پاکستان کا مطلب کیا؟


آج کل پاکستانیوں کی شناخت کے مسئلے کے بارے میں کئی موضوعات زیر بحث ہیں جن میں ایک موقف لبرل طبقے کا ہے جو کہ جنگ و جدل سے منسلک تاریخی کرداروں کو اپنانے سے انکاری ہیں جبکہ دوسری طرف مذہبی طبقے کے لوگ ماضی میں گزرے کامیاب سپہ سالاروں کو اپنا حامی و ناصر گردانتے ہیں۔ لبرل طبقے کی نظر میں پاکستانیوں کی بہترین شناخت صرف بیرونی جنگجووں کو خود سے الگ ماننے میں ہی نہیں بلکہ خود کو سندھ دریا کی تہذیب سے جوڑنے میں بھی ہے۔ دوسری طرف مذہبی طبقہ خود کو سندھ دریا کی تہذیب سے نہیں جوڑتا جو کہ پنجاب کی تہذیب کی بنیاد بھی ہے۔ اپنی شناخت اور تاریخ کو سمجھنے کے مقاصد سیاسی و معاشی ہوتے ہیں جبکہ اس میں رد و بدل بھی اپنے فائدے کے لیے کیے جاتے ہیں جو کہ مناسب بات ہے۔

انسانی ارتقاء کی تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ انسان گروہ کی صورت میں ایک حد تک کوئی کام سر انجام دے سکتا ہے۔ بڑی تعداد میں مل کر کام کرنے کے لیے کسی مشترکہ یقین کا ہونا ضروری ہے جس کو گروہ کے تمام افراد مانتے ہوں۔ اس یقین کو افسانوی شکل میں مانا جاتا ہے جس کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں لیکن کسی بھی ایسی چیز کو سر انجام دینے میں آسانی ہوتی ہے جس کا تعلق اپنے فائدے سے ہو۔ شکار کے دور میں بھی انسان ایک مخصوص ماحول میں رہنے کے لیے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے جگہ کی خصوصیات جیسے جانوروں سے بچنا کہانی کی شکل میں سمجھتا تھا نہ کہ حقیقی معنی کے ذریعے۔ جیسا کہ فلاں جانور کی روح نقصان پہنچا سکتی ہے یا فلاں درخت کی روح سے دور رہنا بہتر ہے۔ اصل مقصد ذاتی فائدہ تھا۔ حالات کے بدلنے سے کہانیوں میں بھی بدلاؤ آیا مگر مشکل تب پیش آئی جب ہم کہانی کو اصل معنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اپنے حل طلب مسائل کو اُن کی اصل روح سے سمجھنا چاہتے ہیں جبکہ انسان ابھی تک اپنے مسائل کو کسی کہانی کی شکل کے بغیر سمجھنے کے قابل نہیں ہوا کیونکہ شکار کے دور کے بعد کا عرصہ پچھلے دور سے بہت قلیل مدت پر مشتمل ہے۔ انسانی دماغ کے ارتقاء کو مزید وقت درکار ہے تاکہ وہ چیزوں کو ان کی اصل شناخت سے سمجھ سکے۔

حالیہ پاکستانی شناخت سے متعلق بحث میں بھی کافی حصہ غلط فہمیوں کا ہے خصوصاً مشترکہ یقین کے حوالے سے جس کو حقیقی طرز پر سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مشترکہ یقین کو حقیقی طور پر سمجھنے کی غلطی پاکستان میں دونوں طبقات کی جانب سے سرزد ہوئی ہے، جس کا اثر پاکستان میں ریاست کی ساخت کو ہی نہیں بلکہ عوام کی آزادی پر بھی ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر محمود غزنوی، ابدالی یا غوری کو اپنا ہیرو ماننا ریاستی بیانیے کے لیے تو ٹھیک ہے مگر ایک فرد کی سطح پر اس کے نتائج منفی ہو سکتے ہیں۔ معاشرے میں وقت کے ساتھ تشدد اس لیے بڑھا ہے کیونکہ ہم نے بیانیے یا معاشی سطح پر کام آنے والے مشترکہ یقین کو ذاتی زندگی میں بھی پرونے کی کوشش کی اور جس چیز سے ہم نے فائدہ اٹھانا تھا، اُس کو اپنے نقصان کا باعث بنا بیٹھے۔ مزید یہ کہ ہم نے نظریے کو حقیقت کا درجہ دے دیا۔

حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ آئے روز کسی اقلیت پر ڈھائے گئے مظالم کی داستان سننے کو ملتی ہے۔ نظریے کو حقیقت سے دور رکھا جانا چاہیے۔ ریاستی بیانیے یا ایک مشترکہ یقین کو حقیقت کے آئینے سے جانچنے کی غلطی لبرل طبقہ بھی کر رہا ہے جس کا میرے نزدیک ممکن نتیجہ آنے والے وقتوں میں سماجی زوال کے بعد معاشی صورت میں ہو سکتا ہے۔ بلا شبہ معاشی زوال فی الوقت ابھی رائج ہے پر حالات کا مزید سنگین ہونے کا خطرہ ٹلا نہیں۔ پاکستان کا لبرل حلقہ ریاستی بیانیے کو ذاتی زندگی سے الگ رکھنے کے بجائے اس کو مکمل طور پر بدلنے کا حامی ہے جس کے اپنے نقصانات ہیں۔

بہرحال دونوں طبقات ہر حال میں ریاست اور اس کے افراد کے لیے ایک مخصوص سمت چاہتے ہیں جس کی بنیاد دونوں شناخت بتاتے ہیں۔ لبرل حضرات اکثر راجہ داہر کو محمد بن قاسم پر فوقیت دیتے نظر آتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ راجہ داہر کس طرح اپنی عوام کے وسائل لوٹتا تھا۔ محمد بن قاسم راجہ داہر کو ہرا کر سندھ کے غریب عوام کے لیے سکون کا باعث بنا۔ دوسرا محمد بن قاسم کا سندھ کو فتح کرنے کا مقصد لوٹ مار نہیں تھا بلکہ اپنے بحری جہازوں کو راجہ داہر کی فوج سے لٹنے سے بچانا تھا۔ لہٰذا راجہ داہر کو اپنا ہیرو ماننے سے نہ ہی ریاستی بیانیے کو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی وہ غریب رعایا کے لیے کسی فائدے کا باعث تھا۔ سونے پر سہاگا یہ کہ راجہ داہر ایک ہن راجہ تھا، غریب عوام کی نسل سے بالکل مختلف۔ دوسری طرف محمود غزنوی، ابدالی یا مغلوں کے کسی حکمران کو دیکھیں تو انہوں نے بھی اپنے سامراج کو عوام کی محنت سے جاری رکھا اور اُن کی بھلائی کے لیے شاذ و نادر ہی کچھ کیا ہو گا البتہ یہاں رہتے ہوئے اپنی عیش و عشرت کے واسطے کافی عالی شان عمارات بنوائیں جو کہ اُن کے جانے کے بعد ہی ہمیں نصیب ہوئیں۔ نہ وہ سب اس دھرتی کے تھے اور نہ انہوں نے عوام کی بھلائی کی خاطر کچھ کیا۔ اگرچہ سامراج کا مطلب دوسروں کی زمین اور زندگیوں کو قابو کرنا ہے۔

ہماری دھرتی پہ یا تو ایسے حکمران آئے جو ہم سے مختلف تھے اور جنھوں نے ہم پر ظلم ڈھائے یا پھر وہ جو ہم سے مختلف تھے لیکن نسبتاً باقی امراء کے اچھا سلوک رکھتے۔ ہمیں تاریخ سے ایسا کوئی نہیں ملتا جس کے ساتھ ہماری شناخت ہو سکے اور ہم کہہ سکیں کہ یہ شخصیت ہمارے لیے ایک نمونہ ہے۔

پنجاب میں رنجیت سنگھ کا دور ایسا ہے جس سے ہماری شناخت ممکن ہے جس کا تعلق زمین سے تھا اور غریب عوام کے فائدے کے لیے خدمات سر انجام دیتا رہا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بادشاہ ہونے کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جن پر رنجیت سنگھ سے اختلاف رکھا جا سکتا ہے مگر پوری تاریخ کو ٹٹولنے کے بعد رنجیت سنگھ کا دور پاکستان کے اکثریتی عوام کے لیے شناخت کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر صرف مذہب کے مختلف ہونے کی وجہ سے ریاستی بیانیے میں رنجیت سنگھ کے دور کی بڑائی ممکن نہیں مگر شناخت کا بہترین ذریعہ اس کے علاوہ کوئی نہیں۔ دیکھا جائے تو مذہبی طبقے کی سوچ ریاستی سرگرمیوں کے لیے کام آ سکتی ہے جبکہ لبرل طبقے کی سوچ ذاتی زندگی میں۔

ہر چیز کو اس کے معیار کے مطابق رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جہاں شناخت کی بات ہو وہاں سندھ دریا کی تہذیب کا ذکر ہو اور جہاں ریاست کی ضرورت ہو تو تاریخ سے مذہبی پہلووں کو زیر استعمال لایا جائے۔ لیکن مذہبی پہلووں میں بھی ان کردار کو فوقیت دینا زیادہ مناسب ہے جن کی موجودگی سے عوام پر مثبت اثرات دیکھنے کو ملے بہ نسبت ظالم بادشاہوں کے۔

Facebook Comments HS