بنام صدرِ مملکت بہ حیثیت چانسلر وفاقی جامعہ اُردو


پاکستان پیپلز پارٹی نے تاریخ سے اتنا سبق تو سیکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے نام سے جامعات قائم کر دیں۔ یہ وہ سبق ہے جو مغل بادشاہ شاہ جہاں کے اتالیق نے بھی نہیں پڑھا تھا کہ اگر پڑھا ہوتا اور مغل شہزادے کو پڑھایا ہوتا تو تاج محل کی جگہ ممتاز بیگم کے نام پر کوئی تعلیمی ادارہ جگمگ جگمگ کر رہا ہوتا۔ تاج محل جس کو دیکھنے والوں کے منہ سے بیک وقت واہ اور آہ نکلتی ہے کہ تاریخ کا عجوبہ بہرحال ایک مزار ہے جس میں شاہ جہاں کی ملکہ ممتاز بیگم کا جسد خاکی سپرد خاک ہے اور اگر یہ واقعہ بھی سچا ہے کہ اسی دور میں برطانیہ میں کسی امیر نے اپنی محبوبہ بیوی کی یاد میں یونیورسٹی قائم کی تھی، تاریخ پر گہرے اثرات کس تعمیر نے مرتب کیے، مزار نے یا دانش گاہ نے؟

ڈاکٹر طاہر مسعود اپنی تحقیقی کتاب ”اُردو صحافت انیسویں صدی میں“ باب اوّل ”برعظیم میں خبر نویسی کا ارتقا“ کے اختتام پر پاورق ہے ’شہنشاہ اکبر کو چند یورپین عیسائی علما نے اس زمانے کی جدید ترین ایجاد چھاپا خانے کا تحفہ پیش کیا تھا لیکن اکبر کی نفاست پسند طبیعت کو اپنے خوش نویسوں کی خوش نویسی کے آگے اس کا ٹائپ بھدا محسوس ہوا اور اس نے یہ تحفہ قبول نہیں کیا (بحوالہ ول ڈیورانٹ‘ دی اسٹوری آف سویلائزیشن ص 648 ) ’۔ اس باب کا آخری پارہ ”اگر پرتگالی مبلغوں کے ہمراہ ہندوستان پہنچنے والے چھاپا خانوں کی اہمیت سے مغل شہنشاہ واقف ہو جاتے تو مطبوعہ صحافت کی داغ بیل کئی صدی پہلے پڑ چکی ہوتی اور کون کہہ سکتا ہے کہ تب اس خطے کی تاریخ و سیاست کیا رخ اختیار کرتی۔“ ، یہ اس پارے کا اختتامی اور تاریخی و تجزیاتی جملہ کہ دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ کیا اکبر اور کیا اکبر کے نو رتن۔ اس کے بعد کی تاریخ یہاں محل اور موزوں نہیں اور یہ اس وقت کا موضوع بھی نہیں۔

یا تو ہمارے حکمرانوں میں یہ عجیب خصلت پائی جاتی ہے کہ یہ بے دھیانی میں وقت کے پہیے کو دونوں طرف گھماتے رہتے ہیں اور ان کے مشیران توجہ مبذول کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے یا اہمیت نہیں دیتے یا ہمت نہیں رکھتے۔ کیوں کہ تحقیق کے مسئلہ مفروضات ہیں اس لیے ہمارا مسئلہ بھی مفروضے ہیں لیکن ہم بہرحال کسی مخمصے کا شکار نہیں اور کیوں کہ ہم استاد ہیں اس لیے کسی سرکاری یا انتظامی عہدے دار کو یہ زیبا نہیں کہ وہ ہمیں مخمصے میں مبتلا رکھے یا رکھ سکے یا اگر وہ ایسے کسی زعم میں مبتلا ہیں تو اس سے نکل آئیں۔

ملک میں سرکاری جامعات کی حالت کو ملکی جمہوری تاریخ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ ملک کی واحد جامعہ ان معنوں میں کہ اس کے ساتھ لفظ ”وفاقی“ بھی جُڑا ہے اور وہ لفظ بھی جو غیر صوبائی لیکن ملک گیر ہے یعنی ”اُردو“ بھی جَڑا ہے، بے توقیری اور عدم پاسداری کے زوال آمدہ دور سے گزر رہی ہے۔ ان لفظوں کا وقار، ملازمین کا وقار اور عالی مرتبت چانسلر صاحب کا وقار سندھ کی دھرتی پہ قائم اس ادارے کے اعلیٰ وقار کے ساتھ وابستہ ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو عرض ہے کہ ہمیں کسی مخمصے میں رکھنا آپ کے وقار کو زیبا نہیں۔ جو کرنا ہے کر گزریں، نام خراب نہ کریں، ملازمین کی برداشت کا امتحان نہ لیں، یہ نہ سمجھیں کہ ہم تماشا بن رہے ہیں، ادارے کا تماشا بن رہا ہے، سرکاری ادارے کے تماشے کا مطلب اگر سرکاری اعلیٰ منصب داروں کی عزت کا تماشا نہیں تو یہ کس کا تماشا ہے؟ اگر ادارے کا وقار آپ کا وقار نہیں، اگر ملازمین کی عزت آپ کی عزت نہیں، اگر طالب علموں کا مستقبل آپ کے ملک کے مستقبل سے وابستہ نہیں اور اگر ملازمین کی مشکلات آپ کی مشکل نہیں تو پھر دیر کس بات کی ہے؟ خود بھی ذمہ داریوں سے آزاد ہوں، ادارے کو بھی آزاد کریں، ہمیں پتا ہو کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ہمارے طالب علموں کے لیے آگے کیا راہ ہے؟

آگے کے امکانات وسیع دنیا رکھتے ہیں یہاں تو دھندلا رہے ہیں۔ جامعات میں ایسے عہدے دار بھی ملے جن سے نئی روشنی ملی اور ایسے بھی جن سے تیرگی بڑھ گئی۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ اگر آدمی کو انسان بنانا ہے اور محض پیسے کمانے کی مشین نہیں تو ایسے علوم کے ساتھ جن سے بہتر روز گار ملے گا وہ مضامین بھی ساتھ میں لازمی رکھیں جائیں جن سے اس میں انسانی خصوصیات پیدا ہوں گی۔ فلسفہ، عمرانیات جیسے علوم کو کبھی غیر ضروری نہیں سمجھا گیا، ہم ابن خلدون کی مثال بڑے شوق سے دیتے ہیں کہ وہ پہلا مسلمان تاریخ دان جس نے سب سے پہلے لفظ عمرانیات استعمال کیا اور اس علم کے ابتدائی نقوش اس کی کتابوں سے ملتے ہیں، لیکن جامعہ اردو میں شعبہ عمرانیات نہیں۔ جدید سماجی علوم کی تحقیق میں فلاسفی کے تصوارت کی وضاحت ابتدائی قدم سمجھی جاتی ہے، جامعہ اردو میں شعبہ فلسفہ نہیں۔ ہم عرصہ ہوا ترقی معکوس کے سفر پر گامزن ہیں۔

اب جو آوازیں سنائی دے رہی ہیں وہ تو پاتال کا پتا دے رہی ہیں، یعنی الزام تراشیاں، تم یہ ہو، تم وہ ہو، تم ایسے، تم ویسے، چلیں ہم مان لیں کہ ہم میں کچھ ایسے ویسے بھی ہیں، لیکن اب آپ بتائیں نا کہ آپ کیسے ہیں؟ آپ کیا ہیں؟ آپ میں کیا صلاحیتیں ہیں؟ آپ ہی کو کیوں چنا گیا؟ یہ تو مسئلے کا حل نہیں۔ کون ہے جو گرمی اور دھوپ میں احتجاج کرنے کے خبط کا شکار ہو گا؟ احتجاج کی سختی یا تو مزدور جھیلتا ہے یا فیکٹری کے ملازمین، یا تو سیاسی کارکن جانتا ہے یا انسانی حقوق کے علم بردار۔ آپ جو ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر مزدور، ملازمین اور کارکنوں کی زندگیوں کے فیصلے اپنی وزارتوں کی تقسیم کے دوران کرتے ہیں یا اس کے نتیجے میں ہو جاتے ہیں، مستقبل کی تاریخ کے پنوں پر اپنا نام کن معنوں میں چاہتے ہیں؟ اگر یہ سوال بھی آپ کے لیے اتنا پرکشش نہیں تو آپ کی اولادیں اور ان کی اولادیں اگر اس ملک سے چلی گئیں تو کیا اتنے اثاثے وہاں ہیں کہ نسلیں یہاں کی دولت کے بغیر عیش کریں؟ اگر حکمرانی میں رہنا ہے تو کیوں نہ کچھ اچھے کام بھی اپنے نام کر لیے جائیں؟ یہ اتنا مہنگا سودا تو نہیں۔

(اسے کھلا خط سمجھنا صدر مملکت کا صوابدیدی اختیار ہو گا۔ )

Facebook Comments HS