پنجاب کالج

پنجاب کالج سے وابستگی کافی عرصہ سے ہے۔ میری تین بیٹیاں دو بھتیجیاں، ایک بھانجی اور بھانجا پنجاب کالج سے فارغ التحصیل ہوئے۔ ہمارا تجربہ اتنا شاندار تھا کہ ہم نے سب دوستوں کے بچوں کو پنجاب کالج ہی بھیجنا شروع کر دیا۔ میں پچھلے تیس سال سے پڑھانے سے وابستہ ہوں۔ میں زندگی میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔ کئی دہائیوں کی مسلسل محنت نے اس کالج کو عظیم بنایا۔ ایک جیسے معیار کے سینکڑوں کالجز بنانا بے شک پنجاب گروپ آف کالجز کا ہی معیار ہے۔ پک ڈراپ کرنے سے کالج پہنچنے تک کے سب انتظامات کمال تھے۔ حاضری اور چھٹی کے ریکارڈ، رزلٹ والدین سے مسلسل شیئر کرنا بھی ایک محنت طلب کام تھا۔ یہ کئی دہائیوں کی محنت تھی۔ میرے ابا جی اکثر مجھ سے سوال کرتے یار صاحب یہ میاں عامر لاہور سے باہر جو کالج بناتا ہے ان کو مینج کیسے کرتا ہے۔ میں ہنس کر کہتا ابا جی ذہین لوگ ادارے اور اچھی ٹیم بناتے ہیں۔ ان اداروں کا خیال وہ ٹیم رکھتی ہے۔ پر شاید وہ مطمئن نہیں ہوتے تھے۔ میرے اور میرے دوستوں کے سینکڑوں بچے پنجاب کالج سے فارغ التحصیل ہوئے ہمیں کبھی شکایت کا موقع نہیں ملا۔ یہ تمہید باندھنے کا مقصد ہے اس کالج کے سسٹم کو سمجھنا۔
اکتوبر 2024 میں کچھ چیزیں سامنے آنا شروع ہوئیں کہ ایک بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے پنجاب کالج لاہور میں۔ میں کئی دن اس سارے کیس کو سٹڈی کرتا رہا کہ ہوا کیا ہے۔ بہت سارے اساتذہ سے جو پنجاب کالج سے وابستہ ہیں یا وہاں سے پڑھ کر استاد بنے کیس ڈسکس ہوا تو سب کی ایک ہی رائے تھی کہ ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ پنجاب کالج کی ٹیم بہت زیادہ محتاط طریقے سے کام کرتی ہے۔ میں نے اپنی بیٹیوں سے پوچھا تو ان کی بھی یہی رائے تھی بابا بس والے انکل بھی جب تک سڑک پار نہ کر لیں گاڑی نہیں چلاتے۔ تو ایسا کیسے ممکن ہے۔
پھر مجھے لگتا کوئی دوسرا کالج کا گروپ شاید اس حرکت کو پروموٹ کر رہا ہے۔ جو بات مجھے سمجھ آئی وہ یہ تھی کہ پنجاب کالج کی انتظامیہ نے واٹس ایپ کے بہت سے گروپس بنائے ہوئے ہیں۔ طلباء اور طالبات سے رابطے کے لئے ان گروپس کو غلط مقصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ اس میں کچھ سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی بھی شامل تھی اور کچھ ہم خیال اساتذہ بھی اس سوشل میڈیا کی جنگ میں شامل تھے۔ جب میسج چلنا شروع ہوئے ان ہم خیال اساتذہ نے ان جھوٹ پر مبنی میسجز کو روکنے کی بجائے پھیلانا شروع کر دیا۔ پنجاب کالج انتظامیہ کو فوری طور پر اس کا سدباب کرنا چاہیے۔ ایک ہجوم کا خیال یہ ہے کہ پنجاب کالجز کے گروپ کو بند کر دینا چاہیے تو ضرور فوری طور پر بند کر دیں۔ لیکن پہلے اس معیار کے کسی بھی اور کالج کا تذکرہ ضرور کریں۔ کہ یہ لاکھوں بچے پنجاب کالجز بند کرنے پر کن کالجز میں جائیں گے۔ اگر بندوبست ہو جائے تو فوراً بند کر دیں۔ ورنہ احسن طریقے سے ان کالجز کو چلنے دیا جائے۔
اگر ہم اس کے دوسرے پہلو کی طرف آئیں۔ کہ خدا نخواستہ یہ عمل پنجاب کالج لاہور میں ہوا ہے تو مکمل تحقیقات کے ساتھ اس عمل میں شامل تمام افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اگر یہ سب جھوٹ پر مبنی ایک سوشل میڈیا کمپئین ہے تو اس میں شامل تمام افراد کو بھی قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے۔
پنجاب کالج میں پڑھنے والے تمام طلباء و طالبات کے والدین کو ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار کرنے والے احباب کی بھی سر کوبی ہونی چاہیے۔

