پاکستان میں سیاست کی بحالی
پاکستان میں پچھلے 77 برسوں سے ایک منظم سازش کے تحت لفظ سیاست کو گالی بنا دیا گیا ہے۔ جس کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں سے سب سے اہم وجہ مملکت پاکستان میں اس کے قیام سے لے کر آج تک غیر جمہوری رویوں کی حوصلہ افزائی ہے۔ 1947 میں تخت برطانیہ سے برصغیر نے آزادی حاصل کی۔ جس کے نتیجے میں دو ملک وجود میں آئے ہندوستان اور پاکستان۔ قیام پاکستان سے ہی فوج نے سیاست میں مداخلت شروع کر دی تھی جبکہ اس کے برعکس ہندوستان میں ایک جمہوری سیاسی عمل کی داغ بیل ڈال دی گئی۔ اب جمہوریت کا یہ ایک اہم تقاضا تھا ایک نئی مملکت کے قیام سے جس میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان دونوں کو برابری کا سلوک ملنا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے مغربی پاکستان کی ملٹری اشرافیہ نے مشرقی پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک شروع کر دیا۔ اردو اور بنگالی کا جھگڑا کھڑا کیا گیا۔ جبکہ ایک جمہوری رویہ یہ تھا کہ اکثریتی زبان جو بنگالی تھی اسے قومی زبان کا درجہ دیا جاتا لیکن چند لوگوں کی خوشیوں کی خاطر اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔ اسی طرح کئی دوسرے امتیازی اور غیر جمہوری رویوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں میں مایوسی اور احساس کمتری کو بڑھاوا دیا۔ جس کا نتیجہ 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام سے عمل میں آیا۔
پاکستان میں ایک سیاسی عمل اور جمہوری معاشرے کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ ایوب خان بنے جنھوں نے 28 اکتوبر 1958 میں 1956 کا آئین معطل کر کے ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کیا۔ یہ ایوب خان ہی تھا جس نے پاکستان کو برطانیہ سے آزادی کے بعد امریکہ کی غلامی میں دھکیلا۔ اس کے بعد جنرل یحییٰ ہو، ضیا الحق ہو یا مشرف ہو تمام آمروں نے پاکستان میں سیاسی عمل اور جمہوری رویوں کو پنپنے نہیں دیا۔ کسی نے سیاسی عمل کو روکنے کے لیے روشن خیالی کا سہارا لیا اور کسی نے مذہب کا۔ آج 77 سال گزرنے کے بعد بھی ہمارا معاشرہ سیاسی طور پہ اتنا نابالغ ہے اور غیرسیاسی اور غیر جمہوری رویے لوگوں کے ذہنوں میں اس حد تک پروان چڑھے ہیں کہ عوامی مقامات پر یہ تحریر ہماری سوچوں اور افکار کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے۔ ”یہاں سیاسی گفتگو کرنا ممنوع ہے“ ۔
جبکہ اس کے برعکس ہندوستان جس نے ہمارے ساتھ انگریز سرکار سے آزادی حاصل کی وہاں ہمیں ایک سیاسی معاشرے کی جھلک نظر آتی ہے اور آج اسی جمہوری اور سیاسی رویے کی بدولت ہندوستان ہم سے ترقی کی راہ میں کوسوں دور نکل گیا ہے۔
بدقسمتی سے آمروں نے جس سوچ کو پروان چڑھایا ہمارے سیاسی لیڈروں کی سوچ میں بھی اس کی جھلک نظر آتی ہے۔ آج بھی مختلف ٹی وی ٹاک شوز اور جلسوں میں سیاسی قائدین بڑے فخریہ انداز میں یہ کہتے ہیں کہ ہم سیاست نہیں خدمت کرتے ہیں۔ بابا مجھے آپ کی اس بات پہ ذرا بھی حیرانی اس لیے نہیں ہوتی کیونکہ آپ کے قدم بھی آپ کے آقاؤں کی اجازت کے بغیر نہیں اٹھ سکتے تو پھر آپ سیاست کو خدمت سے علیحدہ ہی کریں گے۔ لیکن آج کے دور میں، میں صرف ایک سیاستدان کا معترف ہوں اور وہ ہیں جناب قمر زمان کائرہ صاحب جو ہر محاذ پر سیاسی عمل اور جمہوری رویوں کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔ اور حقیقی معنوں میں سیاست کو خدمت اور عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔
آج وہ وقت آ گیا ہے کہ ہمیں پاکستان میں سیاست کی بحالی اور جمہوری رویوں کی آبیاری کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنا ہوگی۔ محروم طبقات جن میں خواتین، نوجوان، اقلیت آتے ہیں ان کو زیادہ سے زیادہ سیاسی عمل میں شامل کرنا ہو گا تاکہ سیاسی عمل میں تمام آوازیں سنی جا سکیں۔
سیاسی پارٹی کے کارکنوں کو اپنے سیاسی قائدین کا محاسبہ کرنا ہو گا اور ان سے بہتر طرز حکمرانی کا مطالبہ کرنا ہو گا۔ اور قمر زمان کائرہ جیسے سیاستدانوں کو ایک سیاسی معاشرے کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ایک ایسے پلیٹ فارم کا قیام عمل میں لانا ہو گا جس میں تمام سٹیک ہولڈرز بشمول سیاستدان، سول سوسائٹی اور عام شہریوں پر مشتمل ہو۔ جس میں گراس روٹ لیول پر ڈائلاگ سیشنز کا انعقاد کر کے بحث و مباحثے کا کلچر متعارف کروانا ہو گا۔ جب تک نچلی سطح سے خواتین، نوجوانوں اور اقلیتوں کو سیاسی عمل میں شامل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ہم ایک سیاسی اور جمہوری معاشرے کی طرف نہیں بڑھ پائیں گے۔
کبھی جمہوریت یہاں آئے
یہی جالب ہماری حسرت ہے

