ٹرمپ کی تاریخی کامیابی کے پسِ پردہ ٹھوس وجوہات


نہایت عاجزی اور ایمان داری سے بدھ کی صبح لکھے کالم کے ذریعے اعتراف کر چکا ہوں کہ نام نہاد ”معروضی حالات“ کا ”غیر جانب دارانہ تجزیہ“ کرنے کے عادی ہوئے مجھ جیسے پرانی وضع کے صحافی یہ حقیقت بروقت بیان کرنے میں ناکام رہے کہ ڈونلڈٹرمپ اور اس کی جماعت 5 نومبر 2024ء کے دن ہوئے انتخاب کی بدولت تاریخ ساز کامیابیوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ دعویٰ ہو رہا ہے کہ ہمارے برعکس سوشل میڈیا حقائق کو بہتر انداز میں جانچ اور بیان کر پایا۔

سوال اٹھتا ہے کہ اگر سوشل میڈیا نے واقعتا ر وایتی میڈیا کو پچھاڑ دیا ہے تو مجھ ایسے قلم گھسیٹ کو عمر کے آخری حصے میں کیا کرنا چاہیے۔ وہ لوگ جو اس ”لفافے“ سے اکتائے ہوئے ہیں فوراََ جواب دیں گے کہ لکھنا چھوڑ کرکونے میں بیٹھ جاﺅ۔ اللہ اللہ کرتے ہوئے موت کا انتظار کرو۔ میرے پیشے میں لیکن ریٹائرمنٹ نام کی شے موجود نہیں ہے۔ صحافی مرتے دم تک لکھتا ہے تب ہی روز کی روٹی روز کماسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی دھندے کے قابل بھی نہیں۔ اس تلخ حقیقت کے تناظر میں غور کیا تو شاید دل کو تسلی کیلئے ٹرمپ کی جیت کا مختلف زاویوں سے جائزہ لینے کی کوشش کی۔ غور کرتے ہوئے ٹرمپ کی جیت کی بے شمار نئی وجوہات سمجھ میں آئیں۔

اہم ترین حقیقت یہ دریافت کی ہے کہ ٹرمپ کو فقط سوشل میڈیا نے ہرگز نہیں جتوایا۔ اگر سوشل میڈیا ہی اس کا حقیقی ترجمان ہوتا تو ٹرمپ نے ٹویٹر پر نفرت پھیلانے کے الزام میں بین ہو جانے کے بعد اس جیسی ایک کمپنی بنائی تھی۔ کسی اور کی کیا بات کروں۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں کا متجسس ذہن کے ساتھ پھیرے لگانے کے عادی مجھے جیسے شخص نے بھی اس ویب سائٹ کو ایک بار نہیں دیکھا۔ بائیڈن کے دور میں ایلون مسک نے ٹویٹر خرید لیا تھا۔ وہاں سے سینکڑوں لوگوں کو برطرف کیا اور اس کے صارفین کو سالانہ فیس ادا کرنے کو بھی مجبور کیا۔ میں عالمی خبروں کے بارے میں تازہ ترین جاننے کی تمنا میں فیس دینے کو مجبور ہوا۔ حکومت نے مگر کئی مہینوں سے ٹویٹر کو (جو اب ایکس کہلاتا ہے) استعمال کے قابل ہی نہیں چھوڑا۔ اس کے ذریعے لوگوں سے رابطہ برقرار رکھنے کے لئے آپ کے پاس وی پی این کا ہونا ضروری ہے۔ وی پی این کا استعمال مگر میری دانست میں خلاف قانون ہے۔ ویسے بھی مفت میں میسر وی پی این حکومت پاکستان اکثر ناقابل استعمال بنانے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ وہ کامیاب نہ بھی ہو تو خیرات میں میسر وی پی این آپ کے بارے میں تمام معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے آپ اگر ٹیلی فون کے ذریعے بینک اکاﺅنٹ چلاتے ہیں تو اس کی حفاظت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی ان دیکھے مضمرات مصیبت کا باعث ہو سکتے ہیں۔

موبائل ڈیٹا پر نگاہ رکھنے والے ایک نوجوان دوست سے چند دن قبل گفتگو ہوئی تھی۔ موصوف کی تحقیق نے دریافت کیا ہے کہ جب سے حکومت پاکستان نے ان دنوں ایکس کہلاتے ٹویٹر پر رسائی کو دشوار سے دشوار تر بنایا ہے تب سے اس پلیٹ فارم کو استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد ماضی کے مقابلے میں محض 30 فی صد رہ گئی ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ محدود سے محدود تر ہوتے صارفین کی خاطر محدود آمدنی پر انحصار کرنے والا یہ صحافی ڈالر ادا کرنے کے بعد نسبتاً محفوظ تصور ہوتا وی پی این کیوں استعمال کرے؟

ویسے بھی سنجیدگی سے سوچیں تو بنیادی طور پر صحافی ”ذہن ساز“ نہیں ہوتا۔ بنیادی فریضہ اس کا آپ کو خبر یا اطلاع دینا ہے۔ خبردینے کے بعد مجھے اس فکر میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ اسے کتنے افراد نے پڑھایا دیکھا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم چلانے والی کمپنیوں نے مگر صحافیوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ”خبر“ ڈھونڈنے اور اسے بیان کرنے کے ہنر پر توجہ دینے کے بجائے اس فکر میں مبتلا ہو جائیں کہ انہوں نے اخبار کے لئے جو لکھا سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوا تو اسے کتنے لوگوں نے پڑھا۔ پڑھنے کے بعد پسند بھی کیا اور شیئر کرتے ہوئے اسے مزید لوگوں کو پڑھنے کے لئے اکسایا۔

سوشل میڈیا پر ”مقبولیت“ مگر ایک سراب ہے۔ بہت عرصہ قبل ایک محقق کی بدولت دریافت ہوا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے آپ بالآخر 180 سے زیادہ دوست یا ”خیر خواہ“ بناہی نہیں سکتے۔ یہ تعداد اتنے ہی لوگوں کے برابر ہے جو عموماً آپ کے بچوں کی شادی میں ہر صورت شریک ہوں گے یا آپ کے مر جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھنے والوں میں شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ آپ کی سوشل میڈیا پر لگائی پوسٹ کو لاکھوں لوگ بھی پسند کریں تو یہ مشکل وقت میں آپ کو تسلی فراہم کرنے کے بھی قابل نہیں۔

حال ہی میں مثال کے طورپر عمران خان صاحب کے ایک بااعتماد وکیل – انتظار حسین پنجوتھاصاحب مشکوک حالات میں اغوا ہوئے۔ ان کے اغوا کے بارے میں سرکار کی جانب سے بتائی کہانی کو ناقص ثابت کرنے کے لئے ان لوگوں نے بھی بے تحاشہ واویلا مچایا جو عمران حکومت کے دوران بے شمار ذاتی مشکلات کا شکار ہوئے تھے۔ مطیع اللہ جان اور اسد طور ہی نہیں بلکہ دھیمے مزاج کے حامل منیب فاروق نے بھی اس کی بابت سوشل میڈیا پر دہائی مچائی۔ پنجوتھا صاحب اپنی بازیابی کے بعد مگر خاموش ہیں۔ عددی اعتبار سے تحریک انصاف پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ وہ بھی اپنے قائد کے وکیل کے لئے کماحقہ احتجاج نہ کرپائی۔ حتیٰ کہ انتظار حسین صاحب کی وکلا برادری بھی انہیں کوئی ٹھوس مدد فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

بقول شیکسپیئر ”لفظ، لفظ اور لفظ“ ان دکھوں کا مداوا فراہم کرہی نہیں سکتے جو آپ طاقت ور قوتوں کی مزاحمت کرتے ہوئے اپنے جسم و روح کے لئے جمع کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دہائی، واویلا یا رونق لہٰذا فقط سراب ہے۔ اس سے پرہیز ہی میں عافیت ہے۔ سوشل میڈیا کی محدودات بیان کرنے میں آج کا کالم ختم ہوگیا۔ چند دن بعد تفصیل سے بیان کرنے کی کوشش کروں گا کہ وہ کونسی ٹھوس وجوہات تھیں جو ٹرمپ اور اس کی جماعت کو تاریخی کامیابیوں سے ہم کنار کروانے کا حقیقی سبب ہوئیں۔

(بشکریہ نوائے وقت)

Facebook Comments HS