لکسمبرگ میں مروجہ اخلاقی اقدار
آج اتوار تھا سارا دن ہی گھر میں رہے شام کو اچانک ہی پروگرام بن گیا کہ ڈیری فارم سے ضوحا کے پینے کے لیے تازہ دودھ خرید کر لانا ہے۔ گھر سے باہر نکلے ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ دھیمی سی رفتار کے ساتھ ہوا بھی چل رہی تھی۔ لیکن اس کے باوجود موسم میں خوشگواری اور خوبصورتی کا تاثر غالب تھا۔ میں نے گاڑی کے قریب کھڑے ہو کر اپنے دائیں بائیں گردن گھما کر ماحول کا جائزہ لیا دور دور تک سڑک خالی اور سنسان تھی۔ گو کہ ہم جس جگہ پر رہتے ہیں وہ ایک رہائشی محلہ، کالونی، سوسائٹی یا ٹاؤن نما آبادی ہے۔ لیکن یہ بات مجھے بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ بے رونقی اس علاقے کا خاص وصف ہے۔ جب بھی گھر سے باہر نکلتا ہوں بہت کم لوگ نظر آتے ہیں۔
آج اتوار کا دن تھا لوگوں کو چھٹی تھی لیکن ماحول پھر بھی ویسا ہی سنسان سا نظر آ رہا تھا جیسے عموماً بقیہ دنوں میں ہوتا ہے اور یہ احساسات میرے اکیلے کے نہیں ہیں۔ کل ہی اپنے گھر کے قریب ہی واقع بچوں کے پارک میں میانوالی سے تعلق رکھنے والے امتیاز صاحب سے ملاقات ہوئی وہ بھی بس اتفاقاً ہی مل گئے۔ مجھے یہاں آئے ہوئے دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ شام کو اس پارک میں کچھ بچے اور اُن کے والدین آ جاتے ہیں۔ مجھے اتنے دنوں میں صرف ایک ہندوستانی خاتون نظر آئیں جو شام کو اپنی بچی کو یہاں کھلانے کے لے لاتی ہے۔ جو اُردو بولتی اور سمجھتی ہیں اور اسی وجہ سے ضوحا کی ان دونوں ماں بیٹیوں سے دوستی ہو گئی ہے اور وہ مل کر وہاں کھیلتی رہتی ہیں۔
کل اتفاق سے امتیاز صاحب سے بھی یہاں ملاقات ہو گئی جو میانوالی سے تعلق رکھتے ہیں اور نیویارک سے اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے یہاں آئے ہوئے ہیں۔ جب کہ اُن کی بیگم پاکستان سے یہاں آئی ہیں۔ وہ بھی یہی بات کر رہے تھے کہ یار یہاں پر بہت بے رونقی ہے میں سارا دن کھڑکی کھول کر بیٹھ جاتا ہوں اور نیچے سڑک پر دیکھتا رہتا ہوں۔ کبھی کبھار ہی اکاد دُکا فرد دکھائی دیتے ہیں۔
کل سکول ٹائم میں آپ کو بھی میں اسی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا کہ آپ اس بچی کو سکول چھوڑنے جا رہے تھے۔ آپ کے شلوار قمیض میں ملبوس ہونے کی وجہ سے مجھے اندازہ ہوا کہ شاید آپ کا تعلق پاکستان سے ہو اور آپ کی تلاش میں ہی میں یہاں پارک میں آیا تھا کہ شاید یہیں پر ملاقات ہو جائے۔ سات سمندر پار یہاں پر دیس میں اپنے ہم وطن سے مل کر جو خوشی حاصل ہوئی ناقابلِ بیان ہے۔ رسمی علیک سلیک اور تعارف کے بعد تفصیلی گپ شپ شروع ہو گئی۔ امتیاز صاحب کی درد ناک کہانی وطنِ عزیز میں پھیلی ہوئی اُن ہزاروں کہانیوں سے ملتی جلتی ہے جو قدم قدم پر بکھری پڑی دکھائی دیتی ہیں اور سنائی دیتی ہیں۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ 2000 ء میں وہ رزق کی تلاش میں امریکہ چلے گئے وہاں بیس سال تک وہ مختلف نوعیت کے کام کرتے رہے۔ جب 2018 ء میں عمران خان وزیرِ اعظم بنا تو بقول اُن کے ہم نے سوچا کہ بس پیسہ کافی کما لیا ہے۔ اب بقیہ عمر وطنِ عزیز میں گزاریں گے۔ یہی سوچ کر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر میانوالی آ گئے یہاں پر تین چار کنال کا بڑا سا گھر بنوایا جس میں ایک چھوٹا سے چڑیا گھر، سومنگ پول اور لان وغیرہ شامل تھا۔ ابھی ہم یہاں پر رہائش منتقل کرنے ہی والے تھے کہ 9 مئی ہو گیا ہم لوگوں نے میانوالی میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ ہمیں پولیس نے گرفتار کیا اور تھانے میں لے آئی۔ جب ہم تھانے پہنچے تو تھانہ کی عمارت کو آگ لگی ہوئی تھی۔ نہ یہ آگ ہم نے لگائی تھی اور نہ ہی ہمیں اس کے بارے میں کچھ علم تھا۔ میں تو جیسے تیسے کر کے وہاں سے بھاگ نکلا اور ایسے بھاگا کہ سیدھا نیو یارک پہنچ کر ہی دم لیا۔ میرے ساتھ میرے دو کزن آج بھی اپنے ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہے ہیں اور میں نے دوبارہ نیو یارک میں نوکری شروع کردی ہے۔ امتیاز صاحب کا بھی یہی خیال تھا کہ اس شہر میں بے رونقی اور سنسان پن غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔
بہرحال ہم لوگ شہر سے باہر نکلے تو یوں لگا کہ قدرت نے اس علاقے کو اس کے حصے سے کہیں زیادہ حسن و جمال سے نوازا ہوا ہے۔ شہر سے باہر جس طرف نکل جائیں چاروں طرف بکھرے ہوئے حسین و جمیل مناظر دعوت ِ نظارہ دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اوپر آسمان اور نیچے درخت اور سبزہ، جدھر دیکھو ہریالی ہی ہریالی نظر آتی ہے۔ ہم تین چار چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں سے گزرتے ہوئے ڈیری فارم پہنچے جو آبادی سے الگ تھلگ تھا کافی بڑا فارم تھا لیکن اتنے بڑے فارم پر صرف ایک ہی شخص کام کرتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
وہ ایک چھوٹے سے ٹریکٹر پر بیٹھا ہوا تھا اور گھاس کی باندھی گئی گانٹھوں میں سے گھاس الگ کر کے یہاں موجود گائیوں کے آگے کھانے کے لیے ڈال رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے الیکٹرک مشینوں کی مدد سے ان کا دودھ نکالنا شروع کر دیا یہ دودھ یہیں پر موجود چلر (Chiller) میں جا رہا تھا۔ جہاں پر اس دودھ کو ایک خاص درجہ حرارت پر رکھا جاتا تھا تاکہ وہ خراب نہ ہو جائے۔
عمیر نے مجھے یہاں پر دودھ کی خریداری سے متعلق مروجہ طریقِ کار کے بارے میں پوری تفصیل سے بتایا۔ ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے جہاں سے دودھ حاصل کرنا تھا وہاں پر ایک ڈبہ پڑا ہوا تھا۔ عمیر نے ڈبہ کھولا تو اس میں یورو کے نوٹ اور ایک ایک یورو کے سکے پڑے ہوئے تھے۔ عمیر نے بتایا کہ دودھ خریدنے کے لیے مشین میں سکے ڈالنا پڑتے ہیں۔ ہمارے پاس سکے موجود نہیں ہیں ہم سکے اس ڈبے سے حاصل کریں گے۔ اس نے اپنی جیب میں سے دس یورو کا نوٹ نکال کر ڈبے میں رکھا اور وہاں سے ایک ایک یورو کے دس سکے اُٹھا کر مشین میں ڈال دیے۔ سکوں کی وصولی کے بعد مشین کی سکرین پر 8.2 لیٹر کا ہندسہ نظر آنے لگا جو اس بات کی نشان دہی کر رہا تھا کہ آپ کی رقم کے عوض آپ کو 8.2 لیٹر دودھ دیا جائے گا۔
ہم لوگ خالی بوتلیں ساتھ لے کر گئے تھے ہم مشین کی مدد سے ان بوتلوں میں دودھ بھرتے چلے گئے جوں جوں ہم دودھ وصول کرتے جا رہے تھے۔ اسی لحاظ سے مشین کی سکرین پر ڈسپلے ہونے والا ہندسہ بھی کم ہوتا جا رہا تھا۔ جو دودھ کی بقیہ مقدار کی نشان دہی کر رہا تھا۔ جب ہم سارا دودھ بوتلوں میں بھر چکے تو مشین خود بخود ہی بند ہو گئی۔ یہاں پر بہت زیادہ رش تو نہیں تھا لیکن دودھ کے خریدار مسلسل آ جا رہے تھے اور اکثر نوٹوں کے بدلے سکے وہاں پڑے ہوئے ڈبے سے خود ہی حاصل کر رہے تھے۔
اس کے ساتھ ہی ڈیری پراڈکٹ کا ایک سٹور تھا جہاں ڈیری کی مختلف مصنوعات مثلاً دہی، مکھن، بالائی وغیرہ پیکٹوں کی شکل میں رکھی ہوئی تھیں۔ کچھ جام اور ماملیٹ وغیرہ بھی موجود تھے۔ یہاں پر بھی کوئی فرد موجود نہیں تھا۔ ہر ڈبے یا بوتل پر اس کی قیمت نمایاں انداز میں درج تھی ہر شخص اپنی ضرورت کی چیز وہاں سے اٹھاتا اور اس کی قیمت وہاں پر رکھے گئے ایک بکس میں رکھ دیتا اور اگر بقایا لینے کی ضرورت ہوتی تو وہیں سے اُٹھا لیتا۔
وہاں ایک نمایاں جگہ پر بنک کا اکاؤنٹ نمبر بھی لکھا ہوا تھا اور عمیر بتا رہا تھا کہ اگر کسی کے پاس نقد پیسے نہ ہوں تو وہ اپنی ضرورت کی اشیا یہاں سے لے کر آن لائن ادائیگی بھی کر سکتا ہے۔ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود یقین نہیں آ رہا تھا کہ کسی قوم کی ایمان داری کا یہ لیول بھی ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے قومی کردار پر شرمندگی اور ندامت بھی محسوس ہو رہی تھی۔


