ہندوستان کا پکاسو، ایم ایف حسین
مقبول فدا حسین المعروف ایم ایف حسین کو ہندوستان کا پکاسو کہا جاتا ہے۔ وہ متحدہ ہندوستان میں 1915 ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق مذہبی سلیمانی بوہرہ گھرانا سے تھا۔ ان کی مادری زبان گجراتی تھی۔ انہیں بچپن سے ہی مصوری کا شوق تھا۔ انہوں نے ممبئی کے آرٹ اسکول میں طالب علمی کے دوران ہی فلموں کے پوسٹر بنانے شروع کر دیے تھے۔ سال 1934 ء میں اندور کی ایک سڑک کنارے حسین کی پہلی تصویر دس روپے میں فروخت ہوئی اور اس کے بعد ایک وقت ایسا بھی آیا، جب ان کی پینٹنگز کروڑوں میں فروخت ہوئیں۔
وہ ہندوستان کے ان چند عظیم مصوروں میں سے ایک تھے جن کے بنائے ہوئے شاہکار کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں آسمان چھوتی ہیں۔ ایم ایف حسین کا شمار ایشیاء کے امیر ترین مصوروں میں ہوتا تھا۔ اپنے انتقال سے صرف چار روز پہلے ہی ان کا ایک شاہکار، جس کا نام انہوں نے ”ہارس اینڈ وومن“ رکھا تھا، لندن میں ایک کروڑ تیئس لاکھ روپے میں فروخت ہوا۔
مقبول فدا حسین کی 3 پینٹنگس بان ہیم آکشن میں سب سے زیادہ قیمت پر نیلام کی گئیں۔ ان کی آئل پینٹنگ کی 2.32 کروڑ روپے قیمت لگی۔ راگ مالا سیریز کے لئے بنائی گئی ان کی ایک تصویر لندن کے کر سٹیز نیلام گھر میں لاکھوں ڈالرز میں فروخت ہوئی۔ ایم ایف حسین نے اپنی پینٹنگز میں جدیدیت اور کیوبزم اسلوب اپنایا۔ انھوں نے اپنی پینٹنگز کے ذریعے صنفی امتیاز کے خاتمے اور عورت کی آزادی کو اجاگر کیا۔ گھوڑوں سے ان کو دلی لگاؤ تھام یہی وجہ ہے کہ گھوڑوں کو کینوس پر اتارنا ان کا ٹریڈ مارک سمجھا جاتا ہے۔ برطانوی سامراج کے خلاف احتجاج اور مذہبی گھٹن کے خلاف بغاوت بھی ان کے آرٹ میں نظر آتی ہے۔
ایم ایف حسین کا تعلق فلم سے بھی رہا۔ انھوں نے ایک آرٹ فلم گج گامنی بھی بنائی جو باکس آفس پر چل نہ سکی۔ اس فلم میں بھارت کی مشہور اداکارہ مادھوری ڈکشٹ نے کام کیا۔ اس سے قبل آپ مادھوری کے عشق میں مبتلا ہو چکے تھے۔ جب انھوں نے پہلی بار مادھوری ڈکشٹ کو دیکھا تو اس کے دیوانے ہو گئے۔ حسین صاحب کو مادھوری کی ایک فلم ”ہم آپ کے ہیں کون“ اس قدر پسند تھی کہ انہوں نے اسے 70 مرتبہ دیکھا۔ انھوں نے مادھوری کی پینٹنگ بھی بنائی، جو انھیں بہت پسند تھی۔ انھوں نے مادھوری کی فلم ”آ جا نچلے“ اکیلے کسی شور شرابے سے دور دیکھنے کے لئے پورا سنیما ہال بک کروا لیا تھا۔
ایف ایم حسین نے بیرون ملک ہندوستان کی ثقافت، کلچر اور مذہبی روایات کو اپنے انداز میں متعارف کرایا۔ انہیں ننگے پیر گھومنے میں بڑا مزا آتا تھا اور ایک وقت ایسا آیا کہ انہوں نے جوتے پہننا ہی چھوڑ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایسے ہی ننگے پیر ایک بار جب وہ ایک بڑے ہوٹل پہنچے تو وہاں کے دربان نے انھیں ہوٹل میں داخل ہونے سے منع کر دیا تھا۔
ان کے فن پارے ہندوستانی موضوعات، اساطیر اور اسلامی ثقافت کو جدید تکنیکوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
ہندو دیوی دیوتاؤں کی عکاسی کے حوالے سے تنازعات کے باوجود، انہیں دنیا بھر میں بے حد احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہندو انتہا پسندوں نے ایف ایم حسین کے خلاف مظاہرے کیے، پانچ مقدمات دائر ہوئے، اور عدالت نے جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا، جس کے بعد انہیں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ قطر حکومت نے انہیں شہریت کی پیشکش کی جو انھوں نے قبول کر لی، تاہم ان کا انتقال 9 جون 2011 ء کو لندن میں ہوا اور وہی پر انہیں بروک ووڈ قبرستان میں دفن کیا گیا۔ انہیں ہندوستان کے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا جس میں ’پدم بھوشن‘ بھی شامل ہے۔ ایف ایم حسین کی خود نوشت ”ایم ایف حسین کی کہانی اپنی زبانی“ بھی شائع ہو چکی ہے۔







