چند دن جاپان میں!


میں گہری نیند میں تھی جب ایک جھٹکا محسوس ہوا اور میری آنکھ کھل گئی۔ چند لمحوں میں حواس بحال ہوئے تو یاد آیا کہ میں جہاز کی نشست سے بندھی بیٹھی ہوں۔ پائیلٹ نے کسی اناڑی کی طرح ایک جھٹکے سے لینڈنگ کی تھی۔ جہاز تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے سوورن بھومی ائر پورٹ پر پہنچ چکا تھا۔ میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ ڈالی۔ ساڑھے چار گھنٹے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ پتہ چلتا بھی کیسے۔ میں سارا راستہ سوتی رہی تھی۔

گزشتہ رات میں فقط دو گھنٹے سوئی تھی۔ عادت میری یہ ہے کہ بیرون ملک سفر درپیش ہو تو میں ایک رات پہلے سونے سے گریز کرتی ہوں۔ دوران پرواز گھنٹوں سوئی رہتی ہوں اور اس طرح طویل سفر نہایت سہولت سے گزر جاتا ہے۔ بنکاک ائر پورٹ پر چند گھنٹے پڑاؤ (سٹاپ اوور) کے بعد مجھے جاپان کے لئے روانہ ہونا تھا۔ جاپان۔ جسے چڑھتے سورج کی سر زمین کہا جاتا ہے۔ غالباً اس وجہ سے کہ اس کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن میں سورج سب سے پہلے طلوع ہوتا ہے۔

جاپان، جس نے دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کے ایٹمی حملوں سے تباہ ہونے کے بعد نہایت تیز رفتاری سے ترقی کی اور دنیا کی معاشی طاقت بن کر ابھرا۔ جاپان، جس کی گاڑیاں، جس کی الیکٹرانک مصنوعات، جس کی جدید ٹیکنالوجی دنیا بھر میں مشہور ہے۔ جاپان جانے پر میں خوش تھی۔ ایک وجہ یہ کہ مجھے سیر و سیاحت سے خاص رغبت ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ہر دو تین مہینوں کے بعد کسی نئے سفر پر نکل پڑوں۔ نئی جگہوں کو دیکھنا۔ مختلف رنگ و نسل کے لوگوں سے ملنا۔ ان کے طرز رہن سہن کا مشاہدہ کرنا، مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔

سفر کو یوں بھی وسیلہ ظفر کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل میں کچھ ملکوں کا سفر کر چکی ہوں۔ تاہم اس مرتبہ میں کچھ زیادہ پرجوش تھی۔ نہ صرف میں بلکہ میری بہنیں بھی۔ جاپان کے نام سے ہمارے بچپن کی یادیں وابستہ ہیں۔ میرے والد نے کئی برس جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں گزارے۔ وہ ہاتھ سے بنے قالینوں کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ سال میں کئی بار پاکستان آتے اور جاپان جاتے۔ ان کے جاپانی دوست ہمارے گھر ٹھہرا کرتے۔ ہمارا گھر جاپانی اشیاء سے بھرا رہتا۔ اس زمانے کو برسوں بیت چکے ہیں۔ مگر آج بھی پاکستان میں الیکٹرانک کی وہ چیزیں دستیاب نہیں ہیں جو تیس چالیس برس پہلے میرے والد جاپان سے لایا کرتے تھے۔ جاپان واقعتاً ٹیکنالوجی میں دنیا سے کہیں آگے ہے۔

جاپان جانے کی بات چلی تو یہ جان کر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ جاپان کے ویزہ کی کوئی فیس نہیں ہے۔ آپ مطلوبہ دستاویزات جمع کروائیں اور آپ کو ویزہ مل جائے گا۔ یہ بات مجھے بہت اچھی لگی۔ جاپان کوئی عام ملک نہیں ہے۔ پاسپورٹوں کی عالمی درجہ بندی میں اس ملک کا پاسپورٹ پہلے نمبر پر آتا ہے۔ یعنی یہ دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ ہے۔ جاپان کے ویزہ کی بھی خاص اہمیت ہے۔ ویزہ فیس کا نہ ہونا جاپان اور پاکستان کے مابین اچھے تعلقات کا غماز ہے۔ یہ صورتحال دیکھ کر مجھے ان ممالک کا خیال آیا جن کی دوستی کا ہم دم بھرتے ہیں، ان کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات کی مثالیں دیتے ہیں، لیکن ان ممالک کے ویزوں کی ہمیں اچھی خاصی فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔ بہرحال، پاکستانیوں کے لئے جاپان کے ویزہ فیس کا استثنا واقعتاً قابل تعریف ہے۔

مجھے ایک علمی کانفرنس میں شرکت کے لئے جاپان کے شہر کیوٹو جانا تھا۔ کیوٹو روایتی جاپانی تہذیب، جاپانی باغوں، مندروں اور مزاروں کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ میں نے کانفرنس کے مقام کے قریب ترین ایک ہوٹل بک کروا رکھا تھا۔ ارادہ تھا کہ کانفرنس سے فراغت کے بعد ٹوکیو سمیت جاپان کے کچھ شہروں کی سیر و سیاحت کرنی ہے۔ میری عادت ہے کہ بیرون ملک سفر پر جانے سے پہلے میں اس ملک اور علاقے کے حوالے سے کچھ ضروری تحقیق کر لیتی ہوں۔

ہوائی اڈے سے ہوٹل تک کے راستوں کے متعلق واقفیت حاصل کرتی ہوں۔ ٹیکسی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے بارے میں معلومات لیتی ہوں۔ متعلقہ ملک یا علاقے میں دوران سفر جن احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھنے کی نصیحت ملتی ہے ان کو ذہن نشین کرتی ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔ تاہم اس مرتبہ دفتری اور گھریلو مصروفیات مجھ پر غالب رہیں۔ میں ڈھنگ سے تحقیق کر سکی اور نہ تیاری۔ یہاں تک کہ جاپان کے موسم اور درجہ حرارت کا حال بھی معلوم نہیں کیا۔

جاپان جانے کی خوشی سے قطع نظر، ایک بے یقینی کی کیفیت مجھ پر طاری تھی۔ خیال آتا تھا کہ شاید جاپان کے سفر کی نوبت ہی نہیں آنی۔ میں ہر طرح کی تیاری سے بے نیاز اپنے دفتری اور گھریلو امور نمٹاتی رہی، یہاں تک کہ روانگی کا دن آن پہنچا۔ آخری آٹھ دس گھنٹوں میں تیاری کی اور ائر پورٹ کے لئے روانہ ہو گئی۔ میں نے دیکھا ہے کہ میری خواتین کولیگز کو سفر درپیش ہوتا ہے تو انہیں اپنے بچوں کی فکر ستاتی ہے۔ اللہ کے فضل سے میں اس فکر سے بے نیاز ہوں۔ میری دونوں چھوٹی بچیاں اپنی خالاؤں کے ساتھ نہایت سہولت سے رہ لیتی ہیں۔ میں نہایت بے فکری سے کسی بھی سفر پر روانہ ہو جاتی ہوں۔

بنکاک کے سوورن بھومی ہوائی اڈے پر مجھے چند گھنٹے گزارنے تھے۔ یہ ایک خوبصورت ائر پورٹ ہے۔ صاف ستھرا۔ با رونق۔ عمدہ شاپنگ ایریا اور ریستوران یہاں موجود ہیں۔ کچھ گھنٹے ائر پورٹ پر گھومنے پھرنے کے بعد میں اپنے گیٹ کے سامنے آن بیٹھی۔ فلائیٹ کی روانگی کے لئے قطار میں لگی۔ ارد گرد نگاہ ڈالی تو زیادہ تر جاپانی اور دیگر غیر ملکی مسافر دکھائی دیے۔ دو آدمی اردو میں بات کرتے نظر آئے۔ میں ٹھیک سے سمجھ نہیں سکی کہ وہ پاکستانی ہیں یا بھارتی۔

دوران پرواز میں سوتی، جاگتی رہی۔ نہایت افسردگی سے تھائی ائر لائن کا موازنہ قومی ائر لائن پی۔ آئی۔ اے سے کرتی رہی۔ پانچ گھنٹے کی پرواز کے بعد جہاز نے جاپان کے شہر اوساکا کے کانسائی ائر پورٹ پر لینڈ کیا۔ یہ ایک منفرد ہوائی اڈا ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ دنیا کا پہلا ائر پورٹ ہے جسے سمندر پر تعمیر کیا گیا ہے۔ میں کہیں پڑھ رہی تھی کہ یہ دنیا کا واحد ائر پورٹ ہے جہاں تیس سالوں میں کسی مسافر کا سامان گم نہیں ہوا۔ ائر پورٹ بالکل ایسا تھا جیسا جاپان کے ائر پورٹ کو ہونا چاہیے۔ ہر شے بالکل ترتیب میں تھی۔ چند منٹوں میں سامان بیلٹ پر موجود تھا۔ امیگریشن کے لئے طویل قطاریں نہیں تھیں۔ فقط چند منٹ انتظار کرنا پڑا۔ امیگریشن افسر نے جاپان آنے کا مقصد دریافت کیا۔ قیام کا دورانیہ پوچھا۔ اور پاسپورٹ پر ٹھپا لگا دیا۔

عمومی طور پر کسی دوسرے ملک کے ہوائی اڈے سے باہر نکلوں تو مجھ پر ہوٹل پہنچنے کی فکر سوار ہوتی ہے۔ کوشش ہوتی ہے کہ جلد از جلد ٹیکسی لوں اور اپنے ٹھکانے پر جا پہنچوں۔ مجھے اوساکا سے کیوٹو پہنچنا تھا۔ میرا ہوٹل کانسائی ائر پورٹ سے کم و بیش ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ اس کے باوجود میں ائر پورٹ سے نکلتے وقت نہایت بے فکر تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ ائر پورٹ کے باہر کوئی میرا منتظر ہے۔ باہر آئی تو سینکڑوں جاپانیوں میں ایک پاکستانی چہرہ دکھائی دیا۔ یہ علی زیدی صاحب تھے۔ آپ اوساکا میں ایک معروف پاکستانی ریستوران کے مالک ہیں۔ ابتدائی سلام دعا کے بعد علی صاحب نے آگے بڑھ کر میرے سامان کی ٹرالی تھام لی۔ سامان اپنی گاڑی میں رکھا اور ہم کیوٹو کی طرف روانہ ہو گئے۔

جاپان جانے کا ارادہ بندھا تو پہلا رابطہ ملک نور اعوان صاحب سے ہوا۔ آپ برسوں سے ٹوکیو میں مقیم ہیں اور معروف بزنس مین ہیں۔ ملک صاحب نے مجھے اساکا کے کانسائی ہوائی اڈے سے لینے، جاپان کے دو شہر یعنی کیوٹو اور اساکا میں گھمانے پھرانے کی ذمہ داری علی زید ی صاحب کو سونپ رکھی تھی۔ اساکا سے کیوٹو پہنچے تو علی صاحب نے گاڑی ایک معروف ایرانی ریستوران کے سامنے روکی۔ ایرانی ڈش ماہی چن، کباب اور میٹھی لسی سے واضح کی۔

اس کے بعد ہوٹل تلاش کیا اور وہاں پہنچے۔ اگرچہ میں اکیلے سفر کرنے کی عادی ہوں۔ تاہم سچ یہ ہے کہ علی صاحب ساتھ نہ ہوتے تو مجھے اپنے مطلوبہ ہوٹل کی تلاش میں کافی دقت پیش آتی۔ وجہ یہ کہ جاپانی لوگ کم ہی انگریزی زبان سے واقفیت رکھتے ہیں۔ ہوٹل ریسپشن پر ادائیگی کرنے کے بعد میں اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کمرہ اچھا تھا۔ کشادہ۔ جاپانی رہن سہن کا عکاس۔ دو منزلہ ڈبل بیڈ پر مشتمل۔ سامان رکھنے کے بعد ، ہم دونوں پیدل کانفرنس کے مقام تک پہنچے۔ اس مشق کا مقصد یہ تھا کہ کل صبح یہاں پہنچنے میں مجھے کسی قسم کی دقت نہ ہو۔

اگلی صبح میں کیوٹو ریسرچ پارک پہنچی۔ یہ پارک یا سنٹر کئی دیو قامت عمارتوں پر مشتمل ہے۔ میری کانفرنس عمارت نمبر ایک میں تھی۔ کانفرنس میں 32 ممالک کے نمائندے اور وفود شریک تھے۔ ایک بھارتی خاتون بھی موجود تھی۔ پاکستان کی نمائندگی کرنا مجھے ہمیشہ کی طرح بہت اچھا لگا۔ میرے مقالے کا موضوع پاکستان میں صحافیوں کو درپیش مسائل تھے۔ میں نے صحافیوں کو درپیش معاشی مشکلات کا ذکر کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ تربیت اور ڈیوٹی کے دوران حفاظتی اقدامات کی کمی کا تذکرہ کیا۔

وغیرہ وغیرہ۔ پتہ یہ چلا کہ دیگر ترقی پذیر ممالک میں بھی یہ مسائل موجود ہیں۔ دوسرے ممالک کے محققین کو سننے کے بعد اندازہ ہوا کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی استعمال سے سب ہی نالاں ہیں۔ جعلی خبروں اور غلط معلومات کی ترسیل سے بھی بہت سے ممالک پریشان ہیں۔ بیرون ملک ہونے والے کسی اجتماع یا میل ملاقات میں مجھے علمی اور کتابی گفتگو سے زیادہ دوسرے رنگ و نسل اور اقوام کے لوگوں کے سیاسی، سماجی، اور معاشی حالات جاننے میں دلچسپی ہوتی ہے۔ اس ضمن میں یہ کانفرنس اچھی رہی۔ اجنبی لوگوں سے گفتگو کر کے مجھے کچھ نئی باتیں معلوم ہوئیں۔

جس دن میں پاکستان سے چلی تھی تو اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کا ہنگامہ تھا۔ روس، چین، قازقستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلا روس کے وزرائے اعظم پاکستان آرہے تھے۔ بھارتی وزیر خارجہ سمیت کئی دوسرے ممالک کے نمائندے نے بھی شریک ہونا تھا۔ اپنے ہوٹل واپس آ کر میں انٹرنیٹ کے ذریعے پاکستانی میڈیا کا جائزہ لیتی تو یہ مناظر مجھے اچھے لگتے۔ تاہم یہ دیکھ کر نہایت افسوس ہوتا کہ اس مثبت سرگرمی پر منفی تبصرے کرنے والا ایک قبیلہ بھی متحرک ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ پروپیگنڈا ہو رہا تھا کہ یہ ایک بے کار سرگرمی ہے۔ کچھ لوگوں کو اعتراض تھا اخبارات میں خوش آمدیدی اشتہارات کیوں جاری ہوئے ہیں۔ یا غیر ملکی مہمانوں کے لئے ظہرانوں اور عشائیوں کا اہتمام کیوں ہو رہا ہے۔ ملک سے دور بیٹھی میں سوچتی رہی کہ کیا سیاسی پسند نا پسند اتنی اہم ہوتی ہے کہ اس کے لئے قومی مفاد کو بالائے طاق رکھ دیا جائے۔ میں دعا کرتی کہ اللہ پاک میرے ملک کو منفی عناصر سے محفوظ رکھے۔

آمین۔ مجھے نہایت خوش ہوئی جب ایک دن کانفرنس میں چائے کے وقفے کے دوران ایک روسی لڑکی نے مجھ سے شنگھائی کانفرنس کا ذکر کیا۔ میں نے بھی خطے کی ترقی اور علاقائی تعلقات کے تناظر میں اس اکٹھ کی اہمیت پر چند روایتی جملے کہہ ڈالے۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان پاکستان کا مثبت تذکرہ میرے لئے واقعتاً خوشی کا باعث تھا۔

کچھ دن میں نے کانفرنس اٹینڈ کی اور ساتھ ہی ساتھ کیوٹو شہر کی سیاحت بھی کی۔ علی بھائی کی مہربانی کہ وہ مجھے یہ شہر دکھانے کی خاطر ایک گھنٹہ کی مسافت طے کر کے اوساکا سے کیوٹو آتے رہے۔ معمول یہ تھا کہ صبح صبح میں تیار ہوتی اور پیدل کانفرنس میں جانے کے لئے نکل پڑتی۔ کانفرنس کا مقام میرے ہوٹل سے دس پندرہ منٹ کی دوری پر تھا۔ جب بھی فرصت ملتی میں اس علاقے میں گھومتی رہتی۔ صاف ستھری گلیاں اور بازار۔ جاپانی طرز کے گھر۔

جگہ جگہ کھڑے ٹریفک سارجنٹ۔ سائیکل چلاتے مرد اور خواتین۔ جھکی کمر والے پیدل چلتے عمر رسیدہ جاپانی مر اور خواتین۔ یہ سب دیکھنا مجھے نہایت دلچسپ لگتا۔ کسی دوسرے ملک جاؤں تو مجھے وہاں کی صفائی، نظم و ضبط اور ترتیب متاثر کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ احساس کہ آپ بالکل محفوظ ہیں۔ میری عادت ہے کہ اپنا پاسپورٹ اور ساری کرنسی ہوٹل میں چھوڑنے کے بجائے اپنی جیکٹ کی جیب میں رکھتی ہوں۔ کتنا اچھا لگتا ہے کہ ان محفوظ اور پرسکون ممالک میں چلتے پھرتے اکیلی خاتون کو کسی چھینا جھپٹی کا اندیشہ نہیں ہوتا۔

ایک صبح میں ہوٹل سے نکلی تو کم و بیش تین درجن جاپانی بچے اپنی استانیوں کی نگرانی میں سکول بس سے اترے اور ایک قطار میں سکول کی جانب جاتے دکھائی دیے۔ سب بچوں کی شکلیں مجھے ایک جیسی لگیں۔ ان ہم شکل جاپانی بچوں کو دیکھ کر مجھے حمنہ، حفصہ یاد آ گئیں۔ بچے میرے قریب سے گزرے تو میں نے ہاتھ ہلا کر ہیلو کہا۔ جواباً سب بچے باری باری میرے ہاتھ پر ہاتھ مار کر گزرتے رہے۔ ایسے جیسے یہ کوئی معمول کی سرگرمی ہو۔ یہ غالباً ان کے سلام دعا کا کوئی انداز تھا۔

کیوٹو نہایت خوبصورت شہر ہے۔ یہ جاپان کا پہلا دارالحکومت ہے۔ ایک زمانے میں یہاں جاپان کا شاہی خاندان رہائش پذیر تھا۔ کیوٹو کو باغوں، مندروں اور مزاروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر لگ بھگ دو ہزار مندر اور مزار ہیں۔ یہاں جاپانی باغات ہیں۔ بانسوں کے جنگلات ہیں۔ یہاں کیوٹو میوزیم ہے۔ یہاں جاپان کی دوسری قدیم ترین جامعہ کیوٹو یونیورسٹی واقع ہے۔ کیوٹو قدیم جاپانی تہذیب او ر طرز تعمیر کا گہوارہ ہے۔ اس تناظر میں اسے جاپان کا ثقافتی دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے۔

جاپان کا یہ شہر سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ ایک دن علی بھائی مجھے کیومیزو ٹیمپل لے گئے۔ یہ نہایت پر سکون جگہ ہے۔ اس دن آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ جاپانی طرز کی تعمیر کردہ ترتیب وار دکانیں یہاں موجود ہیں۔ اس جگہ جاپانی اور غیر ملکی سیاح خواتین جاپان کے روایتی لباس کیمونو زیب تن کیے ، ہاتھ میں پکڑے پنکھے جھلتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ غالباً ان کی سیاحت کا ایک انداز ہے۔ یہ منظر ہم ٹی وی پر دیکھا کرتے تھے۔

آج یہ دلچسپ مناظر میرے سامنے تھے۔ اس مقام پر ہزاروں سیاح مرد، خواتین اور بچے موجود تھے۔ اس قدر رش میں بھی ایک ترتیب اور نظم و ضبط تھا۔ اس جگہ گھومتے پھرتے۔ چڑھائی چڑھتے۔ کھلے آسمان کو دیکھتے۔ مجھے وادی ہنزہ کی یاد آ گئی۔ وہ بھی اسی طرح خوبصورت ہے اور پرسکون بھی۔ وہاں بھی سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔ وہاں بھی دکاندار سیاح خواتین کو نظر انداز کیے ، نہایت بے نیازی سے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ کیومیزو ٹیمپل میں ایک چشمے کا پانی بھی بہتا ہے۔ اس پر ایک تختی آویزاں ہے۔ جس پر لکھا ہے ”مقدس پانی“ ۔ کچھ لوگ اس پانی کو بطور تبرک اپنے چہروں پر مل رہے تھے۔ پانی تو میرے رب کی خاص نعمت ہے۔ میں نے بھی اس پانی سے ہاتھ دھو لئے۔

آخری شام میں نے کیوٹو کے شاپنگ ایریا میں گزاری۔ وہاں بیسیوں دکانیں اور مال تھے۔ میں گھنٹوں شاپنگ کرتی رہی۔ شاپنگ سے زیادہ چل پھر کر اس جگہ کی رونق دیکھتی رہی۔ واپسی پر ایک ٹیکسی میں جا بیٹھی۔ کچھ دور گئے تو معلوم ہوا کہ عمر رسیدہ جاپانی ڈرائیور کو انگریزی نہیں آتی تھی۔ اسے میری بات سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ ہوٹل کا نقشہ دکھایا لیکن اسے راستہ سمجھنے سے قاصر تھا۔ اشاروں سے اس نے بتایا کہ وہ گوگل میپ کے استعمال سے بھی نا واقف ہے۔

کیوٹو ریسرچ پارک کے قریب پہنچ کر وہ رک گیا۔ ٹیکسی کا میٹر لیکن مسلسل بھاگ رہا تھا۔ کچھ دیر گزری تو میں نے اس اللہ کے بندے سے عرض کی کہ اس میٹر کو تو بند کرو۔ اس بھلے آ دمی نے میٹر روک دیا۔ پھر ہوٹل کے کارڈ سے نمبر دیکھ کر کال ملائی۔ دو چار منٹ کے بعد ہوٹل سے ایک لڑکا آ کر مجھے لے گیا۔ بہرحال، کیوٹو میں گزرے یہ چند دن بہت یاد گار تھے۔ یہ کیوٹو میں میری آخری رات تھی۔ اگلی صبح مجھے بذریعہ ٹرین اساکا کے لئے روانہ ہونا تھا۔ ( جاری ہے )
۔ ۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Facebook Comments HS