ہم فکری اختلاف سے گریزاں کیوں ہیں؟


بچہ کتنے سال کا ہو گیا ہے؟ جناب پانچ سال کا ہو گیا ہے۔ اچھا! ماشاءاللہ ابھی کل ہی کی بات ہے جب اپ نے فیس بک پر نوزائیدہ بچے کی تصویر ڈالی تھی۔ وقت کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے۔ سکول داخل کروایا ہے؟ ہاں ہاں پچھلے سال پلے گروپ میں داخل کروایا تھا۔ اور دینی تعلیم کا کیا کیا ہے؟ مسجد جا رہا ہے۔ کون سی والی بھیج رہے ہو؟ وہ۔ اپنے والی!

دوسرا منظر۔ گل پکی سمجھو رشتے دی۔ بہن جی تسی سنی تے ہے او پر کیہڑے اے نہیں دسیا۔ (بات پکی سمجھو رشتے کی۔ بہن جی آپ نے سنی تو ہے لیکن کسی نے یہ نہیں بتایا)۔

تیسرے منظر میں بچہ کلاس روم میں ٹیچر سے پوچھ رہا ہے۔ سر یہ بتائیے! سارے انسان ایک جیسے کیوں نہیں ہوتے۔ کسی خطے میں رنگ کالا ہے اور کہیں سفید چمڑی کہیں گھنگریالے بال ہیں اور کہیں سیدھے بھورے بال۔

یہی وہ سوال ہے جو آگے چل کر بچے کی ذہنی ساخت کو بناتا ہے۔ لیکن تسلی بخش جوابات کی بجائے نظریات کی گردان شروع کروائی جاتی ہے۔ پہلے دو مناظر اور انہی کا ایک تسلسل جاری و ساری ہے جو بچہ صبح دوپہر شام دیکھتا اور سنتا ہے۔ بچہ پیدائش کے بعد کہیں ہوا میں معلق نہیں ہوتا۔ تھوڑے وقت کے بعد ارد گرد کے ماحول کی مخصوص فکر کا انجذاب شروع ہوتا ہے۔ مخصوص نظریات اور چند رسم و رواج کا نام کلچر ہوتا ہے۔ ہر معاشرتی گروہ کے اپنے اپنے ہی روز ہوتے ہیں اور اپنی اپنی بہادری کی کہانیاں۔ یہ تمام چیزیں عینک کا کام کرتی ہیں۔ ایک مخصوص وقت کے بعد بچہ اسی عینک سے دنیا کو دیکھنا شروع کرتا ہے۔ خرابی کی جڑ انہی لینزز میں مضمر ہے۔

کچھ ماہرین نفسیات کا خیال ہے۔ عمر کے پہلے چھ سال میں انسان کی شخصیت آدھی مکمل ہو چکی ہوتی ہے۔ پھر بعد کے چھ سال میں تکمیل پاتی ہے۔ باقی تمام عمر اسی فریب کا تسلسل ہوتی ہے۔ بچپن بلوغت جوانی بڑھاپا غرض یہ کہ زندگی کے کسی دور میں ہمیں مخالف کا نقطہ نظر پڑھایا ہی نہیں جاتا۔ اگر ایمانداری سے مخالف نظریات کو پڑھ لیا جائے تو میرا ماننا ہے۔ ان میں سے بہت سی باتیں ہمارے لیے قابل قبول ہوں گی۔ اگر ہم ان میں سے بہت سے نظریات کو شرف قبولیت نا بھی بخشیں لیکن ہاں ان کے متعلق ایک نرم گوشہ ضرور پیدا کر سکتے ہیں۔ پھر مکالمے کی گنجائش بھی نکل سکتی ہے۔ جس معاشرے میں اتنی سپیس پیدا ہو جائے وہی ارتقائی منازل طے کر سکتا ہے۔ ورنہ یکسانیت اور جمود معاشرے کا مقدر ہوتا ہے۔ یہی یکسانیت ہمیشہ اینگزائٹی کو جنم دیتی ہے۔ سرمایہ دارانہ سوچ کے علمبردار امریکہ میں دنیا سے سب سے زیادہ مارکسی لٹریچر چھپتا ہے۔ اپنے نظریات کے فروغ کے لیے وہ ہر طرح کی انویسٹمنٹ کرتے ہیں لیکن ملک میں مخالف سوچ کو جابرانہ طریقے سے دباتے نہیں۔

اس کائنات کی بنیاد ہی تنوع پر رکھی گئی ہے کہیں بارانی علاقہ ہے، کہیں پہاڑ اور پھر صحراؤں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ تعالی کا ارشاد قرآن پاک میں بالکل واضح ہے۔ ”اور اس کی نشانیوں سے ہے آسمان اور زمین کی پیدائش اور تمہاری رنگتوں کا اختلاف بے شک اس میں نشانیاں ہیں جاننے والوں کے لیے“ ۔ بنانے والا اگر چاہتا تو تمام انسان ایک جیسے پیدا کرتا۔ ہر درخت ایک جیسا ہوتا ساری زمین ہموار ہوتی ہے اس کرہ ارض پر جا بجا مختلف رنگوں کی فراوانی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں چلن فطرت کے بالکل الٹ ہے۔ ہم ایک ایسا چمن بنانا چاہتے ہیں جس کے تمام پھول یک رنگی ہوں۔ اس چمن میں کسی دوسرے رنگ کے پھول کی کوئی گنجائش نہیں۔ اپنے اپنے یک رنگی باغ میں پھولوں کی چوتھی پانچویں نسل کی پنیری کاشت کر چکے ہیں۔ عدم برداشت غیر انسانی رویے پھولوں نے باغ کے مالی سے ادھار لیے ہیں۔ یہ واپس ہو سکتے ہیں اگر باغبان پھولوں کی کاشت ایک دوسرے کے باغ میں کرنا شروع کریں۔ شاید ایک دوسرے کی خوشبو رنگ کچھ عرصے کے بعد ایک دوسرے کے لیے قابل قبول بن جائیں۔ بقول سرشار سیلانی،

چمن میں اختلاط رنگ و بو سے بات بنتی ہے
ہم ہی ہم ہیں تو کیا ہم ہیں تم ہی تم ہو تو کیا تم ہو

Facebook Comments HS