کچھ باتیں خواب دیکھنے والے آشفتہ سر ڈاکٹر شیر شاہ سید اور کینیڈا میں کوہی گوٹھ ہسپتال کی فنڈ ریزنگ پروگرام کی
آٹھ نومبر 2024 ٹورنٹو، کینیڈا میں واقع آغا خان میوزیم کا ہال، جہاں ماسوا چار پانچ خالی سیٹوں کے پورا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ یہ ایک فنڈ ریزنگ پروگرام ہے جہاں فنڈنگ کے بعد رومیو اور جیولیٹ کے اردو مزاحیہ ورژن ”جنت اور رمضان“ کا بھی اہتمام ہے۔ میں نے غور کیا اس تقریب میں شرکت کرنے والے اتنے سارے لوگوں میں جو بات مشترک ہے وہ ان کا والہانہ انسانی محبت کا جذبہ ہے۔ ان میں سے سب ہی زبردستی نہیں بلکہ پورے ذوق و شوق سے پروگرام میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ میں بھی ڈیٹرائیٹ، مشیگن سے آئی ہوں اور حیرانی سے چاروں سمت نظر دوڑاتی ہوں۔ جمعہ کا ورکنگ دن، کینیڈا کی ٹریفک کا رش اور اس پر اتنے لوگوں کا وقت پہ جمع ہونا یقیناً کوئی مذاق نہیں۔
ڈاکٹر شیر شاہ کو جاننے والے جانتے ہیں کہ گزشتہ کئی سالوں سے کس طرح یہ شخص مسلسل ایک مشن کی طرح لگا ہوا ہے۔ کسی طمع اور غرض کے بغیر۔ ”میں“ کا ڈھنڈورا پیٹے بغیر۔ اور گویا اب اس شخص کی وارفتگی اور آشفتہ سری اور بے غرضی پہ انہیں یقین ہو چلا ہے۔
انکے اس یقین پہ مجھے قوم کے ہیرو عبدالستار ایدھی کا خیال آیا جنہوں نے خدمت خلق کے لیے عوام کے سامنے تو ہاتھ پھیلایا مگر حکومت وقت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔ سنا کہ مڈل کلاس عورتیں بھی رکشہ میں بیٹھ کر اور اپنی اوڑھنی کے پلو میں سونے کا زیور باندھ کے ایدھی کو عطیہ دیتی تھیں۔ خاموشی سے۔
ظاہر ہے کہ اس دل کھول کے دینے والوں کے عمل میں ایدھی صاحب کی سچائی، خلوص اور خدمت خلق کا جذبہ عیاں تھا۔ جس پر لوگوں کا ایمان تھا۔ ایدھی صاحب تو اب سپرد خاک ہوئے۔ وقت آگے بڑھتا ہے۔ اب ہمارے سامنے سچ اور حق کے لیے لڑنے والے دیانت دار اور جفاکش ڈاکٹر شیرشاہ آتے ہیں۔ جو ایدھی صاحب کے چہیتے دوست بھی تھے۔ اور انہی کی راہ پہ چلنے والے مسافر بھی۔
یہ بات میرے علم میں ہے کہ کافی عرصہ قبل جب شیرشاہ کو ان کی سچائی اور مریضوں کے حقوق کے لیے حکومت پہ نکتہ چینی کرنے پہ سرکار نے ہسپتال کی اہم نوکری سے نکال دیا تو ان کے والد نے کہا۔ ”اگر تمھیں یقین ہے کہ تم حق پہ ہو تو فکر مت کرو۔“ ایسا ہی ہوا۔ شیرشاہ کے مریضوں نے ان کے حق میں سڑکوں پہ دھرنا دے دیا۔ بالآخر حکومت کو نوکری بحال کرنی پڑی۔
غالباً دو دہائی قبل جب میں امریکہ سے پاکستان گئی تھی تو انہوں نے مجھے اور میرے بچوں کو ایک ایسی جگہ لے جانے کی خواہش ظاہر کی کہ جو بقول ان کے ”میری خوابوں کی زمین ہے۔“ اس وقت ملیر میں واقع وہ محض لق و دق زمین تھی جسے ان کی آنکھیں ہسپتال بنانے کے خواب دیکھ رہی تھیں۔
پھر ڈیڑھ سال قبل جب میں چار سال کے وقفہ کے بعد کوہی گوٹھ ہسپتال گئی تو میں ان کے خواب کی زمین کو عورتوں کے مفت ہسپتال کوہی گوٹھ ہسپتال کو شاندار عمارت کی صورت دیکھا۔ اس بے بس عوام کے لیے جو سات سے زیادہ دہائیوں سے مفت اور تسلی بخش علاج کی مستحق اور منتظر تھی۔ اس ہسپتال میں غریب کا خون چوسنے کے لیے کوئی کاؤنٹر نہیں۔ ہر عورت کا بہت عزت اور جانفشانی سے علاج ہو رہا تھا۔ وہاں میں نے سفید یونیفارم پہنے، اپنی آنکھوں میں سپنوں کی جوت جگائے، ہاتھوں میں کتابیں پکڑے اور وقار سے سر اٹھا کے چلتی ہوئی مڈ وائفری اسکول کی طالبات دیکھیں۔ جن کے اعتماد کو دیکھ کر خوشی سے بے اختیار میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ شیرشاہ ان طالبات سے اصرار کرتے ہیں۔ ”ہمیشہ سوال کرو اور سر اٹھا کے چلو۔ پورے اعتماد سے۔“ اب وقار سے چلنا اور سوال کرنا ان طالبات کی عادت بن گئی ہے۔
میں اپنی انہی سوچوں میں گم تھی کہ پروگرام شروع ہونے کا اعلان ہوتا ہے جس کی نظامت خالد صدیقی کر رہے ہیں۔ اب پروگرام کا آغاز کینیڈین اور پاکستانی ترانے بجا کے ہو چکا ہے۔ ”جانے کیوں پاک سرزمین شاد باد کے الفاظ دہراتے ہوئے میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں؟ شاید سرزمین کے ناشاد لوگوں کا سوچ کے؟
فنڈ ریزنگ سے قبل ڈرامہ نگار محمد انعام اللہ نے اس ڈرامے کو لکھنے کا محرک شیرشاہ کی سادگی اور سخت محنت کو ٹھہرا یا۔ اس ضمن میں انہوں نے قصہ بتایا کہ جب وہ امریکہ سے پاکستان کوہی گوٹھ ہسپتال کراچی ڈاکٹر شیر شاہ سے ملنے گئے تو انہیں بتایا گیا کہ وہ بارہ گھنٹے مسلسل سرجری کے بعد ابھی سونے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ ”اور میں چوبیس گھنٹے کا سفر کر کے یہاں آیا ہوں۔ مجھے تو ان سے ملنا ہے۔“ انعام صاحب نے کہا کہ میں جب ان کے آفس میں گیا تو دیکھا ننگے فرش بغیر تکیہ اور چادر کے کوئی شخص سو رہا ہے۔
یہ ڈاکٹر شیرشاہ سید تھے۔ مجھے یقین ہے کہ اس دن ہسپتال کی عظمت اور شیرشاہ کی درویشی اور خاک نشینی نے انعام صاحب کے دل نے ہلچل مچا دی ہوگی۔ خودپسندی، جھوٹی انا اور منافقت سے آلودہ معاشرے میں ایسے لوگ تو عنقا ہو چلے ہیں۔ ہم اپنی خواہشات کے جال سے نکلیں تو دوسری طرف نظر دوڑائیں گے۔ تبھی انہوں نے ایک دلچسپ مزاحیہ پلے لکھا اور اٹلانٹا کے مقامی اداکاروں کے ساتھ تیاری کر کے مختلف ریاستوں میں بالکل مفت پیش کیا۔
ڈاکٹر شیر شاہ نے فنڈ ریزنگ کے سلسلے میں وہاں ہونے والے کام کی تفصیل بتائی کہ کوہی گوٹھ ڈھائی سو بستر کا ہسپتال ہے اور پاکستان بھر میں اس کے کل نو سینٹر ہیں۔ ایک سو چالیس مڈوائف ہر سال داخل ہوتی ہیں اور دو سال میں اپنی ٹریننگ مکمل کرتی ہیں جس کے بعد وہ اپنے علاقوں میں جاکر بطور مڈ وائف کام شروع کرتی ہیں۔ ان کی یہ تعلیم اور رہنا سہنا مفت ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ انہیں ان کی ضروریات کے لیے دو ہزار روپے مہینہ بھی دیے جاتے ہیں۔ مڈوائفری تربیت کے علاوہ پچاس ٹیکنیشنز کی تربیت بھی ہوتی ہے جن میں نوے فی صد لڑکیاں ہوتی ہیں۔
کوہی گوٹھ میں سالانہ چودہ ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں چالیس ملین عورتیں ایسی ہیں جنہیں نان ایمرجنسی سرجیکل کنڈیشنز کا سامنا ہے۔ یہ عورتیں رلتی رہتی ہیں۔ لہٰذا ان کے علاج کے لیے ایک اور بلڈنگ تیار ہے جہاں چھ سو آپریشن ماہانہ ہوسکتے ہیں۔ بلڈنگ میں کام اگلے ماہ سے شروع ہو جائے گا۔ اس کا سالانہ خرچہ 95 ہزار ڈالرز کا ہے۔ فی آپریشن 152 ڈالرز اس طرح سات ہزار دو سو مریضوں کا علاج ہو سکتا ہو سکے گا۔
انہوں نے فیسٹولا کی مریضوں کی دکھ سے بھری کہانیاں سنائیں جن کا کامیاب سرجری اور صحت یابی کے بعد ایک نئی زندگی کا آغاز ہوا۔ واضح ہو کہ یہ مرض غریب عورتوں اور لڑکیوں کا ہوتا ہے جن کا کم عمری، غربت کے ہاتھوں پیشاب کی تھیلی میں سوراخ ہو جانے کے سبب پیشاب اور کبھی پائخانہ مسلسل رستا رہتا ہے۔ ڈاکٹر شیر شاہ اپنی ٹیم کے ساتھ سالانہ بیس مفت کیمپ ملک کے دور دراز علاقوں میں لگاتے ہیں۔
جب فنڈ ریزنگ کا آغاز ہوا تو میرے ساتھ بیٹھے میرے کینیڈین پاکستانی دوست نے خیال آرائی کی کہ ”یہ صاحب کینیڈا والوں کو نہیں جانتے کہ وہ پیسے آسانی سے نہیں نکالتے بہت کنجوس ہوتے ہیں۔“ لیکن بہت کم وقت میں ہی اس دوست کی یہ بات غلط ثابت ہو چکی تھی۔ فنڈ دینے والوں کی اکثریت نے تو نام راز میں رکھ کر خطیر رقوم دیں اس طرح جلد ہی دو لاکھ ڈالرز جمع ہو چکے تھے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ سچائی اور خلوص میں بڑی طاقت ہے۔
مطلوبہ رقم جمع ہونے کے بعد اٹلانٹا کی مقامی ٹیم نے اپنا پلے پیش کیا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ اس سے قبل ڈاکٹر شیرشاہ کے ہسپتال کی سپورٹ کے لیے پاکستان سے شیما کرمانی اپنی ٹیم کے ساتھ آ کر شو پیش کرتی رہی ہیں۔ اس دفعہ مقامی ڈرامہ آرٹسٹ شاہد کی اہلیہ سلینا شاہد کے مشورے پہ اٹلانٹا کے فنکاروں نے پلے کی صورت بلا معاوضہ اپنی فنی خدمات پیش کیں۔ جو یقیناً انسانی خدمت کی اعلی مثال ہے۔
یہ پلے یقیناً بہت بامقصد اور معیاری سطح کا تھا۔ ایک ایسا دور جہاں اوچھا مذاق اور ذومعنی فحش جملے تھیٹر کی کامیابی کی ضمانت بن گئے ہیں وہاں بہت سنجیدگی سے ملکی مسائل اور گھٹی ہوئی سیاست پہ لطیف پیرائے میں لکھے ذومعنی مکالمے دلوں کو چھو رہے تھے۔ فلک شگاف قہقہوں کے باوجود ہر ایک دل میں پاکستان کے حوالے سے ایسے سوالات کی چبھن تھی کہ سماج میں تبدیلی کے لیے سیاسی وڈیروں اور جاگیر داری نظام سے نجات کی کب حاصل ہوگی۔ اور یہ نظام کب بدلے گا۔ یقیناً شعور کو بیداری کرنے کی یہ ایک عمدہ کاوش تھی۔
پلے کے مکالمے برجستہ اور ان کی ادائیگی بھی بہت خوب تھی۔ ہر ایک نے اپنے کردار سے انصاف کیا۔ ان بے لوث کام کرنے والے ڈرامہ آرٹسٹوں کے نام خلیق الزماں، شاہد علی، فرح طور، نگہت داؤد، نورالعین خان اور سلیم تھے جبکہ ڈرامہ کی ڈائریکٹر فرزانہ صاحبہ تھیں۔
اس تقریب کی کامیابی کا سہرا رمزی حسن اور ان کی ٹیم کے علاوہ وقار رئیس اور ان کی بیگم کے سر بندھتا ہے جنہوں نے بہت منظم انداز سے ہر کام کو انجام دیا۔ سلیم صاحب نے اس پروگرام کو امریکہ کے مختلف شہروں میں منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
چھ بجے سوشل گھنٹے اور ریفریشمنٹ سے شروع ہونے والی یہ کامیاب تقریب دس بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔ اور بہت سے لوگوں کے اندر ایک چمکیلی صبح کے سپنے کی جوت جگا گئی۔
آسمانوں پر نظر کر انجم و ماہتاب دیکھ
صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ
(افتخار عارف)








