بر صغیر کا نوبل ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور، قسط (4)


”چلو اب سنو۔“ فاخرہ نے پھر پڑھنا شروع کر دیا تھا۔
کہانی کے جلد ختم ہونے پر بھی مجھے ہمیشہ اعتراض ہوتا۔

خوف، ڈر، بے قراریاں، اضطراب سب میرے اندر سے نکل کر ہونٹوں پر سوال جواب کی صورت پھُدکتے۔ جہاں کہیں کہانی میں سنسنی خیز موڑ آتا۔ اضطراب میں ڈوبا ہوا جملہ ”پھر کیا ہوا“ فوراً لبوں پر آ جاتا۔

ایک اور کام کرنا بھی میرا معمول تھا۔ وہ تھا میری ماسٹری، میری اُستادی۔ گھر کے سارے ستون کھمبے میرے شاگرد ہوتے۔ میں انہیں خوب لتاڑتا، خوب مارتا۔ نہیں پڑھو گے تو نالائقو بڑے ہو کر قلی بنو گے۔ ان کی خوب خوب پٹائی کرتا۔

یہ منظر بھی میرے پسندیدہ منظروں میں سے ایک تھا کہ جب گھر میں مہمان آتے۔ گھر کی ڈیوڑھی کے سامنے بڑی بڑی بگھیاں آ کر رکتیں۔ مرکزی دروازے پر بڑے بھائیوں میں کوئی ایک مہمانوں کے استقبال کے لئے ضرور موجود ہوتا۔ نوکر اُن پر گلاب دانیوں سے گلاب پاشی کرتے۔ ہاتھوں میں پھولوں کے دستے تھماتے۔ بھائی بصد عزت و احترام انہیں اوپر لے جاتے۔ خاطر مدارات کا سلسلہ، روشنیوں سے چمکتے کمرے اور گھر سب مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔

گھر دار عورتوں کے سجنے سنورنے کے طور طریقے سنتے ہوئے بھی لطف آیا تھا۔ میں تو ہنستی چلی جاتی تھی۔

گلی میں ”بیل پھول، بیل پھول“ کی صدا بھی بڑی اچھی لگتی تھی۔ موسم بہار کیا آتا یہ پھول ڈالیاں اور ان کی خوشبوئیں گلیوں کو مہکا دیتیں۔ گھر والیوں کے لانبے بالوں کے بھاری جوڑے اُن کے شانوں پر پڑے بیلے ہاروں سے سج جاتے۔ جدھر سے گزرتیں خوشبوئیں بکھیرتی چلی جاتیں۔ ہاتھ منہ دھونے سے پہلے آئینہ ہاتھ میں پکڑ کر بالوں کو سنوارا جاتا۔ گھر میں خود سے بنائی ڈوری سے جوڑا باندھا جاتا۔ نائن کا گھروں میں آنے کا بھی بڑا رواج تھا۔ یہ بھی ایک کردار تھا۔

میرے بچپن میں چاکلیٹ نہیں ہوتی تھی۔ گلابی ریوڑیاں، خوشبو میں بسے تل سے لدے پھندے چینی کے ڈھیلے سے کس مزے کے ہوتے۔ بھنے ہوئے مسالے والے ٹھونگے، وہ سستا سا تل والا گجا۔ برف کی ہانڈی میں لگی قلفیاں۔ جب پھیری والا آواز لگاتا۔ ہائے دل کیسا اُتھل پتھل ہونے لگتا۔

” ہائے ٹیگور کے بچپن کی کچھ چیزیں تو معاشرت کے فرق کے باوجود ہمارے بچپن جیسی بھی تھیں۔“ بچوں جیسی خوشی نے میری آنکھوں سے جھانکتے ہوئے گویا کہا تھا۔

اُنیسویں صدی کی آخری تین دہائیوں کے ہندوستانی بنگال کی تہذیبی معاشرت کی جھلکیوں کی خوبصورت اور دل کش تصویر نے دل شاد کیا تھا۔ شام بہت مزے کی گزری تھی۔ کیسا مزے کا پچپن۔

27 نومبر 1969 ء

آج رقیہ ہال میں پندرہواڑہ فیسٹ ڈے تھا۔ لڑکیوں نے سر شام ہی ڈائننگ روم کے گرد منڈلانا شروع کر دیا تھا۔ کامن روم میں بھی رش تھا۔ فاخرہ اور میں بھی انہی لڑکیوں میں شامل تھیں۔ ٹی وی پر گیتوں کا پروگرام چل رہا تھا۔ دفعتاً ایک دلکش چہرہ اپنی دلکش آواز کے ساتھ نمودار ہوا۔ یہ فردوسی بیگم تھیں۔ پور بو پاکستان یا پور بو بنگال کی مترنم آواز گیت جو وہ جو گار ہی تھی وہ ٹیگور گیت تھا۔

اُف ایسا لگا تھا جیسے سارا ماحول ایک انوکھے سے سُر میں بہنا شروع ہو گیا ہے۔ فاخرہ گیت کا ساتھ ساتھ ترجمہ کیے جاتی تھی۔

اے دنیا میں نے صبح کے ہنگاموں میں
تیرے باغ سے ایک پھول توڑا
اُسے اپنے سینے پر رکھا
اس کا کانٹا دل میں چُبھ گیا
شام ڈھلی تو میں نے دیکھا
پھول نڈھال تھا پردرد باقی تھا
ایک سے ایک بڑھ کر حسن اور خوشبو میں
تجھ میں پھول تو بہت پیدا ہوں گے
مگر میری گل چینی کا وقت
بہت عرصہ ہوا کہ ختم ہوا
اور اب جب کہ رات طاری ہے
گل نہیں پاس مگر درد باقی ہے
10 دسمبر 1969 ء

ڈاکٹر لطف النسا سے تعارف فینی کے توسط سے ہوا تھا جس کے ساتھ میں اکثر ڈرامے دیکھنے اور گیت سننے آتی تھی۔ اس وقت دسمبر کی اُداس سی شام میں بلبل اکیڈمی کے ٹھنڈے ٹھار بھائیں بھائیں کرتے کمرے ایک عجیب سا یاس فضا میں پھیلا رہے تھے۔ دو کمروں میں کچھ لوگ نظر آئے تھے۔ ایک میں شاید کوئی ڈرامہ ورامہ کا سلسلہ تھا اور دوسرے میں سُر سنگیت کی محفل بر پا تھی۔

خوش قسمتی ہی تھی کہ لطف النسا سے ملاقات ہو گئی۔ دراصل یہاں آنے کا کوئی خاص ارادہ نہیں تھا۔ پرانے ڈھاکہ مشہور مصور زین العابدین سے ملنے اور اُن کا انٹرویو کرنے گئی تھی۔ واپسی پر یونہی ٹیگور کی ہڑک سی اٹھی تھی اور اکیڈمی چلی آئی۔

لطف النسا محبت کے شیرے سے گوندھی ہوئی عورت ہے۔ اس کے اندر ویسٹ پاکستانیوں کے لئے کوئی بغض اور تعصب ہو تو ہو مگر اس کا چہرہ جیسے متانت کی لطافت اور پیار کی نرم پھوار میں بھیگا بھیگا سا رہتا ہے۔ جب جب بھی ملاقات ہو۔ گندوراج کے پھول کی طرح کھلی نظر آتی ہے۔

آج بھی جپھی ڈال کر ملی۔ زین العابدین سے ملنے کا سن کر خوش اور ٹیگور کے بارے میں میری کچھ جاننے کی خواہش پر مزید خوشی و مسرت کا اظہار کیا۔

رمضان میں یونیورسٹی بند ہونے اور عید پر گھر جانے کا پوچھنے پر میں نے فوراً کہا تھا۔

”ارے نہیں آپا رمضان تو یہیں ہوسٹل میں اور عید اپنی کلاس فیلو کے ساتھ باریسال منانے جاؤں گی۔ اپنے دیس کے اِس حصے کے رمضان کی رونقیں اور عید کو بھی تو دیکھوں۔“

باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

Facebook Comments HS