ہر دن ماں کا ہے
یہ مضمون میں نے اس دنیا کی تمام ماؤں کی عزت و احترام میں لکھا ہے، جو میری اپنی ماں سے متاثر ہے۔
آج صبح جب اپنی بوڑھی ماں کو کام کرتے ہوئے دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ میں نے اب تک بہت سارے موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے مگر اپنی ماں پر آج تک ایک جملہ بھی نہیں لکھ پائی۔ مگر جب ماں پر کچھ لکھنے کے لیے اپنا قلم اٹھایا تو ماں کی اہمیت کا اندازہ ہوا کہ ماں کیا ہے؟ درحقیقت ہر بچے کے لیے اس کی ماں اس کی زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ میں اپنی ماں کے لیے جو بھی لکھوں جو بھی کروں میری ماں کی ممتا اور محبت کے سامنے وہ سب پھیکا ہے۔
ماں اپنے بچوں کی پہلی استاد اور پہلی سہیلی ہوتی ہے۔ وہ نو ماہ تک اپنے بچے کو پیٹ میں رکھتی ہے اور اپنے بچے کی پورے دل و جان سے پرورش کرتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کے پیدا ہونے کے بعد سے ان کے ہر اشارے کو سمجھتی ہے۔ وہ اپنے بچوں سے غیر مشروط محبت کرتی ہے اور انہیں زندگی میں صحیح راستے پر گامزن کرتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھتی ہے اور ہر طرح سے ان کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے۔ ہم اپنی ماؤں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے صرف ایک ہی دن مناتے ہیں جو دنیا بھر میں مدرز ڈے کے نام سے جانا جاتا ہے اور ان کے لیے اپنی محبت اور شکر گزاری کا اظہار کرتے ہیں۔
مدرز ڈے کا آغاز سب سے پہلے امریکہ میں، فلاڈیلفیا کی انا جارویس نے 12 مئی 1907 کو کیا، اس نے مغربی ورجینیا کے گرافٹن میں اپنی مرحوم والدہ کے لیے چرچ میں ایک یادگاری خدمت کا انعقاد کیا اور اب یہ دنیا کے ہر حصے میں منایا جاتا ہے۔
مدرز ڈے پر ہر بچہ ماں کا دن ایک خاص انداز میں مناتا ہے۔ کوئی اپنی ماؤں کے لیے تحائف لے کر آتا ہے، کوئی ان کے لیے کھانا پکاتا ہے، کوئی کیک کاٹتا ہے۔ کچھ لوگ اسے باہر جا کر مناتے ہیں جبکہ کچھ اس دن کو گھر میں مناتے ہیں اور اپنی ماؤں کے ساتھ معیاری وقت گزارتے ہیں۔ تمام مہنگی چیزوں سے ہٹ کر، اکثر بچے ہاتھ سے بنے تحفے ماؤں کو پیش کرتے ہیں جو ماؤں کے دلوں میں ایک خاص جگہ رکھتے ہیں۔
ماں وہ پہلی شخصیت ہے جس کی تلاش ایک بچہ گھر واپسی پر سب سے پہلے کرتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی پیدائش سے لے کر آخری سانس تک ان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ ہم اپنی زندگیوں یا صبح سے رات تک جو کچھ کرتے ہیں اس میں ان کا بے شمار تعاون شامل ہوتا ہے۔ مائیں اپنے تمام فرائض اور ذمہ داریاں ادا کرتی رہتی ہیں، دن بھر، خواہ وہ تھک چکی ہوں۔ وہ کبھی بھی اس ساری محبت کے بدلے میں کسی چیز کی توقع نہیں کرتیں۔
ایک ماں کی محنت اور قربانی کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم بڑے ہوتے ہیں۔ جب ہم اپنی ماں کی پرورش کے دوران خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں، تب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کتنی قربانیاں دیتی ہے۔ ہر ایک چوٹ، ہر ایک آنسو، اور ہر ایک مسکراہٹ اس کی محبت کی گواہی دیتی ہے۔
یہاں میں اپنی عظیم ماں کا ذکر کرنا چاہوں گی، میرے ہوش سنبھالنے اور اب تک میں نے اپنی ماں کو مشکل حالات سے لڑتے ہی پایا ہے، ہر مصیبت میں مسکراتے پایا ہے لیکن نا جانے خدا نے ماں جیسی خوبصورت ہستی کو کس مٹی سے بنایا ہے کہ حوصلہ ٹوٹتا ہی نہیں۔ روز ایک نئے دن کی شروعات ایک نئے حوصلے کے ساتھ کرتی ہے۔
مجھے میری ماں کے ساتھ گزارا ہوا ہر وقت، ہر گھڑی ہر لمحہ لفظ بہ لفظ زبانی یاد ہے۔ مجھے تیار کر کے وقت پر اسکول بھیجنا، میری واپسی سے پہلے دروازے پر کھڑے رہ کر میرا انتظار کرنا، میری پسند نا پسند کا خیال رکھنا، میرے کپڑے دھونا، میرے اوپر آئی ہر مشکل کے آگے ڈٹ کر کھڑے ہونا اور اب جب میں 32 برس کی ہو چکی ہوں اپنے سارے کام خود کرنے کی ہمت رکھتی ہوں، میری ماں جو کہ اب بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی ہے اس کے باوجود بھی وہ میرا ہر کام اپنے کمزور کانپتے ہاتھوں سے بغیر کسی تھکاوٹ کے کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اپنی ساری زندگی خوشی خوشی بچوں کی خدمت کرنے میں وقف کر دیتی ہے۔ ایک ماں کے لیے اس کی پوری دنیا اس کے بچوں کے گرد گھومتی ہے۔ وہ دوسروں کی خواہشات پوری کرتے ہوئے اپنی خواہشات کو بھول جاتی ہے۔
بچہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے اس کی نظریں ہمیشہ اپنی ماں کی تلاش میں رہتی ہیں، بچہ عمر کے جس حصے میں بھی پہنچ جائے وہ اپنی ماں کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اسے اچھے برے حالات میں ماں کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے، ماں کی دعائیں چاہیے ہوتی ہیں۔ اس دنیا کا ہر بچہ ہر خاندان ماں کے بغیر ادھورا ہے۔
مائیں اپنے بچوں کو اچھے اخلاق، عدل، اور انسانیت سکھاتی ہیں۔ ماں کی قربانی کی گہرائی کا اندازہ لگانا کسی کے لیے ممکن نہیں اور نہ ہی ہم اپنی ماؤں کے انمول احسانات کا بدلہ چکا سکتے ہیں۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی ماؤں کا خیال رکھیں، ان کی عزت کریں، ان کی اطاعت کریں، ان سے احترام سے پیش آئیں، انہیں کبھی اداس نہ ہونے دیں، ان کی کبھی بے عزتی نہ کریں، جب کبھی وہ ہم پر سختی کریں تو ان پر غصہ نہ کریں اور ان سے صرف محبت کریں۔
مدرز ڈے ہماری ماؤں کو خاص محسوس کرنے اور ان پر اپنی تمام تر محبتوں کی بارش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے، مگر پھر بھی ہمیں ہر دن کو مدرز ڈے کے طور پر منانا چاہیے تاکہ اپنی ماؤں کو خاص محسوس کروایا جا سکے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنی ماں کو بتائیں کہ ہم ان سے کتنا محبت کرتے ہیں، انہیں وقت دیں، اور ان کی زندگی کے خوبصورت لمحات میں شامل ہوں۔ ماں کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اپنی ماں کے ساتھ وہ یادیں بنانی چاہئیں جو ہمیشہ ہمارے دل میں رہیں۔ ہر دن ماں کا ہے، اور ہمیں اپنی ماؤں کی محبت اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ اللہ ہم سب پر ہماری ماؤں کا سایہ سلامت رکھے، آمین۔

