دلدار پرویز بھٹی
دلدار پرویز بھٹی پاکستان کے ایک معروف مزاحیہ اداکار، صدا کار، پیش کار، ٹی وی میزبان اور لکھاری تھے۔ ان کا تعلق گوجرانوالا سے تھا۔ وہ 1946 میں امرتسر میں پیدا ہوئے لیکن قیام پاکستان کے بعد اپنے والدین کے ساتھ گوجرانوالا میں آ بسے۔
سارے تعلیمی مراحل گوجرانوالا اور لاہور میں ہی طے کیے۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہوا تھا۔ وہ گورنمنٹ کالج گوجرانوالا کے سابق طالب علم تھے۔ کالج میں دوران تعلیم ہی ان کے مزاحیہ انداز اور برجستگی گفتگو کے رنگ بکھرنا شروع ہو گئے تھے۔ کالج میں منعقدہ تقریبات کی نقابت و نظامت کے فرائض وہی سرانجام دیتے تھے۔ دوران نقابت اپنے مزاحیہ انداز اور چٹکلوں سے محفل کو سجاتے رہتے۔
گورنمنٹ کالج گوجرانوالا میں اسلامیات کے ایک نئے پروفیسر حافظ محمد ارشد صاحب تعینات ہوئے۔ دوسرے دن وہ جناح کیپ، شلوار قمیض اور اچکن میں ملبوس کمرہ جماعت میں آئے تو دلدار پرویز بھٹی نے ان سے مزاحیہ انداز میں پوچھا کہ سر، آپ کو حافظ صاحب کہیں، قاضی صاحب کہیں، مولوی صاحب کہیں یا استاذ صاحب کہیں؟ حافظ صاحب نے ایک لحظہ سوچا اور پھر برجستہ کہا کہ بیٹے آپ مجھے والد صاحب ہی کہہ لیں۔ حافظ صاحب کا یہ جواب سن کر دلدار پرویز بھٹی کی ساری برجستگی اور مزاح کافور ہو گیا۔ اس دن کے بعد جب بھی حافظ صاحب ادھر ادھر نظر آتے تو لڑکے دلدار پرویز بھٹی سے کہتے، تمہارے والد صاحب تشریف لا رہے ہیں۔
حصول تعلیم کے بعد گورنمنٹ کالج ساہیوال میں بطورِ لیکچرر ان کی پہلی تعیناتی ہوئی۔ ایک سال بعد دلدار بھٹی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں آ گئے۔ تعلیمی فرائض کے ساتھ انہوں نے اپنے فنی سفر کا بھی آغاز کیا۔ 1970 میں ریڈیو پاکستان لاہور کے پنجابی گفتگو اور حالات حاضرہ کے پروگرام سوہنی دھرتی سے اپنی صدا کاری کا آغاز کیا۔ پرویز بھٹی نے شروع میں ڈرامہ اداکاری اور خبریں پڑھنے کا شوق بھی پورا کیا لیکن انہیں جلدی ہی احساس ہو گیا کہ یہ ان کا دائرہ عمل نہیں ہے۔
پی ٹی وی لاہور انہی دنوں ایک پنجابی سٹیج شو نشر کرنے کا پروگرام بنا رہا تھا۔
1974 میں دلدار پرویز بھٹی کی میزبانی میں یہ عہد ساز پروگرام شروع ہوا جس نے پی ٹی وی کے پنجابی ناظرین کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ دلدار پرویز بھٹی کے اس پروگرام میں ریڈیو، ٹی وی اور فلم کے بہت سے مشہور اداکار مہمان بنے تھے۔ ٹاکرا پروگرام 1983 تک چلتا رہا۔ یادش بخیر کے نام سے ان کی میزبانی کا ایک اور پروگرام 1984 ء سے 1986 ء تک پی ٹی وی سے نشر ہوتا رہا۔ 1986 ء سے 1988 ء تک نوجوانوں کے لیے اردو میں ایک پروگرام جواں فکر کے نام سے پیش کیا۔ ان کا آخری پروگرام میلہ 1987 ء تا 1990 ء تک جاری رہا۔ پرویز بھٹی نے ٹی وی کے کئی براہ راست پروگرامز کی میزبانی کے فرائض بھی خوب سرانجام دیے۔
دلدار پرویز بھٹی ایک ادیب اور اخباری کالم نگار بھی تھے۔ قومی اردو اخبارات میں ان کے لکھے ہوئے کالم اکثر شائع ہوتے رہتے۔ انہوں نے آمنا سامنا، دلداریاں اور دلبر دلبر کے نام سے تین کتابیں بھی لکھی۔ انہوں نے اپنی پسند کے چند انگریزی شعراء کی شاعری کا اردو میں ترجمہ بھی شروع کیا تھا جو ان کی ناگہانی وفات کے باعث مکمل نہ ہوسکا۔
1994 میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے امدادی رقوم حاصل کرنے کے لیے وہ عمران خان کے ساتھ برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ کے دورے پر گئے۔ بروکلین، نیویارک میں پروگرام کرتے ہی ان کی دماغی شریان پھٹ گئی اور دماغ میں سیلان خون کے باعث ان کی وفات 30 اکتوبر 1994 کو ہوئی۔ وحدت کالونی لاہور میں ان کی آخری آرام گاہ ہے۔

