ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح اور چیلنجز


امریکی انتخابات کے مکمل نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں، مگر اس وقت تک امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ 301 الیکٹورل ووٹ لے کر امریکہ کے نئے صدر منتخب ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں امریکی انتخابات پر ہوتی ہیں کیونکہ امریکہ اس وقت ایک سپر پاور ہے، اور اس کی پالیسیوں کا دنیا کے مختلف ممالک پر اثر پڑتا ہے۔

جب امریکہ میں انتخابات ہوتے ہیں تو وہاں پیشن گوئی کرنے والے اور پول کرنے والوں کی بڑی دلچسپی ہوتی ہے، کیوں کہ امریکہ میں انتخابات کے دوران پول اور پیشن گوئیاں مسلسل ہوتی رہتی ہیں، اور دنیا کی نظریں ان پولز اور پیشن گوئیوں پر لگی رہتی ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ امریکہ میں انتخابات کون جیتے گا۔ 2024 کے انتخابات میں 80 فیصد پولز اور پیشن گوئیاں ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس کی جیت کا امکان ظاہر کر رہی تھیں، مگر نتائج اس کے بالکل برعکس آئے۔ تاریخ میں دوسری بار، ایک بار ہارے ہوئے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے 301 الیکٹورل ووٹ لے کر دنیا کو حیران کر دیا۔ امریکی صدر بننے کے لیے 538 میں سے 270 ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوتے ہیں۔

آئیے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاریخی فتح کو کیسے حاصل کیا۔ امریکہ میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹیاں ایک دوسرے کی مخالف ہیں۔ آج تک 40 مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر منتخب ہوئے ہیں، اور اس پارٹی کا امریکہ میں ہمیشہ سے بڑا اثر رہا ہے۔ مگر جب تاریخ میں ڈیموکریٹک پارٹی کا کوئی کمزور امیدوار صدارتی انتخابات میں آیا تو اکثر مخالف امیدوار ہی انتخابات جیتے ہیں۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز اپنے نظریات میں مکمل طور پر مختلف ہیں۔ ڈیموکریٹس ایک لبرل پارٹی ہے جو انسانی حقوق اور جمہوریت کی حمایت کرتی ہے۔ یہ پارٹی امریکہ میں تارکین وطن کے حقوق کے تحفظ پر بھی یقین رکھتی ہے، اور ملک میں اسقاط حمل اور جنسی حقوق کی بھی حامی ہے۔

دوسری طرف، ریپبلکن پارٹی کا نظریہ بالکل مختلف ہے۔ ان کا نظریہ قدامت پسندی اور قوم پرستی پر مبنی ہے۔ ریپبلکنز کا مقصد صرف امریکیوں کی خوشحالی ہے، اور یہ امیگریشن پالیسی کے سخت مخالف ہیں۔ ان کے خیال میں امریکہ میں پیدا ہونے والی ملازمتوں پر صرف امریکیوں کا حق ہے، اور ان کا ماننا ہے کہ تارکین وطن امریکی ملازمتوں پر قابض ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ اسقاط حمل کی پالیسی کے بھی سخت مخالف ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس وقت ”میڈ امریکہ گریٹ اگین“ کا نعرہ متعارف کرایا، جو کافی مقبول رہا۔ ریپبلکن پارٹی دنیا میں جنگوں کی حمایت کرنے اور ان پر خرچ کرنے کے بھی خلاف ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جو پیسہ جنگوں پر خرچ ہوتا ہے، اسے امریکہ کے عوام پر خرچ ہونا چاہیے۔

جب ہم دونوں سیاسی جماعتوں کے نظریات کا جائزہ لیتے ہیں تو ریپبلکن پارٹی کا نظریہ امریکی عوام کے لیے زیادہ متاثر کن لگتا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی امیگریشن پالیسی اور جنگی اخراجات کی وجہ سے امریکہ میں مہنگائی بڑھ گئی ہے، جسے تاریخی مہنگائی کہا جا رہا ہے۔ امریکہ میں مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے لیے 1 ڈالر شاپس مشہور تھیں جہاں زندگی کی بنیادی ضروریات کی چیزیں ایک ڈالر تک مل جاتی تھیں، مگر آج ان دکانوں پر 90 فیصد چیزیں ایک ڈالر سے زیادہ قیمت پر ملتی ہیں۔ ایک ڈالر والی اشیاء کی قیمت 5 سے 6 ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی میں بڑی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ ڈیموکریٹس کی شکست کی سب سے بڑی وجہ امریکہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔

اس کے علاوہ دیگر وجوہات بھی ہیں۔ کملا ہیرس، جو ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار تھیں، انہوں نے اپنی پوری انتخابی مہم میں صرف ٹرمپ پر ذاتی حملے کیے کہ وہ کرپٹ ہیں، عیاش ہیں، اور غریبوں کے ساتھ ہمدردی نہیں رکھتے۔ وہ اپنی کلاس کے لوگوں کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں اور امریکہ کو دنیا میں تنہا کر دیں گے۔ دوسری طرف، ٹرمپ امریکی عوام کو یہ باور کرا رہے تھے کہ وہ ملک میں مہنگائی کم کریں گے، امیگریشن پالیسی کو درست کریں گے، غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجیں گے، دنیا میں جنگوں کی حمایت نہیں کریں گے، چین پر زیادہ ٹیکس لگائیں گے اور نوجوانوں کے لیے نوکریاں پیدا کریں گے۔

پھر فلسطین میں 45 ہزار افراد کا اسرائیلی حملوں میں قتل اور ایران اور یمن پر حملے کے سبب مسلمان برادری بھی ڈیموکریٹک پارٹی سے ناراض تھی، جس کی وجہ سے مسلمانوں نے بڑی تعداد میں ٹرمپ کو ووٹ دیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کو صرف سفید فام افراد نے ووٹ دیا، اور کملا ہیرس جو کہ سیاہ فام ہیں انہیں سفید فام ووٹ نہیں ملے، مگر حقیقت میں کملا ہیرس کی والدہ کا تعلق انڈیا سے تھا، اور بڑی تعداد میں انڈین لوگوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا۔ اسی طرح میکسیکو کے 90 فیصد عوام نے بھی ٹرمپ کو ووٹ دیا۔ پاکستانیوں کی بڑی تعداد ٹیکساس میں مقیم ہے، اور ان میں سے 80 فیصد لوگوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا۔ پاکستانیوں نے ووٹ دینے سے قبل ٹرمپ سے ملاقات کر کے کہا کہ وہ عمران خان کو آزاد کرائیں اور تمام پاکستانی انہیں ووٹ دیں گے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ عمران خان کی آزادی میں مدد کریں گے۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ ٹرمپ عمران خان کی آزادی میں کس حد تک مدد کرتے ہیں۔

ٹرمپ کا سب سے بڑا چیلنج امریکی معیشت کو بہتر بنانا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ جو تیل اور گیس درآمد کرتا ہے اسے بند کر کے ٹیکساس اور دیگر ریاستوں میں موجود امریکی ذخائر کا استعمال کر کے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کر کے ملک میں مہنگائی کم کی جائے گی۔ ٹرمپ کا دوسرا بڑا چیلنج یوکرین اور روس کی جنگ ہے، جس کی مالی مدد بھی وہ روک سکتے ہیں تاکہ امریکہ کے اخراجات کم ہوں۔ اسرائیل اور فلسطین کی جنگ میں شاید ٹرمپ کوئی بڑی تبدیلی نہ کر سکیں، مگر کچھ وقت کے لیے جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں تاکہ دنیا کو پیغام جائے کہ ٹرمپ جنگوں کے خلاف ہیں۔

20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ 47 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے، اور ان کے ابتدائی 100 دن انتہائی اہم ہوں گے جن میں وہ ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے کچھ فیصلے جلد کر کے امریکی عوام کو ریلیف فراہم کریں گے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ اقتدار میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS