متوازی سنیما کیا ہے؟
متوازی سنیما کی وضاحت کرنے سے پہلے اس بات کا اعتراف یا ادِراک کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی اصطلاح کی محدود تعریف پیش کرنا آسان نہیں ہے۔ مختلف اصطلاحوں کی لوگ اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق تعریف کرتے ہیں اور کسی ایک تعریف پر سب کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ متوازی سنیما کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دراصل 1960 میں آنے والی سنیما کی ”نئی لہر“ کا ہی دوسرا نام ہے۔ کچھ اور یہ کہتے ہیں کہ 1970 کے عشرے میں جو ”آرٹ“ فلمیں بھارت میں بنیں وہ ہی متوازی سنیما ہیں۔ کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی چیز یا لکیر متوازی ہو تو اس کے متوازی دوسری چیز یا لکیر کون سی ہے۔ یعنی اگر متوازی سنیما ہے تو اس کے متوازی دوسرا سنیما کون سا ہے۔ اس دوسرے سنیما کو ہم پاپولر سنیما یا کمرشل سنیما کہہ سکتے ہیں جو تجارتی بنیادوں پر عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے بنایا جائے۔ اگر ہم اس پاپولر یا کمرشل سنیما کی کچھ خاصیتیں سمجھ لیں تو شاید ہمیں متوازی سنیما سمجھنے میں آسانی ہو۔
پاپولر یا مقبول سنیما زیادہ تر پیسہ کمانے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ چوں کہ عام لوگ تفریح پسند کرتے ہیں اور اس کے لیے پیسہ خرچ کر سکتے ہیں اس لیے پاپولر فلمیں عام لوگوں کے معیار کے مطابق بنائی جاتی ہیں جو خاصا نچلے درجے کا بھی ہو سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی دوڑ میں پاپولر فلم ساز کچھ فارمولے بھی استعمال کرتے ہیں۔ ان فارمولوں میں اچھا خاصا مسالہ بھی شامل ہوتا ہے۔ مثلاً عشقیہ تکون جس میں ایک مرد یا عورت سے بیک وقت دو عورتیں یا مرد محبت کرنے لگتے ہیں جس سے کہانی میں تناؤ پیدا ہوتا ہے اور کوئی ایک محبوب یا محبوبہ کسی المیے سے بھی گزر جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ پاپولر یا تجارتی بنیادوں پر بنائی گئی فلموں یا ڈراموں میں گھریلو سازشیں، ناآسودہ انفرادی یا اجتماعی خواہشیں، ناقابلِ یقین مار دھاڑ کے مناظر اور ایک یا زیادہ بہت بہادر سورما یا ہیرو بھی ہوسکتے ہیں جو عوام کو جذباتی طور پر بہت متاثر کرتے ہیں اور وہ جوق در جوق ایسی فلموں کے لیے قطاریں بناتے ہیں۔ ان فارمولا یا مسالہ فلموں میں ہدایت کار مختلف حربے استعمال کرتے ہیں جن سے کہانی میں مزید کشش پیدا ہو جائے۔ اچھل کود اور ناچ گانے جن میں کولہے مٹکاتی ہیروئن اور ناف دکھاتی رقاصائیں ناظرین کے شہوانی جذبات کو ابھارتی ہیں۔
پاپولر سنیما کی اور بھی خاصیتیں ہو سکتی ہیں۔ مختصر یہ کہ اس کے ذریعے عوام کو تفریح کے بھرپور مواقع فراہم کیے جاتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نیل پوسٹ مین کے الفاظ میں ”تفریح کا مزا لیتے لیتے ہم موت کے منہ میں جانے کو بھی تیار رہتے ہیں“ یا ایک طرح عوام ”فنافی التفریح“ کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔
متوازی سنیما بنیادی طور پر منافع کے لیے نہیں ہوتا گو کہ اس سے منافع بھی کمایا جاسکتا ہے۔ متوازی سنیما ایک بڑی وسیع اصطلاح ہے جس میں عالمی سنیما کی کئی تحریکیں شامل کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً گزشتہ سو برس کے دوران سوویت یونین کی حقیقت نگاری پر مبنی فلم سازی جس میں آئزن اسٹاین، کولیشوف، پودوفکن اور جیگاورتوف سے لے کر اطالوی نئی حقیقت نگاری تک اور فرانس کی نئی لہر تک متوازی سنیما کہی جا سکتی ہے کیوں کہ یہ سب بنیادی طور پر منافع کے لیے نہیں تخلیق کی گئیں تھیں۔ اسی طرح ایران کی نئی لہر یا بھارتی سوشل فلمیں جو 1950 اور 1960 کے عشروں میں بنائی گئیں اور 1970 کے عشرے کی آرٹ فلمیں جن میں سب نمایاں ہدایت کار شیام بینگل اور گووند نہلانی تھے۔ یہ سب متوازی سنیما کا حصہ کہیے جا سکتے ہیں۔
متوازی سنیما صرف منافع کمانے کے لیے عوام کو تفریحی فلمیں پیش نہیں کرتا جو پاپولر سنیما کا خاصا ہے۔ نہ ہی یہ مسالے دار کہانی اور رقص و سرود کے لیے باکس آفس پر کامیاب فلمیں بناتا ہے۔ گو کہ بھارت کا متوازی سنیما بھی کچھ رقص اور گانے استعمال کرتا رہا ہے لیکن یہ زیادہ تر فلم کے مرکزی بیانیے کو تقویت دینے کے لیے دیے جاتے ہیں۔
مثلاً متوازی سنیما کی ایک شان دار فلم ”صاحب، بی بی اور غلام“ 1960 کے عشرے میں اپنی نوعیت کی ایک سنگ میل فلم تھی جس میں کچھ اچھے گانے اور رقص شامل تھے۔ اسی طرح 1982 میں ہدایت کار گنگا ساگر تلوار جن کو عام طور پر ساگر سرحدی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جنہوں نے ایک شان دار فلم ”بازار“ بنائی جو بلاشبہ متوازی سنیما کی مثال تھی اور اس میں اچھے گانے اور غزلیں بھی تھیں۔
متوازی سنیما کی اکثر فلموں میں طبقاتی تضاد اور طبقاتی جدوجہد کو فلم بند کیا جاتا ہے۔ ایک بالا دست طبقہ نچلے اور کم زور طبقے کے لوگوں کا استحصال کرتا ہے جو متوازی سنیما میں پیش کیا جاتا ہے اس طرح طبقات پر مبنی امتیازی سلوک کا پردہ چاک کر دیا جاتا ہے۔ متوازی سنیما میں سماجی تبدیلی کا ایک عزم بھی پایا جاتا ہے اور ناظرین کو سماجی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنے کا پیغام بھی بالواسطہ یا براہ راست بھی دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اُٹھا سکیں۔
گو کہ پاپولر سنیما کی بھی کچھ فلمیں طبقاتی امتیاز کو پیش کرتی ہیں لوگوں کو اَن کے حقوق کے لیے لڑتا ہوا بھی دکھاتی ہیں مثلاً امیتابھ بچن کی فلموں میں یہی ہوتا تھا لیکن اُن میں فارمولا یا مسالہ بھی بھرا ہوتا تھا۔ اُن میں لازمی طور پر ایک محبت کی کہانی یا لو اسٹوری بھی ہوگی اور ایک بڑا بہادر ہیرو جو اپنی محبوباؤں کے ساتھ ناچ گانا بھی لازمی طور پر کرے گا اور پھر ولن کی ٹھکائی بھی لگائے گا۔ امیتابھ بچن کی ابتدائی فلموں میں 1973 میں بننے والی فلم ”سوداگر“ بھی ہے جسے متوازی سنیما کا حصہ کہا جاسکتا ہے۔ اس فلم میں ایک چالاک شوہر ایک سیدھی سادھی عورت (نوتن) کو بے وقوف بناتا ہے اور اس سے مالی فائدے حاصل کرتا ہے۔
متوازی سنیما میں سماجی نا انصافیوں کو زیادہ حقیقی طور پر پیش کیا جاتا ہے جو پاپولر سنیما میں نہیں ہوتا۔ متوازی فلموں میں وہ سنیما بھی شامل ہے جس سے ناظرین کو بہتر سماجی ادراک حاصل ہوتا ہے۔
بعض متوازی فلموں میں حقیقت نگاری کے ساتھ علامتی اظہار بھی ہوتا ہے جس سے سماجی تبدیلی واضح ہوتی ہے۔ مثلاً ستیہ جیت رے کی فلم ”جلسہ گھر“ میں ایک پرانا نواب پورے جاگیر دارنہ سماج کی علامتی عکاسی کرتا ہے جو زوال پذیر ہے مگر تبدیل ہونا نہیں چاہتا چاہے اس کی اپنی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ اسی طرح ”صاحب، بی بی اور غلام“ کا ابتدائی منظر ایک بڑی حویلی کو منہدم ہوتا دکھائی دیتا ہے جس کی جگہ پر ایک نیا کارخانہ بنے گا اس طرح علامتی طور پر جاگیر دارانہ معاشرے کو ایک صنعتی انقلاب سے گزرتا دکھایا گیا ہے۔
لیکن متوازی سنیما صرف طبقاتی استحصال کو پیش نہیں کرتا بلکہ صنفی امتیاز کا بھی پردہ چاک کرنے کی سعی کرتا ہے۔ متوازی سنیما کی اولین فلم ”اچھوت کنّیا“ 1936 سے لے کر 2023 میں بننے والی ”لاپتہ لیڈیز“ تک خواتین کے مسائل اور اُن کا استحصال متوازی سنیما کا ایک موضوع رہا ہے۔ ”اچھوت کنّیا“ جو بعد میں بمل رائے نے ”سجاتا“ کے نام سے 1960 میں بھی بنائی۔ دیویکا رانی نے اچھوت لڑکی کا کردار نبھایا ہے جیسے ذات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے مگر اس کا محبوب اشوک کمار اس کی پوری مدد کرتا ہے۔ 1960 کی فلم ”سجاتا“ میں اس لڑکی کا کردار نوتن نے ادا کیا ہے۔
مجموعی طور پر متوازی سنیما انسانی مسائل کو ایک انسان دوست انداز میں پیش کرتا ہے اور اُس میں پاپولر سنیما والی چیخ و پکار یا ہیرو اور ولن کی لڑائی شامل نہیں ہوتی۔ متوازی سینما کی زیادہ تر فلموں میں کبھی خوشی کبھی غم والا فارمولا استعمال نہیں کیا جاتا نہ ہی اس کا انجام المیہ یا طربیہ طور پر ہوتا ہے جو پاپولر فلموں کا خاصا ہے۔
مثال کے طور پر بھارتی فلموں کی تاریخ میں کامیاب ترین فلم ”شعلے“ کو یاد رکھیے جس میں عوام کا استحصال اور اُن پر تشدد دکھایا گیا ہے لیکن وہ متوازی سنیما میں شامل نہیں کی جا سکتی کیوں کہ اس میں دو غیر معمولی بہادر ہیرو امیتابھ بچن اور دھرمیندر ہیں جو دو درجن ڈاکوؤں کا مقابلہ کر کے انہیں شکست دیتے ہیں۔ اس فلم میں المیہ انجام بھی ہے جب ایک ہیرو لڑتے ہوئے اپنے دوست کی خاطر قربانی دے دیتا ہے۔
محبوب خان کی 1942 میں بننے والی فلم ”عورت“ جسے بعد میں ”مدر انڈیا“ کے نام سے 1957 میں محبوب نے ہی دوبارہ تخلیق کیا ایک ایسے ڈاکو کی موت دکھاتی ہے جسے اُس کی ماں اپنے ہاتھوں سے گولی مار کر ختم کر دیتی ہے۔ گو کہ ان فلموں میں ناچ گانے بھی ہیں ہم انہیں متوازی سنیما میں شامل کر سکتے ہیں۔ زیادہ متوازی فلموں کا انجام المیہ یا طربیہ نہیں ہوتا بلکہ کہانی کے ایک موڑ پر ختم ہوتا ہے۔ ہدایت کار رتوک گھاتک اور مرنال سین کی فلموں میں بھی زیادہ اختتام المیہ یا طربیہ نہیں ہوتے۔
تفریح یا لطیفہ کے بجائے متوازی سنیما ایک فکری پیغام لئے ہوتا ہے جس سے ناظرین میں حالات بدلنے کا حوصلہ پیدا ہو سکتا ہے جس کے لیے حالات کو سمجھنا زیادہ ضروری ہے۔ ان حالات میں معاشی نا انصافی، وسائل کی ناجائز تقسیم اور غریبوں کے لیے مواقع کی کمی وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ذات پات، مذہب، برادری، سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ہونے والا استحصال اور صنفی طور پر امتیازی سلوک کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔ ریاست اور اس کے اہل کاروں کے عوام کے ساتھ ناروا سلوک کا پردہ بھی چاک کیا جاتا ہے۔
گووند نہلانی نے 1998 میں ”ہزار چوراسی کی ماں“ وشال بھردواج نے 2014 میں ”حیدر“ بنائی۔ اسی طرح 2012 میں پرکاش جھا نے ”چکرویو“ میں بھی ریاستی استحصال دکھایا اور بربریت کو واضح کیا۔
اب آخر میں سوال یہ ہے کہ پاکستان میں متوازی سنیما کیوں نہیں ہے۔ اس کا سادہ سا جواب اظہارِ رائے پر پابندیوں میں ہے۔ متبادل یا متوازی آوازوں کے اُٹھنے کے لیے ایک ساز گار ماحول چاہیے ہوتا ہے جو صرف ایک بھرپور کام کرتی جمہوریت میں ہی ممکن ہے جس کا اطلاق سماج کے تمام شعبوں اور سطحوں پر ہونا ضروری ہے۔ ساتھ ہی ہمیں ایک آزاد اور غیر جانب دار عدلیہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام آوازیں سنی جائیں گی اور تمام متوازی سنیما کو اسکرین پر دیکھنے اور دکھانے کی آزادی ہوگی۔ پاکستان میں تو ”زندگی تماشا“ جیسی بے ضرر فلم بھی عام اور آزادانہ طور پر سنیما گھروں میں نہیں دکھائی جا سکی تھی۔


