اور امریکہ دیکھتا رہ گیا۔۔۔


Dr Mushtaq Soomro UK

یہ 2014 کی بات ہے جب میں نے برطانیہ میں رہنے کے لیے آئرلینڈ چھوڑا تھا۔ ایک دن اپنی فیملی کو مشہور ہیروڈس اسٹور دکھا کے باہر آیا تو پتہ چلا کہ امریکہ جیسی طاقت کو پریشان کرنے والا مشہور صحافی لندن کے اس محلے میں مقیم ہے۔ یہ وہ دن تھے جب نہ صرف برطانیہ بلکہ دیگر یورپی ممالک بھی اس کو امریکا کے حوالے کرنے کے لیے، امریکا کے دباؤ میں تھے۔ امریکا اس صحافی کو 70 یا 80 سال قید کی سزا سنانے کی تمام تیاریاں کر رہا تھا۔ پھر معلوم ہوا کہ امریکی سی آئی اے نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا تھا۔ جس پر بوجوہ عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

ہیروڈس اسٹور سے نکل کر ہم دائیں طرف گلی میں چلنے لگے پندرہ بیس لوگ وہاں کھڑے اس شخص کی تصویریں اور بینر اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے تھے۔ یہ دوست اس شخص کے خلاف مقدمات اور پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ برطانوی پولیس کے چند سپاہی بھی وہاں موجود تھے لیکن خاموشی سے دیکھتے رہے۔ یہ شخص مسٹر جولین اسانج تھا، ایک آسٹریلوی نژاد صحافی، ایڈیٹر، پبلشر، اور کمپیوٹر جینئس جس نے اپنی ویب سائٹ وکی لیکس پر امریکہ کو خوب ذلیل اور خوار کیا تھا۔ ساتھیوں نے بتایا کہ یہ چھوٹا سا فلیٹ ایکواڈور کا سفارت خانہ ہے اور جولین دن مین اس بالکونی سے دو تین بار خطاب کرنے آتا ہے۔ ہم نے جولین پر چلنے والے مقدمات اور امریکی دباؤ اور اس کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا، دوستوں نے پمفلٹ بھی دیے اور جولین کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ جب خدا حافظ کر نے کا وقت آیا تو ایک ساتھی نے مجھے گرمجوشی سے گلے لگایا۔ یہ دیکھ کر میرا چھوٹا بیٹا سالار حیران ہوا اور پوچھا ابو یہ آپ کا پرانا دوست لگتا ہے؟ میں نے ازراہ مذاق بول دیا۔ َہاں بیٹا ہم سکول میں اکٹھے پڑھتے تھے۔

جولین اسانج آسٹریلیا میں پیدا ہونے والا کمپیوٹر جینیئس ہے جس نے اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے امریکی ایجنسی کی حساس معلومات تک رسائی حاصل کی اور اسے اپنی ویب سائٹ وکی لیکس پر جاری کیا تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ امریکا اپنے مفادات پورے کرنے کیے لیے نہتے اور سرے راہ جاتے ہوئے سویلین لوگوں کو بھی قتل کرنے سے نہیں ہچکچاتا۔

2007 میں امریکہ نے عراق اور افغانستان میں نہتے لوگوں کو قتل کرنے کی کافی کارروائیاں کیں۔ جن کی ویڈیوز وکی لیکس نے کہیں سے ڈھونڈھ نکالیں اور اپنی ویب سائٹ پر نشر کر دیں۔ یہ ویڈیوز 2010 میں پوری دنیا مین وائرل ہو گئیں، اس دن سے امریکہ جولین اسانج کے پیچھے لگا لیکن آخر تک اسے گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ تاہم، جولین اسانج کی ایک امریکی ساتھی چیلسی میننگ، جو امریکی فوج میں کام کرتی تھی اس نے جولین کو وہ مواد فراہم کیا تھا، پکڑی گئی، چیلسی میننگ کو 35 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس نے سات سال قید کاٹی اور 2017 میں براک اوباما نے ان کی رہائی کا حکم دیا۔

دنیا کے مختلف ممالک میں جولین اسانج کے حامی اور دوست موجود تھے جنہوں نے اسے امریکہ کی انتہائی خفیہ عسکری اور سیاسی معلومات فراہم کیں اور اس کے بعد اسانج نے نہایت بہادری اور دلیری کے ساتھ یہ معلومات اپنی ویب سائٹ وکی لیکس پر شائع کیں جو آزادانہ طور پر دستیاب ہیں۔ ہر کوئی پڑھ سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کی تقریباً بیس لاکھ دستاویزات منظر عام پر لائی گئیں جن میں عسکری محکمے پینٹاگون کے کاغذات بھی شامل ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ آج بھی وہ سپر پاور ہے جس سے دنیا کے تمام ممالک کم و بیش خوفزدہ یا ڈرتے ہیں۔ پہلے پہل تو جولین اسانج پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ خود کو امریکہ کے حوالے کر دیں لیکن مسٹر جولین اسانج ایسا احمق نہیں تھا کہ وہ یا تو پھانسی پر لٹک جاتا یا اگلے 70 یا 80 سال جیل میں سڑتا رہتا اور وہیں مر جاتا۔

2010 تک جولین اسانج لندن مین ہی پھرتا رہا۔ جب کہ امریکا کے دباؤ پر سویڈن کی حکومت نے 2012 میں ان کے خلاف جنسی ہراسانی کا جھوٹا کیس بنایا، برطانوی حکومت سے جولین کی حوالگی کی درخواست بھی کی۔ بعد ازاں سویڈن کی حکومت نے خود ہی کیس واپس لے لیا۔ جب بڑی طاقت امریکا اس کے خلاف ہو گئی تو جولین لندن میں ایک دن گھومتا ہوا ایکواڈور کے سفارت خانے میں داخل ہو گیا اور سیاسی پناہ کی درخواست کی۔ ان دنوں ایکواڈور کی حکومت امریکہ کو زیادہ پسند نہیں کرتی تھی اس لیے اسے سیاسی پناہ مل گئی۔ اس طرح اس نے پورے سات سال لندن کے اس فلیٹ میں گزارے جو ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا جو ایکواڈور کا سفارت خانہ تھا۔ جو مشہور و معروف لگژری ہیروڈس اسٹور سے چند لمحوں کیے فاصلے پر موجود تھا، وہاں بالکونی سے باہر نکل کر اپنے حامیوں کو دن میں سلام کرتا تھا۔ ساتھیوں نے کہا کہ شاید وہ اگلے دو تین گھنٹے تک باہر نہ آئے، اس لیے ہم نے زیادہ انتظار نہیں کیا۔ اور دوستوں کو خدا حافظ کر کے واپس چل دیے۔

پوری دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو امریکی سامراج کی مخالفت کرتے ہیں اور سامراجی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ اس دن میری جن ساتھیوں سے ایکواڈور کے سفارت خانے کے باہر ہیروڈس اسٹور کے قریب ملاقات ہوئی۔ وہ چند منٹوں میں میرے دوست بن گئے۔ اور جب ہم نے کل بیس منٹ کی ملاقات کے بعد الوداع کہا تو ایسا لگا جیسے ہم کئی دہائیوں سے گہرے دوست ہیں۔

جولین اسانج آسٹریلیا کے صوبے کوئنزلینڈ کے شہر ٹاؤنسلی میں پیدا ہوئے۔ 16 سال کی عمر سے وہ کمپیوٹر اور علم حساب کے ماہر کے طور پے جانے جاتی تھے۔ جولین اسانج 2012 سے 2019 تک سات سال تک ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لیے رہے تھے۔ ابتدائی چند سالوں تک انہیں بہت سے دو ستون اور صحافیوں سے ملنے کی اجازت دی گئی اور وہ ہمیشہ اپنے سامراج مخالف موقف پر ڈٹے رہے۔

2019 میں ایک دن اچانک خبر آئی کہ ایکواڈور کے سفارت خانے نے برطانوی پولیس کو بلایا اور جولین کو ان کے حوالے کر دیا گیا۔ ہوا کچھ یوں کہ امریکہ کی دوست حکومت، ایکواڈور کے ملک میں برسر اقتدار آ گئی، جس نے جولین کی سیاسی پناہ ختم کر دی، چنانچہ برطانوی حکومت نے اسے بیلمارش جیل بھیج دیا، جو لندن کی سب سے زیادہ سخت جیل سمجھی جاتی تھی، جہاں وہ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں پانچ سال اور دو مہینے تک سڑ تا رہا۔ اب دیکھتے ہیں کہ دوسرے ممالک نے اسے امریکی غیظ و غضب سے کیسے بچایا۔

امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک ایک عرصے سے امریکی پالیسیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے امریکی احکامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جولین کے معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ برطانیہ سے لے کر سویڈن تک اور سویڈن سے آسٹریلیا تک، انہوں نے فیصلہ کیا کہ چاہے وہ کچھ بھی کر لیں، جولین کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا اور معاملہ کو طول دیتے رہے۔ آخر ان ممالک نے امریکہ سے بات کی تو کیا سات سال سفارت خانے میں قید اور پانچ سال لندن کے سیل میں قید کافی سزا نہیں ہے؟ اب اسے آزاد ہونے اور اپنے آبائی وطن جانے کا حق دیا جائے۔ فیصلہ ہوا کہ جج کے سامنے جولین امریکی راز افشا کرنے کا جرم قبول کرے گا اور آپ کا جج اسے پانچ سال قید کی سزا سنائے گا اور جولین کہے گا کہ میں پانچ سال دو ماہ قید کاٹ چکا ہوں۔

اس سارے معاملے میں یہ بات ذہن میں رکھی گئی کہ جولین نے شمالی امریکہ یعنی امریکہ کی سرزمین پر قدم نہیں رکھنا، کہیں امریکہ دھوکہ دہی کر کے اسی گرفتار کر کے جیل میں نا ڈال دے، اس لیے یہ انتظام کیا گیا کہ آسٹریلیا کے قریب ماریانا کے جزیرے پر۔ جو انتظامی طور پر امریکا کا ہی ایک جزیرہ ہے جسے قانونی طور پر اسے امریکہ کا ہی مانا جائے گا۔ یہ سارا عمل اس قدر خفیہ طریقے سے کیا گیا کہ جب 24 جون کو بی بی سی نے یہ چونکا دینے والا اعلان کیا کہ جولین اسانج کو لندن کی بیلمارش جیل سے رہا کر دیا گیا ہے، تو ایک پرائیویٹ طیارہ ان کے ساتھ برطانیہ کی سرحد پار کر چکا تھا، جس کی اگلی منزل بنکاک تھی۔ طیارے میں ایندھن بھرا گیا اور شمالی ماریانا جزیرے میں جج کے سامنے لایا گیا۔ جولین کی مزید حفاظت کے لیے آسٹریلیا نے اپنے سابق وزیراعظم کو بھی بھیجا جنہوں نے خود یہ کام کروایا اور جولین کو ایک نجی طیارے میں آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا لے آئے۔

جولین نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور اسے پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی اور جیسا کے وہ پانچ سال اور دو ماہ بھگت چکا تھا معاف کر دیا۔ اس لئے فوری طور پے رہائی مل گئی، اور اس طرح امریکی طاقت دیکھتی ہی رہ گئی اور جولین اسانج آزاد ہو گیا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر مشتاق سومرو، برطانیہ

ڈاکٹر مشتاق سومرو دس سال سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور سندھی کے ساتھ انگریزی اور اردو میں بھی لکھتے رہتے ہیں۔

dr-mushtaq-soomro-uk has 3 posts and counting.See all posts by dr-mushtaq-soomro-uk