ملکی حد بندیوں سے آزاد یورپی معاشرہ
تقریباً چھ بجے شام لکسمبرگ سٹی ائر پورٹ سے باہر نکلا تو باہر عمیر، آمنہ اور ضوحا انتظار کر رہے تھے۔ سامان وغیرہ گاڑی میں رکھ کر گھر کی طرف چلے راستے میں عمیر بتا رہا تھا کہ پہلے ہم لکسمبرگ سٹی کے قریب ہی ایک شہر Pentage میں رہائش پذیر تھے۔ یہاں پر مکانات بہت مہنگے ہیں بلکہ مجموعی طور پر ہی لکسمبرگ نہ صرف یورپ کے امیر ترین شہروں میں شامل ہے بلکہ مہنگا ترین ملک بھی ہے۔ اب ہم نے اپنی رہائش ایک چھوٹے سے شہر (Differdange) ڈفرڈینج میں منتقل کر لی ہے بلکہ وہاں پر ہم نے اپنا ایک چھوٹا سا گھر خرید لیا ہے۔ اگر ہم انہی پیسوں سے لکسمبرگ کے پڑوسی ممالک بلجیم، فرانس یا جرمنی میں گھر خریدتے تو ہم کافی بڑا گھر خرید سکتے تھے۔ یہ گھر 1970 ء میں بنایا گیا تھا اور سکول کے بالکل سامنے ہے اور خریدتے وقت اس کا ایک مثبت پہلو یہ بھی تھا۔
ہم تقریباً پندرہ بیس منٹ میں گھر پہنچ گئے۔ میرے ذہن میں پچاس پچپن سال پرانے گھر کا جو نقشہ تھا یہ گھر اس سے قطعی طور پر مختلف تھا۔ ایسے لگتا تھا جیسے ابھی مکمل ہونے کے بعد اس میں رہائش اختیار کی گئی ہے۔ میں نے عمیر سے پوچھا کہ تمہارا آفس کون سے شہر میں ہے کہنے لگا کہ آفس Balval بالوال میں ہے۔ میں حیران تھا کہ دارالحکومت لکسمبرگ سٹی سے پانچ پانچ سات سات کلومیٹر فاصلے پر یہ تین شہر موجود ہیں۔ ان سب شہروں کو تو اب تک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک شہر بن جانا چاہیے تھا جیسے کہ ہمارے ہاں رواج ہے کہ بڑے بڑے شہر تیس تیس چالیس چالیس کلومیٹر پر محیط ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس یہاں پر ایسے نہیں ہے۔ کسی بھی آبادی کو ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھنے دیا جاتا۔ ویسے آبادی نے بڑھنا بھی کیا ہے جس ملک کی کل آبادی ہی ساڑھے چھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہو وہاں پر کتنے بڑے شہر بن سکتے ہیں۔ جب کہ اتنی آبادی تو ہمارے چھوٹے سے شہر بورے والا کی ہی ہو گی۔ بہرحال یہ شاید پالیسی بھی ہو کہ رہائشی آبادیوں کو ایک حد سے زیادہ آگے بڑھنا نہیں دیا جاتا۔
اگلے دن تقریباً دس گیارہ بجے میں گھر سے نکلا تو سارا شہر ہی بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ پانچ سات منٹ کے بعد کوئی ایک آدھ گاڑی یا اکا دُکا فرد بمشکل ہی دکھائی دیتا۔ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ سب لوگ اپنے اپنے کام پر ہیں اور بچے سکولوں میں ہیں۔ شام پانچ سے آٹھ نو بجے تک تھوڑی سی چہل پہل دکھائی دیتی ہے اور پھر بس زیادہ تر لوگ فلیٹوں میں رہتے ہیں اور فلیٹ بھی کیثر المنزلہ بڑے بڑے پلازوں کی شکل میں نہیں ہیں۔ بلکہ چھوٹی چھوٹی عمارات ہیں جو زیادہ سے زیادہ تین منزلوں تک تعمیر کی گئی ہیں۔ پہلے فلور پر گیراج، سٹور اور تعمیر شدہ بلڈنگ کے رقبے کے تقریباً برابر خالی جگہ لان کے لیے چھوڑی جاتی ہے۔ اگر اس بلڈنگ میں تین فلیٹس موجود ہوں تو یہ جگہ اُن تینوں گھروں کی مشترکہ ہوتی ہے۔ تینوں گھروں کا علیحدہ علیحدہ واشنگ ایریا بھی یہیں پر ہی موجود ہوتا ہے۔
واشنگ مشینیں اور کپڑے دھونے کے لیے ضروری ساز و سامان صابن اور واشنگ پاؤڈر وغیرہ بھی سبھی انڈر گراؤنڈ سا ہوتا ہے۔ گاڑیاں گیراج میں کھڑی کرنے کا رواج نہ ہونے کے برابر ہے۔ سب لوگوں کی گاڑیاں سڑک کے دونوں اطراف بنے ہوئے گھروں کے سامنے بنائی گئی سروس لین میں مین روڈ کے متوازی اس ذمہ داری سے کھڑی کی جاتی ہیں کہ مین روڈ ٹریفک کے لیے بالکل کلیئر رہے۔
یہ پہاڑی علاقہ ہے لیکن پہاڑ زیادہ بلند نہیں ہیں۔ شہر کے چاروں طرف درختوں سے گھرے ہوئے پہاڑ یہیں سے دکھائی دیتے ہیں۔ اس شہر کا کچھ حصہ تو ایک ہی سطح پر ہے لیکن کچھ علاقے ایسے بھی ہیں کہ آپ اُن علاقوں میں جیسے جیسے آگے بڑھتے جائیں گے سطح زمین بلند ہوتی جائے گی۔ اس لیے یہاں پر ایسے مکان بھی دکھائی دیں گے۔ جن کے صحن دوسرے مکانوں کی تیسری منزل کی چھت سے بھی بلند ہوں گے۔
سڑکیں زیادہ کشادہ نہیں ہیں بس پوری پوری سی ہی ہیں ٹریفک دائیں ہاتھ چلتی ہے میں ابھی تک اس کا عادی نہیں ہو سکا۔ عموماً بیٹھتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ کا ہی رخ کر لیتا ہوں اور وہاں پر موجود سٹیرنگ کو دیکھ کر دوسری طرف جاتا ہوں۔ شہر کے باہر جس قدر سبزے کی کثرت ہے۔ شہر کے اندر اسی قدر قلت ہے۔ شہری آبادی کی سڑکوں اور گلیوں میں درخت لگانے کا رواج نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ کمی جگہ جگہ دکھائی دیتی ہے۔ میں اپنی نواسی ضوحا کو اس کے سکول چھوڑنے گیا سکول کی بلڈنگ ایکڑوں پر محیط ہے لیکن مجال ہے کہ وہاں پر کوئی درخت، گھاس یا پُھول نظر آ جائیں۔ سنگ و خشت کا اُگایا گیا ایک جنگل ہے میں نے گھوم پھر کر سکول کا جائزہ لینے کی کوشش کی کہ شاید کہیں کوئی گھاس والا گراؤنڈ نظر آ جائے لیکن بری طرح ناکامی ہوئی۔
ہمارے گھر کے ساتھ ہی بچوں کے کھیلنے کے لیے ایک پارک بھی ہے یہاں پر بھی پانچ سات بڑے بڑے گملے بنا کر اُن میں ایک ایک درخت اُگانے کی موہوم سی کوشش کی گئی ہے اور اس کوشش پر گملوں میں اُگے ہوئے پودے بھی پریشان اور اُداس سے دکھائی دیتے ہیں اور باقی سارا پارک ٹف ٹائلز پر مشتمل ایک وسیع فرش کی صورت میں ہے۔ اس کے چاروں طرف سٹور اور دوسری بڑی بڑی کمرشل بلڈنگز ہیں۔ اس پارک میں عموماً بچے اور کبوتر پانچ بجے شام کے بعد ہی آنا شروع کرتے ہیں۔ یہ بچے اپنے ساتھ کبوتروں کے کھانے کے لیے گھروں سے بچی کھچی خوراک کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی شکل میں لاکر یہاں کبوتروں کو ڈالتے ہیں جو پہلے سے ہی اُن کے منتظر ہوتے ہیں۔ بڑے بچے یہاں پر عموماً اپنے اپنے سائیکل چلاتے ہیں اور چھوٹے بچے اُٹھتے گرتے ہوئے چلنے کی مشق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جب کہ اُن کے والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی عموماً اُن کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ویسے یہاں پر بچوں کی تعداد بہت ہی کم محسوس ہوتی ہے اور اُن کی نسبت بوڑھوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ البتہ یہاں پر موجود کالوں کی تھوڑی سی تعداد بچوں کی اس کمی کو دور کرنے کے لئے بھرپور کوشش کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور اس کے مثبت اثرات بھی اُن کے ساتھ جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو نوکری تو یہاں کرتے ہیں لیکن یہاں مہنگائی ہونے کی وجہ سے رہائش اُن لوگوں نے پڑوس کے ممالک بلجیم، فرانس اور جرمنی میں رکھی ہوئی ہے۔ وہ صبح یہاں آتے ہیں اور اپنی اپنی نوکری کر کے شام کو واپس دوسرے ملکوں میں لوٹ جاتے ہیں۔
گاڑی کے بعد دوسری بڑی پرائیویٹ سواری بائیسکل ہے جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں جگہ جگہ سے یہ سائیکل کرائے پر بھی دستیاب ہوتے ہیں اور واپسی کے لیے بھی ضروری نہیں ہے کہ جس سنٹر سے آپ نے یہ سائیکل کرائے پر لیا ہو وہیں پر ہی واپس کرنا ہے۔ آپ اس بائیسکل کو شہر کے کسی بھی دوسرے سنٹر میں یا کسی دوسرے شہر کے سنٹر میں بھی کرائے کی ادائیگی کر کے واپس کر سکتے ہیں۔
لکسمبرگ میں پاکستانیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی بڑی وجہ زبان کا مسئلہ ہے بلکہ یہ مسئلہ تو تقریباً سارے کے سارے ہی یورپی ممالک میں ہے۔ ہر ملک کی اپنی اپنی زبان ہے اور یہاں پر ہر کام کرنے کے لیے مقامی زبان سے آشنائی ہونا ایک لازمی امر ہے۔ اس لیے پاکستانی تمام یورپ میں کم کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ انگلش سے تھوڑی بہت شناسائی کی وجہ سے پاکستانیوں کی اکثریت اُن ملکوں کا رخ کرتی ہے۔ جہاں انگریزی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ جیسے آسڑیلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ، آئرلینڈ، امریکہ وغیرہ میں پاکستانی نسبتاً زیادہ آسانی اور سہولت سے سیٹل ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے یورپ کی نسبت ان ممالک میں پاکستانی زیادہ تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔
یہاں کا عمومی موسم وطنِ عزیز سے ملتا جلتا ہی ہے۔ آج کل دن کو درجہ حرارت عموماً سولہ سترہ ڈگری سنٹی گریڈ ہوتا ہے اور رات کو کچھ کم ہو جاتا ہے۔ لوگ شارٹس اور آدھے بازو کی شرٹس پہنے عموماً دکھائی دیتے ہیں۔ پچھلے دنوں گھر میں واشنگ مشین خراب تھی اور یہاں کا انجنیئر اور ہمارے ہاں کا مستری کسی بھی طرح سے پکڑائی نہیں دے رہا تھا۔ پچھلے ویک اینڈ پر پروگرام بنا کہ کپڑے باہر دکان سے دھو کر لائے جائیں۔ ہفتے کے دن ناشتے کے بعد تمام دھونے والے کپڑے ڈگی میں بھر کر باہر نکلے تو عمیر نے پوچھا کہ فرانس چلنا ہے یا بلجیم میں حیران تھا کہ یہ لوگ کپڑے دھونے کے لیے دیارِ غیر میں جائیں گے۔ دراصل یورپ والوں نے طویل لڑائی جھگڑوں کے بعد اس بات کو سمجھ لیا ہے کہ وہ سب لوگ ایک ہی کمیونٹی کے ارکان ہیں اور سارے ممالک بھی اُن کے اپنے ہی ہیں۔ اس لیے انہیں کہیں بھی جانے پر کسی بھی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔
ہم لوگوں نے بلجیم کے ایک چھوٹے سے سرحدی شہر آرلوں (Arlon) سے کپڑے دھو کر لانے تھے۔ گھر سے نکلنے کے دس پندرہ منٹ بعد میں نے عمیر سے کہا کہ جب ہم بلجیم میں داخل ہو رہے ہوں تو اس وقت مجھے بتانا تو وہ فوراً بولا کہ ہم اس وقت بلجیم میں ہیں۔ میں نے کہا کہ ہم نے بارڈر کب کراس کیا پتہ ہی نہیں چلا اس نے بتایا کہ پتہ کیسے چلنا تھا۔ بس چلتے چلتے آپ کو سڑک کے ایک طرف ایک مائل سٹون پر دوسرے ملک کا نام لکھا ہوا نظر آئے گا بس اسی سے پتہ چل جائے گا کہ ہم دوسرے ملک میں داخل ہو گئے ہیں۔ میرے ذہن میں بارڈر کا تصور تھا کہ خار دار تاریں لگی ہوں گئی مشین گنوں سے مسلح فوجی مورچہ بند توپیں، ٹینک اپنے اپنے ملک کے جھنڈے اور اپنے اپنے فوجیوں کی تفاخر بھری پریڈیں لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے بلکہ وہ بتا رہے تھے کہ ہم تو اکثر اپنے استعمال کی چیزیں فرانس یا بلجیم سے خرید کر لے جاتے ہیں۔ کیوں کہ وہاں چیزیں لکسمبرگ کی نسبت سستی ہوتی ہیں۔ میں نے اُن سے دریافت کیا کہ یہ ہمارے کاغذوں میں تو سمگلنگ کے زمرے میں آتا ہے کہ آپ کسی دوسرے ملک سے بغیر کسی بھی قسم کی کسٹم، ڈیوٹی یا ٹیکس ادا کیے بغیر چیزوں کو اپنے ملک میں لا رہے ہیں۔ اس پر عمیر نے وضاحت کی کہ ایسی کوئی بات نہیں آپ کو جہاں سے کوئی چیز سستی ملے وہاں سے بلا کسی بھی قسم کی روک ٹوک کے خرید سکتے ہیں۔ بہرحال میرے لیے ساری باتیں ہی نئی اور تعجب انگیز تھیں۔
بلجیم میں ہم لوگ جہاں کپڑے دھونے کے لئے گئے وہ ایک بہت بڑا ہال تھا جس میں تقریباً بیس مختلف سائز کی واشنگ مشینیں پڑی ہوئی تھیں اور کچھ بڑی بڑی ڈرائر مشینیں بھی موجود تھیں۔ ہم بڑے سائز کی ایک مشین کرائے پر لینا چاہتے تھے لیکن وہ خالی نہ ہونے کی وجہ سے دو چھوٹی مشینیں کرائے پر لے کر اُن میں کپڑے اور واشنگ پاؤڈر ڈال دیا۔ جب کپڑے دھل گئے تو انہیں ڈرائر پر خشک کر لیا اس طرح تقریباً ایک گھنٹے میں ہی ہم لوگ اس کام سے فارغ ہو چکے تھے۔ اسی مارکیٹ میں یورپ کی ایک معروف چین (Aldi) ایلڈی کا شاپنگ سنٹر بھی موجود تھا۔ وہاں سے اُن لوگوں نے ضوحا کی اس کے سکول سے متعلقہ ضرورت کی کچھ چیزیں خریدیں اور واپس گھر آ گئے۔ واپسی پر میں نے بارڈر دیکھنے کی پوری کوشش کی لیکن نہ جانے وہ کب آیا اور کب گزر گیا پتہ ہی نہیں چلا۔
فٹ بال یہاں کی بہت پسندیدہ گیم ہے جہاں دو چار بچے اکٹھے ہوں گے فٹ بال اُن لوگوں کے درمیان اچھل کود کر رہا ہو گا بلکہ اکیلا دکیلا لڑکا بھی اس کے ساتھ اپنا دل بہلا لیتا ہے۔


