فرینکفرٹ اور ہائیڈل برگ کی سیر کا احوال


جرمنی اقوامِ متحدہ نیٹو اور جی ایٹ کا رُکن ہے۔ یہ یورپ کا سب سے زیادہ آبادی والا، سب سے طاقتور اور دنیا کی تیسری بڑی معیشت رکھنے والا ملک ہے۔ اس میں 16 ریاستیں ہیں۔ قومی زبان جرمن ہے اور جرمن زبان میں جرمنی کا نام ڈوئچے لینڈ ہے۔ اس کے شمال میں بحر منجمد شمالی، ڈنمارک اور بحر بالٹک مشرق میں پولینڈ اور چیک جمہوریہ جنوب میں آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ اور مغرب میں فرانس، لکسمبرگ، بلجیم اور نیدرلینڈ واقع ہیں۔ اس کی کل آبادی تراسی ملین اور رقبہ 357386 مربع کلومیٹر ہے۔ کسی زمانے میں جرمنی کو شاعروں اور فلاسفروں کا ملک کہا جاتا تھا۔ جرمن رائٹرز 13 نوبل پرائز جیت چکے ہیں۔

ہٹلر جرمن قوم کا ایک مشہور و معروف سیاسی راہنما اور حکومتی سربراہ تھا۔ جس نے اس قوم کو یہ بات ذہن نشین کرائی کہ جرمن قوم دنیا پر حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوئی ہے۔ اسی نظریے کو عملی شکل دینے کے لئے اس نے پوری دنیا سے جنگ چھیڑ دی۔ جو جنگ عظم دوم کہلاتی ہے۔ 1944 ء میں اس جنگ میں جرمنی کو شکست فاش ہوئی تو فاتح اقوام نے اس کے حصے بخرے کر کے آپس میں بندر بانٹ کر لی لیکن جرمن قوم نے ہمت نہیں ہاری۔ دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت شاقہ سے کام لیتے رہے اور آج جرمنی دنیا میں گاڑیاں بنانے والا مشہور ملک ہے۔ ووکس ویگن، بی ایم ڈبلیو، مرسیڈیز اور آڈی جیسی مشہور و معروف گاڑیوں کے برانڈ بھی جرمنی کے ہی ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں یہاں ہی چھاپی جاتی ہیں۔

معیشت کے لحاظ سے یورپ کا مضبوط ترین ملک ہے۔ جرمنی میں لوگوں کی اوسط عمر کی شرح کافی بلند ہے۔ عورتوں کی اوسط عمر 83 اور مردوں کی عمر 78 سال ہے۔ جرمنی میں اگر کوئی قیدی جیل سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے تو اُسے کوئی سزا نہیں دی جاتی کیوں کہ اُن کے نزدیک آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

جرمنی میں اتوار کا دن قانوناً صرف آرام کا دن ہے۔ اس لیے اتوار کو کوئی بھی لان کی صفائی اور کٹائی نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی ایسا دوسرا کام کر سکتا ہے جس سے شور پید اہو اور اس شور کی بدولت اس کے ہمسائے ڈسٹرب ہوں۔

جرمن بنیادی طور پر روایت پسند قوم ہیں۔ فرینکفرٹ جرمنی کا پانچواں بڑا شہر ہے۔ یہ براعظم یورپ کا سب سے بڑا مالیاتی مرکز ہے۔ اسی لیے فرینکفرٹ کا ائر پورٹ دنیا کے مصروف ترین انٹرنیشنل ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔

مجھے یورپ آئے ہوئے دو تین ہفتے گزر چکے تھے کہ فرینکفرٹ جرمنی سے راشد کا فون موصول ہوا۔ راشد میرا سٹوڈنٹ رہا ہے۔ وہ یو ای ٹی سے انجینئرنگ کرنے کے بعد جرمنی میں ایم ایس سی کرنے آ گیا تھا۔ اس نے ایم ایس سی سٹٹ گارٹ یونیورسٹی سے انوائرمنٹل پراسس انجینئرنگ میں 2007۔ 2005 کے سیشن میں کی۔ پھر یہیں سے ہی 2012۔ 2008 کے سیشن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سٹٹ گارٹ سٹی جرمنی کا ایک قدیم شہر ہے جو دسویں صدی عیسوی سے موجود ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں سے گھرا ہوا پیالے کی شکل کا ایک بہت ہی خوبصورت شہر ہے۔ سٹی سنٹر یہاں پر پہاڑوں سے گھری ہوئی ایک خوبصورت بلڈنگ ہے۔ یہ شہر اپنے تعلیمی اداروں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ راشد نے یہیں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد جرمنی میں ہی رہائش اختیار کر لی۔ آج کل وہ فرینکفرٹ میں ایل جی گروپ کی ایک کورین کمپنی میں ملازمت کر رہا ہے۔ جو الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بیٹریاں بنانے کا کام کرتی ہے اور یہیں پر ہی اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر بھی ہے۔ وہ فون پر مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ آپ خود ہی میرے پاس یہاں پہنچ جائیں گے یا آپ کو آ کر لے جاؤں۔

اس نے درمیان میں نہ کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی تھی۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں آپ کو بتاتا ہوں۔ عمیر سے بات کی تو وہ بولا کہ کوئی بات نہیں یہ سارا دو اڑھائی گھنٹوں کا فاصلہ ہے۔ ہم کسی بھی ویک اینڈ پر آسانی سے وہاں جا سکتے ہیں۔ یہاں پر فاصلے کی پیمائش کلومیٹروں اور میلوں کی بجائے عموماً گھنٹوں میں کی جاتی ہے۔ ہم نے اس ویک اینڈ پر فرینکفرٹ جانے کا پروگرام فائنل کر کے راشد کو اس بارے میں مطلع کر دیا۔

ہفتے کے دن گیارہ ساڑھے گیارہ بجے گھر سے نکلے۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد اردگرد کی پہاڑیوں پر گھومنے والے بڑے پنکھوں کی موجودگی نے ہمیں اس بات کا احساس دلا دیا کہ ہم جرمنی میں داخل ہو چکے ہیں۔ جہاں پر ان گھومتے ہوئے بڑے بڑے پنکھوں کی مدد سے ہوا کی توانائی کو مفت میں بجلی کی توانائی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں پر سولر سسٹم لگانے کے لیے عوام الناس کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ حکومت باقاعدہ طور پر سبسڈی کی صورت میں اُن کی مدد بھی کرتی ہے۔ اسی طرح الیکٹرک گاڑیاں بنانے اور اُن کے خریدنے میں بھی حکومت لوگوں کی سہولت کاری کرتی ہے۔ پورے یورپ میں ہی بارش کافی ہوتی ہے اور دھوپ کم نکلتی ہے۔ اس کے باوجود سولر سسٹم کی گھریلو سطح پر تنصیب کے سلسلے میں حکومتیں عوام الناس کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور انہیں باقاعدہ طور پر مالی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔

ہم لوگ راستے میں رُکتے ہوئے تقریباً اڑھائی بجے کے قریب فرینکفرٹ میں راشد کے گھر پہنچ گئے۔ وہ سڑک پر ہی ہمارا منتظر تھا۔ گھر گئے کھانا تیا ر تھا۔ پروگرام یہ تھا کہ کھانے کے بعد ہائیڈل برگ جائیں گے۔ جو یہاں سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ایک تاریخی شہر ہے۔ ہائیڈل برگ پہنچے تو وہاں پر فیسٹیول چل رہا تھا۔ وہی میلے کا سماں تھا لوگوں کی بھیڑ ایسی کہ کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ ہمارے ہاں سپرنگ فیسٹیول لگتے ہیں۔ یہاں پر آٹم فیسٹیول چل رہا تھا۔ کچھ لوگ اسے بئیر فیسٹیول کا نام دے رہے تھے۔ چھوٹی چھوٹی کھانے پینے کی بے شمار دکانیں عارضی طور پر لگائی گئی تھیں۔ لوگوں کی اکثریت یہاں پر کھاتی پیتی نظر آ رہی تھی۔ دریائے نیکر اس شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ دریا کے دونوں طرف ہی میلے کی رونق موجود تھی۔ دریا پر ایک بہت پرانا تاریخی پل ہے۔ اس پل پر بھی لوگوں کی بہت بھیڑ تھی۔

رات کو یہاں سے ہائیڈل برگ کے تاریخی قلعے کا محل روشنیوں میں نہایا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ خوبصورت اور روشن محل پر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی کی ایک واضح مثال ہے۔ ہمیں اس بات کا کبھی اندازہ نہ ہوتا اگر ہم یہاں آنے سے پہلے اس قلعے میں جاکر اس کی حقیقت سے آگاہی نہ حاصل کر چکے ہوتے۔ دراصل اس محل کا صرف سامنے سے نظر آنے والا حصہ ہی سلامت ہے۔ باقی سارا محل بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ جسے ہم یہاں آنے سے پہلے قلعے میں جاکر دیکھ چکے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک آبادی ہے جہاں پر علامہ اقبال جرمنی میں اپنے قیام کے دوران ٹھہرے رہے۔ اس کا نام (Neue Hiemer) نیو ہائمر ہے۔ ہم نے بڑی آسانی سے وہ گھر بھی تلاش کر لیا۔ جس کی دیوار پر ایک پلیٹ لگی ہوئی ہے جس پر یہی بات تحریر ہے۔ وہاں پر کھڑے ہو کر ہم نے تصویریں بھی بنوائیں۔ اس کے بعد دریائے نیکر کے قدیم پل پر واپس آ گئے۔ یہ بہت بڑا دریا ہے اور ٹرانسپورٹیشن میں بڑا ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔ دریا کے ذریعے کی جانے والی ٹرانسپورٹیشن بہت ہی سستی پڑتی ہے اور جب دریا میں پانی میں کمی کی وجہ سے یہ آبی نقل و حمل بند ہوجاتی ہے۔ تو یہاں پر چیزوں کی قیمتوں میں بھی اسی حساب سے اضافہ ہوجاتا ہے۔ ہم لوگ کافی دیر تک میلے کی اس بھیڑ بھاڑ میں پھرتے لکسمبرگ میں پائی جانے والی عمومی بے رونقی کا ازالہ کرتے رہے۔

تقریباً آٹھ بجے یہاں سے واپسی ہوئی۔ فرینکفرٹ پہنچ کر کھانے کے لیے ایک ہوٹل میں جا بیٹھے۔ اپنے غیرملکی ٹورز کے دوران مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ انسان کا پینڈو پن اس کے اندر سے کبھی نہیں نکلتا۔ چاہے وہ ساری دنیا ہی کیوں نہ گھوم پھر لے اور ہمارا بھی یہی حال ہے۔ قدم قدم پر انتہائی کوشش کے باوجود اسے چھپایا نہیں جاسکتا۔ یہاں بھی ایسے ہی ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہی ہماری میز مختلف قسم کی چٹنیوں اور سلادوں سے بھر دی گئی اور ساتھ ہی گرما گرم نان بھی لاکر رکھ دیے۔ اب سبھی لوگوں نے چٹنیوں، مکھن اور پنیر کے ساتھ نان کھانا شروع کر دیے۔ ظاہر ہے کہ میں نے بھی اُن کی تقلید کی میرا خیال تھا کہ کھانا آ چکا ہے۔ اس لیے میں نے اسی حساب سے کھانا شروع کر دیا اور جب چاول، کباب، تکے اور سالن کی صورت میں کھانے سے بھری ہوئی ٹرے اور ڈونگے میز پر آئے تو میں تقریباً کھانے کے اختتامی مرحلے پر تھا۔ بہر حال آہستہ آہستہ باقی لوگوں کا ساتھ دیتا رہا۔ یہاں سے فارغ ہو کر ہم لوگ واپس گھر پہنچ گئے۔

فرینکفرٹ آنے سے پہلے عمیر نے یہاں پر قیام کے لیے ہوٹل میں ایک عدد کمرہ بک کروا لیا تھا لیکن جب راشد کو پتہ چلا کہ ہم لوگ رات ہوٹل میں قیام کریں گے تو اس نے نہایت اپنائیت سے اصرار کیا کہ آپ لوگ رات کو ہمارے ساتھ ہی ہمارے گھر میں قیام کریں گے اور اس طرح کھانے کے بعد ہم لوگ اس کے گھر چلے آئے۔ راشد تو خیر میرا سٹوڈنٹ تھا اور میرے سٹوڈنٹس کا میرے ساتھ رویہ ہمیشہ سے ہی بہت مودبانہ اور محبت بھرا ہوتا ہے۔ راشد کے والد مرحوم شریف بھٹی میرے بہت اچھے دوست بھی تھے اور اُن کے گھر میں ہمارا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ اس لیے اس کے ساتھ تو میری بے تکلفی پہلے سے ہی تھی۔ لیکن اس کی اہلیہ مریم کے ساتھ ایک لمحے کے لیے بھی اجنبیت اور تکلف کا احساس نہیں ہوا۔ اس کا رویہ حسن سلوک اور طرز تکلم میرے ساتھ بالکل ایسے ہی تھا جیسے ایک بیٹی کا اپنے باپ کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ بھی مجھے آمنہ، اصفیٰ اور مائرہ کی طرح اپنی بیٹی ہی محسوس ہو رہی تھی۔ زینب اور خالد ان کے دو پیارے پیارے بچے ہیں وہ بھی سارا دن ہی ہمارے ساتھ گھومتے پھرتے رہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس خاندان کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ خوش و خرم رکھے اور نیک نصیب کرے۔

اگلے دن ناشتے کے بعد ہم لوگ فرینکفرٹ شہر کے پرانے علاقے میں موجود تھے۔ میلہ یہاں بھی چل رہا تھا۔ ایک مداری اپنے کرتب دکھا رہا تھا۔ وہی پانچ چھ گولوں کو گرائے بغیر اُوپر اچھالنا، منہ میں مٹی کا تیل بھر کر آگ نکالنا اور ایک بچہ جمورا سامنے بٹھا کر مختلف کرتب دکھانا سب کچھ ایسے ہی ہو رہا تھا۔ جیسے عموماً میلوں ٹھیلوں میں وطنِ عزیز میں ہوا کرتا ہے۔ بہرحال کافی دیر تک ہم لوگ یہاں گھومتے پھرتے رہے۔ شام کو واپس گھر آئے اور کھانا کھا کر لکسمبرگ واپسی کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور رات دس ساڑھے دس بجے واپس اپنے گھر پہنچ گئے۔

Facebook Comments HS