مشرف مبشر کی کتاب: ”سرگزشت فرنٹیئر کالج“

مشرف مبشر سے میری پہلی ملاقات ہوم اکنامکس کالج کی تقریب پذیرائی میں ہوئی۔ ان کی ملنساری اور مشفق شخصیت نے متاثر کیا۔ دوسری ملاقات گندھارا ہندکو بورڈ میں ہوئی جہاں میں نے انہیں اپنی کتاب ”بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں“ دی تو کہنے لگیں میں بڑی سخت ممتحن رہی ہوں۔ تمہاری خود نوشت پڑھ کر تنقید کروں تو خفا مت ہونا۔ میں نے کہا جیسے دل چاہے لکھو۔ پھر دو دن بعد ان کا فون آیا۔ ایک سرشاری کے عالم میں ”بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں“ پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا بس آج سے تم میری پکی پکی بہن ہو۔ میں کتاب پر تفصیلی تبصرہ لکھوں گی اور اس وعدے کو ایفا انہوں نے ایسے کیا کہ اباسین ادبی ایوارڈ کی تقریب میں جہاں میری خودنوشت کو اباسین ادبی ایوارڈ برائے نثر ملنے والا تھا، انہوں نے آ کر میرے ہاتھ میں دس صفحوں پر لکھا اپنا تبصرہ رکھ دیا۔ پھر رات کو فون آیا، پوچھا تبصرہ کیسا لگا۔ میں نے کہا بہت اچھا اور اس لئے بہت اچھا لگا ہے کہ یوں تو میری خودنوشت پر اتنے تبصرے لکھے گئے ہیں کہ ان کی پوری ایک علیحدہ کتاب بن سکتی ہے مگر تمہارا تبصرہ منفرد اور میرے سچ کا گواہ ہے۔
فرنٹیئر کالج ہم دونوں کی محبت کا مرکز و محور ہے اور و جۂ دوستی و مودت بھی۔
مشرف نے اپنی کتاب ”سرگزشت فرنٹیئر کالج“ دی جو ان کی تحقیق و جستجو کا ثمر ہے۔ اس کتاب کو میں نے بہت شوق سے وصول کیا اور محبت سے پڑھا۔ یہ کتاب تو میرے لئے صحیفۂ محبت ہے۔ کتاب ہے کہ نگارخانہ جس کے ہر صفحے پر یادوں کی بارات اترتی ہے اور میں یاد کے ان حسین جزیروں پر جا اترتی ہوں جہاں میں نے اپنی زندگی کے حسین لمحات بتائے ہیں۔ یہ واحد کالج ہے جس کی منظوری قائد اعظم نے 1948 ء میں دی۔ فاطمہ جناح نے عمارت پسند کی۔ عمارت پسند کرنے کے بعد فرمایا: ”میں نے جو بلڈنگ آپ کے لئے پسند کی ہے، وہ اتنی اچھی ہے کہ میں اگر طالبہ ہوتی تو میں اس کالج میں داخلہ لیتی اور یہیں تعلیم حاصل کرتی۔“
فرنٹیئر کالج کے اونچے محرابوں، وسیع دالانوں اور چہار اطراف کھلے کھلے مہکتے سبزہ زار جہاں اس کے ظاہری حسن کے گواہ ہیں، وہاں اس کالج کی تاریخ زریں اور روشن روایات کی امین ہے۔
یہی وہ کالج ہے جہاں بیگم رعنا لیاقت علی، ناہید سکندر مرزا اور بیشتر گورنر صاحبان رونق افروز ہوتے رہے۔ اس کے علاوہ قدرت اللہ شہاب، عمران خان، زری سرفراز، کلثوم سیف اللہ، بیگم رضیہ عزیز الدین، بیگم نصر من اللہ اور دیگر نامور خواتین کے علاوہ ملکہ نیپال نے کالج کا دورہ کیا۔
مجلس اردو فہمیدہ اختر کی زیر نگرانی بہت فعال رہی اور کالج میں دبستان پشاور کے نامور شعرا و ادبا شرکت کرتے رہے۔ خود ہمارے دور میں مجلس اردو کی حلف وفاداری میں سال سوم میں مرتضیٰ اختر جعفری اور سال چہارم میں خاطر غزنوی مہمان خصوصی تھے۔ میں نائب صدر اور صدر رہی۔ میرے پاس کافی تصویریں موجود ہیں۔ کاش مشرف مبشر سے اس وقت میرا رابطہ ہوتا۔
زیر تبصرہ کتاب کا بہت خوب صورت سرورق، عمدہ انتساب اور حرفِ مدعا مشرف مبشر کی ادبی صلاحیتوں کا آئینہ دار ہے۔ پہلے باب میں کالج کی عمارت کی قدیم و جدید ہیت اور تاریخ کا تفصیلی ذکر بہت عمدہ ادبی پیرائے میں کیا گیا ہے۔
پیپل کا درخت شجر کہ جلسہ گاہ اس درخت تلے ہم نے بھی ممتاز محل کے لئے نعرے لگائے۔ اس کے ساتھ جو فوارہ ہے، عین اس کے وسط میں کھڑے ہو کر ہم تین دوستوں نے تصویر اتاری تھی۔ واللہ مشرف جی کیا یاد دلایا۔
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
صوبہ سرحد کا وہ اولین کالج، 1948 میں قائم ہونے والی عظیم و قدیم درس گاہ جس نے خواتین کی ترقی اور انہیں آگے لانے میں بہت فعال کردار ادا کیا۔ یہاں اساتذہ کی وہ کہکشاں تھی کہ جنہوں نے تحریک پاکستان کے لئے تن من دھن کی قربانی دی۔ جن میں سر فہرست سردار حیدر جعفر اور مس فہمیدہ اختر کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ فہمیدہ اختر کو سرحد کی اولین افسانہ نگار ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور میری خوش بختی کہ ان سے پڑھنے اور دو سال ان کی زیر نگرانی مجلس اردو کی نائب صدر اور پھر صدر رہی۔
اس کتاب کے ہر صفحے پر میری یادیں بکھری ہیں۔ سو بہت دھیرج سے جرعہ جرعہ لطف کشید کیا۔ ایک ورق پڑھا تو یاد کے کئی ورق کھلتے چلے گئے۔
مثلاً سنیعہ مجید کا ذکر پڑھا تو ان کا خوب صورت سراپا اور پڑھانے کا دل نشیں انداز یاد آیا۔ وہ 1971 ء میں کوہاٹ سی بی کالج کی پرنسپل تھیں اور سال اول کو یعنی ہماری کلاس کو انگریزی بھی پڑھاتی تھیں۔
مشرف مبشر کی یہ کتاب ہے کہ یادوں کا نگار خانہ کہ کیسے کیسے چاند چہرے نگاہوں میں، دل میں جگمگا اٹھے۔
مس عذرا بھی زیادہ تر ساڑھی زیب تن کرتیں۔ لبوں پر معصوم سی مسکراہٹ والی مس عذرا دوسرے سیکشن کو انگریزی پڑھاتی تھیں۔ مسز خورشید علی جن کا ذکر بہت محبت سے کیا گیا ہے، وہ میرے آپشنل مضمون فارسی کی ٹیچر تھیں، میں نے ان سے گلستان سعدی پڑھی۔ مس سید بی بی سادگی و خلوص کا پیکر تھیں۔ کئی برس بعد ان سے نوشہرہ کالج میں ملاقات ہوئی اور وہ میری اس تقریب میں بھی مس چوہان کے ساتھ تشریف لائیں جس کی مہمان خصوصی بیگم کلثوم سیف اللہ تھیں۔
ہماری ہاسٹل کی پشتو بولنے والی لڑکیوں کا ایک شریر سا گروپ تھا، جنہوں نے ہسٹری کے ساتھ پشتو لے رکھی تھی۔ مس بھٹینی کی ڈانٹ ڈپٹ کے قصے مزے لے لے کر سنایا کرتیں۔ بخاری سسٹرز اوپر ہاسٹل میں رہائش پذیر تھیں۔ مسز اختر خٹک ہماری دوست صبیحہ خٹک (جو بعد میں کوہاٹ گرلز کالج کی پرنسپل بنیں ) کی خالہ تھیں۔
مسز فریدی، مس ثروت کاظمی، مس فرحت کتنے ہی نام اور چہرے کسی فلم کی طرح ذہن کے سکرین پر چلتے رہے۔ درانی سسٹرز کو بھی کون بھول سکتا ہے۔ سکینہ درانی ہماری وارڈن تھیں۔ ان کی شخصیت کے جلال و جمال کے کیا کہنے۔ کبھی تو ایسی مہربان کہ مسکراتے ہوئے چانس پر دستخط کر دیتیں اور کبھی ایسی بیگانگی اور غصہ کہ کوچی بازار تک کا چانس دینے سے انکاری۔ یہ اور بات کہ صداقت اور الماس لوگوں کا گروپ دھڑلے سے چانس لے کر آتا اور وہ فلم بھی دیکھ کر آ جاتیں۔
کتاب میں مشرف مبشر نے جن دو سعودی شہزادیوں کا ذکر کیا ہے، وہ ہمارے ہی سیشن میں تھیں جن کی آمد نے تھرتھلی مچا دی تھی۔ ان میں ایک بہن سانولی اور ایک کھلتی ہوئی رنگت کی تھی۔ بقول ان کے ان کی اتنی مائیں اور اتنے بہن بھائی ہیں کہ خود انہیں بھی نہیں معلوم کہ کتنے ہیں۔ ہاسٹل کے کامن روم میں ان شہزادیوں کی شاہ خرچیاں سب کو حیران کیے رکھتی تھیں۔ زمان کاکا اور مقبلی کاکا مقبول کردار تھے۔ مسز قریشی کے ساتھ بھی کئی خوش گوار یادیں وابستہ ہیں۔
سرگزشت فرنٹیئر کالج کی دو اہم اور قابل فخر پرنسپلز کا ذکر مصنفہ نے بہت عمدگی اور چابک دستی سے کیا ہے۔ مس برکت اعوان اور مس جلیل۔ مس برکت اعوان کے جانے اور مس جلیل کے آنے، یونین کی صدر کی پریس کانفرنس، لڑکیوں کی ہڑتال اور اتنا ہنگامہ ہوا کہ اللہ بخشے حیات محمد خان شیرپاؤ کو جو ہاسٹل آئے اور لڑکیوں کی شکایات سنیں۔ (میری خود نوشت بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں میں مَیں نے تفصیل سے ذکر کیا ہے ) اس مشکل مقام سے ہماری پیاری بہن نظر بچا کر گزر گئیں۔ جب کہ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ ایک تحقیقی سرگزشت کے ذریعے در اصل تاریخ رقم کی جا رہی ہے تو مشرف اس کی چشم دید گواہ تھیں۔ انہیں غیر جانبداری سے سچائی بیان کرنی چاہیے تھی۔
خیر ہمیں مس صفیہ چوہان کی کلاس ملی۔ وہ جب سیڑھیاں اتر کر کمرہ جماعت تک آتیں تو رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے کے مصداق رنگ اور خوشبوؤں کے حصار میں ہوتیں۔ کٹے ہوئے بال، نفیس میک اپ، ناخنوں پر سلیقے سے لگی نیل پالش، اکثر و بیشتر ساڑھی پہنتیں اور جب شیلے، کیٹس اور ورڈز ورتھ پڑھاتیں تو کیا ہی لطف آتا۔ شیکسپیئر کا لیڈی میکبتھ پڑھاتے ہوئے لیڈی میکبتھ کا گویا روپ اختیار کر لیتیں۔ اپنے خوب صورت ہاتھوں کو بار بار دھوتیں اور کہتیں کہ اب یہ ہاتھ صاف نہیں ہوسکتے۔ ڈرامے کے سین وہ ایسے پڑھاتیں کہ ہم سحرزدہ سے انہیں دیکھا کرتے۔ دیکھیں کم و بیش نصف صدی بعد بھی مجھے یاد ہے ذرا ذرا۔ برسوں بعد جب وہ نوشہرہ کی پرنسپل بن کر آئیں۔ تو مجھے کالج کی تقریبات میں بطورِ خاص بلواتیں۔ کلثوم سیف اللہ ان کی دوست تھیں۔ انہیں جب نوشہرہ کلب میں دعوت دی تو مجھے بھی مدعو کیا۔ وہاں مس برکت اعوان بھی موجود تھیں۔ مس صفیہ چوہان نے بڑے اچھے الفاظ میں میرا تعارف کروایا۔ مس برکت اعوان نے مجھے اپنے پاس جگہ دی اور بہت خوش ہوئیں کہ میں بطور خاتون کونسلر کے فلاحی کام کر رہی ہوں۔ مس برکت اعوان کی سادہ و پروقار شخصیت اچھی لگی اور ان سے ملنے کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔ مجھے کلثوم سیف اللہ سے بھی ملوایا گیا۔ بحیثیت خاتون کونسلر انہوں نے بھی سراہا۔ دست کاری سنٹر کی بچیوں کو اسناد دینے کی تقریب میں بیگم کلثوم سیف اللہ سے وقت لے کر دیا۔ تقریب والے دن مس سید بی بی کے ساتھ تقریب میں شرکت کی۔ یہ سب لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ کیسی عظیم اور خوش خلق شخصیات تھیں۔ دوسروں کا خیال رکھنے والی، عزت دینے والی، اپنے شاگردوں کو دیکھ کر فخر اور مسرت کا اظہار کرنے والی۔
بات تو کچھ طوالت اختیار کیے جا رہی ہے مگر میں کیا کروں کہ اس کتاب کے ہر صفحے پر یادوں کا گلستاں ہے کہ جن کی خوشبو رگ و پے میں سرایت کر رہی ہے۔ مشرف مبشر اچھی افسانہ نگار اور سفرنامہ نگار تو ہیں ہی، اس سرگزشت میں مجھے وہ اچھی خاکہ نگار بھی نظر آئیں۔ انہوں نے بہت عمدگی سے بہت ساری شخصیات کے خاکے لکھے ہیں۔ ان تمام شخصیات میں انہوں نے مس فہمیدہ رؤف اور مسز سردار حیدر جعفر کے خا کوں میں محبت کے وہ رنگ بھرے ہیں کہ انہیں اَمر کر دیا ہے۔
مس فہمیدہ رؤف اور مسز جعفر کے ساتھ کراچی کا دس روزہ دورہ اور ان کی نوک جھونک یاد آ گئی۔ وہ فہمیدہ رؤف کے بارے میں لکھتی ہیں۔
مسز خورشید علی نے علی گڑھ کی طرز پر 1952 ء میں مجلس اردو کی بنیاد رکھی۔ مجھے فخر ہے کہ مجھے تاریخی مجلس اردو کی نائب صدر اور صدر ہونے کا اعزاز ملا اور مس فہمیدہ رؤف جیسی مجاہدہ اور بلند قامت شخصیت کی محبت و شفقت ملی۔
مس رؤف 18 سال اس کی نگراں رہیں۔ انہوں نے کتنے ہی جواہر تراشے اور ان کی مردم شناس نگاہوں نے کتنے ہی جوہر قابل دریافت کیے۔ مشرف نے کالج کی نمایاں طالبات کا بھی ذکر کیا ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ وہ ہمارے 1973۔ 74 ءکے سیشن کو بھول گئیں۔
73 ء میں ہم لوگ 70 روپے میں دس دن کے لئے کراچی گئے تھے۔ کنڈ کی وہ یادگار پکنک جب شہد کی مکھیوں کے حملے کے بعد کالج پہنچے اور کافی لڑکیوں کو ہسپتال داخل کروانا پڑا۔ سرگزشت کے آخری باب میں مصنفہ نے مسز خورشید علی کی ہونہار بیٹی ڈاکٹر سہیلہ کا ذکر بھی بہت محبت سے کیا ہے جو اس وقت امریکہ میں ہارٹ سپیشلسٹ ہیں۔ ان کے دل میں فرنٹیئر کالج سمایا ہوا ہے۔ محبت اور عشق کی بھی کیا بات ہے۔ مشرف نے محبت کی روشنائی سے اس سرگزشت کو لکھا تو ڈاکٹر سہیلہ نے پہلے ایڈیشن دیکھ کر ہدیتاً کچھ رقم پیش کی اور دوسرے ایڈیشن کے لئے مکمل مالی معاونت کی۔ ڈاکٹر سہیلہ کی کالج سے محبت کو سلام۔ یہ درسگاہ ہم سب کا عشق ہے۔
تحقیق ایک خشک موضوع ہے مگر قلم پر گرفت اور اسلوب کی دل کشی نے اسے ایک دل ربا دستاویز میں ڈھال دیا ہے۔ مشرف نے ایک روشن اور زریں دور کو محفوظ کر دیا ہے۔

