امریکی الیکشن: ٹرمپ دوبارہ کس وجہ سے جیتا؟


امریکی جمہوری سیاست میں دو جماعتوں کا غلبہ ہے : ڈیموکریٹک اور ریپبلکن۔ اوّل الذکر کا انتخابی نشان گدھا ہے اور ثانی الذکر ہاتھی کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑتی ہے۔ امریکا کے بین الاقوامی سیاسی امور میں پینٹاگون کو ہمیشہ بالادستی رہی ہے، پینٹاگون کے ذریعے سے امریکا خارجہ امور میں اپنے مفادات کی نگرانی کرتا ہے گویا پینٹاگون ہی امریکی مقتدرہ کی علامت ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ڈیموکریٹس پارٹی مقتدرہ کی حامی ہے اور پارٹی کا اعتدال پسند دھڑا مقتدرہ کی حمایت سے حکومتیں تشکیل کرتا رہا ہے اس جماعت میں ردّ مقتدرہ کا دھڑا بھی موجود ہے جسے پروگریسو یا ترقی پسند دھڑا کہا جاتا ہے۔

یہ دھڑا مقتدرہ کے اثر سے باہر نکلنے کا حامی ہے جس کی قیادت برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے سیاست دان کرتے رہے ہیں۔ ترقی پسند ڈیموکریٹس مقتدرہ کے زیر اثر بڑی کاروباری شخصیات اور روایتی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ حالیہ الیکشن میں یہ نکتہ سیاسی مہم میں بنیادی حیثیت کا حامل تھا چونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کیپٹل ہل پر حملہ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس گرفتاری کے محرکات میں ردّ مقتدرہ کا بیانیہ بھی شامل تھا۔ مجھے 2016 ء کا صدارتی الیکشن یاد آ رہا ہے جب میں کیپٹل ہل کے بالکل سامنے والے ہوٹل کی بالکونی میں بیٹھ کر ٹرمپ کی فتح پر مضمون لکھ رہا تھا اُس وقت کس کو معلوم تھا کہ اسی کیپٹل ہل پر ریپبلکن کے حامی ٹرمپ کے حق میں حملہ آور بھی ہوں گے۔

بہرحال، امریکی عوام نے گدھے کے انتخابی نشان پر لڑنے والی مقتدرہ کی حامی جماعت کو مسترد کر دیا ہے اور ہاتھی کو اقتدار سونپ دیا گیا ہے، اب ہاتھی کے پاؤں کے نیچے مقتدرہ ہوگی اور پیٹھ پر عوام، یہ تو وقت بتائے گا۔ علم سیاسیات میں یہ بحث ہے کہ ٹرمپ کی جیت پاپولزم کی جیت ہے یا جمہوریت کی فتح؟ اور علم اقتصادیات میں یہ بحث ہے کہ امریکا میں آپریٹ کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالی مفادات کا کیسے تحفظ ہو گا؟

پاپولزم کی بحث پر میرا مدعا بس اتنا سا ہے کہ یہ تصور بنیادی طور پر مغربی استعماری لکھاریوں نے پھیلایا ہے جس کا بنیادی مقصد status quo کو توڑنے کی کوشش کرنے والی کسی بھی سیاسی جمہوری تحریک کو داغ دار کر کے اسے غیر جمہوری ڈیکلیئرڈ کرنا ہے۔ پاپولزم ایک سیاسی اصطلاح تو ہو سکتی ہے لیکن اس کا عملی اطلاق سیاسی تحریک پر کرنا، تحریکوں کو نقصان پہنچانے کے لیے تراشا گیا تصور ہے بالکل ویسے ہی جیسے سازشی تھیوری کی اصطلاح استعمال کر کے کسی بھی علمی بحث و مکالمہ کا راستہ روکنا درکار ہوتا ہے۔ جو افراد ٹرمپ کی فتح کو پاپولزم قرار دے رہے ہیں وہ بنیادی طور پر سیاسی تحریک کو ثبوتاژ کرنے کے مقتدرائی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں، خورشید ندیم جیسے لکھاری ٹرمپ کی فتح کو امریکی جمہوری نظام کی کم زوری قرار دے کر مقتدرائی نقارہ بجانے کی سعی کر رہے ہیں۔ ٹرمپ، 1992 ء کے بعد سے اب تک صرف دوسرے ریپبلکن صدارتی امیدوار ہیں جنھوں نے ”نیشنل پاپولر ووٹ“ یعنی مجموعی قومی ووٹ حاصل کیا۔ 1992 ء کے بعد سے زیادہ تر انتخابات میں ریپبلکن امیدواران نے ”الیکٹورل کالج“ کے ووٹوں سے تو کامیابی حاصل کی، لیکن مجموعی قومی ووٹ میں انہیں زیادہ عوامی حمایت نہیں ملی۔ 1992 ءکے بعد سے صرف ایک ریپبلکن امیدوار، جارج ڈبلیو بش نے 2004 ء میں نیشنل پاپولر ووٹ جیتا تھا۔ تو پھر یہ جمہوری نظام کی کم زوری کیسے ہوئی؟

دوسرا تصور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات سے منسلک ہے۔ مجموعی طور پر حالیہ الیکشن پر 16 ارب ڈالرز خرچ ہوئے ہیں جبکہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکن کو کمپنیوں نے انتخابی فنڈنگ بھی کی جس سے ان کے معاشی عزائم کا ادراک کیا جاسکتا ہے۔ ایلون مسک اور بل گیٹس کے کاروباری مفادات الگ الگ ہیں جو سیاسی جماعت ان کے کاروباری مفادات کی ضامن ہو سکتی تھی انھیں انتخابی فنڈنگ مہیا کر دی گئی۔ ٹرمپ نے انتخابی مہم میں امریکی عوام کے مفادات کے تحفظ کا نکتہ اُٹھایا بالکل ویسے ہی جیسے 2016 ء کی الیکشن مہم میں بیانیہ تشکیل دیا تھا۔

امریکی عوام کو American Expansionism سے کوئی سروکار نہیں ہے، انھیں داخلی طور پر اپنے تحفظات سے زیادہ غرض ہے۔ امریکا کی عالمی بالادستی نے جمہوری بطن سے جنم نہیں لیا بلکہ اس کی پُشت پر دفاعی طاقت پنہاں ہے اور بریٹن ووڈ سسٹم پر گرفت، ڈالرز کی اجارہ داری جیسے محرکات شامل ہیں۔ ان امور پر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، محض امریکی عوام کے سامنے یہ موقف پیش کیا کہ وہ جنگوں کے حامی نہیں ہیں۔ عالمی سیاسی و انتظامی نظام پر امریکہ کی مکمل گرفت ہے، اس گرفت کو توڑنے کے لیے ایشیائی ممالک نے ابھی بہت سفر طے کرنا ہے اگر اس سفر میں پاکستان ایشیائی اتحاد سے باہر نکل گیا تو ریاست ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کا اندیشہ رہے گا۔

ہمیں الیکشن فتح پر، ٹرمپ کی تقریر کا Discourse Analysis کرنا ضروری ہے۔ ٹرمپ کی تقریر 9 نکات کے گرد گھومتی ہے۔ اوّل؛ ٹرمپ نے اپنی جیت کو امریکی سیاست کی تاریخ کا ایک عظیم اور انوکھا واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ عوام کی حمایت سے حاصل کی گئی ایک ”سیاسی تحریک“ ہے۔ اس تحریک نے امریکی عوام کے جذبات کی عکاسی کی، جو تبدیلی چاہتے تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ فتح ان کے لیے محض ایک منصب پر بیٹھنے کا موقع نہیں بلکہ عوامی فلاح و بہبود اور قومی مفادات کی ترجمانی کا عہد ہے۔ اب امریکا جیسے جمہوری ملک میں، انتخابی فتح کو سیاسی تحریک قرار دینا، بہت معنی خیز ہے، یہ ٹرمپ کی سیاسی جدوجہد کی گہرائی کی عکاس ہے۔

دوم؛ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں اتحاد اور ہم آہنگی پر زور دیا۔ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ امریکی معاشرہ تقسیم کا شکار ہے، اور انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ امریکا کو متحد کریں گے۔ سوم؛ ٹرمپ نے امریکی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی خدمات کو سراہا، یہ وہ ستون ہیں جن پر امریکی معاشرہ قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کو محفوظ بنانے کے لیے ان اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور ان کی حمایت کریں گے تاکہ امریکہ میں قانون کی بالادستی قائم رہے۔ چہارم؛ ٹرمپ نے سرحدوں کو محفوظ بنانے اور غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانونی طور پر امیگریشن کی حوصلہ افزائی کریں گے تاکہ وہ لوگ جو امریکہ میں بہتر زندگی گزارنے کے خواہش مند ہیں، قانونی طریقے سے آئیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ نکتہ بنیادی طور پر میکسیکو کے تناظر میں اُٹھایا گیا کیونکہ امریکا کو اس وقت غیر قانونی امیگرینٹس کا سامنا ہے۔

پنجم؛ ٹرمپ نے امریکی معیشت کو دوبارہ مستحکم کرنے کا وعدہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح معیشت کی بحالی ہوگی اور وہ ایسے منصوبے بنائیں گے جو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ٹیکسوں میں کمی کریں گے تاکہ کاروبار کو فروغ ملے اور لوگ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کر سکیں۔ ٹرمپ نے صنعتی ترقی پر زور دیا تاکہ امریکی پیداواریت میں اضافہ ہو اور امریکہ خودکفیل بن سکے۔ ششم؛ ٹرمپ نے ایلون مسک کی خدمات کا خاص طور پر ذکر کیا اور ان کے اسپیس ایکس اور اسٹار لنک جیسے پروجیکٹس کی تعریف کی، جنھوں نے ہنگامی حالات میں مواصلات کے مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے امریکہ میں تکنیکی ترقی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ وہ ایسے افراد کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں گے تاکہ امریکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے دیگر ممالک سے آگے بڑھ سکے۔

ہفتم؛ٹرمپ نے امریکی فوج کی طاقت میں مزید اضافے کا وعدہ کیا اور کہا کہ ان کا مقصد امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کی مدد سے امریکی فوج کو مزید مضبوط کریں گے تاکہ ملک کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ہشتم؛انہوں نے وعدہ کیا کہ امریکہ کے تجارتی تعلقات کو نئے سرے سے ترتیب دیں گے تاکہ امریکی مفادات کا تحفظ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان تمام معاہدوں کا جائزہ لیں گے جو امریکہ کے حق میں نہیں ہیں اور ایسے معاہدے کریں گے جو امریکہ کی معیشت کو تقویت دیں۔ اس سے امریکی کاروبار کو فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ نہم؛ ٹرمپ نے ”America First“ یعنی ”سب سے پہلے امریکہ“ کی پالیسی کا اعادہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کی تمام کوششیں اور فیصلے امریکی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہوں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر امریکہ کے مفادات کا تحفظ کریں گے اور امریکی عوام کی ترقی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے۔

ٹرمپ کی ”تھیوری آف دی کیس“ یا ان کی انتخابی حکمت عملی کا بنیادی خیال یہ تھا کہ وہ ریپبلکن پارٹی کی سفید فام محنت کش طبقے میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کو بنیاد بنا کر ایک متنوع محنت کش طبقے کا اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ اور ان کے انتخابی مہم کے منتظمین کا ماننا تھا کہ دیگر نسلی گروہوں جیسے لاطینی امریکی اور افریقی امریکی ووٹرز، خاص طور پر مرد ووٹرز، میں بھی انہیں حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ ہمیں یہ باور کرنا چاہیے کہ عالمی طاقتوں کے مفادات و عزائم ہمیشہ اقتصادی ہوتے ہیں اور اقتصادی طاقت ہی عالمی طاقت بننے کا موجب ہوتی ہے۔ افغانستان سے خروج کے بعد ، امریکا کا ہدف چین ہے۔ چین کو اقتصادی قوت بننے میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے چینی کمپنیوں کو امریکا میں نئی قانون سازیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسی طرح امریکہ نے انڈو پیسیفک میں اپنی مداخلت بڑھانے کے لیے نئے شراکتی اتحاد تشکیل دیے ہیں تاکہ سمندری راستوں کے ذریعے سے چینی بحری جہازوں کی آمدو رفت کو کنٹرول کیا جا سکے۔ ٹرمپ نے امریکہ فرسٹ کا نعرہ لگا کر انتخابی فتح حاصل کی ہے، اب ریپبلکن پارٹی کی پالیسیاں پینٹاگون کی مشاورت سے طے کی جائیں گی یا پھر صدر کو مکمل طور پر جمہوری اختیارات کا استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، اس کے لیے ہمیں چند مہینوں تک انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی شکست مقتدرہ کے لیے ابھی تازہ زخم ہے۔

Facebook Comments HS