اقبال، چند خیالات


علامہ اقبال سے پہلا کتابی تعارف نانا مرحوم کی وجہ سے ہوا، انھوں نے اپنے کمرے میں چھوٹی سی لائبریری بنا رکھی تھی، میں جب کبھی ان کے ہاں جاتا تو ان کی کتابوں کو دیکھتا رہتا۔ ایک دن واپسی پہ اماں سے ضد کی کہ نانا سے ”بالِ جبریل“ لے کے دیں، اماں نے ڈرتے ڈرتے نانا سے کہا کہ یہ کسی کتاب کی ضد کر رہا ہے، نانا نے کہا: ”اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے، کتاب پڑھنا تو اچھی بات ہے، لیکن ایک شرط ہے کہ صحیح سلامت واپس کرنی پڑے گی۔“ ہم نے شرط منظور کی اور گھر تک سارا رستہ کتاب کا سر ورق دیکھتے آئے، گھر آ کہ ”لا پھر اک بار وہی باد و جام اے ساقی“ کو پڑھ کر حیرت انگیز خوشی ہوئی کیونکہ ان دنوں یہ غزل شبنم مجید نے گا کر مشہور کر دی تھی۔ اسی دور میں اقبال کے اشعار پڑھتے اور حفظ کرتے رہے، اور اقبال کو ہی سب سے بڑا شاعر مانتے رہے کیونکہ تب تک مرزا غالب سے شناسائی نہیں ہوئی تھی۔

2016 تک اقبال کی محبت و عقیدت اس حد تک قائم تھی کہ ہم اسلام آباد میں ایک سکول پر سیکورٹی گارڈ کے فرائض سر انجام دیتے تھے، جس کے مالک گنجے باس نے ہماری تنخواہ سے ناجائز کٹوتی کی اور بارہا اصرار پہ بھی ری ایمبرسمنٹ نہ ہوئی تو ہم نے سکول کی لائبریری سے ”کلیاتِ اقبال“ چرا کے حساب چکتا کر دیا، خیر کتاب کی چوری کوئی چوری نہیں ہوتی۔

اس کے بعد ہمارا عقلیت پسندی کا دور شروع ہوا، فکری ارتقاء نے کروٹیں لیں، جذباتیت و ریاستی نصاب کے بنائے کئی بت پاش پاش ہوئے، آن کی آن میں کئی ہیرو زیرو بنے اور کئی ”بھٹکے ہوئے لوگ“ ہمارے ہیرو کی صفوں میں گھس آئے۔

آج اقبال کو بطور شاعر تو پسند کرتے ہیں لیکن ان سے جذباتی وابستگی نہیں رہی، اور انھیں منصبِ ولایت سے بھی معزول کر دیا، بھلا ہو ان دوستوں کا جنھوں نے اقبال کی کئی ایسی نظمیں پیش کیں جو انھوں نے اپنے ابتدائی دور میں اپنے ”سامراج آقا“ کی مدح میں لکھیں، لیکن میں اس پہ ان کو اتنا زیرِ عتاب نہیں لاتا اور ایک معتدل رائے کا حامی ہوں، کیونکہ ان کے فکری ارتقاء کو سمجھنے کے لیے ماہرینِ اقبالیات نے جو ادوار طے کیے ہیں انھیں سمجھنا انتہائی ضروری ہے، نیز اقبال نے خود بھی اپنے آخری دورِ شاعری میں کئی نظریات سے رجوع کیا، اصل مسئلہ ”اصل اقبال“ اور ”ریاستی اقبال“ کا ہے، ریاست نے اقبال کے کھاتے میں وہ وہ چیزیں بھی ڈال دیں ہیں جو ان کے فرشتوں کے بھی علم میں نہیں، مثلاً خطبۂ الہ آباد میں ایک آزاد خود مختار ریاست کا تصور جو ان کے خطبۂ الٰہ آباد میں کہیں بھی نہیں ملتا، اسی طرح ”مصنوعی قومی شناخت“ کے حوالے سے پاکستانیت کو اقبال کا تڑکا لگانا اور غزوہِ ہند کے نام پہ ہندوستان مخالفت پیدا کرنے کے لیے اقبال کی شاعری سے اس کے اثبات میں اشعار نقل کرنا، حالانکہ اقبال اپنے ابتدائی دور میں ”تصورِ مہدی“ کو اسرائیلی روایات مانتے تھے ہاں بعد میں انھوں نے اس پہ رجوع کر لیا۔

ایک اعتراض جو ان پہ اکثر کیا جاتا ہے کہ وہ جغرافیائی وطن کے مخالف تھے، اس بات پہ اقبال کو بہت زیادہ ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے، لیکن میرے نزدیک ان کے اس نظریہ کو سمجھا نہیں گیا، یہ اعتراض اکثر اوقات سیکولر نیشنلسٹ لوگوں کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے، اور بد قسمتی یہ کہ انھوں نے اقبال کو پڑھا بھی نہیں ہوتا، اس اعتراض پہ اقبالیات کے ماہر و نقاد سید عبداللہ نے بہت مدلل انداز میں ان کا دفاع کیا، وہ لکھتے ہیں :

”علامہ اقبال نے جس وطنیت کی مخالفت کی ہے، وہ یورپ کی وطنیت (Nationalism) ہے جس کی ایک مخصوص اور طویل تاریخ ہے اور ایک لحاظ سے یہی وطنیت، انسانیت کے لیے بے شمار مصائب کا سر چشمہ رہی ہے اور اب تک ہے۔ علامہ اقبال اس کے مخالف تھے اور بجا طور پر مخالف تھے مگر ان کے افکار میں جغرافیائی مملکت کی مخالفت کا سراغ کہیں بھی موجود نہیں۔ ان کے نظام فکر میں جس طرح کوئی مملکت نظام عقائد کے بغیر، بربریت اور بد تہذیبی ہے، اسی طرح کوئی نظامِ عقائد، بے مملکت، رہبانیت سے کم نہیں اور یہ چیز اسلام کے عملی تصورات کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے“ پس چہ باید کرد اے اقوام شرق“ اور ”جاوید نامہ“ میں ایشیائی مملکتوں کو زیادہ قوی بنانے کی تلقین کی ہے۔“

اقبال پہ ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ان کی کئی نظمیں انگریزی ادب کے شعراء سے ماخوذ ہیں یا خوشحال خان خٹک کے اشعار کا سرقہ ہیں، اور اپنا کلام نہیں۔ اسی طرح فلسفہ کے حوالے سے بھی ان پہ اعتراض ہے کہ انھوں نے نطشے کے سپر مین کو کلمہ پڑھا کے مردِ مومن بنا دیا۔ اس سب کے باوجود اقبال کے ہاں پڑھے اور سوچنے کے لائق بہت کچھ ہے، اگر آپ اقبال کے اپنے افکار کی گہرائی میں اترنا چاہتے ہیں تو ان کی درج ذیل نظمیں پڑھیں :

”سیاستِ افرنگ، ابلیس کی مجلسِ شوریٰ، ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام، جوابِ شکوہ، بڈھے بلوچ کی نصیحت، باغی مرید، ہندی مکتب، مکہ اور جنیوا، فرمانِ خدا، لینن (خدا کے حضور) ، شمع و شاعر، خضر راہ وغیرہ۔

حسن نثار سمیت کئی فرسٹیٹڈ و غیر فرسٹیٹڈ لوگوں کا ایک گلہ یہ بھی ہے کہ انھیں یورپ میں کوئی نہیں جانتا، اسی بات پہ حسن نثار و ابتسام الہٰی ظہیر میں تلخ کلامی بھی ہو چکی ہے، ابتسام الہٰی ظہیر صاحب ”این میری شمل“ کی اقبال پہ ہونے والی پی ایچ ڈی کو پورے یورپ کا جاننا مانتے ہیں۔ اقبال کے خلاف اس رویے کی وجہ یہ ہے کہ اقبال دائیں بازو کا کنزرویٹو شاعر ہے، اور ایک پروگریسیو ریشنلسٹ بندہ کبھی اقبال کا مداح نہیں ہو سکتا، حسن نثار سمیت ان حضرات کے اعتراض کی وجہ بھی نفسِ مسئلہ سے زیادہ ری ایکشنری اپروچ ہے۔ لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ آج دنیا جس طرح دوستوفسکی، شیکسپیئر اور سگمنڈ فرائیڈ کو جانتی ہے ویسے اقبال کو کوئی نہیں جانتا۔ یہ بات محض اقبال تک نہیں محدود، اقبال کیا برصغیر کی شاید ہی کوئی ایسی شخصیت ہو جو ان اشخاص جتنی مقبول ہو۔

یہاں میں اسی طرح کے اعتراض سے ملتا ایک واقعہ نقل کروں گا، کسی نے گوگول اور پشکن (روسی ادیبوں ) پہ اعتراض کیا تھا کہ وہ گوئٹے جتنے بڑے ادیب نہیں تو ان کو جواب دیا گیا کہ تم یہ دیکھو کہ پشکن اور گوگول روسی زندگی کی نمائندگی کس طرح کرتے ہیں، روسی لوگوں کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کس طرح کرتے ہیں اور ان کے مسائل کا کیا حل پیش کرتے ہیں۔

حرف آخر یہ کہ اقبال ایک انسان تھا، جیسے سب انسان ہوتے ہیں، غلطیاں، رجوع، ارتقا اور کانٹرورسیز سے بھرپور، لیکن کہیں انھیں جذباتیت اور ولایت میں لپیٹ دیا گیا تو کہیں انھیں بالکل صفر سے ضرب دی گئی، اس بات پہ کم از کم پاکستانیوں سمیت مسلمانوں کی اکثریت متفق ہے کہ اقبال نے مسلمانوں کے اجتماعی زوال کی نہ صرف نبض شناسی کی بلکہ حتیٰ المقدور علاج بھی پیش کیا۔

Facebook Comments HS