ٹرمپ ٹرائمف
پانچ نومبر کو ہونے والے امریکی انتخابات کے اب تک کے نتائج کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ دو سو ستر سے زائد الیکٹورل ووٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ انتخابات میں اس جیت کے بعد ٹرمپ نے ایک شاندار سیاسی واپسی مکمل کر لی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی امریکہ غیر یقینی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ بلاشبہ پچھلے بیس سالوں میں ٹرمپ قومی مقبول ووٹ حاصل کرنے والا پہلا ریپبلکن بن گیا ہے۔ اس انتخابی نتیجے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹرز صدر بائیڈن کی کارکردگی، خاص طور پر معیشت اور امیگریشن پالیسیوں سے ناخوش تھے۔
آج سے ٹھیک دس ہفتے بعد ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں دوبارہ سے براجمان ہو گا۔ یعنی کانگریس پر پرتشدد حملے میں ان کے کردار پر مواخذے کے چار سال بعد ، نیویارک میں ایک سنگین جرم میں سزا پانے کے پانچ ماہ بعد اور ایک قاتلانہ حملے میں بچ جانے کے تین ماہ بعد ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس واپسی کی تیاری شروع کر دی ہے۔ مکمل طور پہ نتائج واضح ہونے سے پہلے ہی اپنی فاتحانہ تقریر میں ٹرمپ کا کہنا تھا، ”ہم نے سب سے ناقابل یقین سیاسی فتح حاصل کر لی ہے۔“ تقریر کے دوران اس نے سرحد بند کرنے، ”ملکی حالات کو ٹھیک کرنے میں مدد“ اور ”سب کچھ ٹھیک کرنے“ کے عزم کا اعادہ کیا۔
ٹرمپ کی جیت کی وسعت کا ایک اور اظہار سینیٹ کی دوڑ میں سامنے آیا۔ ریپبلکنز نے اوہائیو، ویسٹ ورجینیا اور مونٹانا میں سیٹیں حاصل کر کے سینیٹ میں دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ایریزونا، مشی گن، نیواڈا، پنسلوینیا اور وسکونسن میں کانٹے کا مقابلہ رہا۔ اس الیکشن میں ریپبلکن پارٹی اپنے ووٹروں، خاص طور پر لاطینی امریکی ووٹرز کو بامعنی طریقوں سے بڑھاوا دینے میں کامیاب دکھائی دی۔
ٹرمپ نے ایک پر عزم اور بہت سے طریقوں سے ریڈیکل ایجنڈے کے تحت اپنی انتخابی مہم کو چلایا۔ جس میں ٹیرف، بڑے پیمانے پر ملک بدری، تیل کی کھدائی، ریگولیٹری رول بیکس، ٹیکسوں میں کٹوتیوں، خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے جیسے وعدے شامل ہیں۔ اس نے یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے اگر جمہوری روایات کی خلاف ورزی کرنا پڑی تو قطعاً دیر نہیں کرے گا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کس حد تک جائے گا، لیکن وہ آٹھ سال پہلے کی نسبت اب زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔ اس کے معاونین نے دوسری مدت کے لیے منصوبہ بندی کرنے اور ممکنہ تقرریوں کی جانچ کرنے میں مہینوں گزارے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کی انتظامیہ اسٹیبلشمنٹ کے ان ریپبلکنز کے بجائے وفاداروں کا عملہ رکھتی ہے جنہوں نے ان کی پہلی مدت میں اکثر اسے روکا تھا۔ کانگریس میں، 2017 سے ٹرمپ کے مشکوک ریپبلکنز میں سے اب کچھ ہی باقی رہیں گے۔
آٹھ سال پہلے کے مقابلے میں اب یہ سب عناصر ڈیموکریٹس اور ٹرمپ کے دیگر ناقدین کو کافی کمزور پوزیشن میں لے آئے ہیں۔ 20 جنوری سے، ڈیموکریٹس وفاقی حکومت کی کسی شاخ کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ اگر ڈیموکریٹس ٹرمپ کے ایجنڈے کو سست کرنے کی امید رکھتے ہیں، تو انہیں دوسرے ریپبلکنز کو اس کی مخالفت پر آمادہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔
ہیرس کی شکست بائیڈن کی بطور صدر کارکردگی اور اس کی اپنی مختصر مہم دونوں کو مسترد کرتی ہے۔ چونکہ وہ پرائمری ختم ہونے کے بعد امیدوار نامزد ہوئی تھی اس لئے بہت سے ووٹروں کا ماننا تھا کہ وہ اس کے بارے میں کافی معلومات نہیں رکھتے یا وہ اس بات پر فکرمند تھے کہ کملا بہت آزاد خیال ہیں۔
لیکن یہ انتخابی نتیجہ اعلیٰ آمدنی والے ممالک کے ایک پیٹرن پر فٹ بیٹھتا ہے۔ امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور جاپان کے ساتھ ایک ایسے ملک کے طور پر شامل ہو گیا ہے جہاں حال ہی میں حکمران جماعت نے اقتدار کھو دیا ہے۔ امریکہ میں، صدارت آٹھ سالوں میں تیسری بار رولنگ جماعت بدلنے کے راستے پر ہے، جو 1970 کی دہائی کے بعد وائٹ ہاؤس کے عدم استحکام کا سب سے بڑا دور ہے۔


