سعودیہ / چین میں ہائیڈروجن پلانٹ اور پاکستان میں آئل ریفائنریاں؟ (آخری حصہ)
آج سے ڈیڑھ دو سو سال پہلے انسان نے جو صنعتی ترقی شروع کی۔ اس دوران کارخانے لگے، نت نئے کیمیائی اجزاء بنائے گئے۔ چمنیوں سے دھواں اڑا۔ شرح اموات کم ہوتی گئی اور آبادی بڑھنے سے کسان پر زیادہ فصل اگانے کے لئے دباؤ بڑھا۔ جس کے نتیجے میں نت نئی کیمیائی کھاد اور جراثیم کش ادویات بازار میں آتی گئیں۔ 1970 کے آس پاس سائنس دانوں کو پہلی بار علم ہوا کہ ٹھنڈک پیدا کرنے والی مشینوں میں بکثرت استعمال ہونے والی فریان گیس فضا میں جاکر زمین کے گرد موجود اوزون کے حفاظتی غلاف کو تباہ کر رہی ہے۔ اور نمک کا تیزاب بنا کر سمندر میں پانی کی سطح اور تیزابیت میں اضافہ کر رہی ہیں۔ سائنس دانوں کو اس مسئلہ کا حل نکالنے میں دو دہائیاں لگ گئیں۔ اور یوں ایسی گیسیں اب ڈیپ فریزر، ائر کنڈیشنر اور فرج میں استعمال ہونے لگیں جن میں کلورین بہت کم اور فلورین زیادہ استعمال ہو رہی تھی۔
”وائی ٹو کے“ کا شور جنوری 2000 میں تھما تو سائنس دانوں نے جانا کہ متعدد گیسیں جو زمین سے فضا میں جا رہی ہیں وہ وہاں جاکر ختم نہیں ہو جاتیں بلکہ دن بھر میں سورج کی شعاعوں سے دھوپ کو جذب کرتی ہیں (یوں زمین پر دن میں کم دھوپ کی تپش آتی ہے ) ۔ بعد میں رات کو یہی گیسیں زمین ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے دن بھر میں ذخیرہ کی گئی گرمی کو زمین کی طرف منتقل کر رہی ہیں۔ ان گیسوں کو ”گرین ہاؤس گیسیں“ کہا گیا۔ اور یہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے نقصان دہ اصطلاح ہے۔
ان نقصان دہ گیسوں کی وجہ سے نہ صرف گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھ گئی بلکہ سمندر کے پانی کی سطح اور درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے جو آبی حیات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
ان نقصان دہ گرین ہاؤس گیسوں میں سب سے بڑا حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ہے۔ ساتھ میتھین یعنی قدرتی گیس۔ نائٹرس آکسائیڈ (جو مصنوعی کھاد کی پیداوار ہے ) ۔ ٹھنڈک پیدا کرنے والی مشینوں میں استعمال ہونے والی ”ایف گیسیں“ ۔
زمین کے بڑھتے درجہ حرارت کو گلوبل وارمنگ کا نام دیا گیا اور زمین کو بچانے کے لئے دنیا بھر کے ممالک نے 2010 سے متعدد ہنگامی اقدامات لئے۔ جن کا لب لباب یہ ہے کہ ہم 2030 تک ایسے تمام کام جن سے کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہو، میں کمی لائیں گے، تاکہ ( 2010 کے مقابلے میں 2030 میں یہ مقدار نصف رہ جائے ) ۔ متعدد یورپی ممالک اور امریکہ نے اپنے لئے 2050 کو زیرو کاربن کنٹری بطور ہدف مقرر کیا ہوا ہے۔ چین 2060 اور انڈیا 2070 کو ہدف مانتا ہے۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو کم ترین کرنے کے لئے پہلا قدم یہ اٹھایا گیا کہ ہر وہ کام جس میں کوئلہ، پٹرول / ڈیزل یا قدرتی گیس کی ضرورت ہو۔ اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی گئی۔
بجلی، فرنیس آئل سے بنانے کی بجائے سولر، ونڈ ٹربائن اور نیوکلیئر سے بنائی جانے لگی۔
مصنوعی کھاد کے اہم جز، امونیا گیس کی تیاری میں بڑی مقدار میں قدرتی گیس استعمال اور کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی تھی۔ اس کی بجائے اب سولر اور ونڈ ٹربائن جب اضافی بجلی بنا رہے ہوتے ہیں تو اس بجلی کو پانی کے الیکٹرولائسس کے لئے استعمال کر کے ہائیڈروجن کو حاصل کیا گیا جو ہوا سے نائٹروجن لے کر امونیا گیس بنانے میں اب استعمال ہو رہی ہے۔ اس طریقے میں نہ تو قدرتی گیس استعمال ہوتی ہے اور نہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوتا ہے۔ اس امونیا کو ماحول دوست یا گرین امونیا کہا جاتا ہے۔
گاڑیوں میں پٹرول / ڈیزل کی پابندی کا حل الیکٹرک وہیکل سے نکالا گیا۔ جس کے اپنے مسائل تھے۔ اس دوران امونیا اور ہائیڈروجن دو ایسی گیسیں سامنے آئیں جو قدرتی گیس سے بھی زیادہ توانائی رکھتی تھیں۔

آج متعدد ممالک جن میں چین اور جاپان سرفہرست ہیں۔ وہاں ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیاں اور ان کے فیول اسٹیشن عام ہیں۔ پاکستان کے پڑوس میں انڈیا میں بھی ہائیڈروجن اسٹیشن عام ہو رہے ہیں جہاں 300 انڈین روپے فی کلوگرام کے حساب سے ہائیڈروجن دستیاب ہے۔ یاد رہے ہائیڈروجن کا ایک کلوگرام اتنی ہی توانائی رکھتا ہے جتنی ایک گیلن پٹرول میں ہوتی ہے۔
ہائیڈروجن سے گاڑی چلانے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ کسی بھی الیکٹرک وہیکل یعنی ”ای وی“ میں ہائیڈروجن کا سلنڈر لگایا جائے اور ایک کٹ لگائی جائے (جیسے سی این جی میں ہوتا تھا) ۔ کٹ کو ہائیڈروجن فیول سیل کہتے ہیں جو ہائیڈروجن گیس کو ”ڈی سی“ بجلی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ ڈی سی بجلی بعد میں الیکٹرک وہیکل چلانے (اور بیٹری کو چارج) کرنے کے کام آتی ہے۔
ہائیڈروجن گاڑیوں کے لئے اچھے فیول سیل ”یعنی ہائیڈروجن کٹ“ ابھی بھی مہنگے ہیں۔ اس لئے پاکستانیوں کے لئے ”سستے اور محفوظ“ فیول سیل کی دِلّی ابھی بہت دور ہے! سستے بھی موجود ہیں لیکن محفوظ ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں عام لوگوں کے لئے فی الوقت ہائیڈروجن بھی برائے فروخت نہیں ہے۔ ہائیڈروجن اسٹیشن اگر پاکستان میں لگا بھی تو اس کی لاگت تیس چالیس کروڑ سے کم نہیں آئے گی اور ظاہر ہے ابھی ڈیمانڈ بھی نہیں اس لئے بھول جائیں۔
یاد رہے الیکٹرک گاڑیوں میں سب سے زیادہ قیمت اور وزن بیٹریوں کا ہوتا ہے اور یوں اگر بیٹریوں سے نجات حاصل کرلی جائے تو نہ صرف گاڑیاں انتہائی سستی ہوجائیں گی بلکہ کم توانائی میں زیادہ فاصلہ طے کرسکیں گی۔ ایک دل چسپ بات کہ آج کل ہائیڈروجن کو ذخیرہ کرنے والے تین فٹ کے (محض چند کلو گرام وزنی) سلنڈر بھی مارکیٹ میں آچکے ہیں جن میں ایک آدھ کلوگرام ہائیڈروجن گیس موجود ہوتی ہے۔ یعنی سفر کے دوران اگر گیس ختم ہو جائے تو اس کارٹریج یا سلنڈر سے ٹینک میں گیس بھریں اور دو ڈھائی سو کلومیٹر مزید سفر کر لیں۔ کھانا پکانا ہو یا گھر گرم کرنا ہو یہ ”ہائیڈروجن سیل“ ، موبائل چارجنگ کے بیٹری بنک کی طرح ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ گاڑی کے مالکان کو بھی خوف نہیں کہ وہ جہاں جا رہے ہیں وہاں ہائیڈروجن ملے گی یا نہیں۔
دوسری طرف انجن بنانے والی کمپنیوں نے شان دار ڈیزل انجن اور پٹرول انجن کے بعد براہ راست ہائیڈروجن انجن بھی بنا لئے ہیں۔ جو عام فور اسٹروک انجن کی طرح کام کرتے ہیں۔ اور براہ راست ہائیڈروجن کو ٹینک سے لیتے ہیں اور ہوا سے آکسیجن لے کر ایندھن جلاتے ہیں۔ ہائیڈروجن انجن کی سب سے بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس سے ماحول کو خراب کرنے والی کوئی گیس یعنی کاربن ڈائی یا مونو آکسائیڈ نہیں نکلتی۔ اس کا حاصل صرف ہائیڈروجن جمع آکسیجن برابر پانی ہوتا ہے۔ اور اضافی پانی کو گاڑی میں جس طرح چاہے استعمال کریں۔ (آغا وقار کو داد دینا ضرور بنتی اگر وہ ایسا انجن بناتا جو براہ راست پانی سے چلتا یا سی این جی کٹ کی طرح ہی عام پٹرول انجن کو واٹر انجن میں بدل دیتا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا) ۔
اس وقت امریکہ، جرمنی، جاپان اور کوریا کی وہ تمام کمپنیاں جو کبھی پٹرول گاڑیوں کے مشہور ماڈل کے لئے مشہور تھیں اور الیکٹرک وہیکل کی دوڑ میں ٹیسلا اور بی وائے ڈی سے پیچھے رہ گئی تھیں۔ ان سب نے بہترین ہائیڈروجن انجن والی گاڑیاں مارکیٹ کی ہوئی ہیں۔
چند سال پہلے جنوبی کوریا کی ”ہنڈائی“ کمپنی نے ہائیڈروجن سے چلنے والے پچاس بھاری ٹرک سوئٹزرلینڈ کو بیچے تھے جو چند سال میں ہی ایک ملین کلو میٹر کا فاصلہ طے کرچکے ہیں۔
یہاں ہائیڈروجن کا قصہ میں نے اس لئے چھیڑا ہے کیوں کہ یہ ہمارے سائنس کے طالب علم اور زرخیز ذہن رکھنے والے جگاڑ مستریوں کے لئے ایک شان دار موقع ہے کہ وہ سستے اور محفوظ فیول سیل بنا لیں جس سے ہائیڈروجن گاڑیاں بہ آسانی چلائی جا سکیں۔ کیوں کہ مستقبل کا ایندھن پٹرول یا ڈیزل نہیں بلکہ ہائیڈروجن ہے۔ اگر سی این جی کٹ کی طرح کوئی معقول اور سستی ہائیڈروجن کٹ بھی بنالی جائے تو موجودہ پٹرول اور ڈیزل انجن والی گاڑیوں کو بھی شاید ہائیڈروجن سے چلانا ممکن ہو جائے۔ جب کہ ہائیڈروجن ایک ایسا ایندھن ہے جسے حاصل کرنے کے لئے کسی بھی ملک کو فارن ایکسچینج یا دوسرے ملک کی شاید ضرورت نہ پڑے۔ کم از کم پاکستان یا انڈیا جیسے ممالک جہاں سمندر، تیز ہوا اور دھوپ وافر مقدار میں موجود ہیں۔

متعدد ممالک میں کھانا بھی اب ہائیڈروجن سلنڈر کے ساتھ چولہوں پر پک رہا ہے اور متعدد ممالک میں ایسی بھٹیاں (فرنیس) بھی لگ چکی ہیں جو کوئلہ، فرنیس آئل یا قدرتی گیس کی بجائے ہائیڈروجن سے توانائی حاصل کر رہی ہیں۔
ہائیڈروجن انجن آنے کے بعد مستقبل میں یہ ضرور ممکن ہے کہ گاڑی کے ساتھ اگر سولر سسٹم یا چھوٹا ونڈ ٹربائن منسلک ہو تو اس کی بجلی ہر وقت پانی کے الیکٹرولائسس پر لگی رہ سکتی ہے جس سے حاصل ہونے والی (مفت کی بجلی سے ) ہائیڈروجن کو جمع کیا جاتا رہے۔ جو بعد میں اسی گاڑی کے ہائیڈروجن انجن کو براہ راست چلا سکے گی۔
اس وقت دنیا بھر میں ایک نیا ٹرینڈ اور شروع ہو چکا ہے۔ بڑے بڑے ونڈ ٹربائن اور سولر سسٹمز کو پانی کے ذخیرے سے منسلک کر دیا جاتا ہے۔ اور کسی بھی لمحے جو (اگر) بجلی اضافی پیدا ہو رہی ہو (یعنی استعمال نہ ہو رہی ہو) اسے الیکٹرولائسس پر لگا دیا جاتا ہے (پہلے مضمون میں ایک ایسی ٹیکنالوجی کا تذکرہ تھا جسے فلائی وہیل کہتے ہیں جو اس اضافی بجلی کو ذخیرہ کر لیتا ہے ) ۔ اس الیکٹرولائسس سے صنعتی پیمانے پر ہائیڈروجن جمع ہوجاتی ہے اور بعد میں یہی ونڈ ٹربائن (یا منسلک پلانٹ) فضا سے نائٹروجن لے کر (نہ صرف بجلی بنا رہے ہیں ) بلکہ ساتھ ساتھ امونیا بھی بنا رہے ہیں جو ماحول دوست بھی ہے اور یوریا یعنی کھاد کی تیاری میں بھی استعمال ہو سکے گی۔ برسبیل تذکرہ اس وقت چین نے دنیا کا سب سے بڑا ونڈ ٹربائن مارکیٹ کیا ہے جس کی ایک پن چکی سے 25 میگا واٹ کے لگ بھگ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ مگر اس کا سب سے بڑا مسئلہ جگہ گھیرنا اور پرندوں کی اموات ہے بالخصوص رات میں (جب ٹربائن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ) ۔
سندھ میں جھمپیر (جنگ شاہی کے پاس) کے مقام پر متعدد نجی کمپنیوں نے اپنے ونڈ ٹربائن اور سولر سسٹمز کے ساتھ یہی جدید سسٹم لگائے ہیں جو اضافی توانائی سے ماحول دوست امونیا بھی پیدا کریں گے۔ یہاں لگنے والے صرف ایک پراجیکٹ سے پچاس لاکھ کاربن کریڈٹ سالانہ کا فائدہ ہو گا (یعنی اگر اس کو کاربن ٹریڈنگ سے منسلک کیا گیا ہو گا تو کئی کروڑ ڈالر بین الاقوامی کاربن کریڈٹ فنڈ سے حاصل کیے گئے ہوں گے ) ۔ سستی بجلی کے ساتھ لگ بھگ کئی ملین ٹن مفت امونیا اور ہائیڈروجن الگ ملے گی۔
دوسری طرف سرکاری سطح پر بھی اگر ہم آئی پی پیز سے جان نہیں چھڑا پا رہے تو کم از کم ان بجلی گھروں سے زبردستی بجلی بنوائی جائے ساتھ ایسے سسٹم لگا دیے جائیں جو زبردستی کی بجلی سے حرام کپیسٹی پیمنٹ دینے کی بجائے ماحول دوست ہائیڈروجن اور امونیا تیار کرتے رہیں۔ یا کسی ایسے ہی کام میں استعمال کرلی جائے کیوں کہ پیسے تو ہم نے دینے ہی ہیں (اگر) ۔
ماضی میں بجلی کے ایک عام پاور پلانٹ کی کارکردگی 30 سے 35 فی صد تک ہی ہوتی ہے۔ یعنی اتنی بجلی پیدا ہوتی ہے باقی گرمی کی شکل میں ضائع ہوجاتی ہے (آج کے جدید پلانٹ اس گرمی کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں اور یوں ان کی کارکردگی بڑھ چکی ہے ) ۔ جب کہ ہائیڈروجن کے فیول سیل کی کم از کم ایفی شینسی 55 فی صد سے شروع ہوتی ہے (اور اگر ضائع ہونے والی توانائی یا گرمی کو بدستور جمع کر لیا جائے تو یہ 80 اسی فی صد سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے ) ۔ فیول سیل کے مقابلے میں کیمیائی بیٹریاں بمشکل 25 سے 30 فی صد توانائی کو بجلی میں تبدیل کر پاتی ہیں۔

اسرائیلی سائنس دانوں نے حال ہی میں ایک طریقہ دریافت کیا ہے جس کے ذریعے بہت کم بجلی کو پانی سے گزار کر الیکٹرولائسس کیا جا سکے گا۔ شاید پچاس سے ساٹھ فی صد کارکردگی کے ساتھ۔ یعنی ایک بوتل پانی سے گاڑی واقعی اتنی ہائیڈروجن بنا لے گی کہ کئی کلو میٹر چل سکے۔ اور چلتی گاڑی سے بیٹری کو بدستور چارج بھی کرتے رہیں تو کیا بات ہے۔ لیکن فی الوقت یہ ابھی پیٹنٹ کے مرحلے میں ہے۔
اسی طرح جب ہم پرانی ٹیکنالوجی والے سولر پینل جمع کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ دنیا میں نئے سولر پینل مارکیٹ میں آنا شروع ہو گئے ہیں۔ کچھ پینلوں کے سائیڈ پر چھوٹے چھوٹے سلنڈر نصب ہیں۔ یہ پینل ہوا میں موجود نمی سے پانی چوستے ہیں اور پھر اس پانی کو دن میں پیدا ہونے والی ممکنہ اضافی بجلی سے (جو اہل خانہ کے استعمال سے بچ جاتی ہے اور اگر صارف نیٹ میٹرنگ میں استعمال نہیں کرتا) الیکٹرو لائسس سے گزارتے ہیں، یوں پینل کے ساتھ لگے سلنڈر میں ہائیڈروجن اور آکسیجن جمع ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح کچھ پینل فضاء سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لے کر سورج کی تپش اور نمی کے ملاپ سے ہائیڈروجن اور آکسیجن بھی پیدا کر رہے ہیں۔ دونوں کا حاصل نہ صرف صارف کے لئے مفت کی ہائیڈروجن اور آکسیجن ہے، جسے وہ بعد میں کسی اور کام میں لا سکتا ہے (بالخصوص رات کو بجلی بنانے میں، کھانا پکانے یا گھر کو گرم رکھنے کے لئے ) جو ایک انتہائی ماحول دوست قدم بھی ہے۔ یعنی گرین ہاؤس گیسوں کے خلاف جہاد۔
بہرحال ہر چیز کا کچھ نہ کچھ نقصان بھی ہوتا ہے۔ ہائیڈروجن کا سب سے بڑا نقصان اس کا انتہائی آتش گیر یا مہلک ہونا ہے یعنی یہ بہ آسانی آگ پکڑ لیتی ہے۔ لیکن چوں کہ ہوا سے ہلکی ہوتی ہے اس لئے ارد گرد کے ماحول میں جلد دور دور تک پھیل جاتی ہے۔ جب کہ لیک ہوتی قدرتی گیس اور ”اے سی“ کی گیس وغیرہ بھاری ہونے کی وجہ سے سطح زمین پر موجود رہتی ہیں اور دھماکہ کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ ایک زمانے میں ہائیڈروجن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا بھی مشکل تھا لیکن اب یہ قدرتی گیس کی طرح پائپ لائن کے ذریعہ بھی منتقل ہو رہی ہے اور بڑے بڑے ٹینکروں کے ذریعہ بھی۔ اس کے علاوہ متعدد ممالک میں قدرتی گیس میں ہائیدڑوجن کو مکس (ملاوٹ کرنا جسے بلینڈنگ کہا جاتا ہے ) لازم کر دیا گیا ہے۔ صرف اس بلینڈنگ کی وجہ سے کاربن ڈائی اکسائیڈ کے پیدا ہونے کی شرح میں خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے۔
بڑے پیمانے پر ہائیڈروجن کو حاصل کرنے کا فی الوقت سب سے سستا طریقہ قدرتی گیس ہی ہے (جس سے ہم جان بھی چھڑانا چاہتے ہیں اور شاید سو پچاس سال بعد موجود بھی نہ ہو) ۔
قدرتی گیس کو بہت زیادہ ٹمپریچر پر بھاپ سے گزارا جاتا ہے تو اس سے ہائیڈروجن علیحدہ ہوجاتی ہے۔ یہ طریقہ فی الوقت سب سے سستا ہے۔ اور اس سے مختلف ممالک میں ڈیڑھ سے دو ڈالر میں ایک کلو گرام ہائیڈروجن حاصل ہوجاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں بجلی کو پانی سے گزار کر ہائیڈروجن اگر حاصل کی جائے تو اس کی لاگت تین سے پانچ ڈالر تک جا سکتی ہے۔ لیکن اہم بات قیمت نہیں بلکہ خود انحصاری اور قیمتی زرمبادلہ کو بچانا ہے۔

قدرتی گیس کے علاوہ خود کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی ہائیڈروجن کے بڑے پیمانے پر حصول کا ایک اہم اور سستا ذریعہ ہے۔ ہائیڈروجن کے حصول کا تیسرا ذریعہ امونیا گیس ہے۔ جب امونیا کو زیادہ گرمی دی جائے تو اس کے مالیکیول کریک (یعنی ٹوٹ) ہو جاتے ہیں اور اس سے نائٹروجن اور ہائیڈروجن گیسیں الگ ہوجاتی ہیں۔ نائٹروجن چوں کہ نقصان دہ گرین ہاؤس گیسز میں شامل نہیں، اس لئے اس کا فضاء میں واپس چھوڑ دینے کا فی الوقت کوئی نقصان نہیں ہوتا اور یہ آگ بھی نہیں پکڑتی۔
ہمارے ذہن میں ایک سوال یہ بھی آ سکتا ہے (جو ترقی یافتہ ممالک میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ) وہ یہ ہے کہ ایک کلو ہائیڈروجن میں گاڑی کتنی دور چل سکے گی؟
اس کا جواب بھی ظاہر ہے الگ الگ ہی ہو گا۔ کہ فیول سیل کی جگاڑ رکھنے والی گاڑی کی کارکردگی یا ایفی شینسی ہائیڈروجن انجن والی گاڑی سے شاید کم ہو۔ بھاری گاڑی کے مقابلے میں چھوٹی گاڑی زیادہ دور تک جائے گی۔ اسی طرح جیسے جیسے ٹیکنالوجی بہتر ہو رہی ہے۔ ہائیڈروجن گاڑیوں کی کارکردگی بھی مزید بہتر ہوتی جا رہی ہے۔ بہرحال کمپنیوں کا دعوی یہی ہے کہ ایک درمیانی ہائیڈروجن کار، ایک کلوگرام ہائیڈروجن سے دو سے ڈھائی سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔ جو پٹرول ڈیزل کے مقابلے میں کہیں سستا ہے (تین چار سال پہلے تک یہ قیمت چار سے پانچ گنا مہنگی تھی) ۔ کیوں کہ ہمارے پڑوس انڈیا میں ہائیڈروجن اب بھی تین سو روپے فی کلو دستیاب ہے۔ یعنی ایک سے ڈیڑھ انڈین روپیہ فی کلو میٹر (حساب میں بھول چوک معاف) ۔ مسئلہ ہے مہنگے فیول سیل یا ہائیڈروجن انجن کا۔
ہائیڈروجن کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کے ایک کلوگرام میں 33 کلو واٹ آور کے مساوی توانائی موجود ہوتی ہے۔ جب کہ اتنی ہی مقدار میں اگر پٹرول یا ڈیزل ہو تو وہ اس میں صرف 12 کلو واٹ آور فی کلوگرام توانائی ہوگی۔ اسی لئے یہ بھی مانا جاتا ہے کہ ایک کلو گرام ہائیڈروجن اتنی ہی توانائی رکھتی ہے جتنی ایک گیلن پٹرول سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی امریکہ میں اگر ایک گیلن پٹرول سے کوئی گاڑی سو کلومیٹر چلتی ہے تو ایک کلو ہائیڈروجن سے بھی وہ ایک سو کلو میٹر چل سکے گی۔
کیا یہ موازنہ عجیب نہ ہو گا کہ ایک گیلن ساڑھے چار سے پانچ لٹر جگہ گھیرتا ہے اور ہائیڈروجن صرف ایک کلوگرام ہوگی (بے شک یہ وزن کا پیمانہ ہے ) اور ممکنہ طور پر کولڈ ڈرنک کی ایک بڑی بوتل کے برابر جگہ لے سکتی ہے۔ لیکن ایک کلوگرام ہائیڈروجن گیس کو ذخیرہ کرنے کے لئے بہت زیادہ دباؤ پر ذخیرہ کرنا ہوتا ہے اس لئے اور کسی عام سی بوتل یا گیس سلنڈر میں نہیں سما سکتی۔
ہائیڈروجن حاصل کرنے کے ماخذ میں قدرتی گیس، امونیا، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی سر فہرست ہیں۔ اسی لئے آج کل سائنس دانوں کو جہاں فالتو کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین یا امونیا نظر آئے فوراً اسے جمع کرنے کی سوچتے ہیں تا کہ بعد میں اس سے ہائیڈروجن پیدا کی جا سکے۔ پانی کے سلسلے میں البتہ سائنس داں سستے سے سستا اور بہتر سے بہتر طریقہ ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں جس کو استعمال کر کے کم سے کم بجلی خرچ کر کے پانی سے زیادہ سے زیادہ ہائیڈروجن نکالی جا سکے۔ جو گاڑی سے لے کر گھر کو گرم کرنے اور کھانا پکانے تک کام آ سکے گی۔
آج کل سمندر کی سطح کے نیچے، صحرا اور جہاں بس چلے سائنس داں ہائیڈروجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ یا امونیا ڈھونڈ رہے ہیں۔
2015 میں پیرس معاہدے میں تمام ممالک نے اپنے اپنے لئے زیرو کاربن کے لئے ٹارگٹ متعین کیا کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اگر اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو آنے والی نسلوں کے لئے کچھ نہیں بچے گا۔ جو کچھ اچھا آج سے شروع کیا جائے گا یا نقصان پہچانے والی چیزوں کا کم سے کم استعمال کیا جائے گا اتنا ہی بہتر ہو گا۔ جیسا کہ میں نے پہلے لکھا کہ امریکہ اور متعدد یورپی ممالک نے اپنے لئے زیرو کاربن کا سال 2050 رکھا ہے۔ چین کے لئے یہ 2060 ہے جب کہ انڈیا کے لئے شاید 2070۔ جب کہ 2050 والے متعدد ممالک نے تو ابھی سے پٹرول اور ڈیزل کی نئی گاڑیوں کی پیداوار اور خرید بند کردی ہے۔ یہ ممالک بجلی زیادہ تر نیوکلیائی، ہائیڈروجن، سولر اور ونڈ ٹربائن سے پیدا کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں اس وقت ونڈ ٹربائن میں بہت ریسرچ ہو رہی ہے۔ اور اب ایک ڈیڑھ میٹر قامت رکھنے والے ایسے ٹربائن بھی مارکیٹ میں آچکے ہیں جو 24 گھنٹے یعنی دن رات معمولی ہوا کی موجودگی میں اتنی بجلی پیدا کر دیتے ہیں کہ ایک گھر یا دفتر کی ضرورت پوری ہو سکے۔ اسی طرح دنیا اب مائیکرو نیوکلیئر پلانٹ کی طرف بھی چلی گئی ہے جو سائز میں ایک بڑے جنریٹر جتنے ہیں اور ایک پورے دفتر، عمارت یا محلے کی ضرورت کو کئی سالوں تک پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے متعدد جگاڑ مستریوں نے الیکٹرک موٹر سائیکل کی ڈی سی موٹر کو فائبر کے مختلف ڈیزائن کے ساتھ لگا کر ایسے مقامی ٹربائن بنا لئے ہیں جو تین لاکھ میں دو ہزار واٹ تک بجلی دن رات پیدا کر سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں ایک اور بہت چھوٹی ”او۔ ونڈ ٹربائن“ بھی متعارف ہوئی ہے جو بمشکل بالشت بھر کی ہے اور گھر کے اندر باہر کسی کھڑکی، بالکونی یا چھت پر نصب ہو سکتی ہے۔ اسے سفری سمجھیں کیوں کہ یہ 200 سے 250 واٹ انتہائی کم ہوا کے ساتھ بھی بجلی پیدا کر سکتی ہے۔ دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ گھر میں استعمال ہونے والا ڈی سی پنکھا (جو محض 30 واٹ پر چلتا ہے ) اسی سے بجلی لے کر اتنی ہوا پیدا کر سکتا ہے کہ دس ”او۔ ٹربائن“ کمرے ہی میں لگا کر گھر کی ضرورت کی دو ہزار واٹ بجلی پیدا کر لیں۔ ان کی خاص بات ان کے بلیڈ کی بجائے مخصوص ہیڈ ہیں جو ہر سمت سے آنے والی ہوا سے گھوم جاتے ہیں۔

دوسری طرف کوئلے سے پیدا ہونے والی نقصان دہ گرین ہاؤس گیسیں، ڈیزل، پٹرول اور گیس کے نقصان کا چوتھائی بھی نہیں ہیں۔ یعنی کوئلہ استعمال کرنے والے غریب ممالک کے لئے فی الوقت ”ستے خیراں“ ہے۔ اور مستقبل میں اگر ان کی چمنیوں میں پانی کے ساتھ کوئی آلہ لگا دیا گیا تو ان کے مضر اثرات پر مزید قابو بھی پایا جا سکے گا۔
عرب ممالک بھی اس معاملے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ ان کے علم میں ہے کہ تیل اور گیس کی عیاشی زیادہ عرصے تک نہیں چل پائے گی۔ ایک تو اس وجہ سے کہ یہ ذخائر ختم ہوجائیں گے اور دوسرے اس وجہ سے کہ 2050 کے بعد ان سے تیل اور گیس خریدنے والے صارف بھی انتہائی کم ہوجائیں گے۔ اسی لئے سعودیہ میں کچھ عرصے پہلے دنیا کا سب سے بڑا ہائیڈروجن پیدا کرنے کا پلانٹ ”نیوم“ میں لگ رہا تھا۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات میں حالیہ دنوں میں ایک بہت بڑا نیوکلیر پاور پلانٹ لگا ہے۔ جو امارات کی ایک چوتھائی بجلی پیدا کرے گا۔ ہماری کیا بات۔ ہمارے مسائل کچھ اور ہی ہیں۔ پیرس اور مانٹریال معاہدے پر دستخط تو ہم نے بھی کیے ہیں لیکن 2010 میں ہمارے صدر محترم وہی تھے جن کا فرمانا تھا کہ معاہدے کوئی قرآن اور حدیث نہیں جن پر لازماً عمل کیا جائے۔ تو اب انتظار کریں! ہمارے ہڑبڑا کر اٹھنے کا۔
ایک لمحے کو یہ بھی سوچ لیں کہ جب ساری دنیا پٹرول اور ڈیزل سے جان چھڑانے کا سوچ رہی ہے عرب ممالک اور چین پاکستان میں آئل ریفائنری لگانے میں کیوں دل چسپی رکھتے ہیں؟
شاید 2050 والا ہدف ہم 2100 تک بھی پورا نہ کریں اور ہر سال ہاتھ جوڑ کر اور ناک رگڑ کر ترقی یافتہ ممالک سے چند سال مزید کی توسیع یا ”رول اوور“ مانگتے رہیں (ساتھ کہیں گے بس یہ آخری بار ہے ) ۔ وہی حرکت جو ہم ہر سال پرانے قرضوں کو رول اوور کر کر کے عادی ہوچکے ہیں۔ ان ممالک کے علم میں ہے کہ 2050 کے بعد جب سب تیل بنانا بند (یا کم) کر دیں گے تو ان ہیں پتہ ہے کہ ان بے شرموں کی ریفائنری اس وقت بھی ”رول اوور“ پر چل رہی ہوگی۔ اور کیا پتہ اس وقت ایک نیا ”آئی پی پی بشکل ریفائنری“ کا عذاب ہمارے لئے گھات لگائے بیٹھا ہو (یعنی بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے) ویسے بھی ہماری حکومتوں کا ریکارڈ رہا ہے کہ ہر نیا معاہدہ قومی سلامتی کے نام پر پانچ دس سال تک سامنے نہیں آتا۔ بے شک لوگ شور مچاتے رہیں۔ اور جب سامنے آتا ہے تب تک خلیل خاں کی فاختائیں اڑ چکی ہوتی ہیں۔

1954 کے بعد پاکستان امریکہ دفاعی معاہدہ جس کے نتیجے میں ہمیں اسلحہ تو ملا لیکن بڈھ بیر اور چٹاگانگ میں جاسوسی کے اڈے بھی دینے پڑے۔ ساتھ سرحدی علاقوں میں روس کی جاسوسی کے لئے ہماری فضائیہ کے جہاز امریکی خوشنودی کے لئے اڑتے رہے۔
کئی دہائیاں پہلے ایک کوٹیکنا کا معاہدہ بھی ہوا تھا۔ اس کی تفصیلات بھی ایک لمبے عرصے کے بعد سامنے آئیں۔ پھر 90 کی دہائی میں آئی پی پی کے معاہدے ہونے شروع ہوئے اس وقت بھی جاننے والوں نے شور مچایا۔ جن کو قومی سلامتی کے نام پر چپ کرا دیا گیا۔ اور آج پوری قوم آئی پی پی کے معاہدوں کو رو رہی ہے۔ رینٹل آئی پی پی اللہ کا شکر کہ ان سے وقت پر جان چھوٹ گئی۔ اسی طرح سی پیک معاہدوں کی تفصیلات بھی ایک طویل عرصے تک سامنے نہیں آئیں وجہ وہی قومی سلامتی (جب کہ زیادہ تر معاہدے نجی چینی بنکوں اور پاکستان حکومت کے درمیان ہوئے تھے ) ۔
ایران پاکستان پائپ لائن کے معاہدوں میں شامل جرمانے کی شقیں، اس نا اہلی کی ایک اور مثال ہے۔
اسی طرح 2015 میں جب بنگلہ دیش نے قطر سے ایل این جی لی اور ڈنکے کی چوٹ پر اس کی قیمت کا اعلان کیا۔ ان ہی دنوں حکومت وقت نے 15 سال کا معاہدہ کیا اور حسب عادت معاہدہ اور قیمت چھپا کر رکھی کہ اس سے ہمارے برادر ملک قطر سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں (تاثر ایسا ہی دیا گیا جیسے وہ بخشش میں مفت گیس دے رہے ہیں ) ۔ چار پانچ سال بعد البتہ جب لوگ بھول چکے تھے تو پتہ چلا کہ ہم نے بنگلہ دیش سے 15 سے 20 فی صد مہنگے ریٹ پر سودا کیا اور اسی لئے چھپایا جا رہا تھا۔
دوسری طرف پاکستانی حکومت 2021 اور 2022 میں دوبارہ قطر سے اضافی ایل این جی کا معاہدہ کرتی ہے اور یہ معاہدہ پچھلے ریٹ سے 25 سے 30 فی صد کم قیمت پر طے ہوتا ہے۔ اس لئے اب ڈر لگتا ہے کہ اللہ جانے جب ساری دنیا تیل سے جان چھڑا رہی ہے۔ ہم ریفائنریوں کا معاہدہ کس قیمت پر اور کس جرمانے یا گارنٹی کے ساتھ کریں گے؟ یہی ڈر غیر ممالک کے ساتھ ہونے والے کارپوریٹ فارمنگ کے معاہدے کا بھی ہے۔ جس کے بارے میں ابھی بھی تفصیلات موجود نہیں۔

سی پیک کے معاملات بھی ایک عرصے تک خفیہ راز رہے کہ اس سے چین پاکستان تعلقات خراب ہوجائیں گے۔
لڑکا جب کبھی لڑکی سے کہتا ہے کہ جانو چلو ہم شادی تو کرلیتے ہیں لیکن کچھ عرصے تک اس کو دنیا کے سامنے نہیں لائیں گے تو عشق میں پاگل لڑکی کو سمجھ لینا چاہیے کہ دال کتنی کالی ہے۔ یہی معاملہ ہمارے حکومتی معاہدوں کا ہے جن ہیں قومی سلامتی کے نام پر چھپایا جاتا ہے۔
بہرحال جب دنیا لگ بھگ ہائیڈروجن گاڑیوں پر منتقل ہو رہی ہے کیوں کہ خالص الیکٹرک وہیکل گاڑیوں کی ”لیتھیم آئن بیٹریاں“ بھی ماحول کے لئے نقصان دہ ہی ہیں۔ ہم اب ”ای وی“ پر واری فریفتہ ہو رہے ہیں۔
ویسے پھر یاد رہے ترقی یافتہ ممالک میں ہائیڈروجن ہر اس جگہ بطور ایندھن استعمال ہو رہی ہے جہاں ہم سوچ سکتے ہیں۔ گھر کے چولہے جلانے سے گھروں کو گرم کرنے اور بھٹیوں میں آگ جلانے سے گاڑیاں، ٹرک، بسیں اور ٹرین چلانے تک۔ رکیں میں ذرا جلدی سے کھانا گرم کرلوں کیوں کہ رات نو بجے کے بعد گھر کے چولہے میں قدرتی گیس نہیں ہوگی۔



