ڈی ایس ایف اور ادریس خٹک
12 نومبر 2019 کو حیدرآباد کی وہ شب بھلا کیسے بھلائی جا سکتی ہے جس شب ہم سب کمیونسٹ فکر و فلسفہ کے دھنی دوست، معین قریشی، منظور تھہیم، لطیف لغاری، یونس راہو کامریڈ بخشل تھلو اور عالیہ تھلو کے فلیٹ پر ساری رات سیاست اور ملکی حالات پر اختلاف اور اتفاق کے ماحول میں گفتگو کرتے رہے، اور جب 12 نومبر کی وہ رات بھیگنے لگی تو ہر دوست کی جمائی نے نیند کا احساس دلایا کہ اسی لمحے معین قریشی نے گھبراہٹ کے عالم میں ساتھ والے کمرے سے بھاگ کر مجھے جھنجھوڑ دیا اور تیز آواز میں بولتا گیا کہ ”یار وارث ادریس خٹک کو اسلام آباد آتے ہوئے خفیہ والے اٹھا کر لے گئے ہیں“ میں یہ سن کر ہڑبڑاہٹ سے اٹھا اور معین سے پوچھا۔ وجہ؟ وجہ نہیں پتہ یار معین نے تشویش بھرے لہجے میں کہا، یار یہ کیا ہو گیا۔ اس کے تو بچے بھی یہاں نہیں ہیں۔ معین مسلسل تشویشناک انداز سے فلیٹ کے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں بے چینی سے دوڑ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ یار جلدی کراچی چلو تاکہ دوستوں سے مل کر مزید معلومات لے کر ”ادریس“ کی رہائی کے لئے کوئی حکمت عملی ترتیب دیں۔
ادریس خٹک نے دوران تعلیم ترقی پسند طلبہ تنظیم ڈی ایس ایف میں رہتے ہوئے ہمیشہ اس سماج کی معاشی اور سیاسی تقدیر تبدیل کرنے کے خواب دیکھے، وہ جامعہ کراچی میں طلبہ حقوق کی حاصلات کے لئے ہمیشہ سرگرم عمل رہا، ادریس نے سنگلاخ پہاڑوں کی وادی پختونخوا کی مٹی کی سوگند اور انسانی حقوق کی لاج رکھنے کے عزم کو اپنے عمل کا حصہ بنایا، ادریس جانتا تھا کہ ”آمرانہ طرز“ کی ریاست میں انسانی آزادی حاصل کرنے کی کٹھنایاں کیا ہو سکتی ہیں یا وہ کون سی مشکلات اس کے آڑے آ سکتی ہیں جو عام فرد کو جمہوری حقوق حاصل کرنے میں پیش آ سکتی ہیں۔ شاید یہی وہ وجہ رہی کہ اس نے سیاسی شعور کی آگاہی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے کراچی کا رخ کیا اور اپنے سیاسی شعور کی آبیاری کے لئے جامعہ کراچی کی متحرک اور روشن خیال طلبہ تنظیم ”ڈی ایس ایف“ کے ساتھیوں سے آن ملا، ادریس جانتا تھا کہ ڈی ایس ایف ہی ملکی طلبہ کی وہ حقیقی تنظیم ہے کہ جس نے 1953 میں ڈاکٹر سرور، ڈاکٹر ادیب رضوی، ڈاکٹر ہارون اور کراچی کے ترقی پسند فکر کے ساتھیوں کے ساتھ طلبہ حقوق کے لئے برٹش راج کے میڈیکل تعلیم میں استحصالی طبقاتی نظام اور آمرانہ ریاستی نظام کے خلاف تحریک چلا کر میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے عام طلبہ کے لیے میڈیکل کالج کے دروازے کھولے اور ریاست کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ عام طلبہ کے جمہوری حقوق ان کو دے۔
ڈی ایس ایف کی طلبہ حقوق کے لئے شاندار جدوجہد اور سیاسی شعور نے ”ادریس خٹک“ کو ڈی ایس ایف کنبے کا اہم اور سرگرم ساتھی بنا دیا، ادریس خٹک کا لگایا ہوا یہ نعرہ کہ ”چہرے نہیں نظام کو بدلو“ یا یکساں اور مفت تعلیمی نظام رعایت نہیں سب کا حق ہے یا کہ یہ ”ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر فرد کو مفت تعلیم فراہم کرے“ یہ ادریس خٹک کے وہ آدرش تھے جن کا وہ اظہار اپنی دبنگ آواز کے ساتھ جامعہ کراچی کی لابیز سے لے کر شہر کے رستوں اور چوراہوں پر بلند آواز سے کیا کرتا تھا۔ وہ عوام کے جمہوری حقوق کی آواز کے لئے بے باکی سے ”ریاست کی آنکھ سے آنکھ ملانے سے بھی نہیں چوکتا تھا۔ ادریس جانتا تھا کہ طلبہ حقوق کی جدوجہد کا شعور ہی اس آمرانہ طرز کی ریاست میں عوام کو ان کے جمہوری حقوق دلوانے کی وہ ڈھال بنے گا جس سے عام طالبعلم اپنے گھر سے لے کر محلے پڑوس میں علم و شعور کی شمعیں جلائے گا اور یہی طلبہ اور ڈی ایس ایف کا ترقی پسند کمیونسٹ شعور انسانی حقوق دلوانے کا نقیب ہو گا۔
شاید کہ ڈی ایس ایف طلبہ تحریک کی یہی وہ متحرک جدوجہد رہی تھی کہ آمر جنرل ضیا نے عوام کے سیاسی شعور کو روکنے کے لئے سیاست اور سماجی شعور کی بنیادی نرسری طلبہ تنظیم پر پابندی لگا کر خود رو قسم کے ”سیاسی ہرکارے“ پیدا کیے، سماج کو غیر سیاسی کیا گیا۔ ہوٹل اور ٹھیلے ٹھیوں پر ”سیاست پر بات کرنے کو گالی بنا دیا گیا۔ 1980 کی دہائی کے بعد طلبہ حقوق اور عوام کے سیاسی و جمہوری حقوق حاصل کرنے کی جدوجہد میں لسانی اور متعصب و گروہی سیاست کو روشناس کروایا کہیں عصبیت کے لئے ایم کیو ایم کی فنڈنگ کی گئی۔ کہیں جاگ پنجابی جاگ کے تنگ نظر ذہنوں کو نوازا گیا۔ کہیں قوم پرستی کے حقوق کے پر فریب نعرے میں عوام کو تقسیم کیا گیا۔ کہیں ایوب ڈیڈی کے بیٹے کی پھانسی کو سیاست کی پہچان بنوایا اور کہیں غیر جماعتی و غیر سیاسی انتخابات کے ذریعے سیاسی شعور کو چھوٹے چھوٹے وڈیروں اور جاگیرداروں کے ذریعے گروی رکھوایا، مگر جب سیاسی شعور اور جمہوری جدوجہد کے“ ادریس خٹک ”ایسے سپاہیوں اور ساتھیوں کا دیا ہوا سیاسی شعور قابو نہ آیا تو سماج کو“ انتشار اور عمران خان کی شخصیت پرستی ”کا شکار کرنے کے لئے جنرل گل حمید کے ذریعے ایک ایسے غیر سیاسی کھلنڈرے کی تربیت طالبان طرز پر کروائی گئی جس نے نہ صرف سماج کے نو عمر ذہن کو غیر سیاسی کیا بلکہ ان میں انتشار ریاکاری اور جھوٹ بولنے کو“ ایمان ”کا درجہ بنا کر سماج کے ذہن میں شخصی پوجا پاٹ کا زہر ڈالا۔
ان سب سماجی خانماں خرابیوں اور انسانی حقوق کی پامالی پر بھلا ”ادریس خٹک“ کیوں نہ دکھی ہوتا، وہ کیوں نہ انسانی حقوق اور عوام کی جمہوری آزادی پر آواز اٹھاتا، جب ”ادریس خٹک“ کی یہ جدوجہد سماج کے لوگوں میں پھیلنے لگی تو آج کے ”اڈیالہ قیدی“ نے ریاست کی خفیہ کورٹ کو ریاست کی ضرورت قرار دیا اور 13 نومبر 2019 کو خفیہ طریقے سے سادہ لباس ریاستی ہرکاروں کی مدد سے ملٹری کورٹ سے چودہ سال قید کرواتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ”ریاست کی سلامتی کے لئے پیکا قانون وقت کی ضرورت ہے“ جبکہ آج اسی قانون کے زمرے میں وہی عمران خان ٹرائل کورٹ کی سزا سے بچنے کے لئے بیک ڈور مذاکرات کی خبروں کی بازگشت میں ہیں۔
سوچتا ہوں کہ آج پانچ برس کی ”ادریس خٹک“ کی بلا جواز اور سول عدالت میں مقدمہ چلائے بنا قید پر ادریس خٹک کی بیٹیوں شمیسا اور ”تالیا“ پر کیا بیت رہی ہوگی، ادریس خٹک کی ”تالیا خٹک“ وہ بیٹی ہے جو پوری دنیا کے انسانی حقوق کی آزادی کے لئے اقوام متحدہ کے ادارے میں متحرک ہو کر بھی اپنے بے گناہ اور بلا جواز قید باپ کی ناحق ریاستی شکنجے کے حق کی آزادی کے لیے بے بسی و لاچارگی کے مقابل جدوجہد کر رہی ہے۔ اسی لئے دونوں بہنوں نے استقامت سے ریاست کے صدر کو اپنے باپ کی بلا جواز قید پر ایک خط تحریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ۔ ”ہم اپنے بلا جواز ریاستی قید میں پڑے ہوئے باپ ادریس خٹک کی رہائی کی درخواست کرتے ہوئے عرض گذاشت ہیں کہ ریاست انصاف فراہم کرنے کا وہ ذریعہ ہوتی ہے جس سے عام فرد کو انصاف مل سکے، لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جمہوری حقوق کے نعرے لگاتی ہوئی پاکستان کی ریاست میں بیدردی سے انسان کے جمہوری اور انسانی حقوق کی پامالی سر عام اور کھلے بندوں جاری ہے۔ ان دونوں بیٹیوں کا کہنا ہے کہ ہمارے بیمار باپ اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں سرگرم ادریس خٹک کو سول عدالتوں کے مقابل ملٹری کورٹ کے یک طرفہ فیصلے کی بنیاد پر پچھلے پانچ برس سے قید کیا ہوا ہے جبکہ ادریس خٹک کی بازیابی کے لئے جدوجہد کرنے والے ایڈوکیٹ مختار باچا کو بھی دہشت گردی کر کے موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔ اب اس مرحلے پر ہماری کل دنیا“ ادریس خٹک ”کا سایہ بھی ہم سے ریاست کی بے رحم طاقت چھیننا چاہتی ہے جو کہ انصاف اور قانون کے خلاف اور جمہوری روایتوں کے منافی قابل مذمت عمل ہے۔ لہذا ریاست کے صدر کے طور پر آپ کی توجہ“ ادریس خٹک ”کی بلا جواز قید پر مرکوز کرواتے ہوئے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے واحد سہارے“ ادریس خٹک ”کو اپنے خصوصی اختیار کے ذریعے رہا کروائیں اور بیٹیوں اور باپ کو جلد از جلد ملوا کر آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے اقدامات کریں۔ آپ کی بیٹیاں تالیا اور شمیسا خٹک۔
ادریس خٹک کی سیاسی تربیت کی طلبہ تنظیم ڈی ایس ایف کے کارواں کے وہ ساتھی جنہوں نے انسانی حقوق اور عوام کی جمہوری آزادی کے لئے جدوجہد کی ہے۔ قید ہوئے ہیں۔ در بدر خاک چھانی ہے۔ وہ تمام ساتھی آج بھی ڈی ایس ایف کے ادریس خٹک اور کمیونسٹ آدرش کے ساتھ جڑے ہیں اور اپنے ساتھی کی آزادی کے لئے تمام قانونی راستے اختیار کرنے میں پر عزم ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ”تالیا اور شمیسا ادریس“ ڈی ایس ایف کے ناصر آرائیں اور دیگر ساتھیوں کی ادریس خٹک کی رہائی کی جدوجہد ضرور سرخرو ہوگی اور طلبہ تحریک میں نیا ولولہ اور تحرک پیدا کرے گی کیونکہ ہمارا تو اب بھی یہی عزم ہے کہ،
بلند اور ابھی دیوارِ قید خانہ کرو۔
کہ یہاں ہمیں سے گلستان دکھائی دیتے ہیں۔


