ہر خبر سے باخبری یا نِری بے خبری


مائی نیم از کرسچن، یو آر واچنگ کینگرو انگلش؛ یہ انگلش سکھانے کا یوٹیوب چینل ہے جس میں سر کرسچن پڑھاتے ہیں۔ ان کے پڑھانے کا غیر روایتی انداز، باغیانہ بھی کیوں کہ انگریزی زبان سیکھنے سکھانے کے روایتی انداز کے چینلوں کے اساتذہ نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا کہ ہمارے قدیم طریقہ تدریس کو غلط کیوں کہتے ہو، حالانکہ سر کرسچن جو بھی ثابت کرتے ہیں وہ علم لسانیات کے تحقیقی مضامین کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ یہ بات بر سبیل تذکرہ نکل آئی سرِ دست موضوع یہ نہیں۔ ذخیرہ الفاظ (وکیبلری) کی ایک وڈیو میں سر کرسچن نے بتایا کہ آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کو اپنے کس قسم یا شعبے سے متعلق ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرنا ہے، ہر شعبے کے الفاظ آپ کی ضرورت یا کام کے نہیں۔

شعبہ ابلاغِ عامہ جامعہ کراچی کے استاد پروفیسر متین الرحمٰن مرتضٰی کا بڑا کام اسٹینلے جے بیرن کی کتاب ماس کمیونیکیشن تھیوری کا طالب علموں سے ترجمہ کرانا اور اسے مرتب کرنا ہے۔ اس کتاب کی انتہائی خاص بات یہ ہے کہ یہ میڈیا کے نظریات کو الگ سے پیش نہیں کرتی بلکہ یہ ان کا جائزہ زمانی و مکانی تناظر میں لیتی ہے۔ سائنسی و تکنیکی ایجادات، آبادیوں کی منتقلی، عالمی سیاسی منظرنامہ اور اس میں ابھرنے والا میڈیا کا کردار۔ سماجی عوامل و تبدیلیوں سے ربط اس کتاب کا خاصہ ہے۔ اس کتاب میں میڈیا کا پیش نامہ بندی ( ایجنڈا سیٹنگ ) کے نظریے کے مطابق ”ذرائع ابلاغ اکثر یہ بتانے میں تو کامیاب نہیں رہتے کہ لوگ کیا سوچیں مگر یہ باور کرانے میں حیرت انگیز طور پر کامیاب رہتے ہیں کہ انہیں کس بارے میں سوچنا چاہیے“ ۔

جس طرح بقول سر کرسچن ہر شعبے کی اصطلاحات جاننے کی ہر ایک کو ضرورت نہیں بالکل اسی طرح ہر اطلاع کی بھی عوام کو ضرورت نہیں۔ یہاں ذرائع ابلاغ کا دربان (گیٹ کیپر) کا نظریہ کام کرتا ہے کہ ہر نظریے کا دوسرے نظریے سے منطقی ربط ہی نہیں عملی تعلق بھی ہے۔ دربان (صحافی و مدیر) اپنا کردار سمجھیں، یہ کیا کہ ہر خبر دیے جا رہے ہیں اور اس گمراہ کن نعرے کو بزعم خود استعمال کرتے ہیں کہ ’ہر خبر پر نظر‘ ، ’ہر خبر سے باخبر‘ ؛ کس نے ان کے کان میں پھونک دیا کہ ہر خبر پہ نظر رکھیں یا ہر خبر سے اپنے قارئین و ناظرین کو باخبر کریں، اتنی باخبری بجائے خود بے خبری کی طرف لے جاتی ہے کہ آخر میں ہاتھ کچھ بھی نہیں آتا اور جو آتا ہے وہ یا تو کوئی ذہنی و عملی تبدیلی نہیں لاتا اور اگر لاتا ہے تو وہ فرد اور معاشرے کی سنوار کے بجائے بگاڑ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ عام آدمی پڑوسی، محلے، علاقے یہاں تک کہ گھر کے مسئلے بھول کر اگر اسرائیل فلسطین کے مسئلے پر دھواں دھار تقریر جھاڑتے ہوئے منہ سے کف اُڑا رہا ہے تو کیا آپ ایسے شہری کو باخبر اور باشعور ہونے کے لقب سے نوازیں گے۔

عام آدمی کا شعور اس کی ذمہ داریوں اور اس کی راہ میں آنے والی مشکلات اور ان مشکلات کے حل کا شعور ہے۔ سیاست دان وعدے کرتے ہیں، ذرائع ابلاغ ان کا پرچار کرتے ہیں، ساتھ میں خون کو گرم اور جذبات کو برہم رکھنے کے طریقے اختیار کرتے ہیں، عوام ان کے پیچھے یا اپنی لگی بندھی ڈگر پر چلتے رہتے ہیں، وہ پچھلی نسل جو اسلام اور اُردو کے نام پر ہجرت کے مصائب جھیل کر دکھی دل کے ساتھ اپنی جڑیں کھو کر آئی تھی، خالی جسم اور حیران آنکھوں کے ساتھ نئی اور پاک سرزمین پر دوسری نسل کو لسانی و فرقہ ورانہ جھگڑوں میں پروان چڑھتے دیکھا، اس نسل کے پیر ہی یہاں جھلسنے لگے ہیں تو اگلی پیڑھی کس طرف دیکھے گی؟ ہمارا معلوم سے نامعلوم کا سفر معلوم تک پہنچنے ہی نہیں دیا جا رہا، یہ کام کہیں انفرادی سطح پر ہو رہے ہیں لیکن وہ اجتماعی سطح پر خسارہ پورا نہیں کر سکتے، اس کے لیے ہر جمہوری و سیاسی مشینری کو اپنا اپنا کردار اپنے اپنے دائرے کار میں رہتے ہوئے ادا کرنا ہوتا ہے۔

یہاں نصاب اور میڈیا عوام کے ذہنوں کے لیے چکی کے دو پاٹ بن گئے ہیں جس میں اذہان، خیال، سوچ پس کر اور دب کر رہ گئی ہے۔ تعلیم اور میڈیا (جس زمانے میں جس بھی شکل میں تھا) بیک وقت ان دونوں کے کردار پر بات کرتا ہے۔ جان ڈیوی:

”جان ڈیوی اس بات پر زور دیتا ہے کہ عوام کی ابتدائی تعلیم بھی انہیں پروپیگنڈے کے مختلف طریقوں کی مزاحمت کے قابل بنا سکتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے کردار سے متعلق اس کا موقف ہے کہ وہ محض حالات ِ حاضرہ سے باخبر رکھنے کے علاوہ بھی کچھ کریں۔ مثلاً عوامی تعلیم اور مباحثوں کو فروغ دیں، شخصی سرگرمیوں کے بجائے نئے خیالات اور فلسفے کو زیادہ اہمیت دیں اور ناقدانہ سوچ کی صلاحیتوں اور اہم معاملات و مسائل کے بارے میں عوامی بحث و مباحثے کو نمایاں کریں“ ۔ (نظریات ابلاغ، مرتبہ پروفیسر متین الرحمن مرتضٰی، پروپیگنڈے کے دور میں ابلاغی نظریے کا عروج، ترجمہ و تدوین سعدیہ تبسم قریشی، صفحہ 61 )

دی بلیک ہول، ایک پاکستانی یو ٹیوب چینل جو سنجیدہ اور فکری موضوعات پر مذاکراتی پروگرام پیش کرتا ہے۔ ایک نشست جس کا موضوع تھا (یہاں اس کا ترجمہ کیا گیا ہے ) ”عدالتی اصلاحات یا گرفت؟ آئین ِ پاکستان میں 26 ویں آئینی ترمیم کے مضمرات“ ، اس نشست کے مہمان مذاکرین میں واحد قانون داں حامد راشد گوندل اور دیگر دو مہمان عون عباس، خرم شہزاد بشمول میزبان احمد اعجاز صحافی اور سیاسی و انتخابی تجزیہ کاران تھے۔ میں یہاں اپنی شعوری رو کی مناسبت سے ایک سوال اور اس کا جواب جو خرم شہزاد نے دیا، رقم کر رہی ہوں۔

سوال: بات یہ ہے کہ عدالتی اصلاحات ایک معمول کی کارروائی ہے لیکن جس طریقے سے اس کی ہائپ کرییٹ ہوتی ہے تو وہ کچھ کہانی سناتی ہے، اصلاحات ہی ہو رہی ہیں تو وہ کیوں اتنا ہماری بحث کا حصہ بن جاتی ہیں، ہمارے سماجی مباحث سارے پچھلے دو ڈھائی ماہ سے یہی ہو رہے ہیں اس کے علاوہ تو کوئی بحث ہی نہیں ہے تو میں یہ جاننا چاہ رہا ہوں کہ معمول کی کارروائیاں اور اصلاحات اس قدر متنازعہ شکل کیوں اختیار کر لیتی ہیں، بجائے اس کے کہ ہمارا سسٹم آگے کی طرف بڑھے ہماری کئی توانائیاں اس کی بحث کے اوپر صرف ہو جاتی ہیں؟

خرم شہزاد : ہم پاکستانی عوام چسکا لینے والے لوگ ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا جتنا بھی دنیا میں ہے شاید ہی کسی ملک میں اتنی سیاسی شہ سرخیاں لگتی ہیں جتنی ہمارے ہاں لگتی ہیں۔ وہاں شاید ایک شہر میں قتل ہو جائے گا تو وہ تو بڑی خبر ہو سکتی ہے لیکن پارلیمنٹ میں کیا ہو رہا ہے اس کی اتنی خبر نہیں ہوتی، وہاں عام لوگوں کی زندگیوں پر جس معاملے کا اثر ہونا ہے اس کو ڈسکس کیا جاتا ہے، لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایک عام دکان دار سے لے، آپ ایک گاؤں جاتے ہیں آپ کو کس قسم کے سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ایک عام انسان سے لے کر آرمی چیف صاحب تک کہ موسٹ پاور فل پرسن تو وہی ہیں اس ملک میں ان سب کو سیاست سے دل چسپی ہے، میڈیا کیٹر کرتا ہے لوگوں کی ضروریات کو، میڈیا سے لوگوں کی ڈیمانڈ ہے تو انہوں نے وہ کور کرنا ہے، جب انہوں نے وہ کور کرنا ہے تو وہ اس پر کام کریں گے اس کی چیزوں کو پھیلائیں گے، ہمارے سیاست دان بھی میڈیا کے ذریعے کھیلتے ہیں، ایک اور دل چسپ بات کہ ہم پاکستانی لوگوں میں بہ حیثیت مجموعی بات کر رہا ہوں، آف کورس ایکسیپشنز آر آل ویز دیئر، لیکن بہ حیثیت مجموعی جو تاثر ہے، ہم خود غرض قسم کے لوگ ہیں، جو بھی ہم فیصلہ لیتے ہیں، جو بھی قدم اٹھاتے ہیں وہ سیلف سینٹرک ہوتا ہے کہ بھئی اس میں مجھے کیا مل رہا ہے، اس میں میرا کیا فائدہ ہے، اب اسی ترمیم کی مثال لے لیں شاید ہی کسی پارٹی نے بالکل اسے قانون کے تحت دیکھا ہو گا کہ ہم یہ کر لیں تو اس سے یہ بہتری آ جائے گی (میزبان درمیان میں لقمہ دیتے ہوئے کہ مولانا فضل الرحمن تو بڑا دعویٰ کرتے ہیں کہ اسے ہماری پارٹی نے بڑا دیکھا ہے، خرم شہزاد بات مکمل کرتے ہوئے ) دیکھا تو سب ہی نے ہے، بلاول نے ڈرافٹ دیکھا ہے، پی ٹی آئی نے اس پر بات چیت کی ہے، مذاکرات کے کئی دور ہوئے ہیں، لیکن انہوں نے ووٹ کیوں کیا اور کیوں نہیں کیا؟ کیا ان کے پیش نظر یہ تھا کہ ملک میں قانونی نظام بہت اچھا ہونا چاہیے؟ وہ ساری سرگرمیاں سیلف سینٹرک ہوتی ہیں، مینوں کی ملے گا، شاید میں غلط ہوں لیکن میرا یہی خیال ہے۔

اس سے قبل اپنی گفتگو کی ابتدا میں خرم شہزاد صاحب نے اس حدیث کا حوالہ دیا تھا کہ انما لاعمال بالنیات۔ میں خرم شہزاد صاحب کے جواب سے نوے فی صد اتفاق کرتی ہوں، بس ایک وہاں جہاں وہ یہ کہتے ہیں کہ میڈیا عوام کی خواہش پر چلتاہے۔ کیا ہمارا میڈیا بین الاقوامی میڈیا کی طرح ایجنڈا سیٹنگ سے آگے بڑھ کر ایجنڈا بلڈنگ کا کردار ادا نہیں کر سکتا؟ لیکن بات وہی ہے جو خرم شہزاد صاحب نے کہا کہ اس میں پھر انہیں کیا ملے گا۔ لیکن کیا میڈیا دہری ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا کہ حکومتی ایجنڈے کے ساتھ عوامی ایجنڈے کا بھی دعوے دار بن جائے۔ عوام کا چسکا بدلنے میں وقت لگے گا لیکن قدم تو اٹھایا ہی جاسکتا ہے یا ان ہائپوں کا مداوا اور تدارک بقول جان ڈیوی تعلیم کرے گی تو تعلیم نظام کی بہتری کے لیے کس کی طرف دیکھیں؟

Facebook Comments HS