جھوٹ کا چلن: کہ خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
2016 ءکے اختتام پر آکسفورڈ ڈکشنری میں شامل ہونے والے اس لفظ ”پوسٹ ٹروتھ“ کو ”ورڈ آف دی ائر“ قرار دیا گیا۔ ایک افسانہ تراشنا اور پھر اسے واقعہ بنا کر پیش کرنا ’پوسٹ ٹروتھ‘ کہلاتا ہے یعنی حقائق اور دلائل پس پشت ڈال کر وقتی ہیجان میں جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنا یعنی سچ ابھی جوتے ہی پہن رہا ہو اور جھوٹ آدھی دنیا کا چکر لگا کر واپس آ جائے۔ پروین شاکر کا یہ شعر
میں سچ کہوں گی اور ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا
”پوسٹ ٹرتھ“ کا درست عکاس ہے۔ جھوٹ کو سوشل میڈیا، دیا سلائی دکھا دے تو اسے جنگل کی آگ بننے میں دیر نہیں لگتی۔ ہمارا معاشرہ ایک عشرے سے اس کی زد میں ہے۔ کئی با اثر شخصیات بھی اس تھیوری کی پرچارک ہیں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان۔ پوسٹ ٹروتھ میں جھوٹا مواد عوام کے سامنے خبر یا تجزیہ و تبصرہ کے نام پر دلکش اور سچ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں کچھ لوگ مل کر ایک حلقہ بنا لیتے ہیں اس میں وہی چیزیں گردش کرتی ہیں جو اصحاب حلقہ کے مزاج، خواہشات، تصورات اور مفادات سے میل کھائیں۔ اس میں اختلاف رائے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ جس کی وجہ سے من چاہی چیزوں کے سلسلے میں لوگ تحقیق کی زحمت گوارا نہیں کرتے، جھوٹی اور فرضی معلومات کو حقائق سمجھ بیٹھتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ہاتھوں دنیا کو سماجی اضطراب کا چیلنج درپیش ہے۔ ’پوسٹ ٹروتھ‘ کو ٹروتھ بنا کر نوجوانوں میں ہیجان برپا کیا جاتا ہے۔ امریکہ جیسے معاشرے میں یہ کام ٹرمپ نے سوشل میڈیا کے سہارے کیا اور وہ ابھی تک اس کو کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں۔ گزشتہ الیکشن سے محض کچھ گھنٹے قبل پوپ سے منسوب ٹرمپ کے لیے حمایت کا جھوٹا اعلان، ہیلری کو داعش کی سہولت کار کہنا، انڈیا میں مودی کی فتح، برطانیہ میں بریکسٹ ریفرنڈم کے نتائج، عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی کہانیاں، یہ سب پوسٹ ٹروتھ کے مظاہر ہیں۔
موجودہ انارکی مفاداتی سوچ کا نتیجہ ہے۔ دْشمن ہمیں کیا تباہ کریں گے یہ کام ذوق و شوق سے ہم خود انجام دے رہے ہیں۔ بقول جون ایلیا:
میں بھی عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں
کہ خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
عدم اعتماد اور عدم برداشت کی لعنتوں نے ہماری اخلاقیات کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔ لاہور کے کالج سے منسوب افسانہ اس کی تازہ ترین گواہی ہے۔ ایک بچی اور اس کے والدین کو بے رحم سوشل میڈیا نے رسوائی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اس افسانے کا مرکزی کردار تاحال کسی کو معلوم ہے نہ یہ واضح ہے کہ ہنگامہ آرائی کے لیے نوجوانوں کو سڑکوں پر لانے والوں کا مدعا کیا تھا؟ سائبر کرائم کے اداروں کا امتحان ہے کہ وہ افسانہ ساز فیکٹری تک پہنچیں اور دیکھیں کہ اس ٹکسال میں پوسٹ ٹروتھ کے مزید کون کون سے سکے ڈھل رہے ہیں جو مستقبل میں مارکیٹ کیے جا سکتے ہیں؟
پاکستان میں اس مہم جوئی کا آغاز 2013.2014 ءمیں اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے ہوا۔ سینکڑوں سرکاری نوجوان سیاست دانوں، صحافیوں اور نامور لوگوں کو بدنام کرنے پر مامور ہوئے۔ اب یہ گروہ جھوٹ کو مکمل آرٹ بنا چکا ہے اس کی توپیں مقتدرہ اور ریاست کے ہر ادارے اور شخصیت کی عزت خاک میں ملا نے کے لیے ہمہ وقت مصروف ہیں۔ معاشرہ ایک آتش فشاں کے دہانے پر ہے۔ سیاست اور مذہب دونوں کے نام پر ”پوسٹ ٹروتھ“ کا کاروبار عروج پر ہے۔ ایک افسانے کو جب چاہتے ہیں واقعہ بنا کر پاکستان کو مسلسل فکری و عملی انتشار میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ تراشا گیا افسانہ بتا رہا ہے کہ سماجی موضوعات کے ذریعے وہ ہیجان برپا کیا گیا جو وہ سیاسی عنوان سے نہیں کیا گیا۔ سوال یہ ہے متبادل بیانیہ اور ”پوسٹ ٹروتھ ’کے مقابلے میں‘ ٹروتھ ’کہاں ہے۔ یہ معاملہ صرف سیاست ہی نہیں، سماج کا بھی ہے۔ ایک پوری نسل ہیجان میں دھکیل دی گئی۔ اسے اس دلدل سے نکالنے کی کوئی سنجیدہ کوشش حکومتی یا سماجی سطح پر دکھائی نہیں دے رہی۔ اب واقعے کے مندرجات سے ابھرنے والے سوالات پر نظر ڈال لیں۔
1۔ کسی نے اتنا بھی نہ سوچا کہ اتنے بڑے ادارے کا معمولی ملازم ایک لڑکی کو ہوس کا نشانہ بنانے کی جرات کیسے کر سکتا ہے؟ 2۔ عقل سے پیدل اتنا غور کر لیتے کہ سکیورٹی گارڈ کے لئے ایک ادارہ اپنی ساکھ داؤ پر کیوں لگائے گا؟ 3۔ کیا یہ ایسا نہیں، کہ کوئی کہے کہ تمہارا کان کتا لے گیا ہے تو ہم کان دیکھنے کی بجائے کتے کے پیچھے بھاگ کھڑے ہوں؟ 4۔ ریپ کا الزام لگا نے سے پہلے کیا ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ وقوعہ ہوا بھی ہے یا نہیں؟ 5۔ ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں تو قرآن کریم ہمیں کیا یہ حکم نہیں دیتا کہ ”جب کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لے کر آئے تو پہلے اس کی تحقیق کرلو۔“ نبی اکرم ﷺ نے فر مایا کہ ”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے“ ؟ 6۔ ہنگامہ بپا کرنے والے یہ بتائیں کہ کیا ملزم گارڈ ہونے کی وجہ سے الزام کے ثبوت کا حق دار نہیں؟ 7۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لی اور مبینہ ملزم گرفتار کیا تو کالج انتظامیہ اسے کیوں بچائے گی؟ 8۔ اگر ایسا معاملہ ہوتا تو مالکان اپنی عزت اور اپنے ادارے کی ساکھ کی بجائے ایک گارڈ کو بچاتے؟ 9۔ جب نہ کوئی مدعی ہے اور نہ ہی کوئی مدعا تو وہ غریب گارڈ کس قانون اور کس ایف آئی آر میں پکڑا گیا؟ 10۔ وزیر تعلیم نے کسی ثبوت کے بغیر کالج کی رجسٹریشن کیسے معطل کی؟ 11۔ آگر وہ لڑکی مر گئی تو اس کا کوئی ڈیتھ سرٹیفکیٹ ہوتا، کہیں جنازہ، کسی جگہ تدفین تو ہوتی؟
ہماری رائے میں اس سے واضح ہے کہ ایک مخصوص گروہ نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے جھوٹ گھڑا۔ ریپ کے خلاف احتجاج کرنے والے حیوان یہ بھی کہتے رہے، نکالو فیمیل ٹیچرز کو، ہم انہیں ریپ کریں گے۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم جنگل میں رہتے ہیں جہاں نہ اخلاقیات ہے نہ قانون، نہ منطق ہے نہ ثبوت، بس الزام کا راج ہے۔ اس معاشرے کو کچھ اندرونی و بیرونی قوتوں نے باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں عزت، غیرت اور سچائی وغیرہ سے کوئی آشنا نہیں رہا۔ بس عالم یہ ہے۔ ”یہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے میخانہ کہتے ہیں“ ۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ فائر وال اور نہ ملکی قانون اس جھوٹ کو روکنے میں کامیاب ہوا۔ برطانیہ کی جمہوریت کی مثالیں دینے والے اس کی عدالتوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے انتشار پھیلانے والوں کو فوری اور سخت سزائیں دے کر جو مثال قائم کی، ہماری ریاست اس کی پیروی سے کیوں کترا رہی ہے؟ آج کی دنیا کا بڑا مسئلہ پروپیگنڈا، فیک نیوز اور جھوٹ ہے۔ ایک جھوٹ غلط ثابت ہونے پر دوسرا تراش لیا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں ناقدین شاید اسی لیے سوشل میڈیا کو ”گٹر میڈیا“ کہتے تھے۔
سوشل میڈیا کے لیے کوئی میکنزم لانا ضروری ہو گیا ہے جس کے تحت جھوٹ کا یہ کاروبار ختم ہو، ریاست سائبر جرائم کو منطقی انجام تک پہنچانے میں تساہل کی پالیسی ختم کرے۔ موجودہ صورتحال میں سنجیدہ فکر طبقات اور سب سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر ایسا لائحہ عمل بنائیں کہ سوشل میڈیا کا منفی کردار ختم ہو سکے۔ اگر یہ کاروبار اسی طرح چلتا رہا تو کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔


