ناصر کاظمی کا لاہور اور زہر آلود فضا
پھولوں کا شہر لاہور اور پنجاب کے کچھ اضلاع شدید ماحولیاتی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں۔ سانس لینا بھی دوبھر ہو چکا ہے
سانس لینا بھی سزا لگتا ہے
اب تو مرنا بھی روا لگتا ہے
کہتے ہیں کہ لاہور میں رہنے والوں کی عمریں سات سے آٹھ سال تک کم ہو جائیں گے اگر آلودگی کی یہی صورتحال رہی۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے 2016 میں پہلی بار لاہور آلودگی کی لپیٹ میں آ یا تھا، مگر آلودگی کی شدت اس قدر زیادہ نہیں تھی کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جائے۔ مگر ہم نے بھرپور کوشش کی کہ ہمارے لاہور کی فضا میں زہر بھر دیا جائے اور اب تو پرندے بھی لاہور سے ہجرت کرتے جا رہے ہیں پھولوں اور باغوں کا شہر بیماریوں اور غلاظتوں کا شہر بن چکا ہے۔
اڑ گئے شاخوں سے یہ کہہ کر طیور
اس گلستاں کی ہوا میں زہر ہے
ناصر کاظمی نے یہ شعر قریباً 50 برس پہلے کہا تھا، ناصر کاظمی کو کبوتر پالنے کا بہت شوق تھا اور بڑے خوبصورت کبوتر ان کے پاس ہوا کرتے تھے۔ تو 50 برس پہلے بھی ناصر کاظمی کو لاہور کی فضاؤں میں زہر محسوس ہو رہا تھا، سوچیے، آج اگر ناصر کاظمی زندہ ہوتے تو لاہور کا کیا نوحہ لکھتے؟
بے ہنگم ٹریفک، فیکٹریوں کا دھواں اور بغیر کسی احتیاط کے باہر پھینکا ہوا فضلہ لاہور اور لاہور میں رہنے والوں کے ساتھ بڑا ظلم کر رہا ہے۔ آج بھی لاہور میں دوسرے شہروں سے زیادہ باغ اور سبزہ پایا جاتا ہے مگر یہ باغ اور سبزہ پھیلائی ہوئی آلودگی کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔ حکومت کو اسکول اور کالجز بند کرنے پڑ رہے ہیں تاکہ بچے سموگ سے متاثر نہ ہوں۔ مگر کیا سکولوں اور دفاتر کی بندش اس مسئلے کا مستقل حل ہے؟
حکومت کو فی الفور لاہور سمیت چند اضلاع میں ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کرنا پڑے گی۔ ہر کارخانے، فیکٹری اور ہر گاڑی جو سڑک پر آتی ہے کو اس بات کا پابند کرنا پڑے گا کہ ان سے مضر صحت دھواں خارج نہ ہو۔ ویسے اگر دور رس نتائج چاہتے ہیں تو لاہور میں تمام تر ٹریفک پر پابندی لگا دینی چاہیے ہر وہ گاڑی جو پیٹرول اور ڈیزل سے چلتی ہے اور ظاہر ہے اس فیول سے چلنے والی گاڑیاں بہت زیادہ دھواں دیتی ہیں ایسی گاڑیوں کا لاہور میں داخلہ ممنوع قرار دیا جائے۔ ٹرانسپورٹ کے لیے شہری حکومت کی فراہم کردہ الیکٹرک بسز، میٹرو اور الیکٹرک بائیکس کا استعمال کریں اور گاڑیاں بھی صرف الیکٹرک ہی لاہور میں چل پائیں باقی سب گاڑیوں پر سخت پابندی لگا دی جائے۔ سائیکلیں سستی کر دی جائیں اور سائیکلوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ بلکہ عوام میں سائیکلوں کے استعمال کو مقبول بنانے کے لیے سب سے زیادہ وزیر مشیر سائیکل کا استعمال کریں۔ ہمیں دوبارہ پچھلے دور میں جانا پڑے گا اگر ہم ماحولیاتی آلودگی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
لاہور کے بیچوں بیچ ایک نالہ بہتا ہے جس میں تمام تر کارخانوں کا فضلہ پایا جاتا ہے اور یہ عوام کے لیے آلودگی اور بیماریوں کا بیش قیمت تحفہ ہے، کیونکہ اس میں پایا جانے والا مضر صحت مادہ لوگوں کی صحت سے خوب کھیل رہا ہے۔ کوئی بھی کارخانہ مناسب صفائی کر کے اپنا فضلہ فیکٹری سے باہر نہیں نکالتا اور نتیجہ یہ ہے کہ لاہور میں شدید آلودگی پائی جاتی ہے بلکہ جن لوگوں کے گھر اس نالے کے آس پاس ہیں ان گھروں میں ائر کنڈیشنز اور دوسری مشینیں بھی اکثر خراب ہوتی رہتی ہیں جب کہ بو اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ گزشتہ کئی روز سے لاہور دنیا کا سب سے آلودہ شہر قرار دیا جا رہا ہے، چلیے کسی جگہ تو ہم نے پہلی پوزیشن حاصل کی آلودگی میں ہی سہی، ایشیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک شہر کا ہم نے کیا حال کر ڈالا،
ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے
پچھلے دنوں سموگ کی وجہ سے میں صاحب فراش تھا، نزلہ، زکام، بخار اور کھانسی ان سب کی محبت کے شکنجے میں تھا، دفتر سے چھٹی کی اور سوچا کے گھر میں کچھ آرام کر لوں۔ مگر
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
صبح تڑکے ہی پھیری والوں کی آمد رفت شروع ہو گئی، اور آج کل نہ صرف پھیری والے بلکہ مانگنے والے بھی اپنے ساتھ لاؤڈ سپیکر رکھتے ہیں اور با آواز بلند اپنے پیغامات پوری شدت سے ہماری سماعتوں کی نذر کرتے ہیں۔
ان بے ہنگم آوازوں نے ناک میں بلکہ یوں کہیے کہ کانوں میں دم کیے رکھا، پھر ہم نے ان کو گننا شروع کر دیا یقین جانیے صبح نو بجے سے لے کر دوپہر تین بجے تک کوئی 30 کے قریب ایسے افراد گلی سے گزرے جنہوں نے لاؤڈ سپیکر استعمال کیے اب چاہے وہ سبزی والا ہو، ردی والا ہو یا مانگنے والا ہو غرض کہ کسی بھی قسم کا کام کرنے والا ہو وہ لاؤڈ سپیکر میں اپنا بیان جاری رکھتا ہے۔ چند ایک سالوں سے یہ نیا فیشن آ گیا ہے ہر ایک شخص بغیر کسی روک ٹوک کے لاؤڈ سپیکر کا استعمال کرتا ہے، جو کہ ماحولیاتی آلودگی میں صوتی آلودگی کا بھی اضافہ کر دیتا ہے۔ یعنی فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ ہم اعصابی اور ذہنی دباؤ کا بھی مسلسل سامنا کر رہے ہیں اور اس طرف کسی بھی سرکاری ادارے کی کوئی توجہ نہیں۔ کیونکہ ہماری اشرافیہ تو ایسی کالونیوں میں رہائش پذیر ہے جہاں کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا وہاں اس قسم کی خرافات سے یہ لوگ دور رہتے ہیں مگر مجھے ایسے زیادہ تر لوگ جن کا تعلق مڈل کلاس سے ہے ایسی جگہوں پر رہائش پذیر ہے جہاں پر پھیری والے اور ایسے لوگوں کا بلا روک ٹوک آنا جانا ہوتا ہے۔ کبھی ہم مسجد کے مولوی صاحب سے شکوہ کناں ہوتے تھے کہ وہ لاؤڈ سپیکر کا بے جا استعمال کرتے ہیں مگر ان کا استعمال تو مخصوص اوقات میں ہی ہوا کرتا تھا۔ مگر یہ لوگ تو سارا دن آپ کی سماعتوں سے کھلواڑ کرتے رہتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
کبھی لاہور کی ہوا معطر اور فضا خوشگوار ہوا کرتی تھی، اور لاہور ایک خوبصورت مسکن تھا شاعروں، ادیبوں اور دانشوروں کا، اب تو لگتا ہے کہ لاہور پہ نحوست کے سائے گہرے ہو چکے ہیں، ناصر کاظمی کی طرح مجھے بھی لاہور سے بہت محبت ہے۔
شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد
تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو
کبھی لاہور کی راتیں جاگتی تھیں شاعر اور ادیب مال روڈ پہ مٹر گشت کیا کرتے تھے، پاک ٹی ہاؤس میں چائے کے دور چلتے تھے اور ناصر جیسے لوگ ساری ساری رات جاگتے تھے،
داتا کی نگری میں ناصر
میں جاگوں گی یا داتا جاگے
مگر اب تو زہریلی فضا کی وجہ سے لوگ دن میں بھی گھر میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں۔
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
میری ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ ماحولیاتی اور صوتی آلودگی دونوں کی طرف توجہ فرمائیں تاکہ لاہور، لاہور رہے جہنم نہ بن جائے۔


