رابندر ناتھ ٹیگور: بر صغیر کا نوبل انعام یافتہ عظیم شاعر: (3)


اس وقت ڈیڑھ بجا ہے۔ ڈپارٹمنٹ سے واپس آ کر ابھی میں نے کمرے میں آ کر کتابیں اپنی منی سی میز پر رکھی ہیں کہ جب فاخرہ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ کوریڈور میں ہی کھڑے کھڑے اُس نے دروازے کا پٹ ذرا سا کھول کر اندر جھانکتے ہوئے پوچھا ہے کہ مجھے کھانے کے لئے جانا ہے کیا؟ میں نے ساڑھی بدلنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے اس کے ساتھ چلنے کو ترجیح دی ہے۔ لمبے کو ریڈور میں چلتے ہوئے اس نے بتایا ہے کہ آج ٹیگور کے بچپن پر ایک کتاب اُسے لائبریری سے ملی ہے۔ اتنی دلچسپ ہے کہ لائبریری میں بیٹھے بیٹھے اُس نے آدھی سے زیادہ پڑھ بھی لی ہے اور اُسے ایشو کروا کے لے بھی آئی ہے، کمال کی لکھی گئی ہے۔

اور جب ہم دونوں بھات ماچھ کھاتی تھیں۔ وہ بولی تھی۔ گہرا دکھ اور تاسف اس کے لہجے میں گھل گھل کر باہر نکلتا تھا۔ اب کون آج کی اندھا تعصب رکھنے والی اِس بنگالی نسل کو سمجھائے کہ وہ جو بنگالی ادب کا باپ ہے۔ جس کی عالمانہ عظمت اور شاعری کا اعتراف ایک دنیا نے کیا۔ اُسے عربی فارسی پر کتنی دسترس تھی اور وہ حافظ کا کتنا بڑا عاشق تھا؟ نہ صرف وہ بلکہ اُس کا باپ دیبندر ناتھ بھی۔ اپنی مادری زبان بنگالی کے علاوہ، انگریزی، عربی، فارسی اور سنسکرت میں غیر معمولی دسترس رکھتے تھے۔ حافظ شیرازی کے دلدادہ تھے۔ ان کی بنگالی سوانح عمری میں حافظ کے اشعار جا بجا موتیوں اور نگینوں کی طرح سجے نظر آتے تھے۔

یوں بھی ٹیگور خاندان لباس، آداب، نشست و برخواست اور بودوباش میں مسلمانوں، اُن کی تہذیب، اُن کے فنون لطیفہ سے متاثر اور بہرہ ور ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی نسبت اور تعلق رکھتا تھا۔ اِس گھرانے کی ایسی ہی وجوہات پر ہندو ان کو ”دھریوں“ اور ہندونما مسلمان سمجھتے اور کہتے تھے۔ باپ نے اپنا کمال فن بیٹے کو چھوٹی سی عمر میں ہی دینا اور اُسے مشرقی علوم میں طاق کرنے کا کام شروع کر دیا تھا۔ بلوغت تک آتے آتے اُسے اِن زبانوں پر دسترس حاصل ہو چکی تھی۔

پتلی مسور کی دال والی پلیٹ اٹھا کر فاخرہ نے منہ سے لگائی۔ دو تین گھونٹ بھرے اور دکھی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی۔ اب ذرا تقابلی جائزہ تو لو۔ تب اور اب کا۔ وہ اگر انقلاب کا زمانہ تھا تو یہ وقت کیا نئے رجحانات کو اپنے اندر سمیٹنے اور وسعتیں دینے کا نہیں؟ وہ کیا بنگالی نہیں تھے؟ تھے مگر صاحب ظرف تھے اور یہ بنگلہ کے پر ستار جو اُردو کا گلا گھونٹ دینے کے متمنی ہیں۔ Son of the Soil کے نعرے لگانا ہی بس اُن کا منتہائے مقصود رہ گیا ہے۔

شام کو پوکھر کنارے میں اُس سے ”میرا بچپن“ سن رہی تھی۔

کلکتہ قدیم

پہلی بھرپور یاد جس رُخ سے سامنے آتی ہے وہ شہر ہے کلکتہ شہر کا وہ قدیم ترین حصہ جہاں شاعر نے جنم لیا تھا۔ جہاں بس، موٹر گاڑی، ٹرام کچھ بھی نہ تھا۔ چھکڑے سارا دن گردوغبار اڑاتے اور گھوڑوں کی ننگی پیٹھوں پر کوچوان تابڑ توڑ چابکوں سے حملے کرتے تھے۔ عورتوں کا اندر باہر جانا دم گھٹا دینے والی پالکیوں میں ہوتا۔ اگر کوئی عورت اچانک غیر مرد کے سامنے آجاتی تو اس کا گھونگھٹ فوراً آدھ گز نیچے آ جاتا۔ گھر کی ڈیوڑھی پر بیٹھا دربان پورے گھر کی نگہبانی کرتا۔ اِن کرداروں کی تفصیل بڑی دلچسپ تھی۔

شہر میں نہ گیس تھی نہ بجلی۔ جب مٹی کے تیل سے روشنی ہوئی تو پہلے پہل اسے بھی دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ تب گھروں میں نوکر ارنڈی کے تیل کے دیے جلاتے۔ جس کمرے میں ہم پڑھتے وہاں دو بتیوں کا ایک دیا دیوٹ پر جلتا۔ ماسٹر صاحب ٹمٹماتی روشنی میں ”پہلی کتاب“ کھولنے کا کہتے۔ پہلے تو میری جمائیاں شروع ہوتیں۔ پھر آنکھیں کبھی بند ہوتیں اور کبھی کھلتیں۔ اب ماسٹر صاحب کی پھٹکار دبے دبے لفظوں میں اس کا فلاں شاگرد پڑھائی میں اتنا ہوشیار، فلاں لکھنے میں اتنا تیز، فلاں کویتا پڑھنے میں سونا۔ ایسی سب باتیں میرے سر پر سے ہوا کے کسی جھونکے کی طرح گزر جاتیں۔

اِن یادوں کا ایک اہم کردار برجوشیور بڑے دلچسپ انداز میں سامنے آتا ہے۔ ٹیگور کی زبان میں کہ وہ ہم نظر انداز بچوں کی دیکھ بھال یعنی کھانے، نہلانے اور ہمارے دیگر جملہ امور کی نگرانی کے لئے لایا گیا تھا۔ طبیعت بڑی لالچی تھی۔ ہماری تھالیوں میں کبھی کھانا پروس کر نہ رکھتا۔ جب کھانے کو بیٹھتے تو ایک ایک پوری کو دور سے ہاتھ میں گھماتا ہوا دیتا اور پوچھتا کہ ”اور چاہیے“ ۔ یہ ”اور چاہیے“ جس لب و لہجے میں کہتا اُس کا ایک ہی مطلب ہوتا۔ بس کرو اب۔ میں تو بالعموم یہی کہتا۔ ”نہیں اور نہیں چاہیے۔“ میرے دودھ کے کٹورے پر بھی اس کی حریصانہ نظریں منڈلاتی ہی رہتیں۔

kolkata – vintage

یہ کم کھانا بھی کچھ گھاٹے کا سودا نہ رہا کہ زیادہ کھانے والوں سے مقابلے میں توانائی میں کمزور نہ تھا۔ اِس طاقت اور توانائی کا ثبوت اِس بات سے ملتا تھا کہ جب جب سکول سے بھاگنے کو جی چاہتا۔ منصوبہ بندی میں کوئی بھی بیماری مثلاً نزلہ، زکام، کھانسی، بخار وغیرہ سبھی ماتھے پر آنکھیں رکھ لیتیں۔ ٹھینگا دکھاتیں۔ اب انہیں بلانے کے لئے میرے ترلے منتیں، کہیں پانی میں بھگویا ہوا جوتا پہن کر دن بھر گھومنا، کاتک کے مہینے میں کھلی چھت پر سونا۔ مجال جو اُسے مجھ پر ذرا سا بھی رحم آ جائے۔ مجال تھا جو کچھ ہو جائے۔

کہانیوں کے سننے کا چسکہ اُن کی طلسماتی دنیا، میرے خواب اور سوچیں۔ پہلی بیٹھک برجوشیور کے پاس جمتی۔ رامائن سنتے سنتے کشوری چاٹوجے آ جاتا۔ اُس سے رامائن کتھا نظم کی صورت سنی جاتی۔ اس کے گلے سے سخن کی لڑیاں جھرنوں کی سی اٹکھیلیاں اور کلیلیں کرتی بہتیں۔ یہ محفل جب ختم ہوتی میں ماں کے کمرے میں جاتا۔ ماں اُس وقت اپنی کاکی کے ساتھ تاش کھیل رہی ہوتی۔ میں جاتے ہی شور مچانا شروع کر دیتا۔ وہ فوراً ہاتھ کے پتوں کو پھینکتے ہوئی کاکی سے مخاطب ہوتی۔ ”لے جاؤ اور کہانی سناؤ اُسے۔ جب تک یہ سو نہیں جائے گا اس کا یہ غل غپاڑہ ایسے ہی رہے گا۔“

ہم لوگ برآمدے میں رکھے لوٹے کے پانی سے پاؤں دھو کر نانی کو بستر پر گھسیٹ لاتے۔ اب دیووں کی کہانی، راجکماری کی کہانی کب تک یہ چلتی۔ میں تو کہیں خوابوں کی دنیا میں چلا جاتا۔ کہانی ہمیشہ میری کمزوری رہی۔ یہ دن میں بھی جب میں اکیلا ہوتا میرے ساتھ رہتی۔ کبھی پالکی میں، کبھی پیدل، کبھی کسی اڑن کھٹولے پر، کبھی جنگلوں میں، کبھی دریاؤں پر۔

سچ تو یہ ہے کہ بچپن کی یہ تصوراتی سیر بڑے ہو کر دنیا کے اسفار کی صورت میں مجھے نصیب ہوئی۔ گھر سے باہر نکلنے کی پابندی نے سفر کرنے کی خواہش کو ایڑ لگائی تھی۔ بچپن کی تنہائی، جوانی اور اُدھیڑ عمری میں دوستوں کی معیت میں نئی دنیائیں دیکھنے کی متمنی تھی جس کی تکمیل بہت احسن طریق سے ہوئی۔ کہانیوں کی دنیا میں کھونا مجھے بہت پسند تھا۔ شاید نہیں یقیناً کہانیاں افسانے اور ناول اُسی شوق اور تجسس نے لکھوائے۔

فاخرہ سے میں نے کسی ناول کے بارے میں پوچھا جو اس نے پڑھا ہو۔ ”ارے ایک دو۔ میں نے تو کئی پڑھے ہیں۔ افسانے بھی بہتیرے۔ ناولوں میں مجھے گھورے بائرے، جو گاجوگ، دوئی بون اور گورا بہت پسند ہیں۔“ کہیں کابلی والے کا ذکر آیا تو مجھے یاد آیا۔ یہ افسانہ میں نے پڑھا ہے۔ ذہن میں جزئیات بھی اُبھر آئی تھیں۔
چلو اب سنو۔ ”فاخرہ نے پھر پڑھنا شروع کر دیا تھا۔

جاری ہے۔

Facebook Comments HS