خیرا گلی کے محل میں ایک رات: چون برس قبل کی سیاحت


پشاور ہم پہلی بار آئے تھے۔ زمانہ وہ تھا کہ ابھی قابل دید مقامات کا اتنا تصور ہی نہ تھا۔ نہ ہی دلیپ کمار اور راج کپور کے گھروں کا کسی کو پتہ تھا۔ بس قصہ خوانی بازار، چپل کباب اور لنڈی کوتل کے دور کے سفر کی بجائے باڑہ مارکیٹ شہرت پکڑ رہی تھی اور عزیزوں سے ملاقات کے علاوہ خواتین کی یہ واحد دلچسپی تھی۔ اور یہاں بعد دوپہر جانے کا پروگرام تھا۔ ناشتہ کے بعد ہم تو آٹو پارٹس مارکیٹ میں اپنے کاروباری تعلق سے دوستانہ میں بدل جانے والے پیر محمد صاحب سے ملنے ان کی دکان پیر محمد اینڈ سنز پہ جا پہنچے۔ گپ شپ کے بعد واپسی ہوئی۔ رستہ ہمیں وہی یاد تھا جس سے آئے تھے۔ چنانچہ قصہ خوانی کو جاتے اسی بازار میں داخل ہوئے۔ تین چار منٹ بعد ٹریفک سپاہی کے حکم پر کار وہیں پارک کر چوک میں کھڑے سارجنٹ صاحب کے سامنے پیش ہو چکے تھے۔ ہم نے ون وے کی خلاف ورزی کی تھی اور سارجنٹ کی سیٹی پہ بھی نہ رکے تھے۔ عرض کی کہ پہلی پہلی ملاقات ہے پشاور سے۔ اسی راہ سے گیا تھا اور واپسی کے لئے بھی قدموں کے نشان ڈھونڈتے جا رہا ہوں۔ اتنی ریڑھیاں کھڑی ہیں مجھے ون وے کا نشان اگر کہیں ہے بھی تو نظر نہیں آیا۔ بولے وہ تو لگا ہی نہیں ہوا۔ دونوں مسکرا رہے تھے اور ہمیں اسی راہ گھر جانے کی اجازت مل چکی تھی۔ شام باڑہ مارکیٹ کے لئے تھی۔ خواتین اپنی حسرتیں پوری کر رہی تھیں اور ہم کار میں نیا نیا متعارف ہوا ریکارڈ پلیئر فٹ کرا پسندیدہ گانوں کے ریکارڈ لے رہے تھے۔ جو اگلے سفر کی رونق رہے۔

صبح ناشتہ کے بعد ایبٹ آباد کو نکلنے لگے تو میزبانوں نے پشاور کی سوغات مشہور دکان کے انڈا لگے چپل کباب، گھر کے پراٹھے اور اچار ہمارے لنچ کے لئے ساتھ تھما دیے۔ ان دنوں اٹک کے پل پہ کسٹم چیکنگ ہونے کے کپکپی انگیز لمحات سے فارغ ہو اٹک سے پار آ سڑک سے نیچے اتر دریائے سندھ کے چوڑے پاٹ اور اعلیٰ نظاروں کا مزا لینے ایک گھاس والے پلاٹ پہ جا بیٹھے۔ کھانا کھولا تو بجائے چپل کباب کی مہک کچھ اور ہی سونگھنے کو مل رہا تھا۔ شدید گرمی میں پوٹلی بند چپل کباب سڑاند چھوڑ چکے تھے۔ اب پراٹھے اچار کا مزیدار جوڑ بھوک مٹا رہا تھا۔ حسن ابدال سے ہری پور جاتی سڑک پہ مڑے تو یہاں کی پرانی یادیں آ ٹپکیں۔

انیس سو ساٹھ میں ہمارا پہلا سفر ایبٹ آباد کا تھا۔ (انڈیا میں چھوڑی جائیداد ) متروکہ املاک معاوضہ سکیم کے تحت ملے معاوضہ کاپی کی فروخت کے لئے۔ ( پچاس کی دہائی میں مہاجروں کی انڈیا چھوڑی جائیدادوں کے کلیم دینے کا سلسلہ حکومت کی طرف سے شروع ہوا۔ ان کی منظوری پاکستان میں ہول سیل عجب کرپشن کا شاید پہلا ٹریلر اور غضب کہانی تھی۔ شاید ہی نئی نسلوں کو پتہ ہو۔ اس وقت موضوع یہ نہیں۔) یہ کاپی یا معاوضہ سرٹیفکیٹ قابل فروخت تھے اور ہم بہتر معاوضہ پہ بیچنے ایبٹ آباد کو رواں تھے۔ بس ہری پور سے آگے پہاڑی مڑتی گھومتی اونچائی کی طرف جا رہی تھی۔ سنگل سڑک سرسبز اونچے پہاڑوں کو جاتی ہمیں ناولوں کتابوں میں پڑھے نظارے اور ایسی راہوں کے رومان یاد دلاتی بل کھاتی ادائیں دکھاتی پتلی کمر لگ رہی تھی۔ ہم شملہ نینی تال، جنوبی ہند، مری اور ایبٹ آباد کے صحت افزا مقامات اور گرمیوں کی ٹھنڈی شاموں کے ساتھ جڑی پڑھی کہانیوں کا تصور اور سڑکوں پہ فیشن پریڈ کے خواب لئے بس کی کھڑکی سے دائیں بائیں دیکھتے خود ہیرو بن چکے تھے۔ گرم کپڑے نکالنے کا سوچ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ایبٹ آباد بس سٹینڈ کے ساتھ ہی ہوٹل میں کمرہ لے نہا دھو پینٹ کے ساتھ نئی ٹائی اور میسر بہترین گرم کوٹ پہنے شاید مین بازار میں گھڑیوں کی اس دکان کا پتہ پوچھ رہے تھے جہاں رابطہ کرنا تھا۔ ہوٹل سے نکلتے ہی احساس ہو گیا کہ ٹھنڈ ونڈ کے لطف کی بجائے ہم بزرگوں چھوٹوں اور سکول کالج سے واپس جاتی ٹولیوں کی تیکھی نظروں کے استہزاء کا نشانہ بن رہے تھے کہ یہ کون جانور اتنی شدید گرمی میں دسمبر کے کپڑے پہنے ہے۔ اپنا بھی پسینہ سے برا حال تھا۔ کوٹ اتار واپس ہوٹل چھوڑا اور ایبٹ آباد کو سیالکوٹ سمجھتے اپنے فرائض کو بھی انجام دیا اور فارغ اوقات میں جتنا پیدل گھوم سکتے تھے ایبٹ آباد کی موجیں اڑائیں۔ تین روز بعد گیاہ ہزار روپے کا خطیر خزانہ جیبوں اور قمیص کے اندر اور پوٹلی میں چھپائے واپس راولپنڈی سے لائل پور جانے والی ٹرین میں سوار تھے کہ اس وقت تک ہماری جیب میں ایک دو ہزار سے بڑھ کر کبھی رقم نہ آئی تھی۔ فکر سے نیند تو کیا آتی البتہ والد صاحب کی زبانی سنی وہ کہانی یاد آ گئی جو ان کے کسی دوست نے کلکتہ کے بنگالی، انگریزی کے استاد کے ساتھ بیتی سنائی تھی، جس نے سانگلہ ہل کو بھی شملہ ہل کی طرح کا سرد علاقہ سمجھتے انگلش ٹیچر کی نوکری قبول کی، لاہور سے سانگلہ کی ٹرین پہ بیٹھتے گرم کپڑے پہننے شروع کر دیے اور وہاں ٹرین رکنے تک اوور کوٹ بھی پہن لیا۔ اور پھر سانگلہ کی پینتالیس ڈگری شدید ”سردی“ میں ٹرین سے اترتے دور سانگلہ ہل کے دھوپ اور حدت کی شدت سے گرم کچھ زیادہ ہی گنجا اور سرخ نظر آتا پہاڑی ٹیلہ دیکھ سانگلہ کے پلیٹ فام پہ بے ہوش پڑا تھا۔

دوسری مرتبہ ہم انیس سو تریسٹھ میں دوستوں کے ساتھ وادی کاغان جاتے بھی یہاں رکے تھے۔ انیس سو اڑسٹھ میں اپنی شادی سے گیارہ دن پہلے ہم دلہا بنے اپنے عزیز دوست اکرم چوہدری ( ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے ڈائریکٹر فنانس کے عہدے تک پہنچے ) کو ساتھ کی نشست پہ بٹھائے ان کی بارات کو حویلیاں کے ریلوے سٹیشن ماسٹر صاحب کے دوارے لے کے آئے تھے۔ یہ خود ڈرائیو کرتے پہلا لمبا کوئی گیارہ گھنٹے کا سفر تھا۔ ہماری بھابھی کے ایک کھانے میں اکرم صاحب کے ہاتھ چلمچی میں دھلانے کے دلکش لمحات ہمیں بہت مہنگے پڑے تھے اور ہمیں رستے میں آئے ایک آدھ برساتی نالے کے جھرنے سے بہتا پانی تھکاوٹ میں آفتابے سے نکلا چلمچی میں گرتا پانی لگ رہا تھا۔

اور اب حویلیاں سے آگے کے خوب صورت نظاروں کا مزا لیتے تیز چڑھائی والی سڑکوں پہ مڑتے چڑھتے کار چلاتے بچوں کو یہ داستانیں سناتے ایبٹ آباد آچکے تھے۔ ہوٹل میں شب بسری کے بعد صبح، پاکستان ٹورازم کے دفتر معلومات سے پمفلٹ نقشے رہنمائی لے بچوں کو گھمانے نکل پڑے تھے۔ جتنا ممکن ہوا اصلی اندرونی اور مضافاتی ایبٹ آباد اور سیاحتی مقامات گھومے۔ اگلی صبح ہوٹل کو الوداع کہتے کار ایک پُر فضا پارک کے سامنے لا کھڑی کی اور گزشتہ روز گزرتے دیکھے قریبی سڑکی ڈھابے سے روغنی نان چنے اور حلوہ لا پارک میں بیٹھ اس آج تک کے مزیدار ترین لگے ناشتے کی یاد تازہ کی جو اکرم کی شادی کی صبح حویلیاں سٹیشن کے خالی کیے اور تزئین شدہ مال گودام ہال میں کھایا تھا۔

اب ہمارا رخ الیاسی مسجد کی طرف تھا۔ ایک دل کش یاد۔ خوبصورت منفرد فن تعمیر سے بنی۔ پہاڑی چشمے سے اترتے پانی سے بھرے تالاب میں پھواریں نکالتے فوارے گھومتے سیاح اور ارد گرد کے دلکش مناظر۔ یہ مناظر دوبارہ نہ نظر آئے کہ سالوں بعد جب ہم دوبارہ وہاں پہنچے تو چشمہ خشک ہو چکا تھا، حوض ویران پڑا تھا۔ بعد میں کیا ہوا علم نہیں۔

ہمارا رخ نتھیا گلی کی طرف تھا۔ بالکل عمودی لگتی نوے ڈگری مڑتی چڑھائی اترائی۔ سنگل سڑک جہاں اکثر اوقات اگر سامنے سے بس آ رہی ہوتی تو خیر سگالی میں پہاڑی کے ساتھ جانے والا ممکن حد تک بائیں ہو رک جاتا تاکہ دوسرا آہستہ احتیاط اور آسانی گزر سکے۔ تیز موڑ کاٹتے ہارن دے مڑتے بالکل آہستہ ہو یک دم پہلے گیئر میں اوپر جانا اور پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ کا سبق اپنے اس علاقے سے واقف ڈرائیو دوستوں سے سیکھا ہوا تھا۔ خوف، احتیاط اور پر سکون رہنا لازم تھا۔ ادھر بلندی تک جاتے سرسبز مناظر اور نیچے گھاٹیوں اور ان کی طرف گرتی پانی کی لکیریں نیچے بہتے ندی نالے، دور دور انتہائی بلندی، انتہائی گہرائی میں بنے مکانات اور ہریالی اور کھیت۔ ان کا فسوں بار بار دیکھنے کو مجبور کرتا۔ جہاں بھی ہموار جگہ اور کھلی سڑک ہوتی، کار روکی جاتی۔ کار بھی ٹھنڈی ہوتی اور پورا قافلہ باہر نکل یا اندر بیٹھے ان نظاروں سے لطف اٹھاتا۔ اور ہماری پیاس بجھاتا۔

دو تین گھنٹے نتھیا گلی رکے اور پوچھتے پاچھتے گورنر ہاؤس اور دیگر سامنے سے اور پہاڑ کے عقبی طرف بادلوں سے ڈھکی چوٹیوں اور وادیوں کا مزا لیتے ایوبیہ کو چل دیے۔ ایوب خان کے دور میں مری کے ارد گرد گلیات کی ترقی اور سیاحت مراکز کے لئے اتھارٹی بنائی گئی۔ سرکاری اور پرائیویٹ رہائشی منصوبے اور تفریح گاہوں کے لئے تیزی سے کام شروع ہوئے۔ ایوبیہ میں چیئر لفٹ نئی نئی شروع ہوئی تھی۔ ہم وہاں پہنچ چکے تھے۔ سوائے چیئر لفٹ باقی صرف نظارے تھے۔ نہ آبادی نہ کوئی معقول سٹال۔ دو مرتبہ چیئر لفٹ پہ آتے جاتے بلندی سے نظر آتے نظارے اس وقت ہمارے لئے عجوبہ اور دیدنی تھے۔ مگر زیادہ مزا ہماری بیگم صاحبہ کے خوف سے چیخنے اور کانپنا دیکھنے کا بھی رہا کہ بچے مذاق اڑا رہے تھے۔ فارغ ہوتے ہی خیرا گلی کا رخ کیا جہاں دو راتیں رہائش، اور ابھی تک نہ دیکھے اپنے ذاتی محل کے محل وقوع کا جائزہ لیتے گرمائی قیام گاہ بنانے کی منصوبہ بندی اور ارد گرد گھومنے کا پروگرام تھا۔

دو سال قبل جب گلیات کو آباد کرنے کا پروگرام بنا تو خیرا گلی کی چوٹی کے نزدیک اب متروکہ فوجی چھاؤنی کے علاقے کو رہائشی کالونی میں بدلا گیا۔ کوئی دو کنال کا پلاٹ ہمارے دوست چوہدری سلیم اختر، ان کے دوست معروف بزرگ وکیل اور ہم نے شراکت سے لیا، دو بہت بڑی بڑی فوجی بیرکیں۔ ایک کنال میں بنی ایک بیرک ہماری اور سلیم کی مشترکہ تھی۔ یہی ہمارا اس وقت خوابوں کا محل تھا۔ جس میں مکان تعمیر کے مستقبل کے پروگرام تھے۔ شام کا دھندلکا پھیل رہا تھا۔ جب نشانیاں دیکھ دیکھ وہاں پہنچے۔ چوٹی سے نظر آتے نظارے کچھ الگ ہی تھے۔ ڈھونڈتے پوچھتے اس منتظم کے پاس پہنچے جس کے پاس چابی تھی اور اپنے اس محل کے باہر کار لا کھڑی کی۔ پتھر کی بنی اندر باہر سے مرور زمانہ سے کالی ہو چکی دیواریں۔ کوئی دس مرلے کی ڈراؤنی لگتی۔ بیگم صاحبہ نے تو کار سے اترنے سے انکار کر دیا۔ پروگرام تو کوئی جائے رہائش ڈھونڈنے کا تھا مگر اندھیرا ہوتے پہنچے تھے۔ اور کوشش کے باوجود پرائیویٹ رہائش کا انتظام نہ ہوسکا تھا۔ ہوٹل قسم کی کوئی چیز وہاں ابھی بنی نہ تھی۔ بیرک کی ایک جانب سٹیج سا بنا تھا۔ بستر بند کھول وہیں لگائے۔ ڈھونڈ ڈھانڈ کچھ کھانے کا لائے۔ ایک تو پہلی مرتبہ بیگم صاحبہ کے روٹھنے اور تسلی دیتے منانے کا مزا تھا تو دوسری طرف پہاڑ کی چوٹی سے نیچے وادیوں گھاٹیوں میں ٹمٹماتے چراغ اور مکمل سکوت اور آسمان پہ تاروں کی چمک۔ عجیب بہار تھی۔ کوئی آٹھ ہزار فٹ کے لگ بھگ بلندی پہ ویران بیرک بجلی پانی بغیر کوئی ڈراؤنی فلموں کا بھوت بنگلہ لگ رہا تھا۔ جہاں چمگادڑوں کی پھڑپھڑاہٹ اور چڑیلوں کا بسیرا ہوتا ہے۔ اور راتوں کو چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ لہٰذا افراد قافلہ کو تسلیاں دیتے گپیں مارتے قہقہے لگاتے ٹھنڈ اور خوف کم کرتے گزاری یہ رات ایک یادگار بن گئی۔ اب فجر کے وقت ہی سامان کار کی چھت پہ پہنچ چکا تھا۔ ہم بچوں سمیت کوئی ایک گھنٹہ دائیں بائیں گھومتے نیچے وادیوں اور اوپر طلوع آفتاب کا نظارہ کرتے رہے اور بغیر ناشتہ ہی ہم اپنے اس واقعی بہت پرفضا اور اعلی لوکیشن پہ واقع محل کو اداس چھوڑ، چابی منتظم کے حوالے کر مری کی طرف رخت سفر باندھ چکے تھے۔ اور بیگم صاحبہ کے روٹھے ہوئے پوز کا اس وقت لیا گیا فوٹو ہمارے اس محل کی یادگار اب بھی البم کی زینت اور نشانی ہے۔

مری میں جاتے ہی میونسپل کار پارکنگ سے پہلے ہی ہوٹل مل گیا جہاں کار کمرے کے باہر کھڑی ہمارے لئے ناشتے کھانے کا میز بن چکی تھی۔ مری میں گزرے دو روز ویسے ہی تھے جو و ہاں کا معمول ہے۔ پنڈی پوائنٹ سے کشمیر پوائنٹ تک کی سیر، بچوں کی گھوڑا سواری، مال روڈ کی فیشن پریڈ، ریسٹورینٹ میں کھانے کے لئے مال روڈ کے نظارے دکھاتی ٹیبل کی تلاش۔ اور شاپنگ۔ اگلے روز نیچے سے چکر لگاتے تازہ بنے مگر ابھی تک باغ باغیچے سے محروم چالو ہوچکے مگر نامکمل بھوربن میں واقع ہوٹل انٹر کانٹینیٹل ( یہی نام ذہن میں آ رہا ہے ) ، کے گرد چکر لگاتے اس وقت باقی مکمل غیر آباد بھوربن کے جنگل نما جھاڑ جھنکار اور خود رو پودوں کے گلدستہ بناتے ماحول میں پکنک کرتے، بادلوں سے ڈھکی وادیاں یا سورج سے چمکتے نظارے دیکھ جھیکا گلی چوک آ رکے۔ اب ہم پھر داستان گو بن پانچ برس قبل مری کی سیر کی یادوں کی جگالی کرتے سب کو سائیکل کرایہ پہ دینے والی وہ دکان دکھا رہے تھے۔ جہاں سے ہم تین دوست کرایہ کی سائیکلیں لے کوہالہ روڈ پہ نکل گئے تھے۔ سائیکل کا کرایہ ایک روپیہ فی سائیکل ہمیں ایڈوانس دینا پڑا تھا۔ مگر گارنٹی کے لئے صرف نام اور قیام کے ہوٹل کا نام اور کمرہ نمبر لکھانا کافی تھا۔ یہ ایک یادگار اور دلچسپ ٹور تھا۔ دکاندار کے ہدایت نامہ کو ذہن نشین کرتے ہم سائیکل سوار کوئی سو فٹ ہی پیڈل سے سائیکل چلا پھر پیڈل بند اور بریک پہ انگلیاں رکھے کوئی بیس میل سے کچھ زیادہ دور کوہالہ کو جا رہے تھے۔ دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ چلتی یہ سڑک پورا رستہ بس ہلکی ڈھلوان۔ شاید ہی کہیں کوئی پیڈل لگانے پڑے ہوں۔ شور کرتے اچھلتے جھاگ نکالتے تیز پانی اور وادی کے نظارے۔ رستے میں ایک دو مرتبہ رک ہم کوئی سوا گھنٹہ بغیر پیڈل مارے سائیکل چلاتے دور سے کوہالہ پل کو دیکھ اچھل رہے تھے۔ مگر آخری میل نانی یاد دلا گیا کے آگے عمودی چڑھائی تھے۔ اب ”کانپیں ٹانگ“ اور پسینے نکل رہے تھے، اب سائیکل سے اتر خود پیدل اور سائیکل کو دھکا لگا بالآخر کوہالہ پل کے ساتھ واقع ہوٹل میں کھانا کھایا جا رہا تھا۔ کچھ گھوم پھر واپسی کے لئے اب ہم ڈھائی روپیہ فی سواری دے بس کے اندر اور سائیکل ساڑھے تین روپیہ فی دے چھت پہ سوار تھے۔ سائیکل پہ جانے کا سوا گھنٹہ سفر واپسی میں رکتے چلتے تین گھنٹے لے چکا تھا۔ اور بدبو اور پسینے کا تحفہ ساتھ تھا۔ مگر لطف۔ واہ واہ کہ مزا آج بھی نہیں بھولا۔ لڑکے اس کرایہ سائیکل دکان پہ گپ مار واپس آ بتا رہے تھے سائیکل کا کرایہ تو اب تین روپے ہے مگر سائیکل کی قیمت بطور ضمانت جمع کرانا پڑتی ہے کہ قوم ”امانت اور دیانت“ میں بہت تیزی سے ترقی یافتہ ہوتی جا رہی تھی۔

جھیکا گلی سے مری کے ساتھ جاتی سڑک کے ذریعہ گھوڑا گلی اور لارنس کالج میں سے گزرتے یہ بہت ہی پر لطف گزرا دن واپس ہوٹل لے آیا اور اگلی صبح ہم لوٹ کے گھر جانے کا سفر شروع کر چکے تھے۔ دوپہر کے بعد منگلا پہنچے۔ منگلا ڈیم کا نظارہ کیا وہاں گھومتے ایک مقامی جوان نے گائیڈ کا فرض ادا کیا اور اب ہم گجرات رات دس بجے کے قریب ہوٹل میں بیٹھ کھانا کھا رہے تھے۔ اور ووٹ پڑ رہے تھے کہ رات یہاں ٹھہرا جائے یا کچھ سستا چھجو کے چوبارہ ہی پہنچ سواد کی نیند لی جائے۔ گجرات رات رکنے کی صورت میں کار سے ضروری سامان اتار کھول اور کمرے میں لا اور علی الصبح پھر واپس رکھ باندھنے کا وقت اتنا ہی تھا جتنا لاہور تک باقی سفر تھا۔ رات کوئی دو بجے کے کے قریب ہم موہنی روڈ لاہور پر بھائی جان کے گھر کے باہر اپنے مخصوص انداز میں ہارن بجا اپنے واپس پہنچنے کی اطلاع دے رہے تھے۔ پہلے ذکر کر چکا کہ سولہ سو میل سفر میں ہمارا سیاحت و سیر، پٹرول اور قیام و طعام کا کل خرچ دو ہزار روپے کے لگ بھگ تھا۔

گزشتہ جولائی میں اس سفر میں شامل چھوٹا بھتیجا جو اب تریسٹھ برس کا ہو چکا بچوں کو لے سوات گیا ہوا تھا کہ فون پہ بات ہوئی۔ بتا رہا تھا کہ اب بہت آرام دہ اور اس وقت سے تیسرا چوتھا حصہ وقت سفر میں لگتا ہے ہر طرح کی سفری سہولتیں ہیں۔ موٹر وے کی موج کے علاوہ بھی سڑکیں کھلی اور شارٹ کٹ ہیں۔ ایبٹ آباد جاتے حویلیاں سے آگے سرنگ نے چڑھائی کے چکر ختم کر دیے ہیں۔ مگر جو مزا باجوڑ برساتی نالہ، کالام کے مکان اور خیرا گلی کی بیرک میں قیام اور برساتی نالوں کے بالکل ساتھ بنے چائے کے کھوکھے سے برتن دھلوا چائے بنوا پانی میں پتھروں پہ بیٹھ ہنسی مذاق کرنے اور نالہ کے ٹھنڈے پانی میں ٹھنڈے کیے آم چوسنے کا آتا تھا، اب کہاں۔ تیز بھرپور ٹریفک میں ڈرائیو کرتے دائیں بائیں دیکھنے کا ہوش نہیں ہوتا۔ قدرتی نظاروں میں انسانی ہاتھ کا دخل بڑھ چکا۔ نہ وہ وسیع جنگل میں جا کھاد ڈالنا، نہ جنگل میں شیر سے واسطہ اور نہ گھروں میں جا سیب توڑنا۔ نہ کئی گھنٹوں میں پکتی ہانڈی۔ چچا، آپ نے کہا تھا، ”بچو! جتنا ہم اس جوش جوش میں گھوم آئے ہیں اتنا تمہیں اور کوئی نہیں گھمائے گا۔“ یہ درست نکلا۔ اب ہم اس سے زیادہ گھوم تو سکتے ہیں مگر خیرا گلی کے محل میں گزری رات کا سواد کہاں سے ملے گا۔

Facebook Comments HS