کہانیاں جہان گم گشتہ کی


 

بڑے عرصے بعد کوئی ایسی چونکا دینے والی کتاب پڑھی جس نے اپنے فکری موضوعات سے ہی نہیں بلکہ اپنے زرخیز تخلیقی اسلوب سے بھی بے حد متاثر کیا۔ مطالعے سے قبل یہ میرے لیے فقط ایک تخلیقی نثری کتاب تھی، مگر ان کہانیوں میں اتر جانے کے بعد یہ میرے لیے دکھ درد کی ایسی بپتا بن گئی کہ جس میں نگہت سلیم صاحبہ نے جانے کتنی محرومیوں، حسرتوں، خواہشوں اور خاک ہوتی تشنہ انسانی آرزوؤں کو یکجا کر دیا تھا۔ یہاں ہر کہانی اپنے تحیر آمیز فکری پھیلاؤ کے سبب اس انسانی کرب کا احاطہ کرتی ہے، جسے سہنا محال ہے۔ چھ کہانیوں اور تین ناولٹ پر مشتمل اس جہان گم گشتہ میں ہر فن پارہ ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔

وہ کہانی جسے میں نے اپنے دل پر محسوس کیا، آسیب مبرم ہے۔ ہمارے ہاں تیسری جنس کے مسائل پر لکھنے کا فقدان ہے۔ لینہ حاشر کی تحریر ”مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط“ اور ارون دھتی رائے کے ناول ”بے پناہ شادمانی کی مملکت“ میں انجم کا مضبوط کردار اس حوالے سے ذہن پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ یہاں اس کہانی میں بھی آفتاب کا معصوم سا کردار ہے، جسے نگہت سلیم صاحبہ نے کئی سال قبل 2017 میں تخلیق کیا تھا، جو بدنصیبی اور محرومی کا ایسا طوق پہن کر سامنے آتا ہے کہ جس کے دائرے میں قاری خود کو محصور پاتا ہے۔

اس ناولٹ میں نگہت سلیم صاحبہ نے بڑے دلگداز پیرائے میں اس آزردہ خاندان کا نقشہ کھینچا ہے، جہاں پے در پے بیٹیوں کی پیدائش پر منایا جانے والا غم آفتاب کی پیدائش پر بے بسی، بے یقینی و بد نصیبی کے سوگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ماں باپ کے لیے اولاد کی پیدائش، جو دنیا کی سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے، اس وقت بکھر کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے جب انھیں پتہ چلتا ہے کہ ان کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ تیسری جنس سے تعلق رکھتا ہے۔ ذرا اس ناولٹ کا یہ دلگداز و کربناک منظر ملاحظہ کیجیے :

”اس سے پہلے کہ پھر کوئی خیال دائی بتول کو روکتا اُس نے جلدی سے بچے کی ٹانگوں کے اوپر سے کپڑا ہٹا دیا۔ ہاجرہ جو تجسس کے مارے کہنی کے بل پر داہنی کروٹ کو ذرا سا اوپر اٹھ گئی تھی، یوں ساکت و جامد ہو گئی جیسے اُس نے سنکھیا سونگھ لی ہو۔ دونوں عورتیں یک ٹک ایک دوسرے کو خالی نظروں سے دیکھتی رہیں، پھر بہت آہستگی سے ہاجرہ کی داہنی کہنی کھسکی اور اس کا سر سرہانے کی پٹی سے ٹکرا گیا۔

دائی بتول نے گھبرا کر اُس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر جھنجھوڑا: ’ہاجرہ حوصلہ کر۔ ہوش میں آ۔ آنکھیں کھول ہاجرہ!‘

”نیم بے ہوشی میں ہاجرہ کو دائی بتول کی آواز لگڑ بھگے کی ہنستی سسکتی چیخ میں تبدیل ہوتی محسوس ہوئی، پھر آس پاس بھیڑیوں کے ہونکنے کی آوازیں آنے لگیں، جو رفتہ رفتہ غمناک وحشی قہقہوں میں تحلیل ہو گئیں، پھر دیکھتے ہی دیکھتے تنگ و تاریک گلیوں سے ننگ دھڑنگ بچوں کی کھیپ تعفن زدہ گٹروں کو پھلانگتی رُلتی شور مچاتی اس کے گھر کی طرف بڑھی، کالے، سوکھے، ٹیڑھی ہڈیوں والے آوارہ بچے، بے مصرف جیے جانے والے، بے خواہش پیدا ہونے والے بچے، جو کسی کا خواب نہ تھے۔“

ذرا سوچیے! اس ماں کی تکلیف و اذیت کا اس سے بڑھ کر بیان کیا ہو گا۔ جو اس بات سے ڈری سہمی رہتی ہو کہ جس دن یہ راز دنیا جانے گی وہ کیا قیامت کا دن ہو گا۔ جب کہ سچ تو یہ ہے کہ ایسے راز دنیا کی نظروں سے نہاں کب رہتے ہیں۔ دنیا شناس ہاجرہ کو بھی اس بات کا احساس ہوتے ذرا دیر نہ لگی، وہ اس ننھی سی جان کو گود میں لینے کی آرزو میں منتظر اپنی معصوم بیٹیوں کو تکتی اور کڑھتی جاتی۔ ناولٹ کے اس حصے کے تخلیقی اسلوب میں دکھ درد کا کیسا ملاپ ہے، ملاحظہ کیجیے :

”ان تین دنوں میں ان ساتوں بہنوں کی چودہ آنکھیں چودہ سنگ ریزوں میں تبدیل ہو چکی تھیں۔ ہاجرہ کو اپنے اور نو مولود کے جسم پر ان کی نظریں پتھر کی طرح لگتی محسوس ہوتی تھیں۔“

یہی وہ وقت تھا جب قسمت کی بازی ہارا ہوا شاکر علی، اپنی بیوی کے سامنے ایک دن سسک اٹھا:

”ایک بیٹے کی خواہش نے ہمیں سات بیٹیوں سے محبت کرنے سے روکے رکھا۔ محبت کی کمی سے ٹھٹھرتی سہمی یہ لڑکیاں۔ ایک اشارے پر دوڑ دوڑ کے کام کرتی ہوئی۔ ذرا سی توجہ کی طالب۔ آخر ہم نے ان ہی میں اپنی خوشی کیوں نہ تلاشی؟

وہ خواہش جو ہمارے بس میں نہ تھی، بس ہم اسی کے تعاقب میں بھاگتے رہے۔ اور گھاٹے کا سودا کرتے رہے۔ ”

اپنے سگے ماں باپ کی بے رخی اور زمانے کی دل آزاری کے سبب در بدر کی ٹھوکریں کھا کر بڑا ہونے والا آفتاب، جو دنیا کے صنفی خانوں میں پورا نہ آنے کے سبب تضحیک و تذلیل کا نشانہ بن کر اپنا تماشا آپ دیکھ کر سسکتا رہا تھا، بالآخر اس نتیجے پر پہنچ گیا تھا کہ اس کا واحد سہارا اب وہی تیسری جنس والے ہیں، جو ساری دنیا سے مختلف ہو کر بھی اسے بخوشی قبول کرنے کو تیار ہیں۔ اور تبھی وہ درد و کرب میں گرفتار اپنی ماں کے سامنے سراپا سوال بن کر کھڑا ہو گیا۔ کہانی کا یہ تذبذب بھرا حصہ خاصا دردناک و دلگداز ہے،

”اماں گرو جی کہتے ہیں کہ لوگ کتے کو پیار دے سکتے ہیں اسے اپنا سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں۔ ہمیں ہمارے اپناتے ہوئے بھی شرماتے ہیں۔ ہم ان کے لیے جگ ہنسائی کا سامان جو ہیں۔ گرو جی کہتے ہیں ہم تجھے تیرے گھر والوں سے بڑھ کر پیار دیں گے۔ تجھے ہنر مند بنا کر تجھ پہ فخر کریں گے۔“

”وہ کہتے ہیں کوئی زور زبردستی نہیں، اپنی مرضی سے میں ان کے پاس آ جاؤں۔ اماں اگر تو کہے تو تیری کھاٹ کے پائے پکڑے یونہی بیٹھا رہوں۔“ اُس نے مصمم لہجے میں کہا۔

”اور اگر تو کہے تو۔ تو گرو جی کے پاس چلا جاؤں۔“ اس نے رک کر ٹوٹے پھوٹے لہجے میں کہا۔

ہاجرہ کو محسوس ہوا جیسے سورج سوا نیزے پر اتر آیا ہو۔ اُس نے ململ کا دوپٹہ آنکھوں پر سے ہٹائے بنا اُس عجوبۂ فطرت کو یوں لاتعلقی سے دیکھا جیسے اُس سے اس کا کوئی ناتہ ہی نہ ہو۔ پھر بہت دھیرج سے بولی: ’میں نے۔ ۔ ۔ روکا کب ہے؟ ”

یہاں ممتا کی ماری ماں کا یہ کرب بھرا فیصلہ اور افسانے کا ایسا غیر متوقع دکھ بھرا انجام قاری کو جہاں صدمے سے دو چار کرتا ہے وہیں نگہت سلیم صاحبہ کی تخلیقی و فنی ہنر مندی کا معترف بھی بنا دیتا ہے۔

اس کتاب کا دوسرا متاثر کرنے والا ناولٹ ’جہانِ گم گشتہ‘ ہے، جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے جڑے عہدِ پارینہ کے ان تلخ ابواب پر مبنی ہے جو تاریخ کا قصہ کم اور ہمارے رستے ہوئے اجتماعی لاشعور کا ناسور زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اس حوالے سے اس ناولٹ کی یہ تلخ سطور ملاحظہ کیجیے :

”تاریخ اس بدترین مثلث کو کبھی معاف نہیں کرے گی، جس میں دونوں سر کردہ سیاست دانوں کی فرعونت و خودغرضانہ سیاست اور سربراہِ مملکت کی نا اہلیت یکجا ہو گئی تھی۔ مؤرخین آج تک فیصلہ نہیں کر پائے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں کلیدی کردار کس کا تھا؟ سربراہِ مملکت اور اس کے ساتھیوں کا؟ یا بھارت سے ساز باز کرنے والے سیاست دان کا؟ یا پھر اس خود غرض سیاست دان کا جو ہر حال میں اقتدار کا خواہش مند تھا۔“

”تب عیاشی ملک کی سماجیات کا ایک حصہ بن چکی تھی۔ قحبہ خانے کھلے عام چل رہے تھے۔ ملکی اخبارات سربراہِ مملکت کے مشاغل سے رنگین ہوتے۔ غیر ملکی اخبارات بھی اسی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے تھے۔ اہم سرکاری غلام گردشیں قیمتی عسکری و قومی رازوں کی دشمن تک ترسیل کا ذریعہ بن چکی تھیں۔“

یہ کہانی ایک ریٹائرڈ کرنل، ڈھلتی عمر کی ایک طوائف اور اس کے خادم کے کرداروں کی تثلیث اور ماضی کے کئی المیوں کے ارتکاب و اعتراف سے، مصنفہ نے بڑی ہنر مندی سے تخلیق کی ہے۔ اس ناولٹ کے کئی حصوں میں مشرقی و مغربی پاکستان کے حکمران طبقات کے درمیان طاقت اور اختیار کی باہمی کشاکش کو واضح دکھایا گیا ہے، پھر یہی نہیں، پاکستان کے ایک حصے کی دوسرے سے علیحدگی کی وجوہات اور باہمی پروان چڑھائی گئی نفرتوں کی فصل کے اسباب بھی یہاں بڑی مہارت سے کہانی کا حصہ بنائے گئے ہیں، یوں کہ قاری ماضی کے ان حقائق کا خود اپنی بصیرت سے جائزہ لے کر تاریخ کے کٹہرے میں خود کو کھڑا پاتا ہے۔ ذرا اس ناولٹ کے یہ تلخ حصے ملاحظہ کیجیے جو ہمیں بتائی سنائی گئی تاریخ پر کئی سوال کھڑے کرتا ہے :

”بنگالی مسلمانوں نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، لیکن مغربی پاکستانیوں نے بنگالیوں پر کبھی اعتماد نہ کیا۔ انھیں تمسخر کا نشانہ بنایا جاتا، ان کے رنگ، قد پر پھبتی کسی جاتی، انھیں فوج میں بھرتی ہونے کے لائق بھی نہ سمجھا جاتا، بنگالیوں کی ذہانت و فطانت کو مغربی پاکستان میں کبھی قدر کی نگاہ سے نہ دیکھا گیا، وہ محنت کے خوگر تھے، مصائب و آلام جھیلنے کے باوجود باہمت تھے، لیکن مغربی پاکستان نے انھیں مساوی درجہ دینے کی بجائے ان پر حاوی ہونے کی کوشش کی۔ بالآخر اپنی محرومیوں کا ازالہ کرنے کی سعی میں وہ کسی کے بچھائے ہوئے پھندے میں پھنس گئے۔“

اس ناولٹ کی کئی جگہوں پر نگہت سلیم صاحبہ کے طنز بھرے تخلیقی جملے قابل داد ہیں، ذرا دیکھیے : ”مغربی پاکستان نے جس سیلاب کو امداد میں رابطے کی رکاوٹ قرار دیا، اسی سیلاب نے ساڑھے سات کروڑ بنگالیوں کے دلوں میں متحدہ پاکستان کی آرزو غرق کر دی۔“

کون سی غفلت تخت کو تختہ بنا دیتی ہے، اس کی گواہی میں دیے گئے تاریخی دلائل بسا اوقات محض افسانہ لگتے ہیں، زمانہ در زمانہ کارفرما مستور حقیقت نے لباسِ مجاز اوڑھ کر وہ کچھ تاراج کیا ہے کہ دنیا۔ انگشت بدنداں ہوتی رہی ہے۔ یہی کچھ اس کے ساتھ ہوا جو تختۂ دار پر چڑھنے والا سیاست دان تھا۔ ”

ناولٹ میں ان لوگوں کا دکھ درد بھی کھول کر بیان کیا گیا ہے جو مشرقی پاکستان میں رہ جانے کے باوجود محض اس لیے اجنبی ہو گئے کہ انھوں نے پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا اور قسمت کی ستم ظریفی کہ ماسوائے چند لوگوں کے باقی یہاں نہ آ پائے اور وہیں مجبوراً رہتے ہوئے اپنے لوگوں میں اجنبیت اور سرد رویوں کا شکار ہو گئے۔ الم تو یہ کہ اس سانحے کے بعد یہاں آنے والوں کو کیا ملا؟ انھیں نہ تو یہاں کی شناخت ملی اور نہ ہی کسی نے انھیں کبھی دل سے قبول کیا۔ ناولٹ کے ایسے دو کرداروں کے مابین ذرا یہ تلخ مکالمہ ملاحظہ کیجیے :

”آخر کب تک ہم ایک سرحد سے دوسری سرحد تک دھکیلے جاتے رہیں گے، کوئی ہمیں کچھ نہ مانے انسان تو جانے۔ ہماری چھوٹی سی زندگی گزارنے کے لیے بس یہی بہت ہے۔ افسوس کہ وہ ہمیں غدار سمجھتے ہیں، مہاجر کہتے ہیں، حالانکہ ہم بھی ان ہی کی طرح پاکستانی ہیں۔“

اسی بنگالی خادم کے ہاتھوں کرنل اور اس طوائف کا ہونے والا ہولناک قتل انسانی نفسیات کے ان پیچیدہ رویوں کو سامنے لاتا ہے جہاں ماضی کے المیے انسان کے حال پر طاری ہو جائیں تو اسے خود سے بیگانہ کر دیتے ہیں اور یہی سب اس بنگالی خادم کے ساتھ ہوا۔

کتاب کی باقی سبھی کہانیاں مختلف و منفرد موضوعات پر مبنی ہیں جہاں نگہت سلیم صاحبہ کا مخصوص تخلیقی و فکری اسلوب اپنی آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے۔ ابتدائی کہانی ’جشن مرگ‘ کے یہ عمدہ تخلیقی جملے ملاحظہ کیجیے، جہاں ایک پوتا خود کو اپنے دادا کے قالب میں ڈھلتا محسوس کرتا ہے اور وہ باتیں سوچتا ہے جن کا خیال کبھی عام آدمی کو نہیں آتا:

”لوگ آخری عمر کے تحفظ کے لیے مال و منال جمع رکھتے ہیں جب کہ آخر میں فقط محبت کی ضرورت رہ جاتی ہے۔“

”دادا تمہارے لفظوں کے رنگ رس میری دسترس سے دور ہو گئے۔ رنگریز کی تمام دکان الٹ گئی ہے۔ خاک کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں اترنے والا کا سہ سر کسی دیوانے کا ہے یا فرزانے کا۔“

’کوئلہ بھئی نہ خاک‘ اس قدامت پسند مذہبی طبقے کی غماز کہانی ہے جس نے خود کو اور اپنے سے جڑے لوگوں کو اپنی فرسودگی کے دائرے میں جکڑا ہوا ہے۔ یہاں مولوی عبد الرشید کا سخت گیر کردار ایسے غصیلے باپ کی صورت میں سامنے آتا ہے جو اپنی بیٹیوں پر طرح طرح کی بے جا پابندیوں کا حامی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے ایک مخصوص طبقے کی نمائندہ یہ کہانی اپنے اختتام میں بھی اسی حقیقی المیے سے دو چار ہوتی ہے، جہاں انسانی آرزوؤں اور امنگوں کا دانستہ گلا گھونٹ کر جینے کو صبر و استقامت اور رضائے الہٰی کی چادر تلے ڈھانپ کر اس پر فخر کیا جاتا ہے۔ ذرا اس کہانی کے یہ تلخ و حساس حصّے ملاحظہ کیجیے :

”اپنی تینوں جوان بیٹیوں کو بقدرِ ضرورت سانس لینے کے لیے مولوی عبدالرشید کے حکم پر پورے برآمدے کو ایک سوراخوں والے چوبیں ٹھاٹر سے بند کر دیا گیا تھا، ساتھ ہی حکم تھا کہ کل سے اس پر پردہ ڈال دیا جائے۔ اب اس چوبیں ٹھاٹر نے ان کی ہوا، روشنی، خوشبو سب کا راستہ روک دیا تھا۔ جہاں تاروں سے چمکتی کرنوں کے آسمان کو دیکھنا بھی ایک حسرت زدہ خواب بن گیا تھا۔“

”مولوی عبدالرشید کی دنیا کی تنگ و تاریک گلیاں تاریخ کے عبرت آموز قلعوں کی طرح مسمار ہوتی چلی گئیں اور صالحہ کا تکیہ تختِ سلیماں بن گیا۔ اس نے خود کو حوضِ خاص کے قریں پایا جو کنول کے پھولوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ دنیا کے عجائب و غرائب سے مماثل کسی عظیم سلطنت کی حسین ترین شہزادی کے روپ میں وہ کھڑی تھی۔ تاج نما کلاہ سر پر تھا۔ کار چوبی کی پشواز ٹخنے تک جھکی جاتی تھی۔ گلے میں سچے موتیوں کی مالائیں، ہاتھ میں مرصع کنگن، بازو بند اور محراب کی مانند ٹیکا اس کی چمکتی پیشانی کو چوم رہا تھا۔ پازیب سے سجے پاؤں اور جواہرات ٹکی زیرپائی، ہر قدم کو وارفتگی دے رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ تاروں کی رہگزر سے اترنے والا شہزادہ اس ماورائی دنیا کی حد پار کرتا، مولوی عبدالرشید کی جگر کو کرکُولتی آواز سے در و دیوار تڑخنے لگے :

’اٹھو نصیب ماریو! فجر کی اذان ہو رہی ہے۔ ”

’زنگاری‘ سماج کے منافقت بھرے رسوم و رواج اور رویوں کی عکاس کہانی ہے جہاں مظلوم کو انصاف نہ ملنا ہی اس زمانے کا چلن ہے۔ اس کہانی کے یہ سفاک حصے ملاحظہ کیجیے :

”دلوں کے بھید گہرے تھے اور وقت کا ہرکارہ چوٹ پر چوٹ لگا رہا تھا۔

ہوائے چرخ کچھ اس رُخ پہ چلی تھی کہ گلیاں اور چوبارے نیلے تھوتھے میں نہا گئے۔ وہ بستی والے جو پہلے دن اس کے دکھ میں روئے تھے، اب اس کے آنے کے بعد انھوں نے اپنے چہروں پر بیگانگی کی تختیاں لٹکا لی تھیں۔ اپنے دلوں پر جمے زنگ کو انھوں نے اپنے چہروں پر مل لیا تھا۔ ”

”آسماں نے بچھا رکھا تھا دام“ مقدر کے ہاتھوں بے بسی کی وہ داستان ہے جو ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گی۔ اس کہانی کا ہمیشہ یاد رہ جانے والا حصہ ملاحظہ کیجیے جہاں کاکو کا کردار مقدر کے سچ کھولتا ہے۔

”لکھو کہ مقدر انسان کے خلاف کی گئی ایک سازش کا نام ہے۔ مقدر مطلق العنان بادشاہتوں کا وہ مکر و فریب ہے جو انھوں نے بے بس رعایا کو فلاکتوں میں مبتلا رکھنے کے لیے دیا۔ جنھوں نے اپنے من پسند سیاسی و معاشی نظام کو قائم رکھنے کے لیے ناداری و افلاس کے مارے لوگوں کو یقین دلایا کہ لوحِ تقدیر پر ان کے لیے سوائے صبرو قناعت کچھ نہیں لکھا۔ صرف چند لوگوں کو غیب سے یہ اجارہ داری دی گئی ہے کہ وہ مقدر کے نام پر جبر و تسلط اور بے چارگی و بے اختیاری کا کھیل جاری رکھیں۔ لکھو! کہ انسان کے مقدر میں بالآخر بے چارگی و بے اختیاری ہی کیوں لکھی جاتی ہے۔“

”حلقہ مری زنجیر کا“ غلامی کی اذیت میں نسلوں سے مبتلا ان شیدی غلاموں کا قصہ ہے جو ساحلوں پہ اپنے درد بھرے گیت گا کر اپنے دکھوں کو زندہ رکھتے اور ایک دوسرے سے اپنا غم بانٹتے تھے، یہ الگ بات کہ ان گیتوں سے ان کا دکھ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جاتا تھا، یہاں کہانی کی درد بھری سطور ملاحظہ کیجیے :

”دکھ درد، کرب و غم میں مزید ڈوب جاتے اور اپنے سوختہ و بریدہ سینے کے زخموں کو مزید تازہ کر لیتے، پھر روتے جاتے اور اپنے دکھ سے ہلکان ہوتے جاتے۔ وہ کہتے :

او میرے بھائی کیا تو بھی غلام ابنِ غلام ہے؟
ہاں میرے بھائی میں بھی اُسی غلام منڈی میں بکا ہوں، جہاں میرے پُرکھوں کے سودے ہوئے تھے۔
او میرے بھائی کیا تجھے اپنا گمشدہ قبیلہ یاد ہے؟
ناں میرے بھائی مجھے تو یہ بھی یاد نہیں کہ میں ڈھور ہوں، ڈنگر ہوں یا انسان!
وہ جب بھی ملتے تو اپنے آقاؤں کے بارے میں ایک دوسرے کو احساس دلاتے کہ:

”وہ نہیں چاہتے کہ ہمارے گھروں میں بھی آزاد انسان پیدا ہوں۔ ہماری قوم دنیا بھر میں غلامی اور بھوک کی علامت ہے۔ آزادی کا پرندہ ہماری زندگیوں میں پر بھی نہیں مار سکتا۔“

انسانی دکھوں، آرزوؤں اور حسرتوں کو خود میں سمیٹے، یہ کہانیاں ایک ایسی دنیا کا قصہ ہیں جو ہماری مانوس بھی ہے اور آشنا بھی۔ نگہت سلیم صاحبہ نے جس تخلیقی و فنی مہارت سے ان کہانیوں کی فکری بنت کی وہ بلاشبہ قابلِ داد ہے۔ ہماری جانب سے نگہت سلیم صاحبہ کو ایسی عمدہ کہانیوں کی تخلیق پر دلی مبارکباد اور نیک تمنائیں۔

مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط

Facebook Comments HS