کیلوِن باؤری۔ بے گناہ قید کاٹنے سے کامیاب کاروباری شخصیت بننے تک کا سفر


تحریر: فیتھ کریمی، ترجمہ: دانش علی انجم

یہ جون 2017 ء کی ایک دوپہر کا واقعہ ہے۔ کیلوِن باؤری نے اپنی سیاہ واکس ویگن جیٹا گاڑی کو ”گرین ہیون کوریکشنل فیسلٹی“ (سٹورم ول، نیویارک کی ایک جیل) کے باہر کھڑا کیا اور سیمنٹ و سریے سے بنی ان مضبوط دیواروں پر ایک نظر ڈال کر گہری سانس لی۔ محض چند ہفتوں قبل تک وہ انہی دیواروں کے اندر مقید دیگر قیدیوں میں شامل تھے لیکن آج وہ بطور ایک قیدی نہیں بلکہ ایک کاروباری شخص کے، جیل آئے تھے۔ ان کے ساتھ ایک بزرگ خاتون تھیں جو اپنے قیدی پوتے سے ملنے آئی تھیں۔

باؤری پچھلے مہینے ہی دہرے قتل کے جرم میں بائیس سال قید کاٹ کر رہا ہوئے تھے، ایک ایسا جرم جو انہوں نے کیا ہی نہیں تھا۔ سالوں پر محیط قانونی جنگ کے بعد وہ بالآخر اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ رہائی کے بعد جونہی انہیں ڈرائیونگ لائسنس ملا، انہوں نے *رائیڈرز وین سروس* نامی کمپنی بنا لی جو ان کے بقول جیلوں میں مقید اپنے پیاروں سے ملنے جانے والے ملاقاتیوں کے لیے ”اُوُبر“ ہے۔

رہائی کے بعد جیل واپسی پر انہوں نے محافظوں کے ساتھ گپ شپ کی اور اپنے تعارفی کارڈ ان میں تقسیم کیے۔ ان کے بقول ”مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ میں ان دیواروں کا قیدی نہیں رہا۔ میں قیدیوں کے خاندانوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا، سو میں نے یہ کاروبار شروع کر لیا“

”جیسے کہ وہ دادی اماں، وہ خود تو کار چلانے کے قابل نہیں تھیں، جبکہ ان کے قیدی پوتے کا اپنی دادی کے سوا اور کوئی نہ تھا“ ، باؤری نے بتایا۔

ان کی سادہ سی واکس ویگن اس سیاہ بی ایم ڈبلیو سے قطعی مختلف تھی جسے وہ 1990 ء کی دہائی میں بطور منشیات فروش استعمال کیا کرتے تھے، ان کے حلیے میں بھی زمین آسمان کا فرق تھا لیکن اب وہ ایک آزاد شہری تھے اور اپنی زندگی بدلنے کے لیے پرعزم۔

جیل کے اس دورے میں جو نیویارک سے قریباً 90 منٹ کی مسافت پر واقع ہے، انہوں نے یاد کیا کہ کیسے بعض اوقات معمولی سی غلطی انسان کی ساری آزادیاں سلب کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔ یہ دورہ پہلا ضرور تھا لیکن آخری نہیں کیونکہ پھر ان کا کاروبار پھیلتا ہی گیا۔ ”جیل کی ہر یاترا میرے لیے ایک یاد دہانی تھی کہ مجھے سچ کے رستے پر چلنا ہے ورنہ یہی جیل ایک بار پھر میرا ٹھکانہ ثابت ہو سکتی ہے“ ، انہوں نے سی این این کو بتایا۔

ایک مشہور پوڈ کاسٹ نے 2017 میں ان کی رہائی کے بعد 22 سالوں پر پھیلی ان کی جدوجہد انصاف پر تفصیلی پروگرام کیا جس کا نام یہ تھا۔ ”The Burden: Empire on Blood“ ۔ یہ پوڈ کاسٹ 2018 ء میں نشر کی گئی اور اس میں اب نئی اقساط شامل کی گئی ہیں جو باؤری کی جیل سے کی گئی فون کالز پر مبنی ہیں۔ پچھلے ہفتے نشر ہونے والی حالیہ قسط میں رہائی کے بعد باؤری کی زندگی کا جائزہ بیان گیا ہے۔ پوڈکاسٹ کے میزبان، سٹیو فشمین، جو ایک صحافی ہیں نے بتایا کہ انہوں نے مزید اقساط نشر کرنے کا فیصلہ اس معاملے میں عوام کی دلچسپی کو مدنظر رکھ کے کیا۔ ان کے بقول ”لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے تھے کہ کیل کا کیا بنا؟ کیونکہ آخری اطلاعات کے مطابق تو وہ بے گھر ہونے اور اپنی گاڑی میں سونے کے باوجود اپنی زندگی بدلنے کے لیے پرعزم تھا“ ۔ سچ تو یہ ہے کہ میں خود بھی اس بارے میں جاننے کے لیے بے چین تھا، سٹیو نے کہا۔

سٹیو اور باؤری کا رابطہ اس وقت ہوا تھا جب باؤری کے ساتھ قید ایک اور بے گناہ قیدی، جنہیں بعد میں رہائی مل گئی تھی، نے باؤری کو سٹیو کا نمبر دیا اور انہوں نے سٹیو کو لگ بھگ تیرہ سو ( 1300 ) صفحات پر مشتمل دستاویزات بھیجیں۔ 2011 ء میں سٹیو نے باؤری کی اجازت سے اس گفتگو کو ریکارڈ کرنا شروع کر دیا اور جلد ہی وہ اس شخص کے مداح ہو گئے جو محض جیل کے ایک فون سے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے مہم چلا رہا تھا۔

امریکی معافی ناموں کے دفتر اندراج کے مطابق 2017 ء میں، جس سال باؤری رہا ہوئے، 139 مختلف مجرموں کو غلط سزا ثابت ہونے پر رہا کیا گیا جن میں سے 51 قتل کے جرم میں قید تھے۔

اعداد و شمار سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ کیسے سیاہ فام امریکیوں کو انصاف کے حصول میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ پچھلے سال امریکہ میں معاف کیے جانے والے 153 قیدیوں میں سے 93 یعنی کہ 61 فیصد سیاہ فام تھے۔

2022 ء کی ایک تحقیق میں امریکی معافی ناموں کے کھاتے کی جانچ پڑتال کے دوران حکام کی جانب سے اعتراف کیا گیا کہ سفید فام امریکیوں کے مقابلے میں سیاہ فام امریکی، سات گنا زیادہ غلط سزا پاتے ہیں۔ کیلون کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ اوائل جوانی ہی سے منشیات فروخت کرنے لگا تھا۔ اس زمانے میں وہ مہنگے کپڑے، سونے کے زیورات اور مہنگی رولیکس گھڑیاں پہنا کرتا تھا۔ منشیات فروش ہونے کی وجہ سے وہ استغاثہ کے لیے ایک آسان شکار ثابت ہوا۔ یہ حقیقت بھی مد نظر رہے کہ انہی دنوں نیویارک کے مئیر رُوڈی جولیانی نے جرائم سے سختی سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

باؤری کہتے ہیں : ”اس زمانے میں اگر پولیس آپ کے پاس سے منشیات برآمد کر لیتی تو پھر اسے انصاف کی پرواہ نہیں رہتی تھی۔ انہیں لگتا تھا کہ آپ کا اصل ٹھکانہ جیل ہے“ ۔ ”بے گناہ قید کاٹنے کے باوجود کبھی کبھی تو خود مجھے بھی ایسا ہی لگنے لگتا تھا“

باؤری ہمیشہ سے کاروباری ذہن رکھتے تھے چنانچہ جیل سے رہائی کے بعد بھی انہوں نے کسی کی ملازمت کرنے کا نہیں سوچا۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک طویل عرصہ اپنی صلاحیت غلط کاموں میں صرف کیے رکھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے دسویں جماعت میں سکول اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ وہ اپنی ماں کا ہاتھ بٹانا چاہتے تھے۔

انہیں وہ لمحہ اچھی طرح یاد ہے جس نے انہیں منشیات فروش بنا دیا۔ وہ ”ائر جورڈن“ (جوگرز کی ایک قسم جو مشہور کھلاڑی مائیکل جورڈن کے نام سے منسوب ہے ) خریدنا چاہتے تھے لیکن ان کی والدہ کے پاس انہیں خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ منشیات کا کاروبار شروع کرنے کے کچھ عرصہ بعد ہی ان کے پاس ائر جورڈن آ چکے تھے اور بعد میں انہوں نے ایک سیاہ بی ایم ڈبلیو گاڑی بھی خرید لی جسے وہ ”ایک سیاہ فام کی آرزو“ قرار دیتے تھے۔

اور پھر آئی 10 ستمبر 1992 ء کی رات، جب سب کچھ بدل گیا۔

دو بھائی، ایلائیجاہ اور صلاحدین ہیرس، اپنی کار میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے جب ایک شخص نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی اور وہ دونوں موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ یہ واقعہ 213 ویں مشرقی سڑک اور برانکس وڈ ایونیو کی نکڑ پر پیش آیا۔ اس زمانے میں یہ علاقہ منشیات فروشوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اور اسی علاقے میں باؤری بھی منشیات بیچا کرتے تھے۔ باؤری چونکہ اس نکڑ کے سب سے بڑے منشیات فروش تھے اس لیے ان کے مخالفین نے ان کا پتہ کاٹنے کی خاطر عدالت میں جھوٹی گواہی دے دی کہ انہوں نے باؤری کو یہ دہرا قتل کرتے دیکھا ہے۔ استغاثہ نے انہیں پیش کش کی کہ اگر وہ اعتراف جرم کر لیں تو انہیں محض تین سال کی قید بھگتنا ہو گی لیکن چونکہ وہ بے گناہ تھے اس لیے انہوں نے یہ پیش کش ٹھکرا دی۔

اکتوبر 1995 ء میں برانکس سپریم کورٹ جیوری نے انہیں قتلِ عمد کی دو دفعات کے تحت مجرم قرار دے کر پچاس سال ( 50 ) سال قید کی سزا سنا دی۔ حالانکہ استغاثہ کے پاس ان کے مخالف منشیات فروشوں کی گواہی کے سوا ان کے خلاف اور کوئی ثبوت نہ تھا۔

سزا کے پہلے چند سال تو باؤری جیل میں منشیات فروشی ہی کرتے رہے کیونکہ وہ رہائی کی امید ہی کھو چکے تھے۔ 2000 ء کی دہائی شروع ہوئی تو انہیں احساس ہوا کہ اگر انہوں نے خود کو نہ بدلا تو جیل سے ان کی لاش ہی باہر نکلے گی چنانچہ انہوں نے اپنی آزادی کے لیے جدوجہد شروع کر دی۔ انہوں نے کئی سماجی کارکنوں اور وکیلوں سے رابطہ کیا۔ انٹرنیٹ سے بھی انہوں بہت مدد ملی اور انہوں نے 2007 ء میں جیل ہی سے جی ای ڈی (گریجویشن) کی ڈگری حاصل کی اور ساتھ میں مجرمانہ قوانین سمجھنے کے کورس بھی شروع کر دیے۔ وہ کہتے ہیں : ”اپنے مسئلے کو حل کرنے کے لیے میں نے قانون کی کتب پڑھیں، تاکہ جان سکوں کہ کن کن طریقوں سے میں جدوجہد کر سکتا ہوں۔ میں نے جیل میں ہی باقاعدہ پیرا لیگل (وکلاء کے لیے کسی خاص مقدمے کے حوالے سے قانون کی کتابوں اور اس ضمن میں جاری شدہ فیصلوں وغیرہ کو ڈھونڈنے والے معاون افراد) بننے کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا“

اور پھر حالات بدلنے لگے، اگرچہ آہستہ آہستہ ہی سہی۔

2003 ء میں برانکس کے ایک دوسرے منشیات فروش جو ایک اور غیر متعلقہ قتل میں مجرم قرار دیا جا چکا تھا، نے ہیرس بھائیوں کے قتل کا اعتراف کر لیا۔ لیکن بعد میں وہ اس بیان سے مکر گیا چنانچہ عدالت نے باؤری کی سزا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ چونکہ باؤری کے لیے معاوضے پر کسی وکیل کی خدمات حاصل کرنا ناممکن تھا اور مفت وکیل مشکل سے ملتے تھے اس لیے کئی سال تک اُن کا مقدمہ التواء کا بھی شکار رہا۔ پھر مائرون بیلدڈوک جیسے مشہور شہری حقوق کے وکیل نے ان کا مقدمہ لڑنے کی حامی بھر لی۔ بدقسمتی سے 2016 ء میں باؤری کی سزا ختم کرنے کے لیے درخواست دینے کے کچھ عرصے بعد بیلڈوک کا انتقال ہو گیا اور یوں اُن کا مقدمہ ایک مرتبہ پھر التوا کا شکار ہو گیا۔ بالآخر آسکر مچلن، جنہوں نے بیلڈوک کے ساتھ بھی کئی مقدمات پر کام کیا تھا، نے باؤری کا مقدمہ لڑنے کی حامی بھر لی۔

حصولِ انصاف کے لیے ان کی جدوجہد کو اس وقت تقویت ملی جب تین نئے گواہان نے 2017 ء میں گواہی دی۔ دو نے اُس دوسرے منشیات فروش کو بطور قاتل شناخت کیا جبکہ تیسری گواہ نے عدالت کو بتایا کہ قتل کے وقت وہ اسی سڑک پر کچھ دور باؤری کے ساتھ تھی اور اُن دونوں نے گولیاں چلنے کی آواز ایک ساتھ سنی تھی، چنانچہ باؤری یہ قتل کر ہی نہیں سکتا تھا۔ اُس عورت نے یہ بھی بتایا کہ کئی سالوں تک اسے علم ہی نہیں تھا کہ باؤری کو اس دہرے قتل کے الزام میں مجرم قرار دیا جا چکا ہے ورنہ وہ بہت پہلے یہ گواہی دینے آ چکی ہوتی۔

8 مئی 2017 ء کے دن باؤری کو تمام الزامات سے بری کر کے رہا کر دیا گیا۔

”میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھولوں گا کیونکہ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ چوبیس سال جیل میں رہنے کے بعد اب جیل میرا ٹھکانا، میری تقدیر نہیں رہی تھی“ ، وہ کہتے ہیں۔

سات سالوں بعد ان کا ایک اچھا، قانون پسند شہری بننے کا سفر جاری و ساری ہے۔ رہائی کے بعد انہوں نے شہر اور ریاست پر مقدمہ کیا اور ہرجانے میں لاکھوں ڈالر وصول کیے۔ اس رقم کو انہوں نے نیویارک اور ٹیکساس میں جائیداد کے کاروبار میں لگایا اور اب ان کا ہیوسٹن، ٹیکساس میں لاکھوں ڈالر مالیت کا گھر ہے۔

فشمین کہتے ہیں : ”اس نے ایک مرتبہ مجھے بتایا تھا کہ اس کا خواب قانونی ذرائع سے لکھ پتی بننا ہے“

اور اب یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنی کمپنی کے لیے کئی ڈرائیور ملازم رکھ لیے ہیں۔ یہ کمپنی نیو یارک اور نیو جرسی کی ریاستوں میں قیدیوں کے رشتہ داروں کو ان کے گھر سے جیل لے جا کر ان کے پیاروں سے ملاقات کرانے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ”بطور منشیات فروش، میری وجہ سے کئی زندگیاں تباہ ہوئیں۔ میں ان لوگوں کے لیے دعا کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ کسی دن وہ مجھے معاف کر سکیں گے“

انہیں یہ بھی یقین ہے کہ اگر وہ منشیات فروشی کا کام ہی کرتے رہتے تو آج کب کے مارے جا چکے ہوتے۔ ”جیل جانے سے میری جان بچ گئی“ ، وہ کہتے ہیں۔

بشکریہ سی این این

Facebook Comments HS