شرجینا کا بچہ کیسے ضائع ہوا؟
صاحبو۔ ہم ڈرامے نہیں دیکھتے مگر کبھی کبھار احباب ہمیں کسی نہ کسی ڈرامے کا حصہ ضرور بنا دیتے ہیں۔
مشہور شاعر سلمان حیدر نے لکھا کہ اللہ نہ کرے شرجینا کو کچھ ہو جائے ورنہ مصطفی کو میری بیوی اور ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نہیں بخشیں گی۔
پڑھ کر ہم بے ساختہ ہنس دیے مگر پھر سوچا کہ کون ہیں یہ شرجینا اور مصطفی؟ ادھر ادھر پوچھنے کے بعد علم ہوا کہ ایک مشہور ڈرامے کے کردار ہیں اور عزیزی شرجینا حاملہ ہیں۔
چونکہ حمل سے متعلق عوامل کے ہم ایکسپرٹ ہیں کہ عمر اسی دشت کی سیاحی میں گزری ہے تو کان کھڑے ہوئے کہ دیکھنا چاہیے کیا ہو رہا ہے شرجینا کے ساتھ؟ اور اگر کچھ ہو رہا ہے تو مصطفی صاحب کا کتنا ہاتھ ہے اس میں؟
شرجینا حاملہ ہے۔ معلوم نہیں کتنے ہفتے؟ لیکن پیٹ نمایاں نہیں ہے سو ہمیں لگتا ہے کہ ابتدائی مہینے ہی چل رہے ہیں۔
ایک شام شرجینا اداس اپنے فلیٹ میں بیٹھی ہے، بجلی جا چکی ہے۔ وہ موم بتی جلانے کے لیے اٹھتی ہے اور پھر تار میں پاؤں اٹکنے سے گر جاتی ہے۔ گھر میں چونکہ کوئی نہیں سو وہیں پڑی رہتی ہے۔
مصطفی گھر آتا ہے، شرجینا کو اس حال میں دیکھ کر گھبرا جاتا ہے اور ہسپتال لے کر بھاگتا ہے۔ جہاں ڈاکٹر معائنہ کر کے بتاتی ہیں کہ بچہ مر چکا ہے شرجینا کی جان خطرے میں ہے۔ بچنے کا پچاس فیصد امکان ہے اور اب ڈی انیڈ سی کی ضرورت ہے۔
آپریشن تھیٹر کے باہر سب روتے دھوتے نظر آتے ہیں پھر ڈاکٹر صاحبہ باہر نکل کر فرماتی ہیں کنڈیشن صحیح نہیں ہے، بہت سیریس ہے۔ مجھے افسوس ہے بچہ مر گیا ہے چوٹ لگنے کی وجہ سے بچہ ماں کے پیٹ میں ہی مر چکا تھا۔ ان کو مزید پیچیدگیوں سے بچانے کے لیے ان کا ڈی اینڈ سی کروانا بہت ضروری ہے۔
شرجینا کی ماں روتے دھوتے پوچھتی ہیں، میری بچی تو بچ جائے گی نا۔
ڈاکٹر کا جواب ملتا ہے، ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں، آپ دعا کیجیے اللہ تعالیٰ سے۔
مصطفی روہانسا ہو کر ڈاکٹر سے کہتا ہے۔ آپ شرجینا کو بچا لیجیے پلیز۔ پلیز۔
ڈاکٹر جواب دیتی ہیں، ہمارے بس میں جو بھی ہوا، ضرور کریں گے لیکن میں اتنا بتا دوں کہ اس وقت شرجینا کی زندگی خطرے میں ہے۔
ڈاکٹر پھر اندر چلی جاتی ہیں۔ سب لوگ ہاتھ اٹھائے رو رو کر دعائیں مانگ رہے ہیں۔
اتنی دیر میں بہن آجاتی ہے اور پوچھتی ہے امی شرجینا کو کیا ہوا؟
ماں کہتی ہیں، بیٹا وہ آپریشن تھیٹر میں زندگی اور موت سے لڑ رہی ہے اپنی بہن کے لیے دعا کرو۔ اس وقت ففٹی پرسنٹ چانس دیا ہے بس۔
ڈاکٹر کی آواز بیک گراؤنڈ میں آتی ہے، اگر دیر کی گئی تو بچے سے نکلنے والا مواد ماں کے جسم میں زہر بن کر پھیل جائے گا، سب اعضا جواب دے جائیں گے۔
دروازہ کھلتا ہے، ڈاکٹر باہر نکلتی ہیں، مصطفی ان کی طرف لپکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب؟
آپ سب دعا کریں اگلے چوبیس گھنٹے بہت زیادہ کریٹیکل ہیں۔ ڈاکٹر کہتی ہیں۔
ماں پوچھتی ہیں۔ کیا میں اپنی بیٹی کو دیکھ سکتی ہوں؟ جواب ملتا ہے۔ ابھی نہیں۔ ابھی ہم انہیں آئی سی یو میں شفٹ کر رہے ہیں۔
اگلے سین میں مصطفی شرجینا کے سرہانے بیٹھا ہاتھ پکڑے ڈائیلاگ بول رہا ہے اور شرجینا بے حس و حرکت پڑی ہے جیسے بے ہوش ہو۔
اگلی صبح شرجینا ہوش میں آتے ہی پوچھتی ہے کہاں ہے میرا بچہ؟
بس۔ یہاں ہمارا صبر جواب دے گیا۔ جی چاہتا ہے کہ اردو ڈرامے لکھنے والی سب رائٹرز کو اپنی کتابیں بھیج کر کہیں کہ دیکھیے حمل کی بھی ایک سائنس ہے۔ بجا کہ ہمارے یہاں کوئی سیکھنے سکھانے کا شوق نہیں رکھتا مگر اکیسویں صدی میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے ایک ماڈرن ہسپتال کی ڈاکٹر کے منہ سے یہ سب نہ کہلوائیں پلیز۔
ایسا لگا کہ ڈاکٹر کی جگہ محلے کی دائی کھڑی ہیں جو جی چاہے کہتی جا رہی ہیں اور سامنے کھڑے لوگ بھی اس قدر جاہل ہیں کہ آنکھیں بند کیے یقین کیے چلے جا رہے ہیں۔ کیا انیس سو ڈیڑھ کے زمانے کا ڈرامہ ہے یہ؟
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ حاملہ عورت کے فرش پر گرنے کی وجہ سے یا چوٹ لگنے سے بچے کی موت واقع نہیں ہوتی۔ بلیڈنگ ہو سکتی ہے، درد زہ شروع ہو سکتا ہے لیکن فوراً موت۔ ہر گز نہیں۔
مریضہ کی کنڈیشن بہت سیریس ہے۔ ساتھ میں ڈی اینڈ سی ہو رہی ہے۔ ڈی اینڈ سی بچے دانی کی صفائی کرنے کا عمل ہے جو ابتدائی مہینوں میں بچہ ضائع ہونے کے بعد کیا جاتا ہے اگر بچے دانی میں کچھ باقی رہ جائے تو۔
ڈی اینڈ سی ( Dilatation and Curettage ) بہت معمولی آپریشن ہے۔ مشکل سے دس منٹ میں ہو جاتا ہے۔ ہسپتالوں میں سب سے جونئیر ڈاکٹر اسے کرتے ہیں۔ ڈی اینڈ سی والے مریض نہ خطرے میں ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے جسم میں زہر پھیلتا ہے۔ سو آپریشن تھیٹر میں زندگی اور موت کی جنگ لڑنا بالکل فضول بات ہے۔
اب ہمیں یہ نہیں پتہ کہ یہ کتنے مہینے یا ہفتوں کا حمل ہے۔ اگر چوبیس ہفتے سے پہلے کا حمل ہو تو بچہ ضائع ہو گا اور اگر چوبیس ہفتے کے بعد کا حمل ہو تو بچہ مرے گا۔
چوٹ لگنے سے اگر بچہ مارنے کا پلان بنایا گیا ہے تو اس میں بچے کے مرنے کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ آنول placenta اپنی جگہ سے اُکھڑ جائے۔ اگر آنول اُکھڑ جائے تو ویجائنا سے بلیڈنگ ہو گی اور خون کے عطیات کی ضرورت پڑے گی۔
اور اگر معاملہ یہاں تک آ پہنچے کہ ماں کی جان اس قدر خطرے میں ہو کہ ڈاکٹر مسلسل وارننگ دے کر دعائیں کرنے کا کہہ رہی ہیں تب بچے کو نارمل پیدا نہیں کروایا جا سکتا۔ آپریشن کر کے بچے کو فوراً نکالا جائے گا تاکہ زہریلا مواد خون میں نہ پھیلے۔
آنول اکھڑنے کی کئی صورتوں میں ماں کو مصنوعی درد لگا کر بھی بچہ پیدا کروایا جا سکتا ہے بشرطیکہ مریضہ کچھ بہت حالت میں ہو۔ اور یہ کام لیبر روم میں ہوتا ہے، آپریشن تھیٹر میں نہیں۔
شرجینا کے بچپنے کا چانس پچاس فیصد بتایا گیا ہے۔ نہیں معلوم یہ چانس کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔ اور اگلے چوبیس گھنٹے بہت زیادہ کرٹیکل ہیں۔ کیوں بھئی؟ کیا ہو رہا ہے؟ آپ نے ڈی اینڈ سی کر دی۔ پیچھے کیا رہ گیا؟
اکیسویں صدی میں بچہ ضائع ہونا یا بچے کے مر جانے کے بعد شرجینا کی جان خطرے میں ہونا؟ اگر وہ کسی گاؤں میں ہوتی تو تب شاید بات سمجھ آتی۔ کراچی کے ایک ماڈرن ہسپتال میں یہ بہت بڑی بونگی ہے۔
شرجینا آپریشن تھیٹر سے نکل کر آئی سی یو میں جا چکی ہے جب مصطفی اس کے سرہانے بیٹھ کر ڈائیلاگ بولتا ہے۔ مریض اگر وینٹی لیٹر پہ نہ ہو تو انیستھیزیا کے اثر کے تحت ہلکا سا مدہوش ضرور ہوتا ہے مگر بے ہوش نہیں ہوتا۔ وہ ہلتا جلتا ہے، سنتا ہے، کراہتا ہے، جواب دیتا ہے۔ آنکھیں کھولتا ہے۔ ڈی اینڈ سی کے مختصر سے انیستھیزیا کے بعد بے حس و حرکت پڑی شرجینا۔ کیا کہیں صاحب؟
پھر اگلی صبح اُٹھتے ساتھ ہی شرجینا کا بچے کے بارے میں سوال کرنے کے متعلق یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ جانتی ہے کہ بچہ پیدا ہو چکا ہے۔ کیسے پتہ چلا اسے؟ وہ تو گھر سے لے کر اب تک بے ہوش تھی سو سب سے پہلے اسے حیران ہونا چاہیے تھا کہ وہ کہاں ہے؟
پھر اگر یہ پورے نو مہینے کا حمل نہیں تو یہ سوال پوچھنا کہ میرا بچہ کہاں ہے، مزید عقل کو چکرا دیتا ہے۔ کیونکہ ابتدائی مہینوں کے حمل میں بچے کے متعلق پوچھنا ماورائے عقل ہے۔ سب ہی جانتے ہیں کہ کتنے مہینوں کا آسانی سے بچہ بچ سکتا ہے۔
اگر بائیس چوبیس ہفتے کا بچہ پیدا ہوا ہے تو مردہ بچہ خاندان کے حوالے کیا جاتا ہے اور اسے باقاعدہ دفنایا جاتا ہے۔
کاش یہ لوگ اس ڈاکٹر کی جگہ ہمیں بھرتی کر لیتے۔ ہم ان کے سین ٹھیک کروا کے ان کا کام چلا دیتے اور لاکھوں ناظرین کو حمل سے متعلق درست معلومات بھی پہنچا جاتیں۔ پہلے سے کنفیوزڈ خواتین مزید کنفیوزڈ ہو گئیں تبھی تو سلمان حیدر کی خواہش ہم تک پہنچی۔
صاحب۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ ہم حاضر ہیں۔ مستقبل میں جب بھی کسی ہیروئن کو کرٹیکل سٹیج پہ پہنچانا ہوا پلیز ہم سے پوچھ لیجیے گا۔ ایسی صورت حال پیدا کریں گے کہ ہیرو اور گھر والوں کے ساتھ پاکستان کے لاکھوں ناظرین مصلے پر بیٹھ جائیں گے۔
آزما لیجیے۔ کیونکہ یہ ہے ہمارا گائنی فیمنزم!

