سوشل میڈیا کے نوجوان کی ذہنی کیفیت پر منفی اثرات


اگر آپ بھی صبح اٹھ کر سب سے پہلے اپنا موبائل فون پکڑ کے واٹس ایپ، فیس بک انسٹاگرام ٹویٹر یا ٹک ٹاک میں سے کوئی سی بھی ایپ کھول کر دیکھتے ہیں کہ کہیں کسی عزیز کا کوئی پیغام تو نہیں آیا یا پھر کسی دوست نے کوئی تصویر یا ویڈیو وغیرہ تو نہیں شیئر کی تو سمجھ جائیں آپ کو بھی سوشل میڈیا کی لت لگ چکی ہے جو کہ ایک تشویش ناک بات ہے۔

آج کے دور میں زیادہ تر لوگ بالخصوص نوجوانوں کا سوشل میڈیا کی جانب رجحان بہت زیادہ ہے۔ انسان سوشل میڈیا پر جعلی زندگی گزار کر بہت خوشی محسوس کرتا ہے۔ لوگ اپنی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں اور ان کے فالوورز یا دوست احباب ان کی ویڈیوز یا تصاویر کو دیکھتے ہیں اور ان پر مختلف کمنٹ کرتے ہیں۔ اگر کی گئی پوسٹ پر مثبت ردعمل آئے تو انسان پھولے نہیں سماتا لیکن اگر ردعمل منفی ہو تو انسان عجیب سی پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے کبھی کبھی تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے کمنٹس باکس میں ہی لوگ لفظی جنگ اور گالم گلوچ شروع کر دیتے ہیں۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا کو کمائی کے ذریعے کے طور پر بھی لیا جانے لگا ہے جو ہمارے آنے والے مستقبل کے لئے انتہائی خطرناک بات ہے آج کے نوجوانوں سے ان کے مستقبل کے بارے سوال کیا جائے تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز پوسٹ کریں گے اور مشہور ہو کر آن لائن کمائی کریں گے آن لائن کمائی کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کے لئے بھی آپ کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر ہونا چاہیے بہت سی ایسی ویب سائٹس موجود ہیں جو آن لائن کام کرنے پر اچھی خاصی رقم دیتی ہیں جو کہ ایک ہنر مند انسان کے لئے روز گار کمانے کا اچھا ذریعہ معاش ہے لیکن بہت سے نوجوان سمجھتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مشہور ہو کر بنا کسی ہنر کے ہم کمائی کریں اس میں زیادہ غلطی ان ولاگرز کی ہے جو سوشل میڈیا پر جھوٹی زندگی دکھاتے ہیں اور نوجوان ان کو دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں۔

آج سوشل میڈیا اور موبائل فونز کو ہم نے زبردستی اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا ہے
اگر سوشل میڈیا کے فوائد کی بات کی جائے ہم اپنے سے کئی ہزار میل دور رہنے والے پیاروں سے فوری بات چیت کر سکتے ہیں ویڈیو کالز کے ذریعے ان کو دیکھ سکتے ہیں معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہیں ایک طرف تو سوشل میڈیا نے ہماری زندگی کو آسان بنا دیا ہے لیکن دیکھا جائے تو ہمیں مختلف مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ہماری صحت خاص طور پر ذہنی صحت کو بہت متاثر کر رہا ہے۔ آپ کو ذہنی طور پر یہ دباؤ بھی ہوتا ہے کہ آپ کوئی پیغام یا پوسٹ مس نہ کر دیں جس کی وجہ سے آپ بار بار سوشل میڈیا اکاؤنٹس دیکھتے ہیں اور سوشل میڈیا کے استعمال کو اپنی عادت بنا لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا ایک اور منفی اثر جو ہماری زندگیو ں میں ہوا ہے ہم نے آپس میں ملنا جلنا کم کر دیا ہے اپنوں میں رہتے ہوئے بھی پرایوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی اس انٹرنیٹ کی وجہ سے دوری محسوس کرتے ہیں۔ کم میل جول کی وجہ سے لوگوں میں خود اعتمادی بھی کم ہوتی جا رہی ہیں لوگ آمنے سامنے بات کرنے کی بجائے موبائل فونز پر بات کرتے ہوئے زیادہ خود اعتمادی محسوس کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہم لوگ اپنا موازنہ دوسرے لوگوں سے کرنے لگتے ہیں کہ سامنے والے کی زندگی ایسی چل رہی ہے لیکن میری زندگی اس کی زندگی کے برعکس ہے لیکن کیا پتہ سامنے والے کے حالات آپ سے بھی بدتر ہوں مگر سوشل میڈیا پر وہ خود کو بہت ٹھیک دکھا رہا ہو۔ سوشل میڈیا کے بے ترتیب استعمال کی وجہ سے نوجوان نیند کی کمی کا بھی شکار ہو رہے ہیں اور نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے نوجوان تیزی سے مختلف ذہنی بیماریوں کا شکار ہوتے جا رہے ہیں نوجوانوں کی سونے کی عادات خراب ہو چکی ہیں اور رویوں میں بھی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں ہر وقت غصے کی سی کیفیت طاری رہتی ہے۔ مزید ستم یہ کہ سوشل میڈیا پر مختلف فلٹر استعمال کر کے خود کو بہتر اور خوبصورت دکھایا جاتا ہے جس کی وجہ سے نوجوان اسی دوڑ میں لگے رہتے ہیں کہ ہم بھی خود کو زیادہ سے زیادہ پرکشش دکھائیں۔

اکثر لوگ سوشل میڈیا پر تصاویر یا ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں بار بار دیکھتے ہیں کہ ان کی پوسٹ کس کس نے دیکھ لی اور ان کی پوسٹ دیکھنے کے بعد سامنے والے نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کیا کمنٹ کیا ہے اگر آنے والے کمنٹس منفی ہوں تو آپ الٹا ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور جب آپ ذہنی طور پر ٹھیک محسوس نہ کریں تب آپ اپنی جسمانی صحت کا بھی خیال نہیں رکھ پاتے اور مختلف جسمانی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے آنے کے بعد انسان کی نجی زندگی کی رازداری نہیں رہی۔ کوئی بھی انجان شخص آپ کا سوشل میڈیا پروفائل دیکھ کر آپ کی شخصیت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ آپ کے موبائل فونز میں انسٹال سوشل میڈیا ایپس با آسانی آپ کے موبائل میں موجود مواد تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں یہاں تک کہ آپ کے موبائل میں موجود رابطہ نمبرز اور مائیک اور آپ کا کیمرہ تک محفوظ نہیں۔ سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں میں ضرورت سے زیادہ جگہ بنا لی ہے ہم حقیقی زندگی میں کم اور خیالی دنیا میں زیادہ زندگی گزار رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے استعمال کو مثبت بنائیں، ایک حد مقرر کریں کہ کتنا ٹائم سوشل میڈیا کو دینا ہے اپنی خوراک نیند کی قربانی نہیں دینی تو ہم اچھی صحت مند زندگی بھی گزار سکیں گے۔ لوگ فارغ اوقات میں کوئی اچھا کام کرنے کی بجائے ٹک ٹاک ویڈیوز دیکھنے میں وقت ضائع کرتے ہیں فارغ اوقات میں کوشش کریں کوئی معنی خیز اور فائدہ مند کام کریں۔ سوشل میڈیا کا استعمال مثبت طریقے سے کریں اور سوشل میڈیا کے بے دریغ اور بے جا استعمال سے پرہیز کریں اور اپنے قیمتی وقت کو اچھے کاموں میں استعمال کریں جس سے ہم اور ہمارا ملک ترقی کرے۔

Facebook Comments HS