اداسیوں کے البم میں ماں کی تصویر


ماں جب تمھیں سوچتی ہوں تو بہت سی منتشر یادیں میرے اردگرد جگنوؤں کی طرح بکھر جاتی ہیں اور ان یادوں میں میں خود کو ایک چھوٹی سی کمسن بچی دیکھتی ہوں کبھی نو عمر لڑکی، کبھی بچپن اور نوجوانی کی دہلیز پہ کھڑی معصوم سی بچی، حالانکہ ماں یہی تو وہ دن تھے جب تم میرے باپ کے سنگ بیاہ کر آئی تھی اور خود بھی ایک کمسن سی الھڑ سی لڑکی تھیں۔ ماں تم نے ہر لڑکی کی طرح مامتا کے سفر پہ اسی روز قدم رکھ دیا تھا جب تم میرے باپ کی دلہن بنی تھیں۔ کیسی عجیب بات ہے ماں، لڑکی میں ممتا، گھونگھٹ سے بھی پہلے ہمکتی ہے اور گھونگھٹ اوڑھتے ہی اس کی ماہیت ہی بدل جاتی ہے مگر یہ اولاد ہے جس کے حافظے میں ماں اپنے شعور کی عمر میں کچھ بعد میں محفوظ ہونا شروع ہوتی ہے۔ لاشعور کی بات نہیں کرتی لاشعور تو سارا ماں کی کوکھ کا مرہون منت ہے ہوتا ہے میری ماں۔ تمھاری آوازیں تمھاری نمازیں، تمھارے درد، تمھاری آہیں، تمھارے شوق، حتی کہ تمھارے سونے جگنے کا انداز ان سب نے ہی تو مجھے بنایا ہو گا، میرے وجود کا ایک ایک دھاگہ بُنا ہو گا لیکن اس لمحے، ان دنوں، جب تم دونوں میرے پاس نہیں ہو، مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہو اور میرے پاس بس منتشر یادوں کے کچھ دیے ہیں، تھوڑی سی روشنی ہے، جہاں تم میرے ذہن کے فریم میں جگمگاتی ہو، مسکراتی ہو۔

یہ کتنا تکلیف دہ اَمر ہے کہ وہ وجود جو آپ کو اس دنیا میں لانے کا باعث ہو آپ کا مجازی خالق وہ جس کے باعث آپ ہیں، وہ آپ کے ذہن کے صندوق میں عمر کے اس حصے سے محفوظ ہونا شروع ہوتا ہے جب یادداشت محفوظ رکھنے کے قابل یہ ذہن ہو پاتا ہے۔ اس سے پہلے کے سب برس اندھیرے میں ہیں۔ وہ معصوم الھڑ کمسن سی لڑکی اک گوشت کے لوتھڑے کے لیے کیسے دکھ اٹھاتی ہے، بے خبر انسان، اس سے انجان ہی رہتا ہے۔ ماں کی محبت شاید اسی لیے عشق کا ہر امتحان جیتا کرتی ہے تو ماں میں بھی اس لمحے سے انجان ہوں جب تم نے مجھے پایا تھا بس میرے ذہن کے بکسے میں سینت سینت کر رکھی کچھ یادیں محفوظ ہیں اسی کالے اٹیچی کیس کی طرح جس میں تم نے اپنی ماں کے قیمتی، ریشمی، کمخواب کے جوڑے یادوں کی صورت سنبھال رکھے تھے۔ یہاں وہ یادیں اور خیالی تصویریں بھی بنتی بگڑتی ہیں جو تم نے مجھ سے بانٹی ہیں۔ کچھ دھندلی تصویریں ہیں جن میں کردار چلتے پھرتے نظر آتے ہیں مگر شکلیں نظر نہیں آتیں، ماں تمھارا چہرہ نظر نہیں آتا۔

پہلی یاد جو روشنی بکھیرتی ہے وہ یہ ہے ؛تمھاری پختون دوست دلدارہ اور تم چار پائی پہ بیٹھی ہو، تم دونوں نے مجھے اپنے نرم گرم حصار میں لے رکھا ہے مگر مجھے تمھارے چہرے کی نسبت تمھارا نرم گرم حصار یاد ہے، تمھاری روشن مسکراہٹ یاد ہے، اور کیا یاد ہو تین چار سال کے بچے کو، دلدارہ مجھے سکھاتی ہے کہو، دلدارہ، دلتاراشاہ، میں دہراتی ہوں تو وہ چٹ پٹ میرے بوسے لے ڈالتی ہے۔

مجھے وہ اندھیری رات بھی یاد ہے جب تم میری دعاؤں میں مانگے ہوئے بُوٹا بھائی کے ساتھ برآمدے میں لیٹی تھیں اور مَیں نانی کی مہندی رنگ کی گرم چادر میں ان سے لپٹی وفور شوق سے منے کی جانب ہمکتی تھی حتی کہ برآمدے کی اَنی جو شاید اس وقت میرے قد جتنی ہی تھی سے چوٹ لگی جو میرے ماتھے پہ ہمیشہ کے لیے شناختی نشان چھوڑ گئی۔ اس کے بعد سب کچھ وہ یاد ہے جو تم نے بیان کیا۔

ماں، تم اپنے دور کے مطابق ہر ہنر سے آراستہ تھیں، کم سنی میں شادی ہونے کے باوجود تم نے لائلپور کے نیشنل سکول سے دستکاری میں ڈپلومہ لیا تھا جہاں تم نے ہر طرح کی سلائی، کڑھائی، سلمہ، ستارا، ہر طرح کا ہنر سیکھا مگر آج میں ایک ماں ہوتے ہوئے بھی آج بھی تمھاری چاہت کے اس اظہار پہ حیرت میں ڈوب جاتی ہوں اور محبت کی اس بارگاہ پہ میرا سر سجدے دینے لگتا ہے جب تم مجھے بتایا کرتی تھیں کہ ”تمھارے پیدا ہونے کے بعد ، پورا ایک برس روزانہ دن میں چار بار کپڑے بدلتے ہوئے تمھارا ایک سوٹ نیا ہوتا تھا جسے میں اپنے ہاتھوں سے سیتی تھی، اس پہ بیل بوٹے بناتی تھی۔ ماں، تمھاری نقل میں چھ ماہ میں نے بھی اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھ سے، سلا نہ سہی، ایک سوٹ نیا ضرور پہنایا مگر چھ ماہ بعد میں ہار گئی کیونکہ تم نے میرے ابا کو اس دار فانی سے اپنے پاس بلا لیا تھا۔

تمھاری یہ بے پایاں اور مجھ پہ مرتکز محبت شاید اس لیے بھی تو تھی کہ تم اپنی ماں کی اکلوتی بیٹی تھیں جس نے ساری زندگی کے بعد اپنے وجود کی اضافت کی صورت مجھے پایا تھا جو ہم بہن بھائیوں کی لڑائی پہ بعض اوقات دکھ سے کہا کرتیں تھیں ”تم لوگوں کو کیا پتا اکلاپے کا عذاب کیا ہوتا ہے، اکیلا تو کوئی رُکھ بھی نہ ہو، کتے بلی کے بچے لپٹا لپٹا کر بچپن گزارا ہے“

ماں میرے وجود کے سب تعین بھی تمھارے دیے ہوئے ہیں اور سب تعبیریں بھی۔ بس میں نے انہیں دریافت تمھارے جانے کے بعد کیا ہے۔ تم نے مجھے اتنے خواب، اتنی تعبیریں، تھما دیں اور خود اتنی جلدی مجھ سے دامن چھڑا لیا۔ ان خوابوں کو پورا کرتے میرا سانس پھول گیا ہے، مجھے لگتا ہے میرے وجود میں تیرتی اداسی بھی بہت قدیم ہے، میں نے تمھارے اور تمھاری مامتا کے سارے دکھ کے پیالے بھی پی لیے ہیں، ماں۔ اداسیوں کا البم کھلا ہے تو تمھاری یاد کی تصویریں میرے اردگرد صندل کی طرح مہکتی ہی۔ مجھے تربیلہ میں رائٹ بینک کا وہ کچن یاد آ جاتا ہے جہاں تم مجھے چوکی پہ بٹھا کر کھویا، چوری اور آلو کے چپس کھلایا کرتی تھی اور اپنے ننھے منے ہاتھوں سے کچن صاف کرنے پہ مجھے انعام میں بادام ملا کرتا تھا۔ ماں تمھیں بتاؤں تمھاری بیٹی نے تمھارے جانے کے بعد سلیقے کی دیکھ ریکھ، اولاد کی تربیت، گھر داری سب امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیے ہیں مگر تمھاری بیٹی پھر بھی تم جیسی ہنر مند عورت نہیں بن سکی۔

تمھارا دھندلا چہرہ مجھے، اس توریوں کی بیل کے پاس یاد آتا ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں سے لگائیں تھی، مگر اس صحن میں تو سب پھولوں اور سبزیوں کے پودے تمھارے ہاتھ کے ہی لگے تھے، میری ماں، تم اس بیل چڑھی دیوار کے پار کھڑی ہو کر پڑوسیوں سے باتیں کیا کرتی تھیں۔ یادیں دھندلی کیوں نہ ہوں، ماں میری عمر محض تین چار برس ہی تو تھی، اب جو یہ باتیں اپنے بچوں کو بتانے کی کوشش کروں تو وہ حیران ہوتے ہیں اب کی تو سب باتیں بھول جاتی ہیں، اتنی پرانی باتیں کیسے یاد ہیں؟ میں انھیں کہتی ہوں جس روز میں مرجاؤں گی اس روز تمھارے اندر بھی یاد کا پودا آگ آئے گا مگر شاید یاد کے شجر ہر اولاد کا مقدر نہیں ہوتے، اداسی اور درد کی وراثت سب کو نہیں ملا کرتی۔

میں یادوں کے البم کو الٹتی پلٹتی ہوں اک بہت جگمگاتی یاد میرے ہاتھ لگتی ہے یہ لیفٹ بینک مین کالونی میں ہمارے بنگلے کا لان ہے تم سامنے والے لان میں میری ٹیچرز اور اپنی پڑوسنوں سے ہنس ہنس کے باتیں کر رہی ہو، ماں تم نے کریم رنگ کا گھٹنوں سے نیچے آتا امبریلہ فراک پہن رکھا ہے جس میں ہلکے سبز رنگ کے پتے بنے ہیں ساتھ کریم رنگ کا پاجامہ ہے، کانوں میں فیروزہ جڑے لمبے بندے پہن رکھے ہیں، آنکھوں میں ڈورے کھچا سرمہ لگا ہے، موسم بڑا خوشگوار ہے، درخت پہاڑی ہوا سے ہل ہل جاتے ہیں، تم اپنی سہیلیوں کی کسی بات سے ہنس کر دہری ہو گئی ہو، مجھے وہ لپکتے پیڑ اور تم دونوں ایک جیسے لگے۔ ماں جب بھی درخت زور زور سے ہوا سے ہلتے ہیں مجھے لگتا ہے وہ بھی کسی گدگداتی بات پہ ہنستے ہوں، وہ لمحہ ٹھہر سا گیا ہے آنکھوں میں تم کتنی طرحدار کتنی حسین تھیں، فیشن، لباس کی جدید تراش خراش ان سب کی کتنی سوجھ بوجھ تھی تمھیں مگر میرے ایماندار باپ کے محدود وسائل میں تم نے اس کے پانچ بچے پالتے ہوئے خود کو فنا کر دیا۔

ہاں وہ فیروزی بندے بھی میں کبھی نہیں بھول سکی جو اس الھڑ سی لڑکی کے کانوں میں بڑے بھلے لگتے تھے مگر ماں تمھارے ہاتھوں سے جانے اس طرح کے کتنے بُندے گم ہوئے۔ ماں کی لاڈلی اکلوتی بیٹی پہ جب ذمہ داریوں کا بوجھ کم سنی سے پڑا تو وہ چٹخ چٹخ گئی، بازار جا کر دکانوں پہ اپنا بٹوا بھول آتی تھی مگر آفرین ہے میرے باپ پہ کہ اس کا اعتبار تم پہ چٹان جیسا تھا اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ بازار جاتے وقت کوئی ساتھ جائے گا جو بٹوا سنبھالے گا۔ باپ نے جو کمایا لا کر ماں کے ہاتھ میں، اس کے اکاؤنٹ میں دھر دیا ؛ وہ سیاہ کرے یا سفید ابا کو اب جیب خرچ بھی بیوی سے ہی چاہیے۔ ماں تمھیں اک بات بتاؤں، بازار جاتے سمے مجھے بھی اک شخص چاہیے جو میری چوکیداری کرے کہ میں سب کچھ کسی دکان پہ نہ بھول آؤں۔

ماں تمھیں لکھنے بیٹھی ہوں تو سمجھ نہیں آ رہا کہ فیصلہ کیسے ہو تم ایک بہترین ماں تھیں یا ایک بے مثل بیوی شاید تم جیسے جوڑوں کو ہی ہنسوں کا جوڑا کہا جاتا ہے جن کے درمیان کمال کی ہم آہنگی اور ٹیلی پیتھک رابطہ رہتا تھا۔ اک ماچس کی ڈبیا لینے جانا ہے تو دونوں کو اکٹھے ہی جانا ہے اور پھر جو اجل نے آواز دی تو بھی دونوں نے صرف چار برس اور اک دیوار کا ہی فاصلہ رکھا۔

ماں میں تمھاری بڑی بیٹی تھی، تمھاری کم سنی کی اولاد، میں نے تمھارا لڑکپن اور بھرپور جوانی دیکھی ہے۔ ہاں ماں، بس جوانی ہی کیونکہ تم جوانی ہی میں ہاتھ چھڑا کر چل دیں، تمھیں ہمارے گھر کے لیے شمع کی طرح پگھلتے خاک ہوتے دیکھا ہے۔ میرے بہن بھائیوں کی پیدائش کے موقعے پہ تمھیں درد کے سمندر عبور کرتے، صحت کی پیچیدگیوں اور مسائل سے لڑتے دیکھا ہے اور ہمیشہ تمھاری ہمت و حوصلے کے آگے خود کو بڑا بے بس و کمزور محسوس کرتے پایا۔ میرے معصوم بچپن کو وہ ٹوٹے پھوٹے جملے جو تمھاری دوست ڈاکٹر نرسیں ایسے موقع پہ بولتی رہیں۔ مسز عالی، اللہ نے نئی زندگی دی۔ کیس بہت پیچیدہ تھا۔ عورت سر پہ کفن باندھتی ہے۔ یہ جملے ماں سوچو تو سہی ایک کمسن بچی کے لیے کتنے خوفناک کتنے بھاری تھے تم میری ماں تھیں میرے پاس تمھارے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

ماں میرے پاس اب بھی کیا ہے، تمھاری یادیں ہیں۔ مائیں جب چلی جاتی ہیں تو سب رشتے بکھر جاتے ہیں۔ یہ تمھارا احسان ہے کہ تم نے مجھے لکھنا سکھایا۔

ہاں، ماں تم نے مجھے اس عمر میں قلم پکڑا کر خط لکھنا سکھا دیا جب بچے ابھی ا، ب، پ، لکھنا سیکھتے ہیں، مجھے یاد ہے میں ابھی پانچ برس کی نہیں تھی جب پہلا خط لکھا۔ ماں مجھے لے کر صحن میں چارپائی پہ بیٹھی تھی ہاتھ میں خط تھا، مجھے کہا ؛السلام علیکم لکھو۔ مجھے سمجھ نہیں آیا، مجھے جوڑ بتائے گئے مگر جوڑ توڑ اور بول چال میں تال میل کے پیچیدہ عمل کو میرے ننھے منے ذہن نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ماں نے کچھ دیر کوشش کی آخر خط دکھا کر مجھے کہا یہ لفظ دیکھ کر ایسے ہی لکھ لو اور میں نے لکھ لیا۔ یہ میرا میری نانی کے نام پہلا محبت نامہ تھا، لفظ کے ساتھ دوستی کا نیا آغاز جو کچھ دیر ہی چلا۔ میں پانچ چھ برس کی تھی جب نانی اس دنیا سے چلی گئی مگر میرے اس خط کو پاکر وہ اتنی نہال تھی کہ ماں کو چڑ کر کہا کرتی تھی ناہید تو نہ لکھ، آ گئی لکھنے والی اور ماں سے مار کھا کر، ڈانٹ کھا کر، میرے پاس خط لکھنے کا بہانہ خوب ہاتھ آ گیا تھا۔

لکھنا، پڑھنا، رنگ کرنا، گنتی کرنا، یہ سب ابتدائی تین برسوں میں تمھاری محبت اور محنت تھی مجھ پہ، کتاب دوستی جیسا احسان بھی تمھاری ہی دین ہے۔

تمھاری سختی اور تعینات سے گھبرا بھی جایا کرتی تھی اور چڑ بھی جایا کرتی تھی مگر تمھارے جانے کے بعد تمھاری اس سخت تربیت نے بہت بڑے بڑے پل صراط عبور کروا دیے ماں مجھے، دل میں سوچا، اس موقعے پہ اماں ابا کیا کہتے تھے تم دونوں کو کیا پتا تھا کہ تم کو چلے جانا ہے، بہت جلدی چلے جانا ہے، اس لیے ساری عمر کی نصیحتیں زاد راہ کر دیں؟

ماں وہ سٹائلش سا سیاہ میکسی برقع یاد ہے تمھیں جو تم پہ کس قدر سجتا تھا؟ وہی برقع جس کا اوپری حصہ پہن کر میں گھر گھر کھیلا کرتی تھی۔ اردگرد کی خواتین دیکھ کر کہتی تھیں، بس شخصیت کے رعب سے، بغیر وجہ کے، کہتی تھیں مسز عالی بہت مغرور ہیں مگر جب ابا کا ایکسیڈنٹ ہوا تو تم ہوش و حواس سے بیگانہ ننگے پاؤں سر باہر نکل آئی تھیں اور باہر گر کر بے ہوش ہو گئی تھیں اور تین کم سن بچے ہونق پریشان تھے تب برقع اتروا دیا تھا ابا نے ہمیشہ کے لیے۔ یہ برقع لیا بھی تو تم نے اپنی ضد اور شوق سے تھا۔ اچھا یہ بھی تم دونوں کا ہمیشہ کا خوب گٹھ جوڑ رہا جب اسپتال گئے اکٹھے ہی گئے، اولاد بولاتی پھرے۔

ماں، اداسیوں کا البم کھلا ہے بہت سی تصویریں یک دم دامن میں آ گری ہیں۔ تم نے گھر کے کام کرنے کو بالوں میں ڈالے پراندے کو سر کے گرد لپیٹ رکھا ہے جو دکھنے میں بالکل یوں لگتا ہے کہ تم نے ہیٹ پہن رکھا ہے، آنکھوں پہ چشمہ چڑھا رکھا ہے، آستینیں تمھاری آدھی ہی ہوا کرتی تھیں تمھارا صاف ستھرا لب و لہجہ جس میں ن، ن غنہ تک کی غلطیوں پہ میرے باپ کی نظر ہوا کرتی تھی، تم کتنی خاص اور کتنی چونکاتی ہوئی لگتی تھیں اپنے سادہ و عام سے حلیے میں بھی۔ میری کلاس فیلوز، ہمارا ڈاکٹر، تم سے پوچھا کرتا کیا آپ کہیں پڑھاتی ہیں۔ سچ میں تم گھر کی روشنی تھیں۔

تمھیں منتر بھی تو آتا تھا لوگوں کو اپنا گرویدہ کر لینے کا، اپنا بنا لینے کا، ابا ہنس کر کہا کرتے تھے ایک مدد گار فرشتہ ہمیشہ تمھاری ماں کے ساتھ رہتا ہے مدد کرنے کو، لوگ خواہ مخواہ مدد کو آمادہ ہو جاتے مگر ماں دراصل یہ تم تھیں، تمھارا اخلاق، تمھاری محبت تھی، جسے لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ پڑوس کی باجی انجم سکول سے آ رہی ہیں حمل سے ہیں، سخت سسرال ہے، ماں دودھ پھل لے کر کھڑی ہیں چپکے سے گیٹ سے اندر کر کے گلاس پکڑایا اور کہا لو انجم پی لو۔ یہ تمھارا ہی کمال تھا کہ ساس سے پٹتی باجی تنویر بھی تمھاری مرید اور اس کی سخت گیر ساس اماں جی بھی کہ تم دونوں پہ بلاتفریق محبت لٹاتی تھیں۔ ماں مجھے تمھاری طرح لوگوں کو گرویدہ کرنا نہیں آیا شاید اس لیے کہ مجھ میں تمھارے جیسا لحاظ اور مروت نہیں ہے، باپ جیسی صاف گوئی ہے۔

اس تصویر میں تم اپنے کچن میں کھڑی ہو، روٹیاں بناتی، ہم سب بہن بھائی ابا سمیت اپنی اپنی چوکیوں پہ تمھارے اردگرد بیٹھے ہیں۔ سب سے پہلے عمدہ کھانا ابا کے آگے پروسا ہے، پھر سب بہن بھائیوں کی باری آ گئی ہے، جب کبھی ہم بہنیں اکیلی ہوتیں تو کچھ سالن توے پہ گرم گرم اور تمھارے ہاتھ کی گرم روٹی۔ یہ ذائقہ دنیا کی ہر نعمت سے بڑا تھا شاید وہ دوبارہ کبھی نہیں ملا۔ شدید گرم کھانے کی عادت بھی تو تم سے ملی ہے نہ ماں، تمھارے ساتھ کئی بار کڑاہی سے نکلتے پکوڑے اور سموسے میں نے اور بہن نے کھائے ہیں جنھیں ہم اب بھی یاد کرتے ہیں۔

ابا جہاں تمھارے پکوان کے بہت معترف اور بہترین ناقد رہے وہیں ہنس کر کہا کرتے تھے ناہید تمھارے ہاتھ کی روٹی اور سالن دیکھ کر کوئی مان نہیں سکتا یہ ایک ہی عورت کے ہاتھ کے ہیں۔ روٹی بنانا تمھیں کبھی بھی بہت مرغوب نہیں تھا جب موقع ملا تندور سے روٹیاں آ جاتیں اس کے باوجود ماں تم نے ہمارے گھر کی چنگیر کبھی خالی نہیں ہونے دی۔

ماں وہ خوفناک حادثہ جو تمھیں ہم سے چھین کر لے گیا جس کے زلزلے سے میرا وجود ابھی تک باہر نہیں نکل سکا۔ میں بطور ماں سوچا کرتی ہوں کہ وہ چالیس دن تم نے کتنی اذیت کے کاٹے ہوں گے بظاہر ہر پل شکر کرتی زبان جو اپنے شوہر اور بچوں کے بچ جانے پہ مطمئن تھی، جو اذیت سے دیکھ رہی تھی کہ اس کی لاڈ اور نازوں سے پلی اولاد بکھر رہی ہے جو اپنے سب سے چھوٹے اور بہت کمسن بیٹا جو محض پانچ برس کا تھا کے لیے کبھی کسی کو اور کبھی کسی کو وصیتیں کر رہی تھی۔ وہ عورت جس نے گھر اور باہر سب ذمہ داریاں اپنے کندھوں پہ اٹھا رکھی تھیں، جس نے شوہر کو ہر فکر سے مبرا کر رکھا تھا اب محتاج ہو کر بستر پہ پڑی تھی اور اذیت سے اپنے لب کاٹتی تھی جب دیکھتی تھی کہ اس کے علاج پہ سلیقے سے جوڑا سب سرمایہ تیزی سے خرچ ہو رہا ہے، حلال کی کمائی ملازمت، میرا باپ کون سا سرمایہ دار تھا ایک ایماندار انجنیئر ہی تو تھا، مجھے لگتا ہے اس کے ٹوٹے جھکے شانے دیکھ کر تم نے جینے کی امید کھو دی تھی تم نے خود مرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ تم نے میرے باپ کو بلا کر دوسری شادی اور میری شادی کے لیے وصیتیں کیں۔ ان دنوں تمھارے خوبصورت مخروطی انگلیوں والے، آرٹسٹک، حساس جلد والے، ہاتھ جو برتن دھونے کے باعث کبھی زخموں سے خالی نہیں رہے، تمھارے ہاتھ اور پاؤں دوبارہ کسی نوخیز دوشیزہ جیسے حسین ہو گئے تھے۔ ماں تمھیں پہلی بار آرام کرتے دیکھا تھا تم شاید ہماری خدمت کرتے کرتے تھک گئی تھیں، ہم سب نے تمھیں تھکا دیا تھا۔ مگر ماں تمھارے جانے سے تمھارا وہ گھونسلا، تنکا تنکا بکھر گیا، سب کچھ ٹوٹ پھوٹ گیا، میں کچھ بھی جوڑ نہیں سکی ماں، میں تمھاری نالائق بیٹی ہوں میرے پاس خلوص کی پونجی تھی جواب متروکہ سکہ ہے۔

ماں تم نے مجھ سے اور میرے باپ سے عشق کیا تھا ہمارے گھر میں عشق کی بڑی عجیب سی مثلث تھی، تم مجھ سے اور میرے باپ سے عشق کرتی تھیں اور میں اپنے باپ سے مگر تم نے مجھے ایک سخت گیر ماں کی طرح پالا اک تجربہ گاہ کی طرح سب تجربے بھی مجھ پہ ہوئے مگر آج جب تمھیں سوچتی ہوں تو صرف تمھارے حرف ملائم اور تمھارا نرم گرم چھاؤں بھرا لمس اور توانا احساس یاد آتا ہے تم میری woman of Ideas تھیں جس کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوتا تھا، تمھاری سختیاں بھی سب داہنے پلڑے میں کھڑی ہیں اور مجھے کہتی ہیں کہ آج مجھ میں کچھ اچھا ہے تو وجہ تم ہو۔

ماں اداسیوں کے البم کو کھولا ہے تو وہ جو تکلیف دہ رائیگانی بھرا احساس تھا کہ شعور کے پاس تم کم ہو وہ توانائی میں بدل گیا ہے۔ ابھی بہت سی تصویریں بکھری پڑی ہیں جن کو لکھنے بیٹھوں تو شاید یہ عمر کم پڑ جائے، تحریر کا دامن تنگ پڑ جائے، لفظ گونگے ہوجائیں مگر تمھاری تصویر مکمل کرنا میرے لئے شاید نا ممکن ہو کیونکہ تم میرے لاشعور کی خالق ہو تمھاری کوکھ جو میرا پہلا گھر تھی جہاں اس لاشعور کی تعمیر ہوئی تو تمھیں اداسیوں کے البم سے مکمل کیسے باہر لاؤں ماں۔

Facebook Comments HS