یحییٰ السنوار کے بعد
فرض کریں کہ اگر آپ کے گھر، محلے، شہر اور وطن کو انسانی تاریخ کی سب سے بھیانک بمباری کر کے کھنڈر و تاراج کر دیا جائے اور آپ کے وطن زادوں کو اس قدر شدید نسل کشی کا نشانہ بنایا جائے کہ آپ جان بچانے کے لئے محض سر نگوں کے علاوہ اور کچھ بھی سوچ نہ سکیں اور تاراج کنندہ آپ سے کہیں کہ زمین کا یہ حصہ خالی کر دو اور ہجرت کرو یا مزاحمت کی صورت میں تاریخ انسانی کے سب سے جدید و وسیع الاثر بموں، میزائلوں، آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے لیس خود کار مشینی ہتھیاروں سے نسل کشی کو دیکھتے رہو تو آپ کیا کریں گے؟ محض سر نگوں اور اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے ممالک میں ہجرت زدہ زندگی یا پھر آزاد ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے تاریخ میں ایستادہ ہونے کے لیے ”مزاحمت“ ۔
جی تو قارئین گرامی اوپر محض کوئی لفاظی یا ناول کی جذباتی داستان نہیں روئے زمین پر وقوع پذیر ہو رہی دنیا کی موجودہ عالمی طاقتوں کے اوسان خطا کر دینے والی مزاحمت غزہ میں جاری ہے۔ فلسطین کے مقبوضہ علاقہ رفح میں قبضہ کے خواب دیکھتی صہیونی فوجوں کے دستے 16 اکتوبر کو معمول کے مطابق بمباری سے کھنڈر زدہ عمارتوں کے ٹنوں ملبہ زدہ علاقے کو مزاحمت کاروں یعنی حماس کے جنگجوؤں سے صاف کرانے کے لئے آپریشن کر رہی ہوتی ہیں کہ اسی دوران ایک تباہ حال عمارت میں موجود تین مزاحمت کاروں سے صہیونی فوجوں کی مڈ بھیڑ ہوتی ہے۔ ٹینکوں، نگرانی اور میدان جنگ کے براہ راست مناظر دکھانے والے کیمرے و خود کار ہتھیاروں سے لیس آرٹیفیشل انٹیلی جینس زدہ ڈرون، میزائل و عصر حاضر کے جدید ترین تمام ممکنہ ہتھیاروں سے لیس صہیونی فوجوں کے دستے تین مزاحمت کاروں پر چڑھ دوڑتے ہیں مگر کم و بیش تیس گھنٹے تک مزاحمت کرنے والوں کی عزم و ہمت کی داستان صہیونی فوجوں نے ڈرون سے ریکارڈ کر کے خود ہی ساری دنیا کو دکھا دی، عالمی میڈیا پر مزاحمت کار حماس کے چیف یحییٰ السنوار کو شدید زخمی حالت میں صرف ایک ہاتھ کے ساتھ ایک چھڑی نما لکڑی سے ڈرون پر حملہ آور ہوتے دیکھا جا سکتا ہے اور یحییٰ السنوار کی زندگی کی اس آخری مزاحمت کو پوری دنیا میڈیا پر دیکھ چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کے دستے کو آپریشن کے بعد معلوم ہوا کہ معمول کی مڈ بھیڑ میں اتنی شدید مزاحمت کرنے والا کوئی اور نہیں یحییٰ السنوار ہی ہے۔ تو اسرائیلی فوج نے یحییٰ السنوار کی ڈیڈ باڈی کو بھی نا معلوم مقام پر منتقل کر کے محفوظ کر لیا ہے کہ ڈیڈ باڈی کے عوض حماس سے سودے بازی کر کے کچھ نہ کچھ حاصل کیا جا سکے یا کسی سطح پر بات منوانے کے لئے استعمال کیا جا سکے۔
یحییٰ السنوار کی دو بدو صف اول کے محاذ پر جسمانی زخموں سے چور، ایک ہاتھ کے بغیر، اور پورے جسم سے خون رستے ہوئے مگر پر سکون بغیر کسی خوف کے شائبہ تک کے انتہائی دیدہ دلیری اور جذبات سے بھر پور صوفہ پر بیٹھے ہوئے لکڑی سے ڈرون پر حملہ آور ہوتے آخری مزاحمت کی سنتالیس سیکنڈ کی ویڈیو نشر کر کے صہیونی فوجوں نے فلسطین و غزہ و حماس کے مزاحمت کاروں پر عالمی میڈیا میں کیے گئے گزشتہ ایک سال سے کردار کشی کے میڈیا ٹرائل کے مذموم منصوبے کو چاک کر دیا ہے۔ صہیونی فوجوں کی نشر کردہ سرویلنس ڈرون کی ویڈیو کے مطابق یحییٰ السنوار پناہ گاہوں و سرنگوں و انسانی آبادیوں و اسپتالوں سے دور میدان عمل و جنگ میں محض دو ساتھیوں کے ہمراہ برسر مزاحمت تھا۔ جبکہ اسرائیلی و عالمی میڈیا نے گزشتہ ایک سال سے یحییٰ السنوار کو اسرائیلی جنگی قیدیوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا دعویٰ کر رکھا تھا جبکہ صہیونی فوجوں کی شائع کردہ ویڈیو کے مطابق حماس سربراہ انسانی آبادی و جنگی قیدیوں سے دور میدان جنگ میں برسر مزاحمت تھا۔
عالمی صحافت میں گزشتہ دنوں سب سے زیادہ موضوع رہنے والی اس ویڈیو نے تاریخ میں اہم ترین جگہ بناتے ہوئے تاریخ انسانی کی سب سے زیادہ مضبوط عالمی طاقتوں و صہیونی فوجوں کے مذموم ہولناک و بھیانک ترین انسانی نسل کشی کی ذمہ دار فوجوں کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس زدہ سرویلنس و خودکار مشینی ہتھیاروں سے لیس ڈرون و ڈرون کو اڑان بھرانے والوں کو ایک شدید زخمی مزاحمت کار کو معمولی سے لکڑی کی چھڑی سے حملہ آور ہوتے ہوئے خوف زدہ ہوتے ہوئے بھی دکھایا۔ عالمی صحافت میں اسرائیل و دیگر عالمی طاقتوں کا السنوار کو بارہا مصر یا دوسرے کسی بھی ملک جانے کا مشورہ گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصہ سے دیا جا رہا تھا مگر السنوار نے مزاحمت کو ہی ترجیح دی، آپ السنوار کے طریقہ کار سے تو اختلاف کر سکتے ہیں مگر وطن کی محبت اور ناجائز اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کو جھٹلا نہیں سکتے۔ اور سنتالیس سیکنڈ کی نشر کردہ ویڈیو اسرائیل و عالمی میڈیا کے السنوار کے انسانی ڈھال استعمال کرنے اور اسرائیلی و عالمی اداروں کی ایک سال کی سیٹلائٹ سرچ اور اے آئی سرچ کے مطابق السنوار اسرائیلی قیدیوں کو ڈھال بنائے ہوئے تھا اور عالمی میڈیا کا یہ دعویٰ کہ السنوار فلسطینی اسپتالوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتا تھا مگر اسرائیلی فوج کی ہی نشر کردہ سنتالیس سیکنڈ کی ویڈیو نے اسرائیل و عالمی میڈیا کے تمام ایک سال کے دعوے اور پروپیگنڈا کو نیست و نابود کر دیا اور عالمی میڈیا میں السنوار کی آخری مزاحمت کو خوب پذیرائی اور موضوع بحث بنایا گیا۔
اس ویڈیو نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی فورسز غزہ میں کیسے نہتے مسلمانوں پر نسل کشی کے لئے حملہ آور ہوتی ہیں ترتیب میں پہلے ڈرون، پھر انسانی ڈھال کے طور پر فلسطینی قیدی، پھر ٹینک اور پھر فوجی دستے جبکہ ائر فورس اور سیٹلائیٹ سرویلنس اور مدد بھی ہمراہ ہوتی ہے۔ یہ تمام حقائق نیو یارک ٹائمز اور سی این این میں شائع و نشر ہو چکی ہیں۔ امریکی صحافی نک شیفون جو کہ فلسطین اسرائیل کے معاملات پر سب سے زیادہ با خبر و معتبر سمجھے جاتے ہیں کے مطابق السنوار کی معمول کی مڈ بھیڑ کے بعد شہادت امریکہ، جرمنی و دیگر عالمی طاقتوں و اسرائیل کی غزہ میں شدید ناکامی کا ثبوت ہے کہ اتنے وسائل رکھنے والی عالمی طاقتیں ایک سال تک چھوٹے سے علاقہ میں السنوار کو نہ ڈھونڈ پائیں اور السنوار ایک عام جنگجو کی طرح لڑتا رہا۔ جبکہ وسائل، ہتھیاروں اور سیٹلائیٹ و اے آئی سے لیس امریکی و اسرائیلی ادارے السنوار کو آغاز میں ہی ڈھونڈ لیتے۔
السنوار، حسن نصراللہ کے بعد مزاحمت رکنے اور ختم ہونے والی نہیں ہے بلکہ شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا اسماعیل ہانیہ کے بعد السنوار مزاحمت کو نہیں بڑھاتے رہے؟ کیا حسن نصراللہ کے بعد حزب اللہ کے میزائل اسرائیل کی اہم دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے رک گئے؟ کیا اسرائیلی فورسز کے خلاف غزہ کی کھنڈر ہوئی عمارتوں سے اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کرتے نوجوان و چھوٹے بچے ختم ہو گئے؟
دوسری طرف اسرائیل کی طرف سے غزہ پر حملے کو ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس ایک سال کے دوران اربوں ڈالرز کی لاگت مذکورہ نسل کشی کی مہم پر آ چکی ہے۔ امریکہ ستر ارب ڈالر تک کی فوجی امداد و جنگی آلات و ہتھیار اسرائیل کو دے چکا ہے۔
ایک سال گزرنے کے بعد اسرائیل و حواری ممالک کے عوام بارہا جلسے جلسوں سے جنگ بندی اور انسانی حقوق کے خلاف ورزی کے خلاف اپنی اپنی حکومتوں پر بھی دباؤ بنا رہے ہیں۔ بلکہ فلسطین اسرائیل جنگ امریکی صدارتی الیکشن پر بھی اثر انداز ہونے جا رہی ہے۔ کہ امریکہ کے اندر بھی بارہا مظاہرین امریکی ایوان نمائندگان اور حزب اختلاف سے جنگ بندی اور ہتھیاروں کی رسد و فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کرتے دیکھے گئے جبکہ صہیونی طبقوں کی مضبوط شراکت داری بھی امریکہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ اپنے بد ترین سال سے گزر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے حالات کو جنگ اور آنے والے وقت میں پھیلتی جنگ و جدل کے لئے ایندھن کے طور پر استعمال کرنے والی تمام عالمی طاقتیں یہ سوچ رہی ہیں کہ غزہ تو اسرائیل نے جدید اسلحہ، ٹینک، اے آئی لیس ڈرون و فضائیہ اور سیٹلائیٹ سہولیات کے ساتھ ایک دو ہفتوں میں فتح کر لینا تھا مگر ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی مزاحمت کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ اب طاقتور میدان جنگ میں مزید طاقت جھونکیں گے اور مشرق وسطیٰ میں خون کے دریا بہائیں گے اور غزہ و لبنان کے بعد شام، اردن، عراق اور ایران تک کو جنگ میں مبتلا کرنا چاہیں گے یا گزشتہ سال کی تاریخ سے سیکھنے کی کوشش کریں گے جو کہ طاقت کے اصول کے خلاف ہے۔


