خان پراجیکٹ: شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی


پاکستان میں ہر دور میں بطورِ پروجیکٹ کنگز پارٹی اور لیڈرشپ سامنے آتی رہی۔ تحریک انصاف بھی ایسا ہی ایک پروجیکٹ تھا جس کے ذریعے نواز شریف اور زرداری سے جان چھڑانا مقصود تھا۔ تحریک انصاف 15 سال تک کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ عمران کو اقتدار کے لیے سیاست دان کے بجائے مسیحا بنا کر پیش کیا گیا اور سیاسی مخالفین کو کرپٹ، نا اہل اور پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ثابت کیا گیا۔ اس پراجیکٹ کا مقصد پارلیمانی سیاست ’جمہوری پارٹیوں کا خاتمہ اور صدارتی نظام کے تحت یک جماعتی نظام کا قیام تھا۔ میری شیلے (Mary Shelley) نے 1818 ءمیں ایک ناول فرینکسٹائن (FRANKENSTEIN) لکھا۔ ایک کیمیا دان کی کہانی جس نے لیب میں ایسا انسان تخلیق کرنا تھا جو انسانی فلاح، علم و حکمت کا ذریعہ اور مسیحا بنتا۔ اس پروجیکٹ نے جو انسان تخلیق کیا، وہ عفریت بن کر انھی کو مارنے لگا حتیٰ کہ وہ اپنے تخلیق کار کو مارنے پر تل گیا۔

اسٹیبلشمنٹ لیب میں عمران خان کی تخلیق اسی طرح کی روح فرسا کہانی ہے۔ مردہ سیاسی جسم میں روح پھونک کر ایک نجات دہندہ اور مسیحا تخلیق کیا گیا، جو آج عفریت بن کر اپنے خالق کا گریبان دبوچ رہا ہے۔ سیماب اکبر آبادی کے الفاظ میں :

یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی
کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

فرینکسٹائن کی طرح اسٹیبلشمنٹ نے عمران پروجیکٹ میں شوق گُل بوسی میں کانٹوں پر زباں ایسی رکھی کہ نہ جانے رفتن نہ پائے ماندن ایسے وقت میں جب مملکت تاریخ کے بدترین سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی بحران میں ہے، عمران خان اور ان کے عشاق ریاست کی چولیں ہلانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ خان پروجیکٹ سے واضح ہوتا ہے، ضروری نہیں ہر تجربے کے نتائج وہی نکلیں جو سوچے گئے ہوں۔ 2014 ء میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے 300 کے قریب سرکاری نوجوانوں کو سیاست دانوں، صحافیوں اور نامور لوگوں کو بدنام کرنے پر مامور کیا۔ سکینڈل، گالیاں، اور بہتان عام کیے گئے، بلا تحقیق ہر چیز کو ثابت شدہ قرار دیا جانے لگا جھوٹ کا عفریت فرینکسٹائن کی طرح اپنے ہی خالق پر پل پڑا۔ اب اس کا رخ مقتدرہ، ریاست کے ہر ادارے اور شخصیت کی طرف ہے۔

عیاری کی تاریخ میں جوزف گوئبلز سر فہرست ہے۔ جرمنی میں مقیم امریکی صحافی ولیم شرر نے رائخ سوئم کا عروج و زوال لکھی، وہ لکھتے ہیں کہ جرمنی میں پروپیگنڈا، جھوٹ اور فیک نیوز کا اتنا زیادہ زور تھا کہ پڑھے لکھے لوگ بھی ان جھوٹوں کو سچ جان کر ایمان کا حصہ بنا لیتے۔ اگر ان کی حقیقت پر کوئی سوال کیا جاتا تو لوگوں کو ایسا لگتا تھا جیسے کوئی توہین مذہب کا مرتکب ہو رہا ہے۔ نازی جرمنی اور عمران کے پاکستان کا احوال بالکل اس جیسا ہے، گوئبلز کے جھوٹوں کا پردہ جرمنی کے جنگ ہارنے پر چاک ہوا۔ گوئبلز نے بھی ہٹلر کے بعد اپنے خاندان سمیت خودکشی کر لی۔ گوئبلز کے بقول ہٹلر آدھا انسان، آدھا دیوتا تھا۔

اب گوئبلز کے معنوی فرزند سوشل میڈیا پر خود ہی جھوٹ تخلیق کرتے اور اسے پھیلاتے ہیں۔ ایک جھوٹ غلط ثابت ہوتو دوسرا تراش لیا جاتا ہے۔ عشاق اپنے لیڈر عمران کی غلطی تسلیم نہیں کرتے، اسی لیے کہا جاتا ہے تحریک انصاف پارٹی نہیں، ایک کلٹ ہے۔ سیاسی جماعت کلٹ بن جائے تو ملک کو خانہ جنگی میں دھکیل دیتی ہے۔ امریکہ کے جم جونز نے چند لوگوں سے اپنا گروپ شروع کیا اور بتدریج ایک قابل تعظیم رتبہ حاصل کر لیا۔

کلٹ گروپس مذہبی، سیاسی اور دوسرے مقاصد کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ کلٹ کسی کرشماتی شخصیت، لیڈر یا مرشد سے کشش کے نتیجہ میں تشکیل پاتے ہیں، جن کا خاص ایجنڈا ہوتا ہے۔ کلٹ کے پیروکار برین واش بلکہ ہپناٹائز ہوتے ہیں۔ کلٹ فالوورز پر اس شخصیت کا اتنا کنٹرول ہوتا ہے کہ وہ قریبی دوستوں حتیٰ کہ خاندان تک سے علیحدہ کر دیے جاتے ہیں۔ یہ پجاری حکم کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ان کو جدھر لگایا جائے بغیر سوال کیے اس طرف لگ جاتے ہیں۔ اپنے لیڈر کے علاوہ ہر ایک کی مخالفت، یہاں تک کہ اپنی ذات تک کی نفی کر دیتے ہیں۔ عمران یہی سب کچھ کر رہے ہیں۔ گھروں میں فساد، خاندانوں کو باہم مقابل اور ججزکو فرقوں میں تبدیل کر دیا۔ قاضی فائز عیسیٰ کو یہ بہتان لگا کر گالیاں دی گئیں کہ انہوں نے بلے کا نشان چھینا، حالانکہ پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات کے لیے بار بار وقت دیا مگر اس نے تاخیری حربے استعمال کیے۔ انتخابی نشان نہ ملنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ 1988 میں سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی سے تلوار اور 2018 میں سینیٹ الیکشن سے قبل مسلم لیگ نون سے شیر کا نشان لیا گیا۔ نون کے امیدواروں کو آزاد الیکشن لڑنا پڑا۔ قاضی فائز عیسیٰ کی مڈل ٹیمپل میں بطور بینچرز شمولیت ان کے ساتھ پاکستان کے لیے بھی بڑا اعزاز ہے۔ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہیں بینچر منتخب کیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ عمران نے نوجوانوں کو شعور دیا، اس شعور نے شرم و حیا اور قومی وقار جیسے بنیادی اصولوں کو ہی ملیا میٹ کر دیا۔ لندن میں ایک پاکستانی نژاد بیرسٹر نے پی ٹی آئی والوں کو سمجھایا کہ وہ توہین آمیز زبان استعمال نہ کریں تو انہیں بھی نشانہ بنایا گیا۔ عمران خان ہمیشہ مخالفین کو چور ’ڈاکو اور اوئے توئے کرتے نظر آئے اسی لیے ان کے فالورز بھی فوراً گالیوں پر اتر آتے ہیں۔ ان کی سیاست بدتمیزی کے کلچر کے گرد گھومتی ہے۔ اظہار رائے کی آزادی ہر شہری کا آئینی حق ہے مگر اسے دوسروں کی آزادی سلب، بے عزتی اور حملہ آور ہونے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس کلچر کا مقصد ریاستی اور انتظامی اداروں سے اپنے حق میں فیصلے کرانا ہے۔ پی ٹی آئی کے حق میں فیصلے کرنے والے ججوں کی ستائش اور آئین و قانون کے تقاضوں کے تحت فیصلہ خلاف آنے پر جج کی توہین و تحقیر میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ قاضی فائز اسی تناظر میں بدتمیزی کلچر کی بھینٹ چڑھے۔ ان کی نہ صرف سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کی گئی بلکہ اسلام آباد کی ایک بیکری میں بھی ان سے بدتمیزی کی گئی۔ لندن واقعہ بادی النظر میں عدلیہ کے باقی ججوں کے لیے پیغام ہے کہ ان کے خلاف فیصلہ صادر ہوا تو انہیں بھی ایسے حشر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان واقعات میں ایک قدر مشترک گالیاں ہیں۔ ان کی زد سے مولانا فضل الرحمان بھی نہیں بچے، یہ الگ بات ہے کہ انہی کی امامت میں انہیں نماز پڑھنی پڑی۔

راحت اندوری یاد آتے ہیں ان کے مشاعرے میں ایک سامع نے ان سے بدتمیزی کی تو انہوں نے جواب دیا برخوردار میں اس مقام تک 42 برس میں پہنچا ہوں اور تمہارے مقام تک پہنچنے کے لئے مجھے صرف ایک منٹ لگے گا۔ عمران اور ان کے عشاق کی بہادری مشرف دور میں گرفتاری کے ڈر سے دیوار پھلانگنے، جمائما کے گھر میں گھیراؤ پر چور راستے سے نکلنے، جاتی امراء پر حملے کی دھمکی دینے کے بعد یوٹرن لینے تک ہے۔ خدا کرے یہ آسیب راہ راست پر آ جائے ورنہ:

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

Facebook Comments HS