امریکہ میں فیصلے کی گھڑی
امریکی انتخابات بس آن پہنچے اور دنیا بھر کی نظر اس کے نتائج پر ٹھہری ہوئی ہے۔ جرمن یونٹی ڈے کی تقریب میں شریک تھا تو موضوع سخن احباب سے یہ ہی رہا۔ چند روز قبل امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے پاکستان، افغانستان پر سابق مشیر جو اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان لخدر براہیمی کے مشیر اور افغانستان کے حامد کرزئی، اشرف غنی دور کے آئین سازی میں شریک رہے۔ پروفیسر رابن پاکستان آئے تو مجھ سے ملاقات کرنے لاہور تشریف لائے، پنجاب یونیورسٹی میں انہوں نے لیکچر بھی دیا جو کہ میری تجویز پر ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر نے منعقد کیا۔ گفتگو کا محور ان سے بھی امریکی انتخابات اور اس کے دنیا پر ممکنہ اثرات ہی رہا۔
اب کسی امیدوار کے متعلق یہ حتمی طور پر کہہ دینا کہ وہ جیت جائے گا ممکن نہیں ہے کیوں کہ انتخاب کے حوالے سے جتنے بھی سروے ہوئے ہیں ان تمام میں دونوں امیدواروں کے درمیان فرق نہ ہونے کے برابر ہے۔ صرف اس بات پر خیال موجود ہے کہ ٹرمپ نے اپنی گزشتہ انتخابی شکست کے بعد جس طرح کا رویہ اختیار کیا تھا وہ رویہ امریکی سیاست کے دیگر طاقت ور کھلاڑیوں کو بہت نا گوار گزرا تھا بہر حال پھر بھی کچھ پیشن گوئی کرنے سے بہتر ہے کہ کچھ انتظار کر لیا جائے کیوں کہ دونوں مد مقابل مکمل مقابلے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سرخ ریاستیں جو ریپبلکن کی ہمیشہ حمایت کرتی ہیں اور نیلی ریاستیں جو ڈیموکریٹس گن گاتی ہیں تو امریکہ میں طے شدہ ہے، اصل کھیل سات سوئنگ ریاستوں جارجیا، ایریزونا، مشیگن، نیواڈا، شمالی کیرولینا، پنسلوینیا اور وسکونسن میں ہو گا کیوں کہ ان ریاستوں میں دونوں جماعتیں مختلف اوقات میں کامیاب ہوتی رہی ہے۔ دنیا کے لئے تو یقینی اور بجا طور پر iکی اہمیت یہ ہے کہ ان انتخابات کے امریکی خارجہ تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے مگر خود عام امریکی کے لئے خارجہ پالیسی کہیں بعد میں اہمیت رکھتی ہے۔ عام امریکی دنیا بھر کی مانند زبر دست مہنگائی سے سخت پریشان ہیں اور اس کے نزدیک حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی تعلیم و صحت کی سہولیات کی حالت بھی نازک ہی ہو چکی ہے۔
پھر کچھ سماجی مسائل بھی ایسے ہیں کہ ان کے حوالے سے امریکی معاشرے میں کافی اختلاف رائے موجود ہے اور یہ دونوں امید وار بھی ان پر ایک دوسرے سے مختلف سوچ رکھتے ہیں۔ جیسے اسقاط حمل کا مسئلہ ہے۔ پھر امریکا میں بھی سپریم کورٹ ریفارمز کا معاملہ چل رہا ہے، امیگریشن پر تو ٹرمپ نے اپنے گزشتہ دور میں کچھ ہٹ کر بھی اقدامات کیے تھے، سوشل سیکورٹی کے مسائل پر وہاں ان انتخابات میں عوام کا بہت فوکس رہا، امریکہ میں یہ خیال تقویت پکڑتا جا رہا ہے کہ ان کا صحت کا سرکاری شعبہ زوال پذیر ہو چکا ہے، امریکا میں گن کلچر، ہاؤسنگ، تعلیم ٹیکسز کی بھرمار، ماحول اور توانائی پر گفتگو کے بعد عوام کی نظر میں خارجہ تعلقات موضوع بحث رہے۔
خارجہ تعلقات میں مشرق وسطیٰ سب سے جلتا ہوا موضوع ہے اور اس حوالے سے کاملہ ہیرس کی کیا پالیسی ہے وہ بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی کی صورت میں سب کے سامنے ہی ہے مگر ٹرمپ نے دیر بورن میں جہاں پر عرب مسلمانوں کی قابل لحاظ تعداد بستی ہے میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان اور عرب رائے دہندگان بس یہ چاہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں نہ ختم ہونے والی جنگوں کا خاتمہ اور امن کی واپسی چاہتے ہیں، وہ بس یہ ہی چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے اس بات کی بہت کوشش کی ہے کہ اس کا یہ تشخص کہ اس کے دور میں کوئی جنگ نہیں ہوئی تھی اس کو مسلمان ووٹ دلانے میں کامیاب ہو جائے حالاں کہ دوسری طرف ٹرمپ نے یہ بھی بیان دیا تھا کہ وہ حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو مزید چھوٹ دیں گے اور انہوں نے ہی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو فون کال کر کے کہا کہ آپ کو جو بھی کرنا ہے وہ کریں مگر اس سب کے باوجود اس کے حامی پر امید ہیں کہ وہ مسلمانوں کے قابل ذکر ووٹ حاصل کر لے گا کیوں کہ وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جنگوں کو چوبیس گھنٹے میں ختم کرا دوں گا، مگر کیسے؟ اس کا جواب نہیں دیا۔
انتخابی مہم کے دوران چین کا بھی تذکرہ رہا۔ ٹرمپ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر امریکہ اور چین کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو امریکہ چین کو شکست دے گا۔ وہ برآمدات اور درآمدات میں ٹیکس بھی بڑھانے کی بات کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے چین کے حوالے سے تجارت، امریکی منڈیوں میں چینی اشیا کی بھرمار اس کے ساتھ مسابقت کے اقتصادی اثرات کو موضوع بحث بنائے ہوئے تھا۔ اس نے یہ بھی شوشہ چھوڑا کہ جس عمر کے چینی امریکہ آ رہے ہیں یہ عسکری لڑائی میں حصہ لے سکتے ہیں اور شاید وہ امریکہ میں کوئی فوج بنائیں۔ جبکہ کاملا ہیرس نے چین کے حوالے سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کام کرے گی کہ امریکہ چین سے مصنوعی ذہانت اور خلا میں مسابقت کے شعبوں میں کامیابی حاصل کرے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی انحصار اور خطرات کو کم کیا جانا چاہیے۔ کیوں کہ موجودہ صورتحال میں امریکا چین کی فوجی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں خود بھی مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان کا اگر ذکر کیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخاب سے اس کی پاکستان پالیسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیوں کہ امریکہ پاکستان کو سیکورٹی کے نظریے سے دیکھتا ہے اور سیکورٹی کے حالات خطے کی صورت حال میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں۔
احوال تو آپ کو بھارتی سفارت خانے کی دیوالی کا بھی سنانا تھا مگر کچھ نا گزیر وجوہات کی بنا پر شریک نہ ہو سکا تمام ہندو برادری کو مبارک۔ ابھی ابھی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی ہے اس کی تفصیل اگلے کالم میں بیان کروں گا۔

