برکس پالیسی


برکس اجلاس سے صدر پیوٹن تو یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ روس یوکرائن جنگ کی وجہ سے عائد معاشی پابندیوں سے لے کر انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ تک کی صورت میں دباؤ ڈالنے کے حربے ناکام ہو گئے ہیں۔ اور روس عالمی تنہائی کا شکار نہیں بلکہ بدستور عالمی سیاست میں اپنی چالیں چلنے میں جتا ہوا ہے۔ مگر اس سب سے ہٹ کر اس بات کی بہت اہمیت ہے کہ انڈیا برکس سے کیا حاصل کرنے کی جستجو میں ہے۔

اس کو سمجھنے کے لئے برکس کے قیام سے لے کر اب تک اس کی سوچ اور اہداف پر نظر ڈالنی ہوگی۔ برکس کے قیام کے وقت اس کے حوالے سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھی کہ یہ ایک مغرب مخالف اتحاد قائم کیا گیا ہے مگر یہ صرف ایک تصور ہی تھا کیوں کہ اس صدی کے پہلے عشرے تک یہ واضح ہو چکا تھا کہ انڈیا کا ایک واضح جھکاؤ مغرب یا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب ہے۔ اس لئے اس کا امکان تو ابتدا میں ہی ختم ہو گیا تھا۔ پھر جب جنوبی افریقہ کو بھی اس تنظیم میں شامل کر لیا گیا تو محسوس ہوا کہ اس کے اہداف بڑھتے جا رہے ہیں مگر جنوبی افریقہ کی شمولیت کے کوئی تیرہ برس تک اس تنظیم میں مزید ممالک کو شامل نہیں کیا گیا مگر رواں برس ایران، مصر، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات کو اس کی رکنیت دے دی گئی اور پھر یہ بحث چل نکلی کہ برکس اب اپنے آپ کو فعال حیثیت سے مغرب یا امریکہ مخالف اتحاد کی صورت میں سامنے لا رہا ہے حالاں کہ یہ خیال بھی غلط ہے۔

روس میں منعقدہ برکس کے حالیہ اجلاس کو کریملن نے بجا طور پر روس میں سب سے بڑی سفارتی تقریب قرار دیا ہے۔ برکس کے نو رکن ممالک میں سے آٹھ کے سربراہان نے اس اجلاس میں شرکت کی اور برازیل کے صدر نے بھی ویڈیو لنک پر صرف اس وجہ سے شرکت کی کہ ان کو کچھ عرصہ قبل ہی سر میں چوٹ لگی تھی اور وہ سفر نہیں کر سکتے تھے۔ رکن ممالک کے رہنماؤں کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو، ترک صدر اردگان، فلسطینی صدر محمود عبّاس، بیلا روس کے صدر الیکسندر سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کیں۔

برکس تنظیم کو مغرب مخالف قرار دینے کی بجائے مغربی ممالک کے بغیر تنظیم قرار دیا جائے تو درست ہو گا کیوں کہ ایران اب اس میں واحد ملک ہے جس کے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک سے تعلقات خراب ہے۔ ورنہ دیگر ممالک کے تعلقات میں ایک اتار چڑھاؤ کی کیفیت ہیں خاص طور پر چین اور روس کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے۔ جبکہ دیگر ممالک کے تعلقات مغرب سے ٹھیک ہیں۔ برکس کے اس اجلاس سے ایک تجویز سامنے آئی ہے کہ امریکی ڈالر پر انحصار ختم کیا جائے مگر اس کے متبادل کے طور پر کس ملک کی کرنسی پر برکس ممالک متفق ہوں گے اس سوال کا جواب موجود نہیں ہے ویسے بھی اکثر ممالک کی معیشت ڈالر سے جڑی ہوئی ہیں اور وہ ایسا خطرہ مول نہیں لے سکتے ہیں، اگر چینی کرنسی کو متبادل کے طور پر پیش کیا جائے تو کیا انڈیا اس پر راضی ہو گا؟

جواب نفی میں ہے۔ اس لئے فی الحال اس تجویز کی حیثیت سوائے نعرے کے اور کچھ نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کے مقابلے میں برکس کی جانب سے تنظیم کے قیام کی تجویز پر غور کرنے کے لئے اس ماہ کے شروع میں روس میں وزرائے خزانہ کا اجلاس منعقد کیا گیا مگر اس میں اکثر وزرائے خزانہ نے شرکت نہیں کیں بلکہ مرکزی بینکوں کے صدور تک نہیں آئے، جونیئر ٹیم کو بھیج دیا گیا۔ اس سے واضح محسوس ہوتا ہے کہ ایسا کوئی اقدام ابھی بہت دور ہے۔

انڈیا کی برکس پالیسی کے دو اہداف ہیں۔ ایک تو انڈیا یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ برکس کے پلیٹ فارم سے روس سے اپنے دیرینہ مراسم کو برقرار رکھے اور امریکہ کی قربت کی خواہش اور کوشش اس کو روس سے دور نہ کردے، وہ برکس کے ذریعے ہی چین سے تناؤ کو حد میں رکھنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔ جب دو ہزار بیس میں گلوان میں چین اور انڈیا کی فوج جھڑپ پڑی تھی تو انڈیا نے چین پر دباؤ ڈالنے کے لئے چینی اشیا پر بھاری کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی تھی مگر اب انڈیا میں شور مچ رہا ہے کہ اس پالیسی کا انڈیا کو ہی نقصان ہوا اور اسی وجہ سے انڈیا نے سر توڑ کوشش کی کہ مودی کے برکس اجلاس میں شرکت سے قبل چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر کوئی پیش رفت ہو جائے جو کہ ہو گئی تا کہ مودی کے پاس سیاسی و سفارتی سطح پر صدر شی سے ملاقات کا جواز پیدا ہو، صدر پیوٹن نے اس ملاقات کے انعقاد کے لئے بہت کوشش کی تا کہ یہ تاثر قائم ہو کہ روس بین الاقوامی تنازعات میں کردار ادا کر رہا ہے۔

برکس کے مقاصد بھی جو اس اعلامیہ میں بیان کیے گئے وہ انڈین مفادات اور اس کی خارجہ پالیسی کے قریب ہی ہے۔ گلوبل ساؤتھ کے تعلقات کا معاملہ ہو یا اقوام متحدہ میں اصلاحات کا مطالبہ سب انڈین پالیسی کا حصہ ہے کیوں کہ انڈیا کی بہت بڑی خواہش ہے کہ اس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت حاصل ہو جائے۔ روس کے حوالے سے انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کا یہ بیان بہت معنی خیز ہے کہ بڑی طاقتوں میں روس واحد ملک ہے جس نے کبھی انڈیا کے خلاف اقدام نہیں کیا ہے۔

پھر انہوں نے چند ماہ قبل ایک یورپی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا اب وہ ہی موقف اختیار کرے گا جو اس کے عوام کے مفاد میں ہو گا، وہ واضح طور پر کہہ رہے تھے کہ اب انڈیا یورپی ممالک کو مد نظر رکھ کر پالیسی تشکیل نہیں دے گا۔ اس سب سے انڈیا امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ انڈیا کی عالمی پوزیشن مستحکم ہو چکی ہے اور اس کے پاس اور راستے بھی موجود ہیں تو انڈیا کو اس کی حیثیت کے مطابق اہمیت دی جائے۔

یہاں انڈیا کو چیلنج یہ نہیں ہے کہ دونوں کے درمیان تعلقات کیسے مینیج کرے بلکہ ہدف یہ ہے کہ ایک دوسرے کو دکھا کر مفادات کا حصول ممکن بنایا جائے، اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو رہا ہے۔ جرمن چانسلر سیونتھ انٹر گورنمنٹل کنسلٹیشنز کے لئے انڈیا میں اس وقت موجود تھے جب کچھ دن قبل جرمنی نے ”فوکس آن انڈیا“ اسٹریٹجی پیپر جاری کیا تھا کہ جس کا آغاز اس سرخی سے ہو رہا ہے کہ ”انڈیا اے ڈیموکریٹک پارٹنر آف جرمنی فار سٹیبلٹی اینڈ سیکورٹی“ اور اسپین کے وزیر اعظم انڈیا میں ٹاٹا کمپلیکس میں سی 295 فوجی ٹرانسپورٹ طیارے کے کارخانے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ گزشتہ رات ترکی کے قومی دن کی تقریب میں شرکت کی۔ لاہور میں متعین پاکستان سے محبت کرنے والے ترک قونصل جنرل دل کے عارضے کے سبب سے ترکی میں زیر علاج ہے۔ دعا گو ہے کہ اس پاکستان دوست کو جلد شفایابی نصیب ہو۔ آمین۔

Facebook Comments HS