آزادی، ٹرمپ کے سنگ: نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے
امریکی صدارتی انتخابات پر پاکستان کے روایتی اور سوشل میڈیا نے کماحقہ توجہ نہیں دی۔ ’حقیقی آزادی‘ اور ’ہم کوئی غلام ہیں‘ کا سوال اٹھانے والے امریکی پارلیمان کے نمائندوں سے اپنے قائد کی حمایت میں قراردادیں منظور کروا رہے ہیں۔ حال ہی میں 62 اراکین نے صدر بائیڈن سے ایک خط میں مطالبہ کیا، کہ وہ تحریک انصاف کے بانی کی ’خیریت‘ یقینی بنائیں۔ ان کے خلاف ’بے بنیاد الزامات‘ کا جائزہ لیں اور حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالیں۔ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کے لندن میں مقیم طاقتور مشیر، زلفی بخاری ٹرمپ کے داماد ڈکشنر کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ اسی لیے امید ہے کہ منتخب ہوتے ہی ٹرمپ کے ایک فون پر ”بانی“ جیل سے آزاد ہو جائیں گے۔
امریکی انتخاب اخلاقی اعتبار سے دو رویوں کے درمیان ہے۔ ڈونلڈٹرمپ دوسروں پر دھونس جماتے، عادتاً جھوٹ بولتے، مالی اعتبار سے نوسر بازیاں کرتے اور عورتوں کے متعلق بازاری سوچ رکھتے ہیں۔ ان کے خلاف دھوکہ دہی کے کئی مقدمات چل رہے ہیں۔ نیویارک کی ایک عدالت سے فیصلہ آ چکا ہے کہ انہوں نے ایک عورت کو ’منہ بند رکھنے‘ کے عوض گزشتہ انتخاب کے قریب خطیر رقم ادا کی تھی۔
کملاہیرس نے لگن اور محنت سے وکالت میں نام کمایا اور امریکا کی نائب صدارت تک پہنچیں۔ ان کی زندگی محنت اور میرٹ کی علامت ہے۔ ان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ عورت ہیں اور امریکی عوام کی اکثریت ذہنی طور پر یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ دنیا کی واحد سپر طاقت امریکا کی قیادت ’نازک، جذباتی‘ متصور ہوتی، عورت کے سپرد کر دی جائے۔ کملا کی حمایت میں لہر نے امریکی سیٹھوں کو پریشان کر دیا ہے ان کی اکثریت نے ٹرمپ کی کامیابی کے لیے خزانوں کے منہ کھول دیے ہیں۔ ٹرمپ کے حامی سیٹھوں میں ایلون مسک سرفہرست ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر خرید کر اسے ’ایکس‘ کا نام دیا۔ یہ پلیٹ فارم ٹرمپ کی جیت یقینی بنانے کے لیے شب و روز کوشاں ہے۔ ایلون مسک کا ٹویٹر (ایکس) پاکستان میں تقریباً بین ہے۔ اگر ٹرمپ صدارتی انتخاب جیت گئے تو شاید عمران خان کی رہائی کے بجائے موصوف کی اولین ترجیح ٹویٹر سے پابندی کا خاتمہ ہو۔
پاکستان میں جو لوگ امریکی نظام اور سیاست کا علم نہیں رکھتے وہ قرار دادوں اور بیانات سے غلط نتائج اخذ کرتے اور ہر خبر کو محدب عدسے سے دیکھ کر اپنے معنی نکالتے ہیں جو اکثر ناقص معلومات کے سبب غلط ثابت ہوتے ہیں۔ امریکہ میں ہر سیاست دان پیسے پر سیاست کرتا ہے۔ جو شخص یا نجی ادارہ اسے چندہ دیتا ہے، وہ اس کی تقریب میں جاتا اور تقریر کر کے آتا ہے۔ امریکہ میں لابنگ کی قانونی اجازت ہے۔ آپ چندہ دے کر جتنے ارکان کانگریس سے چاہیں کسی قرارداد پر دستخط کروا سکتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ امریکہ اپنی پالیسی بدل کر مداخلت کرے گا۔
ایسی ”ہومیوپیتھک“ قراردادوں کا پاکستان میں بڑا اثر لیا جاتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکی کانگریس نے فلاں کے حق میں قرارداد منظور کرلی ہے اور اب پاکستانی حکومت کی خیر نہیں۔ ایسا سوچنا نادانی کے سوا کچھ نہیں۔ کاملا ہیرس جیتیں یا ڈونلڈ ٹرمپ، پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسیاں نہیں بدلیں گی۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ قیدی 804 کے مستقبل کے فیصلے یہیں ہوں گے۔ اگر کوئی ڈالرز خرچ کر کے خوابوں کی دنیا میں رہنا چاہے تو یہ اس کی چوائس ہے۔
نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے
یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے
عمران خان کہا کرتے تھے کہ نواز شریف اور زرداری کٹھ پتلیاں ہیں۔ ان سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، بات چیت صرف آرمی چیف سے ہوگی۔ عمران ایک سے زائد مواقع پر فرما چکے ہیں کہ میرا قصور ”ایبسلوٹلی ناٹ“ کہنا ہے، میں حقیقی آزادی کے لئے ڈٹ گیا اس لیے میری حکومت گرائی گئی۔ طفلان انقلاب نے امریکی سازش (رجیم چینج آپریشن ) کے خلاف بطور احتجاج ”ہم کوئی غلام ہیں“ جیسے نعروں سے سماں باندھے رکھا۔ لیکن اب تازہ خبر یہ ہے، ڈونلڈ لو سے لڑائی اور ڈونلڈ ٹرمپ بھائی ہے۔
• بیرسٹر سیف کے ذریعے بانی تحریک انصاف نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی انتخابات میں دھاندلی کے خلاف امریکہ آواز اُٹھائے۔
•امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد میں پاکستانی دھاندلی کے الزامات کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔
• 60 ارکان کانگریس نے سیاسی راہنما کو رہا کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
لگتا ہے کہ طفلان انقلاب نے آکسفورڈ کی چانسلری کا ڈرامہ فلاپ ہونے کے بعد مایوسی کے عالم میں ٹرمپ کو اُمیدوں کا مرکز بنالیا ہے۔ ٹرمپ صدر منتخب ہو گئے تو عمران کو رہا کروائیں گے۔ ان کے دباؤ سے تحریک انصاف کی حکومت بحال ہو جائے گی۔ امریکی حکام نے ہمیشہ مطلق العنان حکمرانوں کی سرپرستی کی۔ ان کا تختہ اُلٹا تو انہیں سیاسی پناہ دے کر عوامی اشتعال سے بچایا۔ تحریک انصاف کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ سائفر لہرا کر الزام عائد کیا گیا کہ امریکہ نے غلامی قبول نہ کرنے کی سزا دے کر اپنے کارندوں کو مسلط کر دیا مگر معلوم یہ ہوتا ہے کہ حقیقی آزادی کے سرخیل عمران خان امریکی وظیفہ خوار ہیں۔ جس کے کچھ ثبوت یہ ہیں۔
1۔ امریکہ کو سی پیک کی کامیابی گوارا نہیں تھی۔ سی پیک روک کر عمران خان نے بالواسطہ امریکہ ہی کی خدمت کی۔
2۔ 2022 میں سی پیک کے جس دوسرے مرحلے کے آغاز کی خوشخبری دی گئی اس مرحلے نے 2019 کے اوائل میں شروع ہونا تھا لیکن عمران خان کے وزراء نے مخالفانہ بیانات اور آئی ایم ایف سے تفصیلات شیئر کر کے چین کو ناراض کیا۔
3۔ محب وطن حلقوں کا موقف تھا کہ تمام افغان طبقات سے مفاہمت سے قبل امریکہ کی طالبان سے ڈیل نہ کروائی جائے لیکن عمران خان نے امریکہ کی خواہش کے مطابق یہ کام کیے بغیر انخلا میں تعاون کیا جس کی وجہ سے افغانستان اس وقت پاکستان، چین اور روس وغیرہ کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔
4۔ عمران خان نے اپنی حکومت کو امریکہ اور برطانیہ کی شہریت کے حاملین سے بھر دیا جنہیں چینی اور روسی بجا طور پر شک کی نظر سے دیکھتے تھے۔
5۔ معیشت امریکہ کے ہاتھ میں دے کر مخالفانہ بیانات اور روس کے غیر ضروری دوروں سے پاکستان کو مشکلات میں پھنسانے کی پوری کوشش کی۔
6۔ چین اور روس کو اپنے طرزِ عمل سے بداعتماد کیا۔
7۔ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد دوسرے ورلڈ کپ کے جشن منا کر کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے میں امریکی آشاؤں کی تکمیل کی۔
8۔ کینیڈا کے شہری طاہر القادری کو عمران کے دھرنوں میں بھیجنے کا منصوبہ بیجنگ یا ماسکو میں نہیں بلکہ لندن میں بنا تھا، جس کے نتیجے میں چینی صدر کو دورہ پاکستان ملتوی کرنا پڑا۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی خدمات ہمارے سامنے ہیں مگر امریکی کوشش کے باوجود انہیں رہا نہیں کروا سکے۔ پاکستانی نژاد امریکی ساجد تارڑ جو ڈونلڈ ٹرمپ کے بہت قریب ہیں اور نامور امریکی تجزیہ کار بھی واضح کرچکے ہیں کہ عمران خان کی رہائی ایسا خواب ہے جس کی تعبیر ممکن نظر نہیں آتی البتہ معجزوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔


