ڈاکٹر بہو کو دفع کریں
تمہارا چہرہ لمبوترا سا ہے۔ پاؤں بہت بڑے ہیں مردوں جیسے۔ کھانا تو ماں نے سکھایا ہی نہیں ڈھنگ کا پکانا۔ روٹی گول کب بناؤ گی۔ تمہارے ماں باپ کے گھر ہوں گے یہ ایک وقت کا کھانا اگلے دن کھانے کے رواج۔ ہمارے ہاں بی بی تازہ سالن بنتا ہے روز۔ دماغ ُسن ہی رہتا ہے۔ یاد نہیں رہتا کچھ۔ بیٹی کو گھر داری سکھاؤ۔ تم نے یہ ڈگریاں لے کر کون سے تیر مار لیے ہیں جو اس نے مارنے ہیں۔
ڈاکٹر بہو لے جانے والے ہر پہلے نہیں تو دوسرے گھر میں کہی جانے والی یہ عام سی باتیں ہیں۔ ڈاکٹر بیوی کا تمغہ سینے پہ سجانے کے آرزو مند بظاہر پڑھے لکھے مرد بھی شادی کے دوسرے مہینے ہی اپنی اماں۔ بہن۔ یا بھابھی کے ہاتھ کے پکوان کا موازنہ کل کی آئی چھوکری سے شروع کر دیتے ہیں۔ جس کا دماغ پڑھائی نے خراب کر دیا ہوتا ہے۔ گھر میں تو دل لگتا ہی نہیں۔ ہسپتال کی ہی فکر لگی رہتی ہے۔ گھر کے کام سے جی چرانے کا بہانا جی۔ یہی نوکری اور کمائی وغیرہ اور کیا۔
اس ساری کہانی میں سب سے مظلوم کردار ہوتے ہیں وہ بچے جنہیں پیدا کرنا نا جانے کیوں ضروری سمجھ لیا جاتا ہے۔ شاید رشتے کی کچی اینٹوں پہ مضبوط سا سیمنٹ سمجھ کر پیدا کر لیے جاتے ہیں۔ یہ اور بات کہ بنیاد کی کمزوری کبھی نہیں جاتی۔
مسئلہ یہ ہے کہ ذہنی ہم آہنگی نا ہونا ایک مسئلہ اور بدنیتی بالکل ہی ایک الگ مسئلہ ہے۔ برصغیر بشمول پاکستان میں رشتہ اور شادی کے عمل کے دوران جو جھوٹ اور دھوکہ بازی ہوتی ہے۔ شاید ہی کہیں ہوتی ہو۔ رشتے دکھانے والی باجی کے مطابق ہر لڑکی عمیرہ احمد کی ہیروئن جتنی سگھڑ اور لڑکا بس جنید صفدر جتنا ہی معقول ہوتا ہے۔ یہ اور بات کہ یہ سارا خیالی پلاؤ مہینے میں ہی بدمزہ ہوجاتا ہے۔
ڈاکٹر بہوؤں کے بے کار ہونے کے جتنے قصے سنے ہمیشہ یہی سوچا کہ یہ ساری ساسیں اپنی کوئی دس بارہ پڑھی سگھڑ بھانجی بھتیجی اپنے راج دلارے کے لیے کیوں نہیں لاتیں جو گھر کو جنت کا نمونہ بنا دے۔ ڈاکٹر بہو کی دوائی سے تو ویسے بھی آرام نہیں آتا تو اتنا کشٹ آخر کیوں۔ صرف ڈاکٹر نام سننے کے لیے کیا؟ بڑی ہی حماقت ہے۔ یہ اور بات کہ سارا دن گھر پہ رہنے والی خواتین کے گھر بھی ہمیشہ جگمگاتے ہوئے نہیں ملتے۔ لیکن بد سے بدنام برا۔
ایسی ڈگری کا آخر فائدہ ہی کیا جو گول روٹی کھا کر آنے والا ذہنی سکون ہی نا دے سکے۔ یہ اور بات کہ اس بدنصیب ڈاکٹر نے بھی ذہنی سکون کے جو خواب دیکھے ہوتے ہیں وہ کبھی تعبیر نہیں پاتے۔ اس کی آنکھوں میں بھی خوش کن مستقبل کے کچھ جگنو ہوتے ہیں جو ساری زندگی اندھیروں میں سفر کرتے رہتے ہیں۔ اس کا بھی جی چاہتا ہے کہ مریضوں کے ساتھ سر کھپانے کے بعد اسے گھر آنے پہ دو پل سکون کے مل جائیں لیکن انتظار میں ہوتا ہے کاموں کا ایک لمبا انبار اور شکایتیں۔ کام میں موجود کمیاں۔ کوتاہیاں۔ پھر ایسی خواتین سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ گھر کو جنت بنا ڈالیں۔ معاف کیجئے لیکن جہنموں کے خالقوں کو جنت کی ہوائیں نصیب نہیں ہو پاتیں۔
وربل ابیوز کا نام سنا ہو گا۔ ہم نے برداشت کرنے والیوں کو پاگل ہوتے دیکھا ہے۔ یہ ماں باپ کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے۔ اور شوہر کی طرف سے بھی۔ تناسب لیکن موخر الذکر کا زیادہ ہے۔ صبح سے رات تک جس عورت کو یہ بتایا جائے کہ وہ کتنی جاہل، نکمی، نا اہل، کم عقل ہے اس سے یہ توقع کرنے والے کہ وہ ان کی اولاد کو عالم و فاضل بنا دے گی۔ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ مار پیٹ کے نشان تو دکھائی دے جاتے ہیں لیکن ہنستے کھیلتے لوگ جو چپکے سے اپنی جان لے لیتے ہیں۔ کئی جی کر بھی مر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے پیچھے یہی کتے کی بچی کی گردان ہی ہوتی ہے۔
سب سے بڑا قصور تو ماں باپ کا ہے جو بچی کو گول روٹی سکھانے کی بجائے سکول کالج لانے لے جانے لگے ہوتے ہیں۔ سب ماں باپ اگر یہ طے کر لیں کہ پڑھائی ہانڈی روٹی سے ہرگز زیادہ ضروری نہیں، تو پاکستان کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ آخر اتنا پڑھ لکھ کر بھی تو ہانڈی روٹی ہی کرنی ہوتی ہے نا جی۔

