شوارما، بریانی اور سندھ میں کتابوں کا عشق
معروف ٹی وی اداکار خالد انعم کی لاہور بک فیسٹیول میں کتاب کم اور شوارما اور بریانی زیادہ بکنے کے حوالے سی رکھی گئی پوسٹ آج کل سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یاد رہے کہ آج کل پاکستان میں 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم سے لے کر گلیوں، کوچوں اور گھروں حالانکہ بازاروں اور مختلف اداروں میں بھی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ ایسی پیچیدہ حالات میں بھی کتاب کم بکنے اور کم پڑھنے والے بات عوام کا عام موضوع بن گیا ہے۔
خالد انعم تو اب اپنی بات سے مکر گئے ہیں کہ ان کی لگائی ہوئی پوسٹ میں کوئی حقیقت نہ تھی اور انہوں نے یہ پوسٹ دو گھنٹوں میں ہٹا بھی دی تھی۔ لیکن پاکستان میں کتب بینی کے حوالے سے یہ بات اب سرحد کے پار بھی پھیل گئی ہے۔ جہاں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس خبر پر اپنی رائے دی وہاں ہندوستان کی مشہور اخبار ہندوستان ٹائمز نے بھی اس خبر کا عکس اپنے ویب پورٹل پر چھوڑا، جس کا یقینی طور پر مطلب یہ دکھانا تھا تھا کہ پڑوسی ملک کی جنتا کتاب خریدنے اور پڑھنے میں کتنی کنجوسی سے کام لے رہی ہے۔ اس صورتحال میں بی بی سی اردو جیسے عالمی خبر رساں ادارے نے بھی اس موضوع پر مضمون شایع کیا ہے جنہوں نے لاہور بک فیسٹیول کے منتظمین کا موقف بھی شایع کیا ہے جس میں انہوں نے کتاب کم بکنے والی اس بات کو رد کیا ہے۔
بہرحال یہ اپنی جگہ پر ایک حقیقت تو ہے کہ پاکستان میں مہنگائی اور کتابوں کی قیمت بڑھ جانے سے کتاب خریدنے اور پڑھنے کا رجحان کم ہوا ہے لیکن یہ بات سراسر ایسی بھی نہیں۔
اس لیے آئیے سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ دنیا میں کون سے ممالک میں کتاب خریدنے اور پڑھنے کا ذوق زیادہ ہے۔
ورلڈ کلچرل سکور انڈیکس کی جانب سے شایع کردہ رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2022 والے پانچ سالوں میں انڈیا کتاب پڑھنے کے حوالے سے دنیا کے تمام ملکوں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے جہاں پر آبادی کے حساب سے تقریباً ہر ہفتے 10.42 گھنٹے کتابوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے، اس فہرست میں تھائی لینڈ دوسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان کا نمبر تو بہت پیچھے ہے۔ اور یہ اتنا نیچے ہے کہ 98 ممالک میں سے ہمارے ملک کا نمبر 96 ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ بنگلادیش، الجیریا، عراق، ایتھوپیا، میانمار اور شام جیسے ملک بھی کتاب پڑھنے کے مقابلے میں ہم سے آگے ہیں۔ پاکستان میں آبادی کے حساب سے روانہ 2.6 اور سالانہ صرف 60 گھنٹے کتاب پڑھی جاتی ہے۔
پاکستان کی پوزیشن اگر معلوم کرنی ہے تو پھر ہمیں گیلپ اور گیلانی سروے کے نتائج کو دیکھنا ہو گا جن کے سروے کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے تین بندے ایسے ملیں گے جو کسی کتاب کو دیکھتے تک نہیں۔ سروے کے نتیجے مطابق 16 فیصد لوگ تقریباً ایک گھنٹہ کتاب پڑھتے ہیں جب کہ 9 فیصد لوگ دو سے چار گھنٹے مطالعے کے عادی ہیں۔ باقی 75 فیصد کتاب کو دیکھتے تک نہیں۔ لیکن پاکستان میں کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں پر رکارڈ کتابیں بکتی ہیں۔ فروری 2023 میں پہلے تربت کتاب میلے میں 35 لاکھ کی کتابیں فروخت ہوئیں۔ اس سے لگتا ہے کہ کتاب خریدنے اور پڑھنے کا زمانہ ابھی گزرا نہیں۔
ادھر پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ میں کتاب خریدنے اور پڑھنے کا شوق اور ذوق دوسرے صوبوں سے زیادہ ہے۔ یہاں پر نہ صرف شایع ہونے والے کتابیں بڑی تعداد میں خریدی اور پڑھی جاتی ہیں بلکہ ای بک اور پی ڈی ایف بک پڑھنے کا رجحان بھی زیادہ ہے۔ کوئی پچاس سے زیادہ کتاب شایع کرنے والے ادارے ہر سال بڑی تعداد میں کتابیں شایع کرتے ہیں جس میں تاریخ، فکشن اور فلسفے جیسے موضوع پر کتابیں شامل ہوتی ہیں۔ سندھ میں کتاب خریدنے اور پڑھنے کے رجحان کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ سندھ میں صوفی بزرگوں کے میلے ہوں یا سیاسی لیڈروں کی سالگرائیں یا برسیاں، وہاں پر شوارما یا بریانی کے اسٹال لگیں یا نہ لگیں لیکن کتابوں کے اسٹال ضرور لگتے ہیں۔
سندھ میں جامشورو کے پسماندہ شہر سن میں قومپرست سیاسی رہنما جی ایم سید کی برسی اور سالگرہ کے جلسے کتاب بیچنے اور خریدنے کا سب سے بڑا مرکز بن جاتے ہیں۔ یہاں پر آنے والے ہزاروں سیاسی کارکن آتے تو جی ایم سید کی محبت میں ہیں اور جلسے کی تقریریں سننے ہیں لیکن جاتے جاتے وہ لاکھوں کے کتاب خرید کر جاتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ 17 جنوری 2024 میں جی ایم سید کی سالگرہ کے موقعے پر صرف ایک دن کے لیے سن جیسے چھوٹے شہر میں 30 بک اسٹال لگائے گئے جس میں 15 لاکھ کی کتابیں خریدی گئیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ کچھ ادارے ایسے بھی تھے جنہوں نے دو دو الگ الگ اسٹال بھی لگائے تھے۔ صرف روشنی پبلیکیشن کے اسٹال سے تین لاکھ سے زائد کتابیں خریدی گئیں۔ دوسری طرف اسی ہی سال 7 جون پر ٹھٹہ کے چھوٹے شہر جنگ شاہی میں قومپرست رہنما رسول بخش پلیجو کی برسی پر دو بک اسٹال لگائے گئے جس میں سے روشنی پبلیکیشن کے ایک اسٹال سے ڈھائی لاکھ کی کتابیں خریدی گئیں۔ اس طرح کئی سیاسی سماجی میلے اور جلسے سندھ کے ہر شہر میں سال بھر لگتے رہتے ہیں جن میں لاکھوں روپے کی کتابیں بکتی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے ان کتابوں کے خریداروں میں بڑی تعداد نچلے اور متوسط طبقے سے ہوتی ہے۔
یہی نہیں بلکہ سندھ میں گشتی کتاب گھر کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے جس میں سندھ کی کچھ پبلشرز آگے آگے ہیں۔ گزشتہ سال سندھ میں گشتی کتاب گھر کے سلسلے میں سندھ بھر کے 100 شہروں میں اس طرح کا اہتمام کیا گیا جس میں ہر شہر میں تین دن گشتی کتاب گھر کا اہتمام کیا گیا۔ اس حوالے سے حیدرآباد میں مدبر اور قومپرست رہنما حشو کیولرامنی کے یاد میں اور نوابشاہ میں 24 دسمبر پر افسانہ نویس منیر احمد مانک کی یاد میں گشتی کتاب گھر کا بندوبست کیا گیا۔ اس طرح سندھ کے بہت ہی شہروں یہ سلسلہ چلا جس میں عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کتابیں خریدیں۔
سندھ میں صرف کتاب خریدی ہی نہیں جاتیں بلکہ پڑھی بھی جاتی ہیں اور اسی مطالعے کے نتائج سندھ میں دیکھنے کو بھی ملتے ہیں۔ اس کتب بینی کی وجہ سے ہی سندھی، پاکستان میں سیاسی، سماجی اور ادبی اعتبار سے دوسرے صوبوں سے آگے ہیں۔ ان کتابوں کی وجہ سے ہی سندھ میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں روشن خیالی اور سیکولر سوچ زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے اور ہر قسم کی شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جاتی ہے جس کی مثال حال ہی میں ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کیس کے سلسلے میں دیکھی گئی۔
یہ کتاب خریدنے، پڑھنے اور ان پر غور بچار کرنے کی ہی طاقت تھی کہ جس کے زور پر سندھ کے رائٹرز، صحافیوں اور سیاسی سماجی تنظیموں نے نہ صرف انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھائی بلکہ عمر کوٹ میں بھرپور احتجاج کیا جہاں پر یہ واقعہ ہوا تھا۔ وہاں کتابی میلے میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کی۔


