فعال ہونا سے زندگی تقریباً رک سی جاتی ہے۔ سب سے جو مشکل ترین لمحہ ہوتا ہے وہ اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت کا ہوتا ہے جس کو جہاں بھی جیسی بھی سر چھپانے کی جگہ میسر ہو وہ وہاں قیام کر لیتا ہے۔ آبائی گھر ایک چھوٹی سی جنت سے دربدر ہونا کیا کم ہوتا ہے کہ اپنوں سے دوریاں بھی رنج و الم کے کیفیت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ اپنے ہی وطن میں مہاجر بن کر گھنٹوں گھنٹوں قطاروں میں لگ کر راشن کے حصول میں رہی سہی عزت نفس گنوا کر معززین بھی خود کو بھکاریوں سے کم تشبیہ نہیں دے پا رہے ہوتے۔

ہم نے اسی نوے کی دہائی میں پہلے تو امریکی چھتری تلے قبائل پہ یہ کہہ کر مہمانوں کو مسلط کر دیا کہ یہ اسلام کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ رواں صدی کے اوائل میں پھر سے امریکہ ہی کے ایماء پر اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے گئے ”طالبان“ جو ایک وقت تک ہمارے قومی اثاثوں میں سے تھے اسے ختم کرنے کے درپے ہوئے۔ اس سے پشتون کے اکثر قبائلی علاقے بشمول سوات براہ راست خوفناک اور بدترین صورتحال سے دو چار ہوئے ساتھ ساتھ بندوبستی اضلاع بھی روز روز کے خودکش دھماکوں سے لرز اٹھے۔

زمین زادوں نے اس امید پہ ناقابل برداشت حالات کا سامنا اور برداشت کیا کہ چلو ملک و قوم کے لیے بہتر یہی ہے کہ اس شرپسند گروہ کا خاتمہ ہو تاکہ ملک میں حکومت کی رٹ مضبوط ہو۔ کسی نے بھی اس وقت یہ سوال نہیں اٹھایا کہ جناب جب آپ یہ بت تراش رہے تھے اور اب اسے خود پاش پاش کرنے کے درپے ہو اور ہم بھی اور خود آپ بھی بھاری بھر کم نقصان اٹھا رہے ہوں تو پھر وہ بنانے والے سنگ تراش اس سے مبراء کیوں؟ اس کا کبھی احتساب بھی ہو گا؟

اور ہاں پندرہ بیس سالوں سے دہشتگردی کے نام پہ لڑی جانے والی ان لڑائیوں کا ڈراپ سین کب ہو گا۔ کب تک ہم تاریک راہوں کے مسافر رہیں گے؟ کیا نہ ختم ہونے والی ان جنگوں میں صرف عام معصوم عوام ہی قربانیوں کی بھینٹ چڑھے گی؟ بقول مرحوم جناب منور حسن صاحب ”دہشتگردی کے نام پہ لڑی جانے والوں جنگوں سے صرف نفرتوں میں ہی اضافہ ہوا ہے“ اور ایسی ہی نفرتوں کے خاتمے اور اپنی مٹی پہ امن کی خاطر ہی صوبے کے باشعور عوام کا اجتماع خیبر کے مقام پہ ہوا۔ اور اللہ کرے کہ یہ سفر اس منزل تک ہمیں لے چلے جس سحر کا انتظار فیض صاحب کو تھا۔

Facebook Comments HS