بھارتی ولاگرز، کرکٹ اور گودی میڈیا
بھارت اور پاکستان کے سیاسی حالات بہت پیچیدہ رہے ہیں، کسی زمانے میں صدیوں سے متحدہ ہندوستان میں رہنے والے یہ ملک، انگریزوں کے جاتے ہی پلک جھپکتے میں یوں ایک دوسرے کے دشمن ہوئے کہ دنیا حیران ہے، دونوں ملکوں کی سرکاروں نے ہر دور میں اس دشمنی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے خوب نچوڑا، نصابی کتب میں ایک دوسرے کا نقشہ یوں کھینچا کہ پاکستان میں آئندہ آنے والی جنریشنز کے نزدیک اس پار شیطان جبکہ بھارت کی طرف سے اس پار ”راون“ رہائش پذیر ہے۔
یوں سات دہائیوں سے دونوں اس ناکام کوشش میں مصروف ہیں کہ دوسرے کی لنکا ڈھائی جائے، جبکہ کسی نے کسی کی ”سیتا میا“ کو نہیں چرایا اور نا ہی دونوں طرف رام ہیں۔
رہی سہی کسر الیکٹرانک میڈیا نے پوری کر دی، جب ریٹنگ کے چکر میں مادر پدر آزاد چینلز نے حکومتی آشیر باد سے توپوں کے رخ ایک دوسرے کی طرف کر دیے، اینکرز اور چینل مالکان نے لاکھوں کمائے اور عوام کے حصے میں نفرت کے کھوٹے سکے آئے جن سے بلڈ پریشر کی گولی بھی نہیں خریدی جا سکتی۔
آج کل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، گو کہ اس کو بھی الیکٹرانک میڈیا کی ڈگر پر چلانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، کہیں فائر وال کا استعمال تو کہیں حکومتی اور سیاسی پارٹیوں کی سرپرستی میں سوشل میڈیا سیلز بنا کر فیک نیوز کی بھرمار کی بدولت اس کا افادیت سے نقصان کی طرف سفر تیزی سے جاری ہے، لیکن اس کے باوجود بے شمار و لاگرز جن کا تعلق زیادہ تر مڈل کلاس پڑھے لکھے طبقے سے ہے، دنیا کو ایکسپلور کرنے چل نکلے ہیں، جوں جوں ان کے ویوز اور سبسکرائبرز بڑھتے ہیں ان کی انکم میں اضافہ ہوتا ہے، یوں ان کا سفر وسیع ہوتا چلا جاتا ہے، یہ ولاگرز زیادہ تر ”ورجن“ یا ”را“ فٹیج چلاتے ہیں جو کسی بھی معاشرے کی بہترین اور صحیح عکاسی کا سبب بنتی ہے۔
بھارت میں جب سے مودی سرکار آئی ہے پاکستان کے بارے میں غلط فہمیوں میں شدید اضافہ ہوا ہے کیونکہ مودی سرکار کے نزدیک ان کے سیاسی مخالفین میں پاکستان سر فہرست ہے، ان کا سارا سیاسی نیریٹو پاکستان سے نفرت کی بنیاد پر ہے، انہوں نے الیکٹرانک میڈیا اپنے ارب پتی سیاسی موافقین کے تھرو اپنے ہاتھوں میں کر لیا ہے، جن کو وہ کیپیٹلزم کے نام پر بے پناہ مالی فائدہ پہنچانے میں جتے ہوئے ہیں، بظاہر انڈیا میں نظر آنے والی معاشی ترقی دراصل مودی کی حمایت یافتہ بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کی ترقی ہے، خیر یہ ایک الگ بحث ہے اس پر پھر کبھی بات ہوگی، بھارتی الیکٹرانک میڈیا کو ”گودی“ میڈیا کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے سیاسی مخالفین کے نزدیک یہ میڈیا مودی نے گود لے لیا ہے۔
گزشتہ پانچ سالوں میں جب بھارت کی مختلف ریاستوں میں مودی کو منہ کی کھانی پڑ رہی ہے اور اسے اپنا سیاسی مستقبل ”نوز ڈاؤن“ محسوس ہو رہا ہے تو اس نے اپنے گودی میڈیا کے ذریعے لوگوں کو یہ بتانا شروع کیا کہ پاکستان تو برباد ہو چکا اور لوگ بھوکوں مر رہے ہیں، آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپ بھارت میں رہتے ہیں، اس میں تھوڑا بہت حصہ پاکستان کی ایک سیاسی پارٹی نے بھی ڈالا، جب ان کے پسندیدہ لیڈر کو حکومت سے نکالا گیا، اس جماعت کے سوشل میڈیا سیل نے پاکستان کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگا دی۔
گزشتہ دنوں بھارت کے دو مشہور و لاگرز ”ڈاکٹر یاتری“ اور ”نودیپ براڈ“ نے پاکستان کا دورہ کیا، جن کی میزبانی ایک یوٹیوبر پنجابی ایکٹیوسٹ ”ناصر ڈھلوں“ (اور ان کے ساتھیوں ) نے کی، ان کا اپنا چینل ”پنجابی لہر“ کے نام سے دونوں ممالک میں کافی مقبول ہے، ان دو بھارتی ولاگرز نے دنیا کے بیشتر ممالک گھوم رکھے ہیں اور ان کا ویڈیوز بنانے کا طریقہ بہت نیچرل ہے، جو دیکھتے ہیں وہ بیان کرتے ہیں اور آگے چل پڑتے ہیں۔
ان دونوں نے اپنے اپنے چینلز پر ویڈیوز بنا کر ڈالنا شروع کیں، پہلے تو یہ خود حیران تھے کہ جو بھارت میں پاکستان کا نقشہ اور حالات بتائے جاتے ہیں یہ اس سے کافی مختلف اور بہتر ہے، لوگ تمیزدار اور محبت کرنے والے ہیں، صفائی ستھرائی کا نظام بھی کافی اچھا ہے، انفراسٹرکچر کسی صورت ایک اچھے ترقی پذیر ملک سے کم نہیں، اقلیتوں کی عبادت گاہیں اچھے طریقے سے سنبھالی گئی ہیں اور حکومت ان پر خرچہ بھی کر رہی ہے، لوگوں نے انہیں کھلے دل سے خوش آمدید کہا اور محبت کا اظہار کیا، اپنے سفر کے دوران ان کو بے شمار سبسکرائبرز ملے جو ان کو پہلے سے ہی فالو کر رہے تھے۔
سب سے دلچسپ بات یہ کہ جب آپ ان کی ویڈیوز کے کامنٹس سیکشن میں جائیں تو پورے بھارت سے دیکھنے والے ان کے سبسکرائبرز حیران اور پریشان دکھائی دیتے ہیں کہ یہ وہ پاکستان تو نہیں جو ہمیں بھارتی میڈیا یا بالی وڈ دکھاتا ہے، یہ تو اچھے لوگ ہیں اور یہ ملک بھی خوبصورت ہے، ان میں سے بیشتر پاکستان کو دیکھنے کے خواہش مند پائے گئے۔
یوں مودی اور گودی میڈیا کے سالوں میں بنائے گئے بیانیے کو ان ولاگرز کی ویڈیوز نے دنوں میں پچھاڑ کر رکھ دیا، بھارت نے پاکستانی ویزے بند کر رکھے ہیں، شاید اسی لیے بھارت اور مودی سرکار پیپل ٹو پیپل کانٹیکٹ کے تصور سے ہی کانپ جاتی ہے، چیمپینز ٹرافی میں بھارتی ٹیم کی شرکت سے انکار کے پیچھے بھی یہی بیانیہ کار فرما ہے۔
دونوں اطراف کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے، دنیا بدل رہی ہے، ملک، سرحدیں، مذاہب اور اقوام ایک بہت بڑی حقیقت ہیں، لیکن ان کے ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق ہمسایہ ممالک کے باہمی تعلقات اور تجارت اس سے بھی بڑی حقیقت بن کر ابھر رہے ہیں، نفرت کی سیاست آپ کی حکمرانی کے چند سال تو بڑھا سکتی ہے لیکن آئندہ آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک تر کر سکتی ہے۔


