مدارس میں پڑھانے والے بعض معلمین کا نفرت آ میز رویہ اور بڑھتی ہوئی لا مذہبیت
کہا جاتا ہے کہ مذہب کو اتنا نقصان لامذہب ”ایتھیسٹ“ نے نہیں پہنچایا جتنا خود مذہبی طبقے نے پہنچایا ہے، دعویٰ اور حقیقت کے بیچ فاصلے اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ جنہیں پاٹنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ تصورات بہت اچھے ہو سکتے ہیں، ان میں پرفیکشن، اعلیٰ، عظیم، بالا اور سر بہ فلک ایسے رومانوی سے رنگ ضرور بھرے جا سکتے ہیں لیکن ان کے قابل عمل ہونے کی ضمانت اس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب تک کہ ان کو عملی تجربے کی چکی میں سے نہ گزارا جائے اور مطلوبہ نتائج کو آنکھوں سے دیکھ نہ لیا جائے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبی طبقہ عمل سے کوسوں دور ہوتا ہے، معاملات میں سختی، دنیاوی دھندوں میں ہیرا پھیری، خود کو اعلیٰ و ارفع سمجھنے کا وہم و گمان اور صرف ہم مذہب و فرقہ کو انسان سمجھنا باقیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے ایسی قباحتیں مذہبی طبقے کی جزو لاینفک بنتی جا رہی ہیں۔
عظیم ترین نظریات یا اعلیٰ و ارفع تصورات کا ابتدائی لٹمس ٹیسٹ انسانی زندگیوں میں تجربات کی صورت میں ان کا متعلقہ یا قابل عمل ہونا ہوتا ہے ورنہ ان کی افادیت صرف دکھاوا کرنے یا لوگوں کو انہی بنیادوں پر جانچ کرنے کی حد تک رہ جاتی ہے۔
اگر عملی زندگی میں وہ سب جنہیں آپ بہت اہم، لازم یا درجہ ایمان کا بنیادی ترین رکن سمجھتے ہیں کو اپنی زندگی کا مطمح نظر نہیں بنا سکتے تو پھر آپ منافقت کی بلند ترین سطح پر کھڑے ہیں۔
معذرت کے ساتھ مذہبی طبقہ عملی طور پر اس نہج تک پہنچ چکا ہے۔
جامعہ احسن العلوم کے ایک مدرس انور شاہ کی ایک وڈیو منظر عام پر ہے، کہا جاتا ہے کہ موصوف مفتی زرولی خان مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔
یہ عالی مقام ہستی ایک اسٹوڈنٹ پر سیخ پا ہیں، جو جالی والی ٹوپی پہنے ہوئے تھا اور حضرت جی اس بیچارے پر ”حد“ یعنی شرعی سزا لگانے کا حکم جاری فرما رہے ہیں۔
اس کو سزا کے طور پر ڈنڈے سے پیٹنے کا حکم جاری کیا گیا جس کی فوری تعمیل بھی کر دی گئی اور ساتھ دھمکی بھی دے ڈالی کہ ”شکر کرو توہین اور کفر کا فتویٰ نہیں لگا دیا“
معاملہ یہاں تمام نہیں ہوا بلکہ سبق کے اختتام پر اس گناہ گار بچے کی بدبختی اور ذلیل ہو جانے کی بددعا بھی کی گئی۔
نجانے عالی مرتبت تقوی و طہارت کے کس انوکھے مرتبے پر فائز ہیں کہ خدائی لہجے میں بول رہے تھے اور خدائی فیصلے صادر فرما رہے تھے۔
ان کے والد محترم بھی اسی لہجے میں بولا کرتے تھے، انہوں نے مسیحا انسانیت عبدالستار ایدھی کے متعلق بھی انتہائی کھردرے اور خدائی لہجے میں لب کشائی کی تھی۔
اس میں حیرت والی کوئی بات نہیں ہے اس طرح کے رعونت والے لہجے میں بات کرنا، لوگوں کے ایمان کے فیصلے کرنا اور اختلاف کی صورت میں کفر کے فتوے عائد کرنا اور ہجوم کشی پر اکسانا ان کا طرہ امتیاز بن چکا ہے۔
شروع دن سے ان کی زنبیل میں یہی کچھ تو رہا ہے، سوال یہ ہے کہ یہ اس قدر سفاک کیوں ہوتے ہیں؟
یہ انسانوں کے درمیان مذہب و فرقہ کے نام پر تقسیم کیوں پیدا کرتے ہیں؟
کیا انسانوں کو پرکھنے کا صرف مذہب ہی ایک واحد پیمانہ یا معیار ہوتا ہے؟
اگر مذہب اتنا اہم ہے تو پھر اہل جبہ و دستار کی زندگیاں اس کی عملی برکات یا فیض سے محروم کیوں ہیں؟
جو مذہبی ہستیاں ہماری زندگیوں میں مذہب کو داخل کرنے کے لیے بے چین و بے قرار رہتی ہیں ان کی اپنی زندگیاں مذہبی تعلیمات سے خالی کیوں ہیں؟
اگر مذہب ایک فرد کو انسان بناتا ہے تو پھر یہ خدائی لہجے میں بولنے والے، اپنی محدود فہم کے مطابق لوگوں کو دائرہ مذہب سے خارج کرنے والے یا ان کے متعلق جنت دوزخ کے فیصلے کرنے والے خداوندان مذہب کون ہیں؟
کیا یہ لوگ اس طرح سے مذہب کی خدمت کر رہے ہیں یا لوگوں کو دین سے دور کر رہے ہیں؟
ورلڈ پاپولیشن ریویو کے مطابق مذہب پر یقین نہ رکھنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
جو لوگ مذہب سے دور ہو رہے ہیں ان کا یہ کہنا ہے کہ مذہب انسانوں میں تعصب پیدا کرتا ہے اور ان کے دلوں کو نرمی اور رحم ایسے اوصاف سے محروم کر دیتا ہے، جس کا نتیجہ اس صورت میں نکلتا ہے کہ وہ صرف اپنے ہم عقیدہ لوگوں کو ہی انسان یا محبت کے قابل سمجھتے ہیں اور دوسرے انسانوں سے مذہب یا فرقے کی بنیاد نفرت کرنے لگتے ہیں۔
گوگل پر سرچ کر لیں کہ اس وقت لامذہب افراد کی تعداد ایک ارب انیس کروڑ ہو چکی ہے۔
یہ ڈیکلیئرڈ تناسب ہے، خاموش تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ حقائق ہمارے معزز علماء کرام کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں، سوچنا ہو گا کہ اتنی کثیر تعداد میں لوگ مذہب بیزار کیوں ہو رہے ہیں؟
وطن عزیز میں بھی مذہبی اجتماعات کی وہ رونقیں باقی نہیں رہیں جو کبھی ہوا کرتی تھیں۔
علماء کو وجہ تلاش کرنا ہوگی ورنہ کیمرے اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں وہ چھپ چھپا نہیں سکیں گے۔
یہ کیمرے کی برکات ہی تو ہیں جس کی بدولت ہم خانوادہ زرولی کے اعلیٰ اخلاق سے متعارف ہوئے اور ڈاکٹر نائیک کے تبحر علمی سے بھی آشنائی ہو رہی ہے۔
ان کا لب و لہجہ یا رویہ ہم مذہبوں کے لیے کتنا میٹھا ہوتا ہے جیسے ہی کوئی دوسرے مذہب یا فکر کا انسان سامنے آ تا ہے تو ان کی رعونت آ سمان کو چھونے لگتی ہیں۔
تھینکس ٹو کیمرا اور ٹیکنالوجی جس کے الیکٹرانک نظام میں عیسائی پادری، واجد احساس اور پلوشہ خان کے سوال محفوظ ہو چکے ہیں اور قرض کی صورت موجود رہیں گے۔


