داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر
مصطفے زیدی مرحوم جن کے سانحۂ قتل کے بارے میں ہماری شنید معلومات کم از کم جوڈیشل انکوائری افسر ان دنوں کے سابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کراچی، کنور ادریس سے زیادہ تھیں۔ انہی مصطفے زیدی کا شعر ہے
داستانِ غم دل سب سے پرانی ہے مگر
کہنے والے کے لیے سب سے نئی رہتی ہے
یہ سن 1970 کی بات ہے۔ ان دنوں نیپ کے سربراہ عبدالولی خان نے کہا تھا جس وقت مشرقی پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں سے بدحال تھا، پاکستان کا اردو میڈیا شہناز گل کے جسم کے خطوط کی پیمائش میں مصروف تھا۔
فن کار کی محبوبہ (Muse) ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ امریکن پینٹر اینڈریو وائتھ نے ایک پوری سیریز ہیلگا کے نام سے بنائی۔ آسٹروی پینٹر گستاؤ کلمٹ جن کے فن پر جاپانی آرٹ کا بہت اثر تھا۔ ان صاحب نے اپنی محبوبہ ایملی فلوج کی کئی تصاویر بنائیں۔ دنیا میں جدید مصوری کا مشہور ترین نام پکاسو کا حرم اس حوالے سے زیادہ آباد تھا۔ ایک نہیں چھ عدد میوز تھیں۔
ایسا ہی عالم ہمارے ایم ایف حسین کا بھی تھا جنہیں ویسے بھی ہندوستان کا پکاسو کہا جاتا تھا۔ ہمارے ایک نسبتاً غیر معروف مگر بلا کے جدید اور باکمال مصور کولن ڈیوڈ نے اپنی اہلیہ زارا حسین جو پنجاب یونی ورسٹی کی شعبہ فنون لطیفہ کی بانی سربراہ اینا ملکہ احمد کی صاحبزادی تھیں ان کی شادی سے پہلے کی کئی تصاویر بنائیں۔ جن میں نیوڈز بھی تھیں جن کی ایک بڑی تعداد کو پنجاب یونی ورسٹی سے جڑے طلبہ کے غنڈوں نے جنرل ضیا الحق کے دور میں ایک نمائش پر حملہ کر کے برباد کر ڈالا۔

ہم نے کراچی میں عمر رفتہ کو آواز دیتی ہوئی دل نشین و خوش خصال ایک ایرانی خاتون کے پاس صادقین کی نیوڈز دیکھیں وہ کلفٹن پر بار بی کیو ٹو نائیٹ کے قریب رہتی تھیں۔ ان عریاں بہتے بہتے شہ پاروں کے بارے میں ان کا اصرار تھا کہ وہ ان کی ماڈل ہیں۔ اس اصرار پر ہم نے انہیں زیادہ غور سے دیکھا۔ کئی بار دیکھا مگر پھر خیال کیا ہم بہت دیر گئے گھر آئے ہیں۔ اب سجنی جو بھی کہے اس کو سنیں اور درست سمجھیں۔ ہم نے ایک واقف حال سے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے تو وہ کہنے لگے یہ معصومہ صادقین کے جن ایام ناآسودہ کی بات کرتی ہیں اس ٹائم پیریڈ میں صادقین گرم پانی کی ربڑ کی چینی بوتل کو بھی نیوڈ سمجھ کر پینٹ کر لیتے تھے۔
پاکستان میں صادقین اور اقبال مہدی کے بہت سے فن پارے جعلی ہیں۔ سو خاتون مال بنانے کے چکر میں ہیں۔ یہ بات البتہ درست ہے کہ جناح ہسپتال میں جن دنوں صادقین صاحب فراش تھے۔ ایک جمعدارنی انہیں بہت اچھی لگتی تھی۔ وہ جمعدارنی گائنی وارڈ میں ملازم تھی مگر امیر آدمیوں کی جو بیگمات پرائیویٹ وارڈ میں زچگی کے لیے آتی تھیں۔ وہ بھی کم بخت ان کے ارد گرد ہی منڈلاتی رہتی تھی۔ صادقین بھی وہاں زیر علاج تھے اور وہ اس کی تصاویر بناتے رہتے اور پھر اپنے فن پارے یوں ہی اسے دے دیا کرتے تھے۔ یہ بات ہمیں جناح ہسپتال کی ایک بہت اعلی مرتبت ڈاکٹر صاحبہ نے جو ہماری سسرالی عزیزہ ہیں۔ انہوں نے بتائی۔ جمعدارنی سے یہ تصاویر ایک صاحب نے ہزار روپے فی شاہکار خریدی اور اب یہ وہ لندن لے گئے ہیں اور اسے بیچ بیچ کر ٹھاٹھ سے گزارا کرتے ہیں اسی طرح ایک 1965 batch کے سی ایس پی کراچی کے بہاری افسر صادقین کو بہانے بہانے سے گھر لے آتے تھے اور شراب پلا پلا کر ان کے شہ پارے ہتھیا لیتے تھے۔ ان کا اور ہمارا سرکاری ڈرائیور ایک وقفے سے ایک ہی تھا۔ اس کے پاس ان پرانے پیران تسمہ پا اور وہیل مچھلی کھا کر ڈکار نہ لینے والے سی ایس پی افسران کے بہت سے نجی قصے تھے۔

مشہور صحافی فرنٹیئر پوسٹ کے چیف ایڈیٹر ظفر صمدانی جن کی نورجہاں سے بہت دوستی تھی وہ ڈاکٹر ظفر الطاف صاحب کی محفل میں بیٹھ کر اکثر بتاتے تھے کہ فیض صاحب نورجہاں پر قدرے فریفتہ تھے مگر دھیمے شائستہ مزاج کے آدمی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ فیض محض گفتار کے غازی ہیں۔ اسی طرح احمد فراز کو بھی لاہور کی ایک گلوکارہ جو بعد میں ایک چیف منسٹر غلام مصطفے کھر اور ایک سابق وزیر اعظم کی نگاہوں کا نگینہ بھی بنی۔ بہت اچھی لگتی تھی۔ ان کی وہ غزل کہ
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے
اسی دلفریب خاتون کی چاہت بھری رفاقت میں لکھی اور گائی گئی ہے۔
پاکستان بہت سنسر زدہ معاشرہ ہے۔ آملیٹ کھانے سے پہلے مرغی کا نکاح نامہ طلب کیا جاتا ہے۔ یہاں نانی کے افیئر کا نواسی سے سوال ہوتا ہے۔ یہاں طوائفیں بھی ماں باپ کی عزت کا خیال کرتی ہیں اور بدنام ہونے سے ڈرتی ہیں۔ افسوس اسی وجہ بے شمار سخن ہائے گفتنی خوف فساد خلق سے ناگفتہ ہی رہ جاتے ہیں۔

آئیے ایم ایف حسین اور مادھوری کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ مادھوری اب 57 برس سے اوپر کی ہیں، ایم ایف حسین بھی دنیا میں نہیں رہے اور ہم تو خود بھی پیدائش سے مرنے کے بعد کیا ہو گا کے خوف سے برگ خفیف کی طرح لرزتے رہتے ہیں۔ مرے کو مارے شاہ مدار اوپر سے ڈاکٹر ذاکر نائیک نے پاکستان آن کر عورتوں سے ملاقات کا جو پروٹوکول وضاحت سے بیان کیا ہے اس کے حساب تو مملکت کے ظاہر اور خفیہ مردوں میں صرف مہک ملک واحد ایسی ہستی ہے جو عورتوں سے ملاقات کے وقت اس پروٹوکول کا خیال کرتی ہے
ورنہ ہر کس و ناکس میں یہ ضبط و اجتناب کہاں کہ ان سے ہات ملانے کی بجائے ان کے سر پر دست شفقت رکھ دے۔ ایک خاتون اینکر نبیہ کو یہ گمانِ پاکیزہ ہے کہ باجی مہک ملک کے جسد مبارکہ میں شاید کسی مرد ِ صالح کی روح مقید ہے۔ اسی لیے شاید باجی مہک مارننگ شوز کی میزبان خاتون اینکرز کے صرف سر پر ہات پھیر کر دین کی پاسداری کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ سہ روزہ محافل شبینہ میں جس طرح لہرا کر بل کھا کر جھٹکے لٹکے سے وحشت وصال کی حدت سے سلگتے سرائیکی مردوں کو اپنے جلوۂ زنانہ سے لوٹتی ہے اس سے ڈاکٹر صاحب بھلے سے نابلد ہوں مگر مصنوعی بال والے مرشد جو ہر اک شوخ کا انداز نظر جانتے ہیں کیوں کہ ان کی اک عمر گزری ہے صنم خانے میں وہ اس کھلے تضاد سے، کماحقہ آگاہ ہیں۔

مقبول فدا حسین یعنی ایم ایف حسین المعروف بہ مادھوری کا فین حسین 1915 میں مدھیا پردیش کی بستی پندھار پور میں پیدا ہوئے۔ گھرانا مذہباً سلیمانی بوہری تھا جو داؤدی بوہریوں سے جدا ایک چھوٹا سا فرقہ ہے۔ مادری زبان گجراتی تھی۔ مصوری کا شوق مدرسے میں پروان چڑھا۔ وہاں حضرت پڑھتے پڑھاتے نہیں تھے بلکہ خطاطی کرتے تھے۔ ممبئی آئے تو ممبئی کے آرٹ اسکول میں طالب علمی کے دوران ہی فلموں کی ایسی چس پڑی کہ حضرت فلموں کے پوسٹر بنانے لگ گئے تھے۔ اس سے پڑھائی کا اور رہن سہن کا خرچہ نکل آتا تھا۔
سن 1994 میں جب ان کی نگاہ مادھوری ڈکشٹ پر پڑی تو آپ خیر سے ایک سال کم اسی برس کے اور بی بی مادھوری کل 27 برس کی تھیں۔ یہ کوئی پارٹی سین نہ تھا۔ ایم ایف حسین سے کسی نے تعریف کی تو وہ احمد آباد گجرات میں فلم ”ہم آپ کے ہیں کون؟“ دیکھنے چلے گئے۔ وہاں کیا ہوا یہ ان کے الفاظ میں سنیئے
Cinematically Hum Aapke Hain Koun..! was no great shakes but she was wow. I was literally dancing in the aisles. Every evening in every town in every part of the world, I saw the film repeatedly
(سینما کے حساب سے ہم آپ کے ہیں کون کوئی دھماکہ فلم نہ تھی۔ لیکن وہ (مادھوری) تو اللہ کی پناہ۔ میں تو گویا راہداریوں میں ہی ناچ رہا تھا۔ اس کے بعد یوں ہوا کہ جس شہر میں، دنیا کے جس کونے میں یہ فلم دیکھنے کو ملی میں نے موقع ضائع نہیں کیا) ۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق عالی مقام نے یہ فلم لگ بھگ نوے دفعہ دیکھی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ حضرت نے یہ فلم پہلی دفعہ مکمل نہ دیکھی تھی لیکن پھر جوانی کے کچھ ٹھرکی دوست مل گئے اور حضرت کو اگلے دن دوبارہ فلم دیکھنے گھسیٹ کر لے گئے۔ فلم ادھوری چھوڑ کر آنے کی وجہ سے وہ پہلی دفعہ میں ”دیدی تیرا دیور دیوانہ“ والے گانے پر مادھوری کا ڈانس دیکھے بغیر ہی اٹھ آئے تھے جس میں وسیم اکرم، وقار یونس کی ریورس سوئنگ کو دھول چٹاتی، کولہے مٹکاتی، نیلے کھڑکی والے بلاؤز میں ملبوس مادھوری ڈکشٹ پانچ قدم پیچھے آتی ہے۔ چاند پر قدم رکھنے والے نیل آرم اسٹرانگ نے کہا تھا چاند پر انسان کا یہ ننھا سا قدم دنیائے انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا سفر ہے ”۔ سو مادھوری کے پانچ الٹے قدم ایم ایف حسین کے جادۂ عشق کے لیے منزل حسن و ناز کی جانب ایک بہت بڑا سفر ثابت ہوئے اور اس کے بعد تو گویا ایک دروازۂ خاور کھلا۔ تبو، ودیا بالن، ارمیلا ماتوندکر، امرتا راؤ اور پھر انوشکا شرما جن کے در ناز پر ایک زمانہ جھکتا تھا ان کے آستانۂ عالیہ پر بڑی دور سے چل کے آتی تھیں.
اس ایک دور افتادہ تعلق دید سے دنیائے فن میں ایک تاریخ رقم ہو گئی۔ ایم ایف حسین ہمہ وقت برہنہ پا رہتے تھے اور ایک بڑا سا برش ان کے ہاتھ میں ہر وقت رہتا تھا۔ کوئی منظر یا پیکر اچھا لگتا تو جس طرح جعلی عامل دھونی دیتے ہیں یا مورچھل کسی خوبصورت خاتون کے کاندھے پر دیر تک ہاتھ رکھ کر جھلتے رہتے ہیں وہ بھی اس برش کو فضا میں لہراتے رہتے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مصوری کی یہ ایک لازمی مشق ہے کہ کلائی کو موقلم کے ساتھ مخصوص زاویوں پر گھومنے کی عادت پڑ جائے۔ فلم کے اختتام پر انہوں نے اعتراف پسندیدگی کے طور پر اسکرین کی جانب اچھال دیا جو اگلے دن مینجر ان کے گھر لے کر پہنچ گیا کہ سرکار اس برش کی زینت، مادھوری کی گود ہے نہ کہ ہمارے سینما کا آلودہ فرش۔

پربھو نے ایک دن کرپا کی اور یوں ہوا کہ مادھوری نے انہیں ایک دن خود ہی اپنے ہاں جوہو والے اپارٹمنٹ پر چائے کے لیے بلایا اور گفتگو کے سلسلے سوز نہاں تک ایسے دراز ہوئے کہ اگلے دن ناشتے کے بعد ہی حضرت کو رخصت ہونے کے اجازت مل پائی۔
برش پیش کیا تو کہنے لگی کہ ’اس برش کی وجہ سے میں بھی پینٹر بن گئی تو؟‘ حضرت کہنے لگے ’تو پھر آپ دنیا کی سب سے حسین پینٹر ہوں گی‘۔ کچھ دن بعد دونوں اتفاقاً اپنے اپنے پروگراموں کے سلسلے میں۔ نیویارک میں تھے۔ ماہ ستمبر تھا۔ موسم سرما کا آغاز تھا، مادھوری کو علم ہوا کہ عالی مقام کی سالگرہ ہے۔ بیسویں بائیسویں نہیں اسی برس والی سالگرہ ایسا سال جب کم بخت نوکر بھی وقت پر چائے لا کر نہیں دیتا۔ مادھوری نیویارک کے ٹھنڈے فرش پر ان کے پسندیدہ گانے دیدی تیرا میں پہنا گیا کھڑکی والا بلاؤز، نیلی ساڑھی پہن کر کیک لے کر آئی۔
ایم ایف حسین نے ایک فلم گج گامنی بھی بنائی۔ جس کو کامیابی نہ مل پائی۔ دونوں کے اشتراک سے ایک تجارتی کمپنی Madhuri۔ McBull Creations بھی وجود میں آئی۔ کچھ حاسد لوگ جو ہم گجراتیوں کی ہر بات میں دو پیسے کا فائدہ ڈھونڈتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایم ایف حسین نے مادھوری کی جو پینٹنگز بطور مانیکا، بطور رادھا بنائیں وہ کاروبار کا چکر تھا مگر حسین کی ایک پینٹنگ جی ہاں صرف ایک پینٹنگ The Sprinkling Horses بارہ لاکھ ڈالر کی فروخت ہوئی تھی اور جو تیرہ تصاویر اس نمائش میں رکھی گئیں تھیں وہ بیالیس لاکھ ڈالر کی تھیں۔ یہ مادھوری سے پہلے کی پینٹنگز ہیں۔ مادھوری کی کسی کمپنی سے حسین کو کوئی دولت نہ ملی مگر دونوں کے تعلقات خود ان کے بیانیے کے مطابق ڈرامہ نویس آرتھر ملر اور اداکارہ مارلن منرو والے تھے گو آرتھر ملر مارلن کے شوہر تھے۔ حسین کو مشہور ٹینس اسٹار کرس ایورٹ جو گبریلا سباٹینی اور مارٹینا ہنگز کی مانند حسین تھی۔ اس کرس ایورٹ کی رفاقت بھی میسر رہی اور اس کے علاوہ پانچ اور اداکارائیں ایسی تھیں جن سے ایم ایف حسین کے مراسم تھے جگر تھام کر نام سن لیں ارمیلا ماتوندکر، تبو، ودیا بالن، امرتا راؤ اور انوشکا شرما۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ایم ایف حسین کا پینٹنگز سے ہونے والی آمدنی کا تخمینہ فوبز میگزین کے مطابق سات سو کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے۔ ، جس میں کسی بھی ایشائی فنکار کی فروخت ہونے والی سب سے مہنگی وہ پینٹنگ بھی شامل ہے یعنی The Sprinkling Horses جو بارہ لاکھ ڈالر کی فروخت ہوئی۔








واہ ۔۔۔۔ یادوں کے کیا پٹارے کھولے ہیں۔
مقبول فدا حسین کی سب سے مہنگی پینٹنگ 25 لاکھ ڈالر کی ان کے مرنے کے بعد کرونا کے دور میں بکی تھی۔ لیکن وہ گھوڑے والی نہیں تھی بلکہ "آوازیں” تھی۔ یعنی Voices
ایم ایف کا بیتا اویس بھی اب ایک بہت مشہور پینٹر ہے
میوز کے معاملے میں منصور قبلہ کو آپ بھول گئے اور نیوڈ پینٹنگز کے معاملے میں میں ہر بار انور مقصود کو بھول جاتے ہیں۔ اور اندازہ کریں کہ ان کی میوز کون کون رہیں ہونگی۔
مادھوری کے بارے میں ایک بڑی دلچسپ بات کا اضافہ کردوں۔ جب مادھوری نے نیا نیا فلم اور ماڈلنگ میں قدم رکھنا شروع کیا تو اس زمانے میں رفیع کشور کا خلا سریش واڈیکر بھی پورا کررہے تھے۔ وہی بھنورے نے کھلایا پھول پھول کو لے گیا راج کنور۔۔۔۔پریم روگ والے
مادھوری کے گھر والوں کی طرف سے رشتہ کرانے والا پنڈت مادھوری کی تصویر لے کر سریش واڈیکر کے گھر والوں کے پاس آیا۔ دونوں خاندانوں نے ایک دوسرے کو دیکھا لیکن سریش واڈیکر نے ہی رشتے سے انکار کردیا۔
چند سال بعد جب مادھوری نے ایک دو تین چار پانچ چھ سات اور چولی کے پیچھے کیا میں غضب ڈھائے تو سریش جی کو احساس ہوا کہ ان کے انترے میں کیا گڑبڑ ہوگئی ہے۔