بر صغیر کا نوبل ایواڑ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور – دوسری قسط (2)


سلہٹ کی خوبصورت مستورہ نے انگریزی میں مجھے اس کا ترجمہ بتایا۔ بتایا کیا اچھی طرح سمجھایا پھر لہکتے ہوئے ایک اور گیت گایا۔

جودی تور ڈاک سنے کیو نہ آشے
توبے ا یکلا چولو ایکلا چولو ایکلا چولو رے

اس کا بھی مطلب سمجھا اور ساتھ ہی میں نے جانا کہ یہ ٹیگور کے گیت ہیں۔ یوں اِن تین ماہ میں مجھے بنگالی کی کچھ شد بد ہوہی گئی تھی۔

اب میری شامیں اکثر و بیشتر پوکھر کنارے گزرنے لگیں۔ لڑکیوں سے ٹیگور اور نذرُل اسلام (نذر الاسلام) کے گیتوں کو سنتے، بحث مباحثے کرتے، اپنے کمرے میں ٹرانزسٹر پر کبھی کبھی مدھم آواز میں اِن گیتوں سے محظوظ ہوتے اور کامن روم میں ٹی وی پر پر کشش چہروں کو ان شاعروں کے منتخب کلام کو سناتے دیکھتے میں دونوں شاعروں میں فرق سمجھنے لگی تھی۔ ٹیگور کی شاعری میں موسیقیت کے جو دریا سے رواں رہتے تھے وہ اپنے سامع کو اپنے ساتھ بہانے پر مکمل قدرت رکھتے تھے۔

ٹیگور سے محبت، اس کے بارے میں جاننے اور اس کی شاعری سے واقف ہونے، اس کے ڈراموں اور رقص ڈراموں کا شوق بھی مجھے اُسی زمانے میں ہوا۔ فینی اور فاخرہ دونوں نے اِس شوق کو مہمیز دی۔

فاخرہ ڈراموں کی بھوکی تھی۔ جونہی بلبل اکیڈمی یا کہیں اوپن میں ٹیگور کا کوئی ڈرامہ سٹیج ہونے کی بھنک اس کے کانوں میں پڑ جاتی۔ بس اُسے للنی (بے چینی) سی لگ جاتی۔ اب کوئی ٹیسٹ ہے۔ کوئی اسائنمنٹ دینی ہے۔ وقت کم ہے۔ کوئی فکر فاقہ نہیں۔ لفنگی تھی پوری۔ میں اس سے بھی بڑی لفنگی کہ دیندار گھر سے تعلق کے باوجود لا ہور سینما میں چلنے والی ہر فلم کے پہلے شو میں سہیلیوں کے ساتھ گھر میں میلاد کی کسی محفل، قرآن خوانی کی کسی تقریب میں شرکت کے بہانے ہلّہ بولنے میں مشہور۔ نتیجتاً کبھی بال نچتے اور کبھی برقعے کا اپر سر سے اتر کر گلے میں جھولتا۔

تو اب جب روک ٹوک ہی کوئی نہ تھی تو فاخرہ سے چار قدم آگے ہی چلنا تھا۔ تھی تو فینی بھی ایسی ہی پر وہ پڑھائی پر سمجھوتا نہیں کرتی تھی۔

”چنڈالیکا“ وہ ڈرامہ تھا جس کا خمار پورے دو دن کسی تیز نشے کی صورت میرے دل و دماغ پر چھایا رہا۔
”میری بات سنو“

کیچڑ میں اُگے کنول کی کوئی ذات نہیں ہوتی ہے۔ بیک گراؤنڈ میں ٹیگور کی ایک نظم کے مصرعے سے شروع ہونے والے ڈرامے کا مرکزی خیال چھوت چھات کے نظریے کی مذمت اور پیار و محبت آفاقی جذبہ ہے جیسے پیغام کا علمبردار تھا۔ کمال کی پیشکش تھی۔

”کال مر گیا۔“ ڈرامے کی پیشکش جگن ناتھ ہال کے سٹوڈنٹس کی طرف سے اوپن میں ہوئی تھی۔ ”ڈاک گھر“ اور ”مکتا دھارا“ دونوں بلبل اکیڈمی میں دیکھے۔

رابندر و شنگیت کے مقابلے جب جب ہوتے۔ فینی بتاتی اور چل پڑتی۔ بلبل اکیڈمی میں ہی میری ملاقاتیں ڈاکٹر لطف النساء سے بھی ہوتیں جس نے ٹیگور پر ڈاکٹریٹ کی تھی اور جو یہاں ڈائریکڑ تھی۔

ٹیگور بارے میں نے کسی ایک سے کسی ایک وقت میں نہیں بلکہ مختلف اوقات میں مختلف لوگوں سے مختلف ٹکڑوں میں سنا۔ میں انہیں لکھ لیتی تھی۔ یہی لکھے ہوئے کاغذ ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد میرے ساتھ لاہور چلے آئے تھے۔ انہی سنبھالے ہوئے ٹکڑوں کو میں نے کھولا ہے۔

7نومبر 1969 ء

ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی کا دھیرے دھیرے اضافہ ہو رہا ہے۔ اوپر تلے کی کلاسوں نے تھکا دیا ہے۔ میں نے بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے چادر کو اپنے اوپر ڈال لیا اور آنکھیں ذرا آرام کی غرض سے موند لی ہیں۔

تبھی فینی کی ”باپ رے باپ“ کی آواز نے چونکا دیا ہے۔ کیا ہوا؟ میری آنکھوں میں استفہامیہ سی علامات محسوس کرتے ہوئے وہ بولی۔

”رابندر ناتھ ٹیگور چودہ بہن بھائی تھے اور وہ ٹھاکر گھرانے کا آخری بچہ تھا۔“
فینی اپنے سامنے ایک موٹا سا رسالہ کھولے پڑھتے ہوئے چونکی تھی۔

” تو اس میں کون سی تعجب کی بات ہے؟ میری نانی کے گیارہ بچے تھے۔ پرانے وقتوں میں بچوں کا یہی حساب کتاب ہوتا تھا۔ ہاں تم ٹیگور کو پڑھ رہی ہو۔“

” ہاں اسائنمنٹ بنانی ہے۔“

میری دلچسپی دیکھتے ہوئے اُس نے بلند آواز میں پڑھنا اور بتانا شروع کر دیا تھا۔ مہینہ مئی کا تھا۔ تاریخ سات اور سال 1861 ء۔ کلکتہ شدید گرمی اور حبس کی لپیٹ میں ہے۔ شہر کے قدیمی علاقے جوڑا سانگو کی ایک معزز شخصیت رابندر ناتھ ٹھاکر کے گھر چودہواں بچہ پیدا ہوا ہے۔ اس نے رسالے کا ایک صفحہ کھولتے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے کیا۔

”یہ ہے وہ گھر۔“

ایک عظیم الشان دو منزلہ کلاسیکل طرز تعمیر کی حامل عمارت جس کی بلند و بالا کھڑکیوں کی لمبی آ ہنی سلاخوں اور چوبی پٹوں نے بڑی انفرادیت دے رکھی تھی۔ درختوں اور پھول بوٹوں سے گھری کشادہ انگنائی والی ٹھاکر باڑی۔

ٹوپی اور کامدار پٹی والا گھیر دار مغلیہ سٹائل کا فراک پہنے چودہ سالہ خوبصورت لڑکا بھی فینی نے دکھا دیا تھا۔

گھر میں رابندر ناتھ کی بجائے رابی کے نام سے پکارا جانے والا یہ بچہ اپنے بچپن ہی سے بڑا منفرد اور عجیب سی عادات کا حامل تھا۔ بچے کی حرکات و سکنات بتاتی تھیں کہ ذہانت و فطانت میں غیر معمولی ہے۔ روایتی تعلیم سے اُسے کوئی رغبت نہ تھی۔ اسکول داخل کروایا تو بھاگ کر گھر آ گیا۔ سرے سے ہی منکر ہو گیا کہ اسکول تو جانا ہی نہیں۔ میرا تو وہاں دم گھٹتا ہے۔ مجھے تو متلی ہوتی ہے۔ اورینٹل سمیناری کے بعد بنگال اکیڈمی اور پھر مشہور زمانہ سینٹ زیوئرس میں بھیجا گیا مگر کسی جگہ بھی یہ فطین بچہ ٹکنے کا نام نہ لے رہا تھا۔

کیسا بچپن تھا جو کھلونوں سے محروم تھا۔ کھلونوں سے کھیلنے ہی نہیں دیا گیا۔ سارا دن گھر کی چار دیواری میں رہتا۔ باہر نکلنے کا تب نہ رواج تھا اور نہ اجازت ملتی تھی۔ ٹیگور گھرانے کے اصول بڑے پختہ اور سخت تھے۔

فینی نے میری طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا تھا۔
”کیا یہ غیر فطری نہیں کہ آپ ایک بچے سے اُس کا بچپن ہی چھین لیں؟“
میں چپ تھی۔ کہیں خیالوں میں ڈوبی کچھ سوچتی تھی۔
فینی نے سلسلہ گفتگو پھر جوڑ دیا۔

اس بچے کے لئے باہر کی دنیا سے کٹاؤ کیسا محسوس ہوتا ہو گا۔ بڑے کمرے کی کھڑکی سے باہر راہگیروں کو چلتے پھرتے، پھیری والوں کو سودے کے لئے ہانکیں لگاتے دیکھتے اور سنتے، گاڑیوں کو دوڑتے بھاگتے، آسمان پر اڑتے پرندوں، بادلوں کو جھومتے، راتوں کو گھر کی چھت پر چاند اور ستاروں کو دیکھتے، اُن سے باتیں کرتے وہ سوچ و فکر کی کن دنیاؤں میں رہتا تھا۔ اُس کا احساس صرف اُسے تھا۔

یقیناً یہ اس کے احساسات ہی تھے کہ جب اس نے بچوں کے لئے نظمیں لکھیں تو بی چتر سادھ Bichitrsaadh جیسی نظم میں ایک چھوٹے سے طالب علم کے جذبات و احساسات میں اُن کا بچپن ہی تو بولا ہے کہ جہاں بچہ کہیں پھیری والا، کہیں باغ کا مالی اور کہیں پہرے دار بننے پر مچلتا ہے کہ یہ سب کردار اپنی مرضی کے مالک اور کسی کے پابند نہ تھے۔ ذرا ایک بند دیکھیے۔

ایک پھیری والا سر پر اپنی ٹوکری لئے
دیتا ہے صدائیں چوڑیاں لینا
اس کا دل جہاں جانا چاہے جاتا ہے وہ
لوٹ کر بھی اپنی مرضی سے گھر آتا ہے وہ
اس کو کیا پروا گھڑی میں دس بجیں یا ساڑھے دس
اس کو جلد و دیر سے کیا، اس کو کیسی پیش و پس
ایسے میں دل چاہتا ہے سلیٹ اپنی پھینک دوں
پھیری والا بن کے گلیوں میں یونہی پھرتا رہوں

ہم دونوں کھِلکھلا کر ہنس پڑی تھیں۔ سچ تو تھا کہ ایک عظیم انسان کے بچپن کے اِس پہلو نے کتنا مسرور کیا تھا؟

فینی ابھی کچھ اور پڑھنے، مجھے سنانے اور نوٹنگ کرنے کے موڈ میں تھی۔ مگر باہر اُس کے نام کی پکار تھی۔ دربان لڑکا کہتا تھا۔ ”آپا آپ کا وزیٹر۔“ وہ ساڑھی کا پلّو ٹھیک کرتی اور چپل گھسیٹتی باہر نکل گئی۔

جاری ہے۔

Facebook Comments HS