نادرا اور دیہی سندھ کے عوام کا نحیف تعلق
بِلا تردد، نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں تصحیح، تصدیق اور تجدید کے بہت سے نظام، ادارہ کے قیام سے لے کر ماضی قریب تک متعارف کیے گئے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے مگر یہاں پاکستان کے عوام خصوصاً سندھ کے دیہی عوام کی جانب قارئین، حکامِ بالا اور متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول کرانا مقصود ہے جو اب بھی نادرا میں رجسٹریشن کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
سندھ کے دیہی عوام کو نادرا دفاتر جانے کے دوران بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں سے چند ایک پر ہم روشنی ڈالنے کی حقیر کوشش کریں گے۔
ان مسائل میں بسیار طلبی اور رسد کی محدود صلاحیت کی وجہ سے لمبی قطاریں اور انتظار کے اوقات کا مسئلہ
مطلوبہ دستاویزات کو سمجھنے میں آگاہی اور رہنمائی کا فقدان
کچھ علاقوں میں محدود انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل خواندگی کی وجہ سے آن لائن خدمات تک رسائی میں دشواری
نادرا دفاتر تک پہنچنے کے لیے نقل و حمل کے محدود اختیارات، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں
غیر مقامی اردو بولنے والوں کے لیے زبان کی رکاوٹیں اور عملے کی ناکافی مدد
درخواستوں کی غیر موثر اور سست کارروائی اور نادرا کارڈز کا اجراء شامل ہیں۔
مذکورہ مسائل میں سے ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ ”مطلوبہ دستاویزات کو سمجھنے، اس کی آگاہی و راہنمائی کا فقدان ہے“ اس بات کا اندازہ رجسٹریشن کے دوران مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد سے گفتگو کرنے کے بعد نکالا گیا۔
مثلاً دیہی سندھ میں ایک کسان نادرا کارڈ کے لیے اپنی درخواست مکمل کرنے کے لیے جدوجہد کرتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ دستاویزات کے پیچیدہ تقاضوں اور عمل کو سمجھنے سے قاصر ہے۔
دوسری جانب ایک دور دراز گاؤں میں ایک نوجوان خاتون نادرا کارڈ حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن وہ اس بارے میں الجھن میں ہے کہ اسے کون سے کاغذات جمع کرنے کی ضرورت ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے۔
تیسری مثال، دیہی آبادی میں ایک بزرگ آدمی کی ہے جسے نادرا کارڈ کے لیے درخواست دینے کے طریقہ کار کے بارے میں عِلم نہیں ہے اور اس عمل کو سمجھنے کی کوشش کرتے وقت اسے زبان کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
چوتھی مثال پسماندہ گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک ماں کی ہے جسے اپنے بچے کے لیے نادرا کارڈ حاصل کرنے کی ضرورت ہے لیکن وہ درخواست کے عمل اور مطلوبہ دستاویزات کو نہیں سمجھ سکتی، وغیرہ۔
دیہی سندھ میں نادرا خدمات کے عمل اور مطلوبہ دستاویزات کو سمجھنے میں آگاہی اور رہنمائی کی کمی کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ماہرین نے کئی ممکنہ حل پیش کیے ہیں جن میں سے چند کا بیان کرنا ضروری ہے :
دیہی علاقوں میں سریع التاثیر مہموں اور پائیدار پروگراموں کے ذریعے عمل اور ضروریات کے بارے میں آگاہی اور تعلیم میں اضافہ کی ضرورت ہے
خواندگی اور تفہیم کی مختلف سطحوں کو موافق بنانے اور ہم آہنگ کرنے کے لیے متعدد زبانوں اور شکلوں میں واضح اور جامع ہدایات و رہنمائی فراہم کی جائیں
نادرا دفاتر میں یا موبائل کلینک کے ذریعے سائٹ پر مدد کی پیشکش کریں تاکہ افراد کو اپنی درخواستیں درست طریقے سے مکمل کرنے میں مدد ملے۔
پیشگی معلومات کے لیے ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھائیں جو درخواست کے عمل کو زیادہ قابل رسائی اور سمجھنے میں آسان بناتی ہے۔



یہ مسائل صرف دیہی سندھ سے متعلق نہیں کسی بھی شہر سے دور علاقوں کے لوگ ایسی ہی مشکل کا شکار ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے تو ہر علاقے میں سیاسی ڈیرے ہوتے ہیں۔ چاہے بلدیہ کے لوگوں کے ہوں یا قومی یا صوبائی اسمبلی کے رکن یا محض سیاستدان کے۔
وہاں موجود پڑھے لکھے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ آگے بڑھ کر علاقے کے لوگوں کو آگاہ کریں۔ موبائل فون کے ساتھ انٹرنیٹ جہاں جہاں موجود ہے آن لائن بہت کچھ ہوسکتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ پیسے بھی بچتے ہیں اس سپولت کو حتی الامکان استعمال کریں۔ سائل کی درخواست کا آن لائن ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہاں موبائل وین بھی پہنچ جاتی ہیں۔
ہر تحصیل میں یونین کونسل کی سطح پر تقریباً ہر جگہ انترنیٹ اور نادرا کے ساتھ تعلق موجود ہے۔ وہاں سے آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح بنکوں کے لئے نادرا سے تعلق لگ بھگ لازمی ہوچکا ہے۔ اگر دور دراز علاقوں میں بنک کے عملے سے نادرا کی درخواست کے لئے کاغذات کو پروسیس کرالیا جائے تو متعدد مسائل مزید حل ہوسکتے ہیں۔
نادرا سرکار کے پیسوں سے نہیں چلتا بلکہ اپنا کماتا اور خرچ پورے کرتا ہے۔
جس رفتار سے تحصیلیں اور ضلع بڑھ رہے ہیں نادرا کے لئے ناممکن ہے کہ وہ ہر جگہ اپنا دفتر قائم کرے۔ موبائل وین اور آن لائن سہولت ہی اس کا حل ہیں۔